صراطِ مستقیم :خصوصیات اور ذرائع
انسان زندگی بھر کسی نہ کسی راستے پر چلتا رہتا ہے۔ کچھ راستے بظاہر دل کش ہوتے ہیں، مگر ان کی منزل گمراہی اور تباہی ہوتی ہے، جبکہ ایک راستہ ایسا ہے جو انسان کو دنیا میں سکون، کردار میں پاکیزگی اور آخرت میں نجات عطا کرتا ہے۔ یہ صراطِ مستقیم ہے؛ وہ سیدھی راہ جس کی طرف تمام انبیائے کرام نے دعوت دی اور جس پر ثابت قدم رہنے کی دعا ہر مسلمان اپنی ہر نماز میں کرتا ہے۔
مسجد الحرام کے امام و خطیب، ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی نے اپنے خطبۂ جمعہ میں صراطِ مستقیم کا مفہوم، اس کی بنیادی خصوصیات اور اس پر ثابت قدم رہنے کے ذرائع بیان کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ آپ لوگوں کو سیدھی راہ دکھائیں، اس کی خصوصیات واضح کریں اور ان راستوں سے خبردار کریں جو انسان کو منزل سے بھٹکا دیتے ہیں۔ صراطِ مستقیم کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر نماز، بلکہ ہر رکعت میں یہ دعا سکھائی ہے: ’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔‘‘ یہ محض راستہ پہچاننے کی دعا نہیں، بلکہ ہدایت پانے، صحیح راہ پر چلنے اور آخری دم تک اس پر ثابت قدم رہنے کی التجا بھی ہے۔ جو شخص بھٹک چکا ہو، وہ واپسی کے لیے اللہ سے مدد مانگتا ہے، اور جو سیدھی راہ پر گامزن ہو، اسے بھی ہر لمحہ ثابت قدمی درکار رہتی ہے۔
یہ سیدھا راستہ انبیائے کرام، صدیقین، شہدا اور صالحین کا راستہ ہے۔ اسلام اس راستے کا نام ہے، قرآن اس کی رہنمائی کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے اقوال، اعمال اور مبارک زندگی سے اس کی ساری خصوصیات کو پوری طرح واضح فرما دیا ہے۔ لہٰذا جو شخص سنتِ نبوی کو لازم پکڑتا، آپ ﷺ کی ہدایت کی پیروی کرتا اور آپ کے طریقے پر زندگی گزارتا ہے، وہ صراطِ مستقیم پر گامزن ہے۔اس راہ پر چلنے کے لیے دو چیزیں ناگزیر ہیں: علمِ نافع اور عملِ صالح۔ علم صحیح سمت دکھاتا ہے، جبکہ عمل انسان کے باطن اور کردار کو سنوارتا ہے۔ علم کے بغیر نیکی کا جذبہ بھی غلط راستے پر لے جا سکتا ہے، اور عمل کے بغیر علم بے اثر رہتا ہے۔ چنانچہ ہدایت محض معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں؛ یہ علم کی روشنی میں سوچ، عبادات، معاملات اور اخلاق درست کرنے کا تقاضا بھی کرتی ہے۔
صراطِ مستقیم کی دو بڑی بنیادیں ہیں: پہلی، اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت کو اسی کے لیے خالص کرنا؛ اور دوسری، رسول اللہ ﷺ کی اتباع۔ جو شخص عبادت کی کوئی صورت غیر اللہ کے لیے اختیار کرتا ہے، وہ توحید کی بنیاد سے ہٹ جاتا ہے، جبکہ جو اللہ کی عبادت ایسے طریقے سے کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں سکھایا، وہ اتباعِ سنت کی راہ چھوڑ دیتا ہے۔ اس لیے درست منزل تک پہنچنے کے لیے نیت کا خالص اور طریقۂ عمل کا سنت کے مطابق ہونا از بس ضروری ہے۔رسول اللہ ﷺ نے سیدھی راہ اور گمراہی کے راستوں کو ایک نہایت واضح مثال سے سمجھایا۔ آپ ﷺ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں اور بائیں کئی لکیریں کھینچ کر بتایا کہ یہ مختلف راستے ہیں اور ہر راستے پر ایک شیطان لوگوں کو اپنی طرف بلا رہا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے قرآن کی وہ آیت سنائی جس کا مفہوم ہے: یہی میرا سیدھا راستہ ہے، اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گے۔
دنیا کے صراطِ مستقیم اور آخرت کے پل صراط کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ قیامت کے دن جہنم پر ایک پل قائم کیا جائے گا جس سے ہر شخص کو گزرنا ہوگا۔ کچھ لوگ بجلی کی مانند، کچھ ہوا اور پرندوں کی رفتار سے، اور بعض اپنی استطاعت کے مطابق گزریں گے۔ کسی کو معمولی خراش آئے گی مگر وہ بچ جائے گا، جبکہ بعض اپنے اعمال کے باعث جہنم میں جا گریں گے۔ یوں وہاں انسان کی رفتار کا انحصار دنیا میں اس کے ایمان، اطاعت اور نیک اعمال پر ہوگا۔امام ابن قیمؒ نے اسی حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے: دنیا میں جو شخص صراطِ مستقیم پر جتنی تیزی اور مضبوطی سے چلے گا، آخرت کے پل پر بھی اتنی ہی سرعت اور ثابت قدمی سے گزرے گا۔ یہاں جو شخص خواہشات، شبہات اور گمراہ کن بدعات کے کانٹوں میں الجھتا ہے، وہاں اسے پل صراط کے آنکڑے پکڑ سکتے ہیں۔ گویا انسان کا دنیوی طرزِ زندگی ہی اس کے آخرت کے سفر کی رفتار متعین کرتا ہے۔
ثابت قدمی کا معیار انسان کی ذاتی خواہش، پسند یا جذبات نہیں، بلکہ قرآن و سنت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو بھی حکم دیا کہ جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اسی طرح ثابت قدم رہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استقامت کا مطلب اپنی پسند کے مطابق مذہبی زندگی گزارنا نہیں، بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کا پابند ہونا ہے۔ جو شخص قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامتا ہے، اللہ اسے راہِ ہدایت پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔تاہم ہدایت محض انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں؛ اس کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی اپنے بندوں کو توحید کا نور اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ اسی لیے ہدایت پانے کے بعد بھی انسان کو اپنے حال سے مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ سب سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہونے کے باوجود بار بار ہدایت اور ثابت قدمی کی دعا کیا کرتے تھے۔ تہجد کے آغاز میں آپ ﷺ اللہ سے دعا کرتے کہ جن امور میں اختلاف کیا گیا ہے، ان میں اپنے حکم سے حق کی رہنمائی عطا فرما؛ بے شک تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف لے جاتا ہے۔
’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا‘‘ میں جمع کا صیغہ بھی بڑی معنویت رکھتا ہے۔ مسلمان ہدایت صرف اپنے لیے نہیں، پوری جماعت کے لیے مانگتا ہے۔ دین لوگوں کو جوڑتا ہے، جبکہ خواہشات، تعصبات اور بدعات انہیں تقسیم کرتی ہیں۔ لہٰذا صراطِ مستقیم پر چلنے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ مسلمان اجتماعیت سے وابستہ رہیں، باہمی اتحاد کو مضبوط کریں اور فتنہ و انتشار کے اسباب سے دور رہیں۔ اہلِ سنت کا منہج قرآن و سنت کی پابندی، اجتماعی وحدت کی حفاظت، جائز امور میں مسلمان حکمرانوں کی اطاعت اور دینی غلو سے اجتناب پر قائم ہے۔ امامِ کعبہ نے سعودی عرب میں کتاب و سنت، ملکی قیادت پر اعتماد اور امن کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے ان پر شکر ادا کرنے اور ان کے دوام کی دعا کرنے کی تلقین کی؛ کیونکہ اجتماع رحمت اور تفرقہ عذاب ہے۔امام کعبہ نے یہ بھی واضح کیا کہ استقامت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان سے کبھی غلطی یا گناہ سرزد نہ ہو۔ ہر انسان خطاکار ہے، اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرتے رہتے ہیں۔ سیدھی راہ پر قائم رہنے والے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی لغزش پر اصرار نہیں کرتا، کوتاہی ہو تو فوراً اصلاح کرتا ہے، کسی کا حق دبایا ہو تو اسے لوٹاتا ہے، اور گناہ سرزد ہو جائے تو سچی توبہ کے ساتھ اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے۔ قرآن نے استقامت کے ساتھ استغفار کا حکم دے کر واضح کر دیا ہے کہ سیدھے راستے کا مسافر بھی اللہ کی مغفرت سے بے نیاز نہیں۔
کامیاب شخص وہ ہے جو اپنے حالات پر غور کرے، دوسروں کے انجام سے عبرت حاصل کرے، اپنی اصلاح میں دیر نہ لگائے اور روزِ محشر کی تیاری کرے۔ دل انسان کے اختیار میں نہیں، اس لیے مومن ہر وقت اللہ کے حضور دعا کرتا ہے: اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ یہ دعا دنیا میں استقامت اور آخرت میں سلامتی کا ذریعہ ہے۔



تبصرہ لکھیے