ہوم << اپنی شناخت خود بنانے والے لوگ – فخرالزمان سرحدی
600x314

اپنی شناخت خود بنانے والے لوگ – فخرالزمان سرحدی

پیارے قارئین!
دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو حالات کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کے بجائے اپنی محنت، صلاحیت، کردار اور عزم سے اپنی شناخت خود بناتے ہیں۔ انہیں کسی بڑے نام، عہدے یا خاندانی پس منظر کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اپنی شناخت خود بنانے والے لوگ دراصل وہ کردار ہیں جو مشکلات کے درمیان راستہ تلاش کرنا جانتے ہیں۔

زندگی کسی کے لیے ہمیشہ ہموار راستہ نہیں بچھاتی۔ بعض لوگوں کو وسائل کی کمی کا سامنا ہوتا ہے، کچھ کو نامساعد حالات گھیر لیتے ہیں اور کچھ کو بار بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر باہمت انسان مشکلات کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیتا۔ وہ ہر رکاوٹ کو ایک نئے تجربے اور ہر ناکامی کو کامیابی کی طرف ایک قدم سمجھتا ہے۔ اپنی شناخت بنانے کے لیے سب سے پہلے انسان کو اپنے آپ پر یقین کرنا پڑتا ہے۔ اگر انسان خود اپنی صلاحیتوں کو تسلیم نہ کرے تو دنیا بھی اسے آسانی سے نہیں پہچانتی۔ خود اعتمادی کا مطلب غرور نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں، محنت اور مقصد پر یقین رکھنا ہے۔ دنیا میں بڑے مقام تک پہنچنے والے لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سفر میں مشکلات بھی تھیں، ناکامیاں بھی اور تنقید بھی۔ مگر انہوں نے راستہ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے وقت کی قدر کی، اپنی کمزوریوں کو دور کیا، علم حاصل کیا اور مسلسل آگے بڑھتے رہے۔

شناخت صرف شہرت کا نام نہیں۔ ایک ایماندار استاد جو نسلوں کو تعلیم دیتا ہے، ایک محنتی کسان جو قوم کے لیے خوراک پیدا کرتا ہے، ایک ڈاکٹر جو انسانوں کی خدمت کرتا ہے، ایک قلم کار جو معاشرے کو شعور دیتا ہے اور ایک نوجوان جو اپنے ہنر سے اپنے خاندان کا سہارا بنتا ہے—یہ سب اپنی اپنی جگہ قابلِ احترام شناخت رکھتے ہیں۔
آج کے نوجوانوں کے لیے اس میں ایک بڑا سبق ہے۔ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے۔ ہر شخص کا سفر مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی کامیابی جلد سامنے آتی ہے اور کسی کو برسوں محنت کرنا پڑتی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے سفر کو دیانت داری سے جاری رکھے۔
کردار شناخت کی بنیاد ہے۔ دولت، شہرت اور عہدہ وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، مگر اچھا کردار انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔ جو لوگ اپنی شناخت سچائی، دیانت، خدمت اور خلوص سے بناتے ہیں، ان کا احترام حالات کے بدلنے سے کم نہیں ہوتا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ شناخت بنانے کے لیے دوسروں کو گرانا ضروری نہیں۔ حقیقی کامیابی وہ ہے جو انسان اپنی محنت سے حاصل کرے اور دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا بھی جانتا ہو۔ مقابلہ ضرور کریں، مگر صحت مند مقابلہ؛ آگے بڑھیں، مگر دوسروں کے حقوق پامال کیے بغیر۔تعلیم، ہنر، محنت اور مستقل مزاجی انسان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جو نوجوان وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر علم اور ہنر حاصل کرے گا، وہ اپنے لیے بہتر مستقبل تعمیر کر سکتا ہے۔ کسی موقع کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیت کو موقع میں تبدیل کرنا ہی کامیاب لوگوں کا وصف ہے۔اپنی شناخت خود بنانے والے لوگ حالات سے شکایت کم اور اپنے عمل پر توجہ زیادہ دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زندگی میں ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں، مگر محنت، رویہ، کردار اور کوشش ہمارے اختیار میں ضرور ہیں۔

آئیے!
ہم دوسروں کے سہارے اپنی پہچان تلاش کرنے کے بجائے اپنے کردار اور عمل سے اپنا مقام بنائیں۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، علم حاصل کریں، محنت کریں، ناکامی سے سیکھیں اور اپنے مقصد سے وفادار رہیں۔وہ لوگ کبھی گمنام نہیں رہتے جو اپنے کردار کی روشنی سے اپنی شناخت خود بناتے ہیں۔زندگی کا سب سے خوبصورت مقام وہ ہے جہاں انسان یہ کہہ سکے:
”میں جو کچھ ہوں، اپنی محنت، اپنے کردار اور اپنے عزم کی وجہ سے ہوں۔“
یہی خود اعتمادی، یہی مسلسل جدوجہد اور یہی باکردار زندگی انسان کو ایک ایسی شناخت عطا کرتی ہے جو وقت گزرنے کے باوجود قائم رہتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

فخرالزمان سرحدی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment