دیباچہ: کتاب، اہل وفا کی بستی کا سفر
سفر آج تمام ہوا
فلسطین سے واپس آئے چار سال ہونے کو آئے ہیں ۔ ستمبر دو ہزار بائیس کے اواخر میں اپنے دونوں بیٹوں حمزہ سر بلند اور بلال کے ساتھ فلسطین گیا تھا ۔ اکتوبر کے اواخر میں ہم آسڑیلیا واپس تو آگئے تھے ۔ لیکن میراسفر ختم نہیں ہوا ، چار سال گزر گئے لیکن میرا سفر جاری رہا ۔ یہ سفر آج ختم ہوا ، جب میں نے یہ تحریر لکھ کر اپنی کتاب سائن آف کر کے عارف انیس کے حوالے کر دی ۔
فلسطین کے سفر کے دوران اور واپس آنے کے بعد میں اپنے اس سفر کی یاد داشتیں لکھتا رہا ۔ یہ سفر نامہ تشکیل پاتا رہا ۔ یہ کتاب لکھنے میں مجھے چار سال لگے ۔ میں اپنی آپ بیتی اور فلسطنیوں کی جگ بیتی لکھتا تھا ۔ خاص طور پر پچھلے چھ مہینوں میں تو یہ کتاب ہی میرا اوڑھنا بچھونا رہی ۔ میری زندگی اسی کے گرد گھومتی رہی ۔ ان چار سالوں میں میرا تعلق اس سرزمین سے اور مضبوط ہوا۔ جسے قرآن میں مقدس سرزمین کہہ کر پکارا گیا ہے ۔ آج وقت کے اس دوراہے پر پہنچ کر مجھے محسوس ہو رہاہے کہ میں نے یہ پچھلے چار سال آسٹریلیا میں نہیں ۔ یروشلم میں گزارے ہیں ۔ دن کے وقت برسبین اور گولڈ کوسٹ میں کلینک کرتا تھا ۔ مریض دیکھتا تھا اور ہر رات میں یروشلم کی گلیوں میں ہوتا تھا ۔ لکھتے وقت یادوں کی ایک کہکشاں در آتی ۔ میرے اندر کی تاریکی چُھٹنے لگتی ، وہ فضا وہ سماں ، وہ گلیاں، وہ کوچے ، وہ درو دیوار میری نگاہوں کے سامنے گھومتے تھے .
میرے کانوں میں مسجد اقصٰی کی اذان گونجتی ۔ میری آنکھیں سنہری گنبد کی دل افروز روشنی سے خیرہ ہونے لگتیں ۔ لکھتے لکھتے تھک جاتا تو بستر پر لیٹ جاتا ۔ سونے کی کوشش کرنے لگتا ۔۔ لیکن آنکھیں بند کرتے ہی اپنے آپ کو مسلم کواٹرز کی پتھریلی گلیوں میں پاتا ۔ مجھے صدیوں پرانے ان پتھروں پر اپنے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگتی۔ یروشلم کی گرمیوں کی تپش محسوس ہوتی ۔ باب حطہ والی گلی میں چار سو سال پرانی بیکری میں بننے والی کائیک کی سوندھی خوشبو میرا حصار کر لیتی ۔ یر وشلم کی سہانی صبحوں میں چلنے والی باد صبا مجھے گدگدانے لگتی ۔ سرد شاموں میں ڈاکٹر حلاق کے ساتھ کونسل گیٹ کے باہر قہوہ خانے کے صحن میں پڑے لکڑی کے اونچے سٹولوں پر اپنے آپ کو بیٹھا پاتا ۔ اس کے سگار کی خوشبو میرے گرد چھا جاتی ۔۔ تلخ عربی قہوے کی تلخی حلق میں اترتی محسوس ہو تی ۔ میں مسجد اقصٰی کے سامنے بنے چبوترے پر بزرگ زیتون کے کھردرے تنے سے ٹیک لگائے ام خالد کی دی کھجوروں کے ساتھ فلسطینی چائے کی چسکیاں لیتا رہتا ۔ اور پھر رات یونہی یروشلم کی گلیوں میں بیت جاتی ۔ صبح اٹھتا تو اپنے آپ کو آسٹریلیا میں اپنے بستر پر پڑا پاتا ۔
چہ گویم حال آں منزل نمی دانم سوائے ایں
طلسم زیست برہم گشت شب جائے کہ من بودم
(اس منزل کا حال میں تم سے کیا بیان کروں سوائے اس کے میں کچھ نہیں جانتا کہ زندگی کا طلسم ٹوٹ گیا کل رات میں جہاں تھا)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
وہ سرزمین ایک طلسم ہوش ربا ہے ۔ جہاں جانے والا مسحور سا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اس کے نظاروں میں اس کے سحر میں گرفتار ہو کر اپنے آپ کو بھولنے لگتا ہے ۔ اسے اپنی ہستی فنا ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا غالباً طاہرے گنیش نے لکھا ہے کہ کہانی حرف “ ک “ سے نہیں شروع ہوتی ۔ کہانی دل کی اس کفیت سے شروع ہوتی ہے جو آنکھ کی زبانی اسے مشاہدے کی صورت میں میسر آتی ہے ۔ وہی منظر اگر کوئی لفظوں میں تصویر کر دے تو وہ کہانی بن جاتی ہے ۔
وہ ٹھیک ہی کہتی ہوگی ۔ لیکن جانے کیوں میرے ساتھ یہ معاملہ نہیں رہا ، فلسطین میں سب کچھ گڈ مڈ ہو گیا ۔ اس کے منظر اتنے ہوش ربا تھے ۔ کہ آنکھ جو کچھ دیکھتی تھی ۔ اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں تھا ۔ یروشلم میں جا کر مجھے ہمیشہ یہ لگا کہ میں لوئس کیرول کی ونڈر لینڈ میں آگیا ہوں ۔ ایلس کی طرح اس جادوئی غار میں گر گیا ہوں جہاں سفید خرگوش کا تعاقب کرتے ہوئے ہر قدم پر ایک نیا انکشاف میرا منتظر تھا ۔ ہر موڑ پر ایک نئی کہانی ملتی تھی ۔ ایک نئے کردار سے واسطہ پڑتا تھا ۔ ہر گلی ایک نئی داستان سناتی تھی ۔ اتنا کچھ دیکھنے کے بعد اتنا عرصہ وہاں گزارنے کے بعد بھی اس سرزمین کا دکھ ۔ اس کی تاریخ ، اس کی کہانی ،لکھنی بہت مشکل لگی ۔ میں نے جو دیکھا۔ دیکھنے سے زیادہ اسے محسوس کیا تھا اسے اپنے اندر جذب کیا تھا اس لئے جب اپنی ان یادوں کو ان احساسات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کا وقت آیا تو لگا یہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے ۔
میں نے اس کتاب کو لکھنے کے لئے درجنوں کتابیں پڑھیں ، بے شمار ڈاکو منٹری دیکھیں .بہت کچھ لکھا دو ہزار صفحے لکھ ڈالے ۔ ایک ضخیم کتاب بن گئی لیکن بہت سارا لکھنا پھر بھی رہ گیا ۔ چار ہزار سال کی تاریخ کو دو ہزار صفحوں میں سمیٹا بہت مشکل تھا ۔ وہ ابواب جو چار سال پہلے لکھے تھے انہیں از سر نو لکھا ۔ بلکہ ساری ہی کتاب دوبارہ لکھی ۔ اتنا کچھ لکھنے کے بعد بھی تشنگی باقی ہے ۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ۔ رومی نے سچ کہا تھا:
چہ گویم چہ دانم کہ ایں داستاں
فزوں است از حد امکان ما
(جو کچھ میں نے دیکھا جو جانا وہ میری اوقات ۔۔ میرے فہم میرے امکاں سے بہت سوا تھا )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ کتاب نہیں ایک امانت ہے
عارف انیس نے کہیں لکھا تھا کہ
“ لکھنے کا سب سے مقدس لمحہ وہ ہے جب آپ کا اپنا لکھا ہوا آپ کو خود حیران کر دے۔ جب آپ اپنا جملہ پڑھیں اور سوچیں: یہ میں نے لکھا؟ یہ مجھ سے نکلا؟ اس لمحے میں آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ برتن تھے۔ پانی کہیں اور سے آیا۔ آپ نے بس اسے پھیلنے نہیں دیا۔”
عارف انیس نے میری کتاب کا مسودہ پڑھا اس کی تصحیح کی اور پھر بے ساختہ کہا کہ
“ یہ سب میں نے نہیں لکھا مجھ سے لکھوایا گیاہے “
وہ سچ کہتے ہیں “لکھاری تو محض “ وچولا “ ہوتا ہے ۔اسکا کردار تو بس اتنا ہوتا ہے کہ وہ اس قرض کو ادا کرتاہے جو اس کے ذمے لگا دیا جاتا ہے ۔ دو ہزار صفحے کی یہ کتاب لکھنے کے بعد میں نے جب جب اسے پڑھا تو مجھے خود یقین نہیں آیا کہ یہ میں نے لکھا ہے ۔ یہ میری تحریر ۔ یہ میرے اپنے الفاظ ہیں ۔نہیں یہ میرا لکھا ہوا ہے ہی نہیں ۔ واقعی یہ تو مجھ سے لکھوایا گیا ہے ۔ کبھی کوئی جملہ کھانا کھاتے وقت ذہن میں آیا ۔ تو کبھی کوئی واقعہ نماز پڑھتے ہوئے یاد آ گیا ۔ کبھی آدھی رات کو جاگ کر قلم اٹھایا ہے ۔ کبھی نہاتے ہوئے کوئی حوالہ ذہن میں آیا اور صابن لگا ہاتھ لیے اسے لکھنے کے لئے باہر بھاگا ۔ کبھی کسی کا فون سنتے ہوئے اچانک وہ گھتی سلجھ گئی جو ہفتوں سے الجھی ہوئی تھی ۔ بقول عارف انیس کے، میں تو محض پہرہ دار تھا الفاظ کہیں باہر پھر رہے تھے اور میرا کام محض انھیں گرفت میں لانا تھا ۔ انہیں قید کر کے صفحہ قرطاس پر منتقل کرنا تھا اور بس وہ فریضہ میں بخوبی نبھاتا رہا . اور اس بات کا اعتراف تو غالب نے بھی کیا تھا :
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
یہ تو وہ قرض تھا جو فلسطین کے اس سفر میں سب کچھ دیکھنے کے بعد اتنا کچھ محسوس کرنے کے بعد مجھ پر واجب تھا ۔ یہ تو اس وعدے کا ایفا تھا جو میں نے دیر یاسین اور صوبا کے اجڑے گاؤں کی داستان سن کر یروشلم کے باہر اس پہاڑی چوٹی پر چودھویں کے چاند کے سامنے ابو قاسم سے کیا تھا ۔ جس کے دامن میں دیر یاسین کی جگہ اب پاگلوں کا ہسپتال بنا دیا گیا ہے ۔ مجھے وہ لمحہ کبھی نہیں بھولا جب اس نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا تھا ۔
“ ڈاکٹر یہ سب باتیں میں تمہیں سنا رہاہوں صرف اس لئے کہ تم نے بتایا تھا کہ تم مصنف ہو اور واپس جا کر فلسطین کا سفر نامہ لکھنے کا ارادہ رکھتے ہو ۔ ورنہ تو ایسی باتیں اجنبیوں سے کرتے ہوئے ۔ہم اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں ۔ میری یہ ساری باتیں — میری یہ کہانیاں ۔۔ تمہارے پاس میری اور میری قوم کی امانت ہیں۔”
“امانت۔ “ میں نے زیر لب اس کے الفاظ دہرائے ۔
”ہاں امانت ، وعدہ کرو کہ انہیں من و عن ایسے ہی لکھو گے – جیسے بتائی ہیں۔ یہ تمہارا مجھ پر فلسطنیوں پر بڑا احسان ہو گا ۔ یہ صرف میرا اور میری قوم کا نہیں – ہماری آنے والی نسلوں کا بھی دکھ ہے – جس سے دنیا کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ “
اور اور میں نے اس سے وعدہ کر لیا تھا کہ اس کی امانت دنیا تک ضرور پہنچاؤں گا ۔ سو یہ کتاب – یہ تحریر اور میرے یہ آنسو جو اس کو لکھتے ہوئے میری آنکھوں سے بہے سب ابوقاسم کی امانت ہیں ۔ یہ شکریے کے وہ الفاظ ہیں ۔ جو اسے رخصت کرتے وقت اس روز ادا ہونے سے رہ گیے تھے ۔ مجھے خوشی ہے میرے اللہ نے مجھے توفیق دی ۔ میں اس سے کیا وعدہ نبھا رہاہوں اور وہ امانت جو اس نے مجھے سونپی تھی آج دنیا تک پہنچا رہا ہوں۔ عارف انیس نے ایک بات اور بھی کہی کہ غزہ پر جو قیامت بیتی۔ فلسطینی دکھ ودرد اور مصیبت وابتلا کے جس دور سے گزرے ۔ اور گذر رہے ہیں ۔ ان کا ساتھ دینا ۔ ان کی دلداری کرنا ۔ ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا۔ دینا کے ہر باضمیر اور زندہ انسان پر فرض ہے اور تصور بھائی ! ہم اس کتاب کے صورت میں اور ان تحریروں کی صورت میں اپنا وہ فرض ادا کر رہے ہیں جو ہم پر لازم ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ صرف ایک سفر نامہ نہیں ہے �یہ قبلہ اول کی فریاد ہے
یہ صرف ایک سفر نامہ نہیں ۔تاریخ نامہ ہے ۔ اس دیس میں بسنے والی تین قوموں کے عروج و زوال کی داستان � اس سرزمین کی روداد جس کی ہر چیز پر ۔۔ ہر جگہ پر ۔۔ ہر عمارت پر ۔ تین تین دعوے ہیں ۔ کیرن آرمسٹرانگ سچ کہتی ہے کہ:
ایک خدا ۔ ایک ابراہیم کے ماننے والے ۔ لیکن تین دعوے ۔ ایک شہر لیکن تین نام ۔ تین عقیدے ۔
اور شائد یہی اس جگہ کی خوبصورتی ہے ۔ یہ تنوع ۔۔یہ تضاد ۔۔ یہ اختلاف دنیا کے کسی اور خطے کے نصیب میں نہیں ۔۔ یہ محض کتاب نہیں ہے ۔ یہ آہوں سسکیوں کی داستان ہے مظلوموں کی کہانی ہے� ظالموں کے ظلم کی داستان ہے� بیت المقدس میں رہنے والے اہل وفا کی وفاؤں اور ان کے دیس کی یاترا کی روداد ہے ۔۔ یہ اس سر زمین پر رہنے والے ان آزاد منش لوگوں کی کہانی ہے جو غلامی کی سیاہ رات میں بھی روز اپنے خون سے امیدوں کے چراغ جلاتے ہیں ۔ روز اپنے پیاروں کو اپنے ہاتھوں سے بيت المقدس کی مقدس مٹی کے سپرد کرتے ہیں لیکن پیچھے نہیں ہٹتے ۔۔ نہ تو طاغوت کے جور وستم کی شدت کم ہوتی ہے اور نہ ان مظلوموں کے حوصلوں اور قربانیوں میں کوئی کمی آتی ہے ۔۔۔
فلسطین اور اسرائیل کے سفر کی یاد داشتوں پر مبنی یہ صرف ایک سفر نامه ہی نہیں ہے بلکہ بیت المقدس اور سر زمین فلسطین میں بسنے والوں کی داستان درد بھی ہے اور خود قبلہ اول کی فریاد بھی ۔ جو جانے کب سے اپنے چاہنے والوں کی ۔ کسی دوسرے صلاح الدین ایوبی کی راہ تک رہا ہے ۔ یہ جگ بیتی بھی ہے اور آپ بیتی بھی۔ اس کتاب میں جہاں آپ کو یہودیوں کی تاریخ ، ان کے عروج و زوال کے قصّے ۔۔ ان کی گمراہیوں کی کہانیاں ۔۔۔ ان کے فریبوں کے جال ۔۔ اور ان کے عزائم و مظالم کی تفصیل ملے گی وہیں اہل وفا کی وفاؤں ، ان کی قربانیوں اور جدوجہد آزادی کی داستانیں بھی رقم ملیں گی ۔ اس میں آپ کو اہل تثیلت کی کہانی بھی ملے گی اور صلیبی جنگوں کی روداد بھی ۔ اس میں فلسطین کی سر زمین پر جنم لینے والی دنیا کی دو سب سے پراسرار اور طاقتور تنظیموں کا ذکر بھی تفصیل سے آتا ہے جنہوں نے آج کی جدید دنیا کو دو ایسے نظام دیئے جو آج ہماری زندگیوں کا محور ہیں ۔ ہاسپٹلرز نے جدید ہسپتال کا تصور دیا اور ٹمپلرز نے موجودہ بینکنگ کا نظام ۔
مسلمانوں کے عروج وزوال کی داستان بھی اس کتاب کی زینت ہے ۔ اس میں ان تین بڑی جنگوں کی روداد بھی ہے ۔۔ جو اس سرزمین پر لڑی گئی تھیں ۔ جنگ اجنادین ۔۔جنگ حطین اور جنگ عین جالوت ۔ جنہوں نے اس خطے کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ نئے سرے سے رقم کی تھی ۔ یہ میری اپنی کہانی بھی ہے ۔ میری آپ بیتی ۔ میرے عقیدے میرے ایمان کی داستان ۔ میں نے اپنے اس سفر میں صرف فلسطین ہی نہیں اپنا آپ بھی دریافت کیا۔ یہ میری اپنی ذات کے اندر کا سفر بھی ہے ۔ جو پہلے صرف پڑھا تھا۔ سنا تھا ۔ جب اپنی آنکھوں سے دیکھا تو میرے ایمان کی تکمیل کا سبب ٹھہرا ۔ میرے عقیدے کی پختگی کا باعث بنا ۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اپنی رائے سے اجتناب کروں ۔ تاریخی واقعات کو تاریخ کی کسوٹی پر پرکھنے کے لئے چھوڑ دوں ۔ انہیں تاریخ دانوں اور مؤرخین کی رائے سے ثابت کروں تاکہ جانبداری کا ٹھپہ نہ لگے لیکن پھر بھی انسان ہوں ۔ دل رکھتا ہوں ۔ کئی جگہ بھٹک بھی گیاہوں جس کے لئے میں معذرت نہیں کروں گا کیونکہ میں نے وہی لکھا جسے میں سچ سمجھتا ہوں ۔
“میں زہر ہلالل کو کبھی کہہ نہ سکا قند “
درحقیقت یروشلم اور فلسطین کی تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قوموں کے عروج وزوال کا عکس بڑا واضح نظر آتا ہے ۔ پچھلے تین ہزار سال کی تاریخ یہی کہتی ہے کہ جس قوم نے یروشلم پر قبضہ حاصل کیا وہ اپنے عروج کو پہنچی اور جس نے اسے کھویا وہ زوال وپستی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گری ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
کتاب کے نام کا جھگڑا : حتی النصر ۔ حتی القدس
میں نے جب اس موضوع پر لکھنا شروع کیا تو پہلے دن سے ہی اس کتاب کا نام “اہل وفا کی بستی “ رکھا تھا ۔ ۔۔ پھر یہی نام مشہور بھی ہوگیا۔ پچھلے چار سال سے میرے پڑھنے والے فلسطین کے سفر کی داستان اسی نام سے پڑھتے چلے آئے ہیں ۔ لیکن جب اس کے چھپنے کا وقت قریب آیا تو اس کے نام پر اعتراض اٹھنا شروع ہو گیا سب سے پہلے محترم فاروق عادل نے فون کرکے اس پر اعتراض کیا۔ پھر عارف انیس اوراس کتاب پر کام کرنے والی ان کی ٹیم کو بھی یہ نام کچھ پسند نہ آیا ۔ اعتراض یہی تھا کہ “اہل وفا کی بستی “ فلسطین کی نمائندگی نہیں کرتا ۔ اس میں فلسطین کہیں نہیں جھلکتا ۔ میں اہل وفا کی بستی کا نام ترک کرنے کو تیار نہیں تھا ۔ مجھے یہی نام اچھا لگتا تھا ۔ یہ دل کو بھاتا تھا ۔ میرا ایمان کی حد تک یقین ہے ۔ کہ فلسطین کے باسی ہی تو اصل میں اہل وفا ہیں. پھر ایک دن جب ایک میٹنگ کے دوران عارف انیس نے “حتی النصر ۔ حتی القدس ۔ فتح تک ۔ القدس تک “ کا نام تجویز کیا تو سنتے ہی ٹھک کر کے دل کو لگا اور فائنل ہو گیا ۔ عارف انیس نے کہا کہ انہیں بھی یہ نام الہام ہوا تھا ۔ کہیں سے اچانک نازل ہوا تھا ۔
حتی النصر ۔ حتی القدس کا نعرہ بہت پرانا ہے آٹھ سو سال پرانا ۔۔ پہلی مرتبہ بارہویں صدی میں زبان زد عام ہوا ۔ صلاح الدین ایوبی نے لگایا ۔ جب یروشلم پر صلیبوں کا قبضہ تھا ۔ اور پھر یہ نعرہ صلاح الدین ایوبی کے لئے ایک نشان راہ بن گیا ۔ اس کی دن رات کی تگ ودو کا مرکز ۔ القدس تک پہنچنے کا سنگ میل ۔ ایک مشعل راہ۔ جس کی روشنی میں بالآخر گیارہ سو ستاسی میں یروشلم آزاد ہوا ۔ پھر یہ کئی صدیوں تک ماضی کے دھندلکوں میں کہیں کھو گیا ۔ ذہنوں سے محو ہو گیا ۔ آٹھ سو سال بعد تاریخ نے دوسری بار یہ نعرہ امام خمینی کے منہ سے سنا ۔ جب انیس سو اناسی میں رمضان المبارک کے جمعہ الوداع کے موقع پر یوم قدس مناتے ہوئے انہوں نے یہ نعرہ بلند کیا ۔ ایک انقلابی کی زبان سے نکلا اور دلوں میں گھر کر گیا اور پھر اتنا عام ہوا کہ ہر فلسطینی کے دل کی دھڑکن بن گیا انیس سو اسی سے یہ حزب اللہ کا نعرہ بنا ۔ انیس سو ستاسی میں پہلی انتقاضہ کے دوران فلسطین کے گلی کوچے اس نعرے سے گونج اٹھے ۔ درودیوار اس سے بھر گئے اور آج یہی نعرہ میری اس کتاب کا عنوان بن گیا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭
جب جارج گیلوے بھی اس قافلے کا حصہ بنا
جارج گیلوے کے نام سے کون واقف نہیں ۔ اس کی آواز آج بین الاقوامی سطح پر فلسطین کے حق میں اٹھنے والی طاقتور اور توانا ترین آوازوں میں سے ایک ہے ۔ اور وہ اپنے اس جرم کی سزا بھی بھگت رہا ہے ۔ اس نے فلسطین کی محبت میں وہ قرض ادا کئے ہیں جو اس پر لازم بھی نہیں تھے ۔ یہ کتاب اس کی میز تک پہنچی ۔ اور اسے اس تک پہنچانے کا سہرا بھی عارف انیس کے سر ہے ۔ اس نے پڑھی اور اتنا متاثر ہوا کہ وہ بھی اس قافلے کا حصہ بن گیا ۔ اس نے انگریزی زبان کا پیش لفظ لکھا اور کیا خوب لکھا ۔ حق ادا کر دیا ۔ اس کی تحریر کا اردو ترجمہ اردو کے ایڈیشن میں بھی شامل ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
کچھ ذکر دوسرے ہم راہیوں کا جو اس سفر میں میرے ہم رکاب رہے
یہ کتاب تین زبانوں میں شائع ہو گی ۔ اردو ۔ انگلش اور عربی اور اس کے بعد پھر ان شاءاللہ دوسری زبانوں میں بھی یہ امانت جتنے زیادہ لوگوں تک ممکن ہو سکا پہنچانے کا عزم ہے ۔ اس کتاب کو لکھنے اور یہاں تک پہنچانے کا سہرا مجھ سے زیادہ ان لوگوں کے سر ہے ۔۔ جو اس سفر میں میرے ہم رکاب رہے ۔اس میں سب سے پہلا نام تو عارف انیس کا ہے جن کی مدد اور راہنمائی کے بغیر یہ سب ممکن نہ تھا ۔۔ ان سے میرا رشتہ موسٰی اور خضر کا سا ہے ۔ میں اس سفر میں ان کے ساتھ نکلا تھا ۔ وہ مجھے میری غلطیوں سمیت برداشت کرتے رہے ۔۔ میں غلطی کرتا تھا اور وہ اسے درست کر تے تھے ۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ نہ تو میں موسٰی ہوں اور نہ وہ خضر ۔۔ مگر کیا کروں مجھے اس وقت اپنے اور ان کے رشتے کی نوعیت کو بیان کرنے کے لئے کوئی اور مثال سوجھ بھی تو نہیں رہی ۔۔
دوسرا ذکر پیارے بھتیجے جنید ظفر کا ہے جس نے اس کی کتابت کی نوک پلک درست کی ۔ تزئین وآرائش کی ۔ اسے خوبصورت بنایا ۔ جن لوگوں نے میری پہلی کتاب “ زبان یار من ترکی “ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں اس کتاب کی اٹھان کتنی مختلف ، کتنی خوبصورت ، کتنی منفرد تھی ۔ اور جنید کا یہی جادو آپ کو اس کتاب میں بھی سر چڑھ کر بولتا نظر آئے گا ۔ پھر حمزہ سر بلند ہے ۔ میرا فخر ۔ میرا بیٹا ۔ عربی ۔ فارسی اردو ۔ اقبالیات اور انگریزی زبانوں کا ماہر ۔ تاریخ کا مسافر ۔ ملبورن کی مونیش یونیورسٹی میں پڑھنے والا ۔ پی ایچ ڈی کا طالبعلم ۔ اس نے جس محنت اور عرق ریزی سے انگلش ایڈیشن کو بہتر بنانے میں مدد کی ۔ اور اردو ایڈیشن کو سنوارنے میں ہاتھ بٹایا ۔۔اس کے لئے الفاظ نہیں مل رہے ۔ اس کے نقشے بیت اللہ نے بنائے ہیں ۔ اور کیا خوب بنائے ہیں ۔ وزیرستان کے محسود قبیلے کا غیور فرزند ۔ بیت اللہ جو میری سوشل میڈیا ٹیم کا روح رواں ہے ۔آپ روز میرے سوشل میڈیا پر جو پوسٹیں دیکھتے ہیں اسی کے حسن ذوق کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یروشلم کے نقشے بناتے بناتے ایک دن کہنے لگا :
“ڈاکٹر صاحب ! میں کبھی یروشلم گیا نہیں لیکن لگتا ہے جیسے دہائیوں سے وہاں رہ رہا ہوں ۔۔ “
پروفیسر عابدہ فیاض فیصل آباد گورنمنٹ کالج کی سابقہ پرنسپل ہیں ۔ اس کتاب کی حروف بینی انہوں نے کی اور صحت کے مسائل ہونے کے باوجود مجھ پر یہ احسان کیا ۔ جس کا صلہ دینے کے لئے میرے پاس تو کچھ نہیں ہے اللہ ہی ان کو ان کی اس بہترین کاوش کا صلہ دے سکتا ہے ۔ پھر پیاری بہن ڈاکٹر عفیفہ صدیقی اور ڈاکٹر ندیم صدیقی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپناقیمتی وقت اس کتاب کو دیا اور اس مشکل سفر میں دامے درمے سخنے میرے ہم رکاب رہے ۔ اپنی بیگم ڈاکٹر روبینہ گل شمس کا ذکر نہ کرنا ان کے ساتھ زیادتی، نا انصافی ہو گی ۔ اصل میں تو اس کتاب کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے جنہوں نے چار سال تک مجھے میری خلوتوں سمیت برداشت کیا اور اُف نہیں کی ۔ ہر مرحلے پر میرا حوصلہ بڑھایا ۔ میرے آرام و سکون کا خیال رکھا کہ میں دل جمعی سے اسے لکھ سکوں۔
آخر میں ذکر ماں کا ۔ جس کے بغیر میں ادھورا ہوں ۔ جس کی تربیت نے مجھے اس قابل بنایا ۔ ان کی دعائیں ان کے جانے کے بعد بھی میرے شامل حال رہیں ورنہ یہ کتاب آپ کے ہاتھوں تک نہ پہنچتی . آج وہ یہ دیکھنے کے لئے اس دنیا میں موجود نہیں ہیں کہ میں نے ان کی رابعہ بصری ۔ لیلٰی خالد اور یاسر عرفات کے تذکرے دنیا تک پہنچانے کے لئے کس محنت سے کتنی عرق ریزی سے کام کیا ہے ۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی روح اس کتاب کو آپ کے ہاتھوں میں دیکھ کر خوش ہو رہی ہوگی۔ میں نے اس کتاب کا انتساب، ان کے نام لکھا ہے ۔ اس کا ایک ایک حرف ان کے نام کر دیا ہے ۔ مجھےیقین ہے میری ماں میری اس کتاب کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی ۔
کیا حسن اتفاق ہے کہ اس وقت جب میں یہ اختتامی الفاظ لکھ رہا ہوں تو آج میری ساٹھویں سالگرہ ہے ۔ عمر کا وہ سنگ میل جہاں پہنچ کر لوگ گودام میں پڑے بیکار سامان کی طرح وقت اور ماضی کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں ۔ لیکن میرے اللہ کا مجھ پر کتنا کرم ہے کہ میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی اننگز کا آغاز کرنے جا رہا ہوں ۔ صرف اس لئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ نے مجھے پیدا ہی اسلئے کیا تھا کہ میں اہل فلسطین کی یہ امانت دنیا تک پہنچاؤں ۔
احقر
ڈاکٹر تصور بھٹہ
گولڈ کوسٹ، آسڑیلیا
۱۲ جولائی ۲۰۲٦ء



تبصرہ لکھیے