ہوم << معیشت پر وقتی مرہم یا خودکش حملہ؟ – محمد سعد المنصور
600x314

معیشت پر وقتی مرہم یا خودکش حملہ؟ – محمد سعد المنصور

موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کا اعلان بظاہر تو بڑا دلکش لگتا ہے، جیسے عام آدمی کا سارا بوجھ اتر گیا ہو۔ ہم یہ بحث بھی ایک طرف رکھ دیتے ہیں کہ یہ ریلیف کس طرح بٹے گا اور کرپشن ہوگی یا نہیں۔ مان لیتے ہیں کہ حکومت کے پاس کوئی جادوئی نظام ہے جس سے ہر حقدار تک یہ رقم پہنچ جائے گی۔

لیکن ذرا ٹھنڈے دماغ سے اس کے معاشی اثرات کو دیکھیں۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہوتی تو اس کھربوں روپے کے غبارے کو پھلانے کے بجائے خاموشی سے پیٹرولیم لیوی کم کرتی۔ لیوی کم ہونے کا سیدھا فائدہ سپلائی چین کو ہوتا، مال برداری سستی ہوتی، فیکٹری کی لاگت گرتی اور مارکیٹ میں دال، آٹا اور گھی کی قیمتیں نیچے آتیں۔ جب کاسٹ پش انفلیشن گرتی ہے تو اسٹیٹ بینک کے ہاتھ کھلتے ہیں کہ وہ شرحِ سود (انٹرسٹ ریٹ) نیچے لائے۔ شرحِ سود کم ہوتی تو نیا کاروبار کھلتا، فیکٹریاں چلتیں اور روزگار پیدا ہوتا۔ اب ہوگا کیا؟

حکومت اس اربوں کے ریلیف کا بوجھ اٹھانے کے لیے مزید قرض لے گی یا خسارہ بڑھائے گی۔ خسارہ بڑھے گا تو اسٹیٹ بینک مجبوری میں انٹرسٹ ریٹ یا تو اوپر رکھے گا یا مزید بڑھا دے گا۔ نتیجہ؟ کاروبار کے لیے قرض مزید مہنگا، لاگتِ پیداوار مزید اوپر، اور گھوم پھر کر مارکیٹ میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان۔آپ نے عام آدمی کی بائیک کی ٹینکی میں وقتی طور پر تو سستا تیل ڈال دیا، لیکن اس کے بدلے منڈی میں سودا سلف، بجلی اور باقی ہر چیز اس کے لیے مزید پہنچ سے باہر کر دی۔

یہ معاشی بحالی نہیں، بیماری کی جڑ چھوڑ کر صرف درد کی گولی کھلانے والا سیاسی کھیل ہے، جس کا خمیازہ بالاخر اسی عام آدمی کو اور بھی بدتر معاشی بحران کی شکل میں بھگتنا پڑے گا۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

بلاگز

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment