پاکستان بار کونسل نے اگست 2025ء میں اعلان کیا کہ ایل ایل بی کی ڈگری کا دورانیہ تو پانچ سال سے کم کرکے چار سال کردیا گیا ہے، لیکن ’’ایل ایل بی شریعہ و قانون‘‘ کی ڈگری کا دورانیہ بدستور پانچ سال رہے گا۔ اس فیصلے سے قبل ایل ایل بی شریعہ و قانون کی ڈگری دینے والی سات یونیورسٹیوں میں کسی ایک کے ساتھ بھی مشاورت نہیں کی گئی، نہ ہی ان کا موقف سنا گیا۔
جس کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا، اس کی جاری کردہ دستاویز میں بھی کہیں یہ تفصیل نہیں ہے کہ اس فیصلے سے قبل کیا بحث ہوئی، کس نے کیا موقف اختیار کیا اور کیا دلیل دی۔ بلکہ پوری دستاویز میں ایل ایل بی شریعہ و قانون کا کہیں نام ہی نہیں ہے، نہ ہی اس نصاب اور ڈگری پر کوئی بحث ہے، بس دستاویز کے آخر میں صرف ایک جملے میں یہ فیصلہ سنا دیا گیا ہے اور اس کی صرف ایک وجہ بیان کردی گئی ہے کہ یہ ڈگری ’’ڈبل میجر‘‘ (یعنی دو الگ علوم) میں دی جاتی ہے اور ایچای سی کی 2023ء کی پالیسی کے مطابق ’’ڈبل میجر‘‘ کی ڈگری کا دورانیہ پانچ سال ہونا چاہیے۔ اگر یہ بات بدنیتی پر مبنی نہ ہو، تو چنددر چند غلط فہمیوں پر تو ضرور مبنی ہے۔ اس کا تفصیلی تجزیہ ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ایچ ای سی آرڈینینس 2002ء ایچ ای سی کو اپنی کوئی پالیسی کسی یونیورسٹی پر زبردستی نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ اس کے برعکس اس آرڈینینس کی دفعہ 10 (1) (سی) میں یہ کہا گیا ہے کہ ایچ ای سی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے معیارات کی ’سفارش‘ کرے گی اور یہ کام بھی وہ یونیورسٹیوں کی ’مشاورت‘ سے کرے گی۔
(یہی اصول بار کونسل ایکٹ کی دفعہ 13 (1) (جے) میں بھی طے کیا گیا ہے۔)جس طرح ایچ ای سی اور بار کونسل ایک قانون کے تحت وجود میں لائی گئی ہیں، ایسے ہی ہر یونیورسٹی کسی ایکٹ یا آرڈینینس کے ذریعے وجود میں لائی گئی ہے اور ہر یونیورسٹی ایک ایسا’قانونی شخص‘ہے جو سب سے پہلے اس قانون کا پابند ہے جو اسے وجود میں لایا ہے۔ چنانچہ اگر کسی یونیورسٹی کو وجود میں لانے والے قانون اور ایچ ای سی کے آرڈینینس میں کہیں تعارض ہو، تو یونیورسٹی اپنے قانون کی پابند ہوگی، نہ کہ ایچ ای سی کے آرڈینینس کی۔ پس کسی یونیورسٹی پر ایچ ای سی کی کسی پالیسی کی پابندی اس وقت تک لازم نہیں ہوتی جب تک اس یونیورسٹی کے فیصلہ ساز ادارے اس پالیسی کو باقاعدہ طور پر منظور کرکے اپنے اوپر اس کی پابندی لازم نہ کرلیں۔ اس کے بعد اگر ایچ ای سی کی 2023ء کی پالیسی کا جائزہ لیا جائے، تو اس میں بھی کہیں یہ بات مذکور ہی نہیں ہے کہ ’’ڈبل میجر‘‘ کی ڈگری کا دورانیہ پانچ سال ہو۔
اس میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا گیا ہے کہ ایسی ڈگری میں 192 کریڈٹ ہوں گے۔ اس بات کو اسی پالیسی میں مذکور دو دیگر اصولوں کے ساتھ ملائیے، تو بالکل مختلف صورت بن جاتی ہے۔ ایک، یہ کہ ’’ڈبل میجر‘‘ چونکہ دو ایسے علوم کی ڈگری ہوتی ہے جن میں مشترک مواد بھی ہوسکتا ہے، اس لیے مشترک مواد کو 30 کریڈٹ تک کم کیا جاسکتا ہے اور اس صورت میں 162 کریڈٹ کی تکمیل پر یہ ڈگری دی جاسکے گی۔ دوسرا، یہ کہ ایک سمسٹر میں 21 کریڈٹ پڑھائے جاسکتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ آٹھ سمسٹروں، یعنی چار برسوں، میں یہ ڈگری پوری کی جاسکتی ہے! واضح رہے کہ غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ’’ایکسٹرنل پروگرام‘‘ پاکستان میں ’’ٹیوشن سنٹروں‘‘ میں چلائے جارہے ہیں اور وہاں سے ڈگری تین سالوں میں حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم چونکہ اس کے لیے بہت بھاری فیس دینا پڑتی ہے، اس لیے یہ سہولت صرف اشرافیہ کے بچوں کے لیے ہی دستیاب ہے۔ مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی اکثریت کو چار سالہ ایل ایل بی اور پانچ سالہ ایل ایل بی شریعہ و قانون میں ہی کسی کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایل ایل بی شریعہ و قانون کو ’’ڈبل میجر‘‘ قرار دینے سے کیریئر میں طلبہ کو ایسا کیا فائدہ ملے گا جس کے لیے وہ عام ایل ایل بی کی ڈگری کے بجائے اس ڈگری کے لیے آئیں اور ایک سال اضافی لگائیں؟ (دیکھیے کہ شریعہ و قانون کے پروگرام کی بانی اسلامی یونیورسٹی نے اس سال اس پروگرام میں داخلے آفر ہی نہیں کیے!) سارے مسائل کی جڑ اس غلط مفروضے میں ہے کہ ’’شریعہ و قانون‘‘دو الگ علوم ہیں۔ انگریزوں کی غلامی کے وقت شاید ایسا ہی تھا، لیکن آزادی کے بعد اپنے آئین کی رو سے پاکستان ایک ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ ہے؛ اس کا ’’ریاستی مذہب‘‘ اسلام ہے؛ یہاں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے جس کے مقررہ حدود کی پابندی تمام افراد اور اداروں پر لازم ہے؛ یہاں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جاسکتا جو اسلامی احکام سے متصادم ہو؛ اور یہاں رائج الوقت تمام قوانین کا اسلامی احکام سے ہم آہنگ کرنا لازم ہے۔ ان اصولوں کی رو سے یہ مفروضہ یکسر غلط ہے کہ قانون الگ ہے اور شریعت الگ، بلکہ لازم ہے کہ شریعت، یعنی اسلامی احکام، ہی کو ملک کا قانون مانا جائے۔
چنانچہ خواہ آپ 1872ء کا قانونِ معاہدہ پڑھارہے ہوں یا 1932ء کا قانونِمشارکت، یا کوئی اور دوسرا قانون، ہر قانون کو اس طرح پڑھانا لازم ہے کہ اس کا مفہوم اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہوجائے۔ پاکستان کے قوانین کو انگریزوں کے ’’کامن لا‘‘ پر مبنی قرار دینا ہی غلط ہے۔ بے شک یہ قوانین انگریزوں نے بنائے ہوں، لیکن اسلامی آئین بنا چکنے کے بعد یہ سارے قوانین اسلامی احکام کے تابع ہوگئے ہیں۔ اگر ان میں کوئی شق ایسی ہو جو اسلامی احکام سے متصادم ہو، تو اس کی نشاندہی کرکے اسے ختم کرنا بھی لازم ہے اور باقی سارے قوانین کی ایسی تعبیر کرنی بھی لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ جب تک قانون کی تعلیم کا نظام قانون اور شریعت کی دوئی کے مفروضے پر قائم ہے،یہ دونوں کام ناممکن ہیں۔ گویا پاکستان بار کونسل کا بنایا گیا قانون کی تعلیم کا نصاب نہ صرف ہمارے آئین اور قوانین کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے، بلکہ اس کا اساسی مفروضہ ہی ہمارے آئین اور قوانین سے متصادم ہے۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بار کونسل کی توجہ اس بنیادی ترین غلطی کی طرف کیوں نہیں ہے؟
اس کا جواب بہت تفصیل کا متقاضی ہے لیکن اتنی بات تو فوری طور پر کہی جاسکتی ہے کہ بار کونسل کی کمیٹی برائے تعلیم کے سارے ہی فاضل ارکان کی اپنی تعلیم قانون اور شریعت کی دوئی کے مفروضے پر ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں ان سے تو گلہ نہیں بنتا، لیکن قانون و شریعت کی وحدت کے اصول پر قائم تعلیمی اداروں کے اربابِ اختیار اور اساتذہ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ انھوں نے قانون و شریعت کی دوئی کے مفروضے کی غلطی ثابت کرنے اور قانون و شریعت کی وحدت کا اصول منوانے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟



تبصرہ لکھیے