ہوم << مکہ مکرمہ میں مشاہدہ – انجینئر عرفان اللہ
600x314

مکہ مکرمہ میں مشاہدہ – انجینئر عرفان اللہ

تقریباً دو تین ہفتے پہلے اپنے سعودی منیجر کے ساتھ مصریوں کے حوالے سے کوئی ڈسکشن چل رہی تھی کہ انہوں نے کہا سعودی حکومت نے تین ملکوں کے لئے عمرہ کے پیکیج میں کھانا ایڈ کرنا لازمی قرار دیا جسمیں مصر، پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں انہوں نے کہا کہ مصری اس بات پر بہت غصے میں ہیں حالانکہ یہ ادھر آکر صدقے والے کھانوں میں بد تہذیبی کرتے ہیں ۔

یہ بات مصریوں کے بارے میں کر رہے تھے لیکن ظاہر ہے کہ اس میں چونکہ پاکستان بھی شامل تھا تو یہ بات ہم پر بھی فٹ آتی ہے لہذا مجھے بڑا عجیب لگا اور انھوں نے یہ بات شاید محسوس کر لی تو موضوع بدل دیا ۔ سعودی عرب میں رہنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں پر اللہ میاں کے گھر کی زیارت بار بار نصیب ہوتی رہتی ہے ۔ لہذا اس گناہ گار کو بھی اس ویکینڈ پر زیارت کا شرف حاصل ہوا ۔ حرم جاتے ہوئے ایک جگہ پر ٹھنڈا پانی زائرین میں تقسیم ہو رہا تھا جہاں پر ایک پاکستانی بزرگ کو دیکھا جو اپنے پاس موجود شاپر کو پانی کے بوتلوں سے بھر رہا تھا۔ حالانکہ وہ اس وقت پینے کے لئے ہوتا ہے جو کہ ایک یا زیادہ سے زیادہ دو بوتلیں رکھنے کے لئے ہوتا ہے ۔ وہ تو شکر ہے کہ کھانے کی تقسیم نہیں دیکھی ورنہ وہاں پر کیا حالات ہوں گے ۔ وہ شاید برداشت سے باہر ہو اس لیے رب نے دکھایا ہی نہیں ۔ اور یہ منظر دیکھ کر اندازہ ہوا کہ سعودی حکومت نے یہ فیصلہ کیوں کیا ہے کہ پیکیج میں کھانا بھی ایڈ کرنا چاہیے۔

اپنے پاکستانیوں کی خدمت میں ایک مودبانہ گزارش ہے کہ آپ یہاں پر اپنے ملک کے سفیر ہیں خدارا اس طرح کی حرکتوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں کیونکہ باقی ملکوں کے لوگ سب پاکستانیوں کے بارے میں اسی طرح کی رائے قائم کر لیتے ہیں (ظاہر ہے ساری عوام ایسی نہیں ہیں) جس کی وجہ سے پھر سعودی حکومت کو اس طرح کے فیصلے مجبوراً کرنا پڑتے ہیں ۔ اگر حساب لگا لیا جائے تو کھانے پینے پر اگر روز کے 35 ریال بھی لگا لیں (حالانکہ اکثر لوگ مل کر کھاتے ہیں جو کہ اس سے بھی کم میں کھا لیتے ہیں) تو 700 سے 750 ریال بنتے ہیں جو تقریباً 50 ہزار پاکستانی روپے بنتے ہیں ۔ اگر ایک بندہ دو سے ڈھائی لاکھ لگا سکتا ہے تو اس کے لئے پچاس ہزار کا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اور عمرہ فرض نہیں ہے لہذا جب پیسے پورے ہو تب انا چاہئے تاکہ صحیح طریقے سے ہو جائے اور آپ اپنے ہم وطنوں کے بے عزتی کا باعث نہ بنے ۔

عمرہ ایک نفلی عبادت ہے جس کو اچھے طریقے سے کرنا چاہئے اور اس 21 یا 15 دن میں کوشش کریں کہ ملک کی نیک نامی کا باعث بنیں نا کہ بدنامی کا ۔ حکمرانوں پر تو ہم تنقید کرتے ہیں اور بنتی بھی ہیں لیکن کچھ زمہ داریاں ہم عوام کی بھی ہیں جس کا ہمیں خیال کرنا چاہئے اور یہاں پر مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کو ہمیں اپنے کردار سے دکھانا چاہئے کہ ہم اپنے حکمرانوں جیسے نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ملک کی نیک نامی کا ذریعہ بنا دیں ۔ آمین

نوٹ :
یہ میرا مشاہدہ ہے اور جو دیکھا اس پر اپنی رائے دی جس پر لوگ یہ اعتراض کریں گے کہ اس طرح تو غریب لوگ نہیں جا سکیں گے تو بھائی غریب پر تو اس لئے رب العالمین نے حج بھی فرض نہیں کیا کہ جو استطاعت رکھتا ہو وہ حج کے لئے آجائے اور عمرہ تو کسی پر بھی فرض نہیں ہے ۔