دؤرِ جدید میں موسمیاتی تبدیلی ایک بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ دریائے سندھ کی تباہی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ دنیا میں خشک ہونے والے دریاؤں میں سے دریائے سندھ پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک کا واٹر سورس گزرتے دن کے ساتھ خشک سے خشک تر ہوتا جا رہا ہے۔
درجہ حرارت مسلسل بڑھنے کی وجہ سے ایکو سسٹم تتر بتر ہو چکا ہے۔ جو گرمی مئی کے مہینے میں موسم کی جانی ہوتی ہے، وہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں سر پر آ کھڑی ہوتی ہے۔گلیشیئرز اس رفتار سے پگھل رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں پانی کی قلت قحط کا سبب بن سکتی ہے۔ماحولیاتی تبدیلی اور بحران کی موجودہ صورتِ حال براہِ راست عالمی سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ غیر محدود پیداوار کی حمایت اصل میں منافع خوری کی ہوس ہے، جس کے نتیجے میں زمین کے وسائل اور ماحولیاتی نظام اپنا قدرتی توازن کھو رہے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک، جو تاریخی طور پر زیادہ کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں، ماحولیاتی معاہدوں کو اپنے اقتصادی مفادات اور سیاسی تسلط کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پیرس معاہدہ اور گرین کلائمٹ فنڈ اصل میں مارکیٹ پر مبنی حل اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے ہیں۔پیرس معاہدہ، گرین کلائمٹ فنڈ، موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے عالمی نظام کے اہم حصے ہیں، جس کا مقصدِ دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے کو خطرناک حد تک بڑھنے سے روکنا ہے، اور انہی معاہدوں کے تحت ہی ممالک گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کا وعدہ کرتے ہیں۔
یہاں فوسل فیول انڈسٹری کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے، جو زمین کے اندر سے نکلنے والے ایندھن، کوئلہ، تیل اور گیس کو توانائی کے طور پر استعمال کرنے کا کام کرتی ہے۔ جو ایندھن سے بجلی تیار کرتے، گاڑیاں بناتے، فیکٹریاں چلاتے ہیں، اصل میں ماحولیاتی تحفظ کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے دعوؤں کے باوجود مجموعی ماحولیاتی تباہی بڑھ رہی ہے اور ساتھ ساتھ قدرتی ماحول کو متاثر کر رہی ہے۔اسی موضوع کے حوالے سے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اختر حمید خان نیشنل سینٹر فار رورل ڈیولپمنٹ میں ایک تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس کا موضوع: “Climate Change Mitigation and Adaptation” تھا، جس میں ملک کے طول و عرض سے پیشہ ور افراد و طلبہ نے شرکت کی۔ دورانِ تربیت نظریاتی و سماجی پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ فوسل فیول، کوئلہ، تیل، گیس پر منحصر صنعتیں، ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کر کے منافع خوری کو پروان چڑھانے میں پیش پیش ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں قانون اور پالیسی کے دائرے میں لایا جائے تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ رہ سکے۔



تبصرہ لکھیے