تحقیق تصنیف کی بے قدری ، اپنے اہل علم کی قدر کریں: اچھے استاد ، محقق، مصنف و ماہرین فن کیوں نہیں مل رہے؟
ہمارے ہاں یہ بحث ہمہ وقت جاری رہتی ہے کہ دینی تعلیم کے لیے اچھے محقق ماہرین فن اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل اساتذہ کم ہوتے جا رہے ہیں ۔ مطالعے اور فنون سیکھنے کے رحجان میں کمی آ رہی ہے ۔ نئی نسل تحقیق سے منسلک ہونا نہیں چاہتی ۔ خدشات کا اظہار ہوتا ہے کہ راسخ علم والے اور وسیع المطالعہ شخصیات ملنا مشکل ہو جائیں گیں. ٹھوس علمی، تحقیقی کام نہیں ہو رہا ۔ چلیں اس صورت حال کو سمجھتے ہیں۔ دینی طبقے میں تخلیق ، تحقیق ، تصنیف و تالیف ، سماجی و معاشرتی نظریاتی شاعری ، مضامین نگاری اور دیگر علمی سرگرمیوں میں مصروف عمل شخصیات کن حالات کاسامنا کرتی ہیں ۔ کیا یہاں بھی حوصلہ افزائی اور قدردانی ہوتی ہے؟
یہ ایک بڑا سوال ہے ۔
کیا دینی طبقے کے لکھاری اور مصنفین بھی اپنی صلاحیتوں کا صلہ پاتے ہیں؟
دینی طبقے کو اس صورتحال کو سمجھنے کی ضرور ت ہے ۔ ” علم اٹھ جانے” کا غم سب کو ہے، پریشانی بھی لیکن اہل علم کی حوصلہ افزائی، علم کی آبیاری اور اس طرف”ذہانت” کو لانے کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا ۔ اگر غور کریں تو دینی طبقے کے پاس عوامی پرفارمنس کے لئے اچھے خطیب پرجوش مقرر، قاری ، نعت گو اور اسی طرح تنظیمی لیڈرز موجود ہیں ۔ ان “پرفارمرز” یعنی جو عوام کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں یعنی مقرر ، خطیب، نعت خواں، خوش الحان قاری اور جماعتی رہنما لیڈرز وغیرہ ، انہیں کچھ نہ کچھ ضرور نوازا جاتا ہے ۔ یا پھر یہ لوگ اپنے ادارے بنا کر اچھا معیار زندگی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ یہ اچھی بات ہے ، معاشرے میں دینی جھلک انہی کے دم سے ہے ۔
لیکن جو عوامی پذیرائی والی سرگرمیوں کی بجائے علمی خدمات سر انجام دیتے ہیں مثلا مصنف ۔مدرس۔ مضمون نگار ۔ سماجی و نظریاتی شاعری کے شاعر وغیرہ انہیں یہ سب علمی کام گمنامی کے ساتھ ساتھ بےیارومددگاری میں کرنا پڑتا ہے ۔ دراصل یہ حساس لوگ ہوتے ہیں ، سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہیں۔ ذہین ہوتے ہیں ، تخلیقی سوچ ہوتی ہے لیکن عموما ادارے نہیں بناتے ، کیونکہ کوئی ادارہ بنانے کے لئے انتظامی معاملات ، فنڈز کا حصول اور مستقل وسائل کی فراہمی ایسی گوناگوں مصروفیات ہوتی ہیں جن میں اگر پھنس جائے تو پھر علمی و تحقیقی کام کو تو آپ بھول ہی جائیں ۔ شائد اسی ضرورت کے تحت ماضی میں مسلمان خلیفہ اہل علم کے وظیفے مقرر کیا کرتے تھے تاکہ وہ اپنا کام بخوبی سرانجام دیں سکیں۔ایک بڑی وجہ حوصلہ افزائی کی کمی ، مشکلات ، انتہائی کم معاوضے اور علمی و تحقیقی کام کے لئے معاشی وسائل کا فقدان ہے ۔ دینی رسائل میں سے شائد کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو کہ مضمون نگاروں کو معاوضہ دیتا ہو۔ کتب خود لکھ کر، شائع کراکے خود ہی مفت تحائف میں بانٹنی پڑتی ہیں یا پھر پی ڈی ایف بنا کر پھیلا دی جاتی ہے ۔
خریدار ہی انتہائی کم ہیں ، ہر کوئی مفت کتاب چاہتا ہے ، دینی رسالہ اعزازی لگوانا چاہتا ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک بڑے بڑے استاد معاشی مشکلات کا شکار ہیں جن کی وجہ سے ذہین نوجوان اس شعبے میں جانے سے کتراتے ہیں ۔کیا دینی طبقے نے کبھی سوچا کہ ان کا علم کیوں اٹھ رہا ہے ؟ اس لئے کہ وہ خاندان اور بڑے بڑے علماء و شیوخ جنہوں نے اپنی زندگیاں علم کی آبیاری میں گزار دیں ، تصنیف و تالیف سے منسلک وہ بڑے لکھاری کہ جنہوں نے تحقیق کے میدانوں میں کام کیا ، اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے علم کی آبیاری کی ۔ وہ بھی اپنی اولادوں اور ذہن طلباء کو معاشرے کے دیگر شعبہ جات میں جانے سے روک نہیں پائے ۔ وہ خاندان جن کی علمی روایات کا چرچا تھا ،ان کے نوجوان اب اس شعبے سے منسلک ہی نہیں ہیں ۔ کیا کبھی سوچنے کی کوشش کی گئی ہے ، اس پر غور و فکر ہوا ہے کہ شیوخ الحدیث ۔ علماء۔ قراء و مدرسین کے بچے دنیاوی علوم کی طرف مائل کیوں ہو رہے ہیں۔کاش کوئی ریسرچ ہو کہ جن خاندانوں کے علم و عمل کا چرچا ہوتا تھا ۔ بڑے علمی ورثے کے ان وارثوں میں اب کوئی عالم کیوں نہیں بنتا ؟
مانا کہ علم و دین کی خدمت کسی کی خاندانی میراث نہیں ۔خاندانی فریضہ نہیں لیکن دنیا بھر میں رائج یہی ہے کہ کسی بھی شعبے میں مخصوص خاندان، علمی شخصیات کے ہونہار شاگرد ہی نامور ہوتے ہیں ۔ علمی مزاج اور مرعوبیت ملتی ہے ۔ آپ اگر چاہیں تو دینی علمی ، تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کی بجائے دیگر شعبہ جات کو اپنانے والوں کو غافل یا دین سے دور کہہ سکتے ہیں لیکن اگر غور کریں تو معاشرہ انہیں مناسب حیثیت دینے میں ناکام رہا ہے۔ اہل دین خود اپنے ہونہار بچوں کو پرکشش میدانوں کی طرف بھیج رہے ہیں۔ آپ اسے معاشرتی جبر اور ان کے علم کی ” ناقدری” نہ سہی تو کم سے کم ان کے حالات سے لاعلمی ضرور کہہ سکتے ہیں۔ہم اس مسئلے کو ایک دوسرے زاویےسے بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پاکستان اور بھارت میں دو الگ الگ تجربات ہوئے ہیں ۔ یونیورسٹی کالجز کی سطح پر اساتذہ و سکالرز کو علمی و تحقیقی سرگرمیوں کی طرف مائل رکھنے کے لئے بھارت میں کتب کی اشاعت اور پاکستان میں تحقیقی مقالات/ مضامین کی اشاعت کی پرکشش آفرز کیں گئیں ۔ مانا کہ ہر تحقیق اور تصنیف بہت معیاری نہیں ہوتی، مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ ملا ۔ جب مضامین، کتب ، لکھنےپر ،الاؤنس مراعات ، ترقیاں ، عہدے دئیے گئے تو ہر کوئی اس طرح مائل بھی ہوا ۔
اس طرح ایک پالیسی کے تحت اس طبقے نے اپنا ” علم ” بچا لیا اور نئے لوگوں کو اس طرح آنے پر مائل کیا ۔ اپنے بچوں ۔ نوجوانوں کو اہل علم سے کچھ اس طرح جوڑیں کہ ان کی تکریم کی تقریبات ۔ محافل اور نشتیں رکھیں ۔ ایک خاندان اپنے بچوں کو جمع کرے ۔ چند دوست ملکر کسی اہل علم کو مدعو کریں ۔ ان سے سیکھیں ۔ ان کی محفل سے مستفید ہوں اور پھر ضرور انہیں اچھے تحائف دیں اور تکریم کریں ۔ آپ کے اپنے بچے اور ساتھی اس سے متاثر ہوں گے معاشرے کے برے اثرات سے محفوظ رہیں گے اور اہل علم سے جڑ جائیں گےلبرل و سیکولر طبقے پر تنقید تو بہت کرتے ہیں لیکن ان کے ہاں چند روایات ہیں . ایک شاعر کی کتاب کے دو نسخے بیرون ملک کی ایک ادب دوست شخصیت نے 50 ہزار وپے میں خریدے ۔ دراصل یہ اس مصنف کو اس کے کام پر داد و تحسین کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی عملی حوصلہ افزائی اور معاونت بھی تھی ۔ اسی طرح فلم ،ڈرامہ ، گانے ، مکالمے ، ٹی وی اور ڈاکومنٹری سمیت دیگر میڈیا کے لئے سکرپٹ لکھنے والوں کو بھاری معاوضے ملتے ہیں ، مشاعروں کے معاوضے۔
اس سے ان علمی ، ادبی وتخلیقی شخصیات کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ اچھے روزگار زندگی کا بندوبست بھی ہوتا ہے ۔ لبرل و سیکولر طبقہ اپنے ” اہل علم” کی قدر کرتا ہے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ، اچھا معیار زندگی ، پہچان اور مراعات و سہولیات دیتا ہے۔ اسی سے ان کے علم کی آبیاری ہوتی ہے اور نت نئی تحقیق ، کتب ، نظریات اور تحریریں سامنے آتی ہیں ۔دوسری طرف کہیں ایسا تو نہیں کہ “علم اٹھ نہیں رہا “، ہم خود اٹھا رہے ہیں بلکہ بھگا رہے ہیں۔ بات سیدھی سی ہے کہ یا تو علم اٹھ جانے کا افسوس چھوڑ دیں یا پھر اہل علم کی قدر کرنا شروع کریں۔ کھوکھلی لفاظی سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔ ملک کے ایک بڑے دینی رسالے سے منسلک رمضان المبارک میں سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے اگر ” راشن” کا حقدار ہو گا ۔ ساری زندگی تصنیف و تالیف میں گزارنے والے ایک لکھاری کہ جن کو ملنا اعزاز ہو۔ نام اتنا بڑا کہ سن کر عقیدت سے سر جھک جائے ۔ لیکن جب وہ بیمار ہو تو علاج کے لئے سوشل میڈیا پر پانچ سو ، ایک ہزار کا تعاون جمع کرنے کی مہم چلائی جائے ۔
اگر کچھ نوجوان ایک بہت بڑے ادارے میں” تجوید و قرآت” کے بہت بڑے عہدے پر تعینات قاری القرآن والد گرامی کی بے لوث خدمات اور اخلاص سے دین کی آبیاری کی قیمت رکشہ چلا کر دے رہے ہوں تو پھر “علم اٹھ جانے” کا خطرہ ضرور منڈلاتا رہے گا ۔ ایسی ایسی سچی کہانیاں ہیں کہ سن کر ہوش اڑ جائیں ۔ دینی طبقے کو “اخلاص” جانچنے کا پیمانہ بدلنا ہوگا ۔ معاوضے اور مراعات کا تعلق اخلاص سے نہیں ہوتا ۔ کسی کا اخلاص یہی ہے کہ اس نے بہت سے دیگر شعبہ جات کی بجائے دین کی خدمت کرنا پسند کیا ہے ۔ اس کے معاوضے اور مراعات کا تعلق ” معیار زندگی ” سے ہوتا ہے ۔ کرائے کے مکانوں اور راشن کی تلاش کے ساتھ تخلیق کی خواہش بس ایک جذباتیت ہی ہے ۔ بدترین معاشی مشکلات ، خاندان کی صحت وتعلیم کی ناکافی سہولیات اور دیگر ذہنی پریشانیوں کا شکار اہل علم اپنے حالات سے لڑیں یا پھر تخلیق و تحقیق کا فریضہ نبھائیں؟ اپنے اہل علم کو جتنا بلند معیار زندگی دیں گے وہ اسی لیول پر لبرل و سیکولر طبقات ، لادینیت اور اسلام مخالف قوتوں کا مقابلہ کر سکیں گے اور علم و تحقیق ، درس و تدریس ، تصنیف و تالیف ، مضامین نگاری اور تحریر کی خدمت کر سکیں گے ۔
اس مسئلے کا حل بڑا سادہ ہے ایک طرف تو ان علمی سرگرمیوں کی عملی ، معاشی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے جبکہ دوسری جانب نیٹ ورک بنانے کی ضرورت ہے ۔ دینی طبقے کا کوئی ایسا مربوط رابطہ نہیں ، جیسے انجمن ترقی پسند ، حلقہ احباب ذوق وغیرہ ، جہاں لکھاری ، مصنف ، شاعر وغیرہ مل بیٹھتے ہیں ۔ تبادلہ خیال کے ذریعے معاشرے میں اپنے نظریات اور سوچ کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوتا ہے ۔ اس طرح اچھی کتب ، مضامین ، رسائل و جرائد کی تیاری پر حوصلہ افزائی ، پہچان ، اعزازات اور انعامات دینے کی بھی ضرورت ہے ۔ عوامی اثر و رسوخ رکھنے والے علماء خطباء کتب و رسائل کو خرید کر پڑھنے اور اہل خیر کو علمی و تحقیقی سرگرمیوں کی معاشی سرپرستی کی تلقین کریں ۔ دینی طبقے کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا ورنہ ہر علمی شخصیت کے جانے پر ” علم اٹھ جانے” کا غم کرنے سے جذباتی ماحول تو بن سکتا ہے لیکن یہ حل نہیں ہے ۔ یہ دنیا عمل کی دنیا ہے ، ہر میدان میں کامیابی صرف اور صرف تیاری مستقبل کی پلاننگ سے ممکن ہے ۔ جذباتی تقاریر اور خیالات سے صرف ہمدردی ملتی ہے ، کامیابی ہر گز نہیں اور نہ ہی مسائل کا حل۔



تبصرہ لکھیے