ہمارے یروشلم کے ٹور کی ایک سب سے اچھی بات یہ بھی تھی کہ ہم علی الصبح اپنے ہوٹل سے نکل پڑتے اور نیم بند۔ نیند بھری آنکھوں کے ساتھ آدھے جاگتے آدھے سوتے مشرقی یروشلم کی اندھیری خوابیدہ گلیوں سے گزرتے مسجد اقصٰی پہنچتے تو فضا فجر کی اذان سے گونج رہی ہوتی ۔
اکثر اذان کی یہ دلکش آواز ہمیں اس وقت آلیتی جب ہم گیٹ پر سیکورٹی کے مراحل سے گزر رہے ہوتے تھے اور پھر اس اذان کے سائے میں ہی ہم گیٹ سے گزر کر قبہ الصخرا کے چبوترے کی سٹرھیاں چڑھتے تو نسیم سحر کے ہلکے ہلکے جھونکوں میں شامل اشہد لالہ الہ کی آواز ہماراچبوترے پر استقبال کرتی اسی اذان کے دوران ہی ہم چمکتے سنہری گنبد کے سائے سے گزر کر چبوترے کی سٹرھیاں اتر رہے ہوتے تو لا الٰہ اللہ کے اختتامی جملوں کے ساتھ ان لمحات کے سحر میں گرفتار اپنے آپ کو مسجد اقصٰی کے سامنے کھڑا پاتے ۔
گروپ کے اکثر لوگ وضو کر کے ہوٹل سے نکلتے تھے وہ سیدھے مسجد میں داخل ہو جاتے اگرچہ میں بھی باوضو ہوتا لیکن میری عادت تھی کہ میں پھر بھی مسجد اقصٰی کے صحن میں بنے حوض پر وضو کے لئے بیٹھ جاتا اور اس ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے ساتھ خوب جی بھرکر وضو کرتا تو مجھے لگتا جیسے میرے اندر کی ساری کثافت دھل رہی ہو ۔ مجھے اپنا آپ بڑا ہلکا محسوس ہوتا ۔ پھر گیٹ کے باہر بیٹھی اُم خالد سے فلسطینی چائے کاکپ پکڑتا اس کے سامنے پڑے تھال سے مختلف قسم کی کھجورں سے مٹھی بھرتا اور گیٹ کے بالمقابل بنے چبوترے پرصدیوں پرانے زیتون کے درختوں کے نیچے بیٹھ جاتا۔ تنے سے ٹیک لگا کر وہ چائے کھجوروں کے ساتھ پیتا تو مجھے لگتا جیسے میں دنیا کا سب سے آسودہ انسان ہوں میرے رب نے دنیا جہان کی نعمتوں سے میری جھولی بھر دی ہے ۔
فلسطین کی کھجور اپنے ذائقے اور مٹھاس کے اعتبار سے بڑی مختلف اور خاص ہوتی ہے جو منہ میں ڈالتے ہی گھل سی جاتی ہے اور اس کی شرینی بدن وروح کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے ۔ میں اسی چبوترے پر سنت کی دو رکعت بھی ادا کرتا اور اس وقت تک وہاں بیٹھا رہتا جب تک مسجد کے اندر سے جماعت کھڑی ہونے کی صدا نہ آجاتی ۔ اور میں اکیلا نہیں تھا جو اس دیوانگی کا شکار تھا میرے جیسے چند فرزانے اور بھی تھے جن کا یہی وطیرہ تھا۔ یہ روز کا معمول تھا اور دن کا اتنا خوبصورت آغاز نہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی پہلے دیکھا تھا اور نہ پھر کبھی بعد میں نصیب ہوا ۔
یہ ناقابل فراموش روح پرور گھڑیاں آج بھی دل ودماغ کے نہاں خانوں میں جیسے نقش سے ہو کر رہ گئی ہیں ۔ میں کبھی اپنے آپ کو ان لمحوں کے سحر سے آزاد نہیں کر پایا ۔ آج بھی جب کبھی علی الصبح نمازکے لئے بیدار ہونے کے بعد وہ پَل یاد آجائیں تو اک ہوک سی دل میں اٹھتی ہے کہ کاش وہ لمحے لوٹ آئیں اور میں ایک بار پھر ان فضاؤں میں سانس لے سکوں ۔ فجر کی نماز کے بعد ہمارا سارا گروپ کبھی تو مسجد اقصٰی کے اندر ہی کسی کونے میں بیٹھ جاتا اور کبھی ہم مسجد سے نکل کر قبةالصخرا کے چبوترے پر آجاتے اور وہاں کسی گوشے پر جمع ہوجاتے اور کبھی قبة الصخرہ کے بالمقابل بنے قبة السلسلہ میں بیٹھ جاتے ۔
شیخ یحییٰ درس قرآن دیتے اور پھر سورج نکلنے تک وہیں بیٹھے رہتے ۔ سورج نکلنے کے بعد اشراق کی نماز ادا کر کے اپنے ہوٹل واپس لو ٹتے ۔ دو دفعہ مسجد اقصٰی کے امام ، امام شیخ العباسی نے بھی یہ فریضہ سر انجام دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭
اقصیٰ کا پیر پراسرار :
ایسی ہی ایک خوبصورت صبح تھی ۔ ہم نماز فجر اداکرنے کے بعد مسجد اقصٰی کے دائیں ہاتھ بیرونی دروازے کے قریب جمع ہوئے ۔ شیخ یحییٰ اپنی بات کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہی تھے کہ ایک جانب سے ایک عربی لباس میں ملبوس خوش پوش، خوش رو،بارعب خشخشی داڑھی والا ادھیڑ عمر شخص ہماری طرف آیا اور گروپ کے افراد میں ٹافیاں بانٹنے لگا ۔
المقدسیوں ( یروشلم کے رہنے والے) کایہ رواج ہے کہ وہ مسجد میں آنے والے سیاحوں اور نمازیوں میں ہر نماز کے بعد ٹافیاں یا کھجوریں تقسیم کرتے ہیں ۔ شیخ یحییٰ نے اس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ
“ یہ ڈاکٹر رعد حلاق ہیں ۔ “
شیخ یحییٰ اس سے بخوبی واقف معلوم ہوتے تھے ۔ اس شخص نے ٹافیاں تقسیم کرنے کے بعد چند لمحے و ہیں کھڑے کھڑےشیخ کے ساتھ گفتگو کی اور پھر سلام کر کے گیٹ کے رستے مسجد سے باہر نکل گیا ۔ میں سب سے پیچھے ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔ مجھے وہ شخص بڑا دلچسپ لگا اور اس کے جانے کے چند منٹ بعد جانے میرے ذہن میں کیا خیال آیا میں بجلی کی سی سرعت کے ساتھ اٹھا اور مسجد کے بیرونی دروازے کی جانب لپکا جہاں سے وہ باہر نکلا تھا ۔ لیکن وہ غائب ہو چکا تھا ۔ مسجد کے اس جانب سے ایک لمبی روش دور تک چلی گئی تھی جو قبة الصخرا کی پشت کی جانب سے ہوتی ہوئی اسلامک میوزیم اور مسجد براق کے سامنے سے گزر کر آئرن گیٹ اور کونسل گیٹ کی جانب جاتی تھی ۔
میں اِدھر اُدھر بھاگا مگر اس کا کچھ پتہ نہ چلا ۔ مجھے افسوس کے ساتھ ساتھ الجھن بھی تھی اور کہ آخر وہ اتنی جلدی کہاں غائب ہو گیا ہے ۔ جانے کیوں مجھے وہ شخص بڑا پراسرار سا لگا میں اس سے ملنا چاہتا تھا ۔ لیکن وہ کسی چھلاوے کی طرح غائب ہو چکا تھا ۔ میں اپنے آپ کو کوستا واپس لوٹ آیا ۔ درس قرآن کے بعد میں نے شیخ یحییٰ سے ڈاکٹر حلاق کے بارے میں معلومات لینے کی کوشش کی لیکن ان کی معلومات بڑی سطہی سی تھیں کہ وہ سرجن ہے اور ویسٹ بینک اور غزہ کے مختلف فلاحی ہسپتالوں میں کام کرتا ہے ۔ اور وہ جب بھی گروپ لے کر آتے ہیں تو وہ ان سے ملتا ہے ۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہ بتا سکے ۔ یہ مختصر تعارف سن کر اس سے ملاقات کا اشتیاق اور بھی بڑھ گیا ۔
ہوٹل واپس آنے کے بعد ہم الخلیل اور بیت اللحم روانہ ہو گئے ۔ سارا دن میرا ذہن اس شخص کی پراسرار شخصیت میں الجھا رہا جانے کیوں مجھے اس کی شخصیت کا اسرار اپنے لپیٹ میں لئے ہوئے تھے ۔ رہ رہ کر اس کا خیال آتا رہا ۔ عصر کے بعد یروشلم واپسی ہوئی تو میں ہوٹل پہنچتے ہی مسجد اقصٰی چلا آیا ۔ گرمیوں میں یروشلم کے دن بہت لمبے ہو جاتے ہیں ۔ ایک بہت مصروف اور بھرپور دن الخلیل اور بیت اللحم میں گزارنے کے بعد بھی ابھی دن کی بہت روشنی باقی تھی ۔ عصر کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد سے میں نے متلاشی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا ۔
نماز پڑھنے کے بعد میں حسب عادت وہیں مسجد سے باہر بنے ایک چبوترے پر زیتون کے ایک بوڑھے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ چبوترے کے سامنے ایک بڑا صحن تھا جہاں کھلی جگہ میں بہت سے بچے اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ رہے تھے ان کے شوروغل میں ان پنچھیوں کی آواز بھی شامل ہوگئی تھی جو مسجد اقصٰی کے احاطے میں بکھرے درختوں پر بیٹھے چہچہا رہے تھے ۔ سورج اپنے دن بھر کی مسافت طے کرنے کے بعد افق پر لالی بکھیرتا اب جبل صھیون کے پیچھے چھپنے کی تیاری کر رہاتھا ۔ ڈوبتے سورج کی روشنی میں قبة الصخرا کے سنہری گنبد سے عجیب طرح کی مسحور کردینے والی سنہری شعاعیں پھوٹ رہی تھی ۔
درجنوں کبوتر اس سنہری گنبد کے گرد طواف کر رہے تھے تو سینکڑوں اس کے چبوترے پر بیٹھے دانہ چگنے میں مصروف تھے ۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب دونوں مواقع پر قبة الصخرا کی شان نرالی ہوتی ہے یوں لگتا ہےاس گنبد سے نور کی بارش ہو رہی ہو ۔ میں جانے کتنی دور گم سم وہیں بیٹھا رہا تھا پتہ نہیں کب سورج غروب ہوا اور کب ہر سُو ملگجا سا اندھیرا پھیلا میں اس وقت چونکا جب فضا میں مغرب کی اذان کی آواز گونجی ۔ اللہ اکبر کی آواز سن کر میں ہڑابڑاکر جلدی سے اٹھا اور حوض کے پانی سے وضو تازہ کرنے بعد مسجد میں داخل ہوا تو وہ مجھے امام کی عین پیچھے تکبیر پڑھنے والے شخص کے بائیں جانب کھڑا نظر آیا ۔
میں نے اسے نظروں کے نشانے پر رکھ لیا ۔ اتنے میں حمزہ اور بلال بھی مجھے ڈھونڈتے ہوئے میرے دائیں بائیں آکر کھڑے ہوگئے ۔ نماز پڑھنے کے بعد جب میں دعا مانگ کر فارغ ہوا تو وہ مجھے مسجد کے دروازے سے باہر نکلتا ہوا نظر آیا میں جلدی سے اٹھ کر اس کی طرف لپکا حمزہ اور بلال دونوں میرے پیچھے تھے ۔ جب تک ہم مسجد سے باہر نکلتے وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا قبة الصخرا کے مقابل پہنچ چکا تھا ہم اس کے پیچھے ہو لئے اور جب ہم قبة الصخرا تک پہنچے وہ مجلس گیٹ کے ذریعے مسجد سے نکل کر ہماری نظروں سے غائب ہو چکا تھا ۔
دونوں بھائی حیران پریشان میرے پیچھے پیچھے جل رہے تھے ۔ پھر حمزہ اپنی رفتار تیز کرتاہوا میرے مقابل پہنچا اور پوچھنے لگاکہ بابا کیا بات ہے آپ کیوں اتنی تیزی سے خلاف معمول کونسل گیٹ کی طرف جا رہے ہیں جو ہمارے ہوٹل کے بالکل مخالف سمت میں واقع ہے ۔ تو میں نے باب مجلس سے باہر نکلتے ہوئے ڈاکٹر حلاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے بتایا کہ
“میں اس شخص سے ملنا چاہتا ہوں جو آج صبح درس قران کے وقت ہمارے گروپ میں آیا تھا ۔”
اس پر حمزہ نے میری تائید میں سر ہلاتے ہوئے کہا
“ ہاں بابا ہمیں اس شخص سے ضرور ملنا چاہیے مجھے بھی وہ ایک دلچسپ انسان لگا ہے ۔”
ہم کونسل گیٹ سے باہر نکلے تو ایک عجیب سا منظر دیکھا ۔ گیٹ سے باہر ایک میلہ سا لگا تھا ۔ دائیں جانب ایک ڈھابے نما قہوہ خانہ تھا بائیں جانب اسرائیلی فوجیوں کی چوکی تھی جس کے پیچھے پولیس سٹیشن تھا . سامنے ایک کھلا بازار ۔ جس میں گاہکوں کی خوب ریل پیل تھی . حلاق چائے خانے میں بیٹھا نظر آیا . اس کے سامنے کافی کا کپ دھرا تھا اور وہ خود سگریٹ سلگائے اپنے خیالوں میں گم تھا ۔ ہم اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے ۔ ہمیں اپنے سامنے یوں اچانک دیکھ کر وہ چونکا اور سوالیہ نظروں سے ہمیں دیکھنے لگا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کاسترو کا بیٹا
میں نے اپنا اور دونوں بیٹوں کا تعارف کروایا تو وہ بڑی خوش اخلاقی سے مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا ہاتھ مصافحے کے لئے بڑھا دیا ۔ ہاتھ ملانے کے بعد اس نے ہمیں فرداً فرداً گلے لگایا اور ہمارے رخساروں کے دونوں طرف بوسے دیئے۔ اور پھر بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے اس نے ہمارے لئے بھی قہوے کا آڈر کر دیا ۔ اس کی گرمجوشی اور محبت میں عربوں کی روائیتی جھلک تھی ۔
بس اسی لمحے سے میرے اور ڈاکٹر حلاق کے درمیان دوستی کے سفر کا آغازہوا جو آج تک قائم ہے ۔ وہ جتنی دلچسپ اور پراسرار شخصیت کا مالک تھا ۔ اس کی کہانی بھی اتنی ہی انوکھی تھی . اس کا باپ کیوبا میں پی ایل او کی جانب سے فلسطین کاسفیر تھا ۔ اور صدر کاسترو کا بہترین دوست بھی ۔ وہ ساٹھ کی دہائی میں کیوبا گیا اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا ۔ اور انیس سو نوے میں وہیں فوت ہوا اور ہوانا میں دفن ہے ۔ حلاق بھی ہوانا میں پیدا ہوا۔ کیوبا میں ساری تعلیم حاصل کی پھر جرمنی سے سرجری کی اعلی ٹریننگ حاصل کی ۔ اسکی بیوی بھی جرمن تھی جس سے اب علیحدگی ہو چکی تھی . اس کے دونوں بیٹے جرمنی میں ہی ماں کے ساتھ رہائش پذیر تھے ۔ اس نے اپنی زندگی کا طویل تین چار براعظموں پر پھیلا سفر یوں چند جملوں میں آسانی سے بیان کر دیا کہ حیرت ہوئی ۔
“آپ یہاں اکیلے ہی رہتے ہو ۔” میں نے پوچھا ۔
“اکیلا کہاں ۔ اس سارے محلے میں میرے رشتے دار رہتے ہیں ۔ میں خود نابلس ۔ غزہ اور رملہ کےدرمیان سفر کرتا ہوں وہاں کے ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیتا ہوں اب میرا جینا فلسطین کے لئے ہے ۔”
اس نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور دھوئیں کے مرغولے بناتا ہوا بولا
“اسرائیلی آپ کو روکتے نہیں “، حمزہ نے پوچھا
“روکنے کی کوشش کرتے ہیں کئی بار گرفتار بھی کر چکے ہیں لیکن میں چونکہ جرمن نیشنل ہوں ۔ جرمنی کے زیر انتظام ہسپتالوں میں کام کرتا ہوں اس لئے وہ نہ تو مجھے روک سکتے ہیں اور نہ قید میں رکھ سکتے ہیں ۔”
“صدر کاسترو نے مجھے بیٹا بنا رکھا تھا ۔ وہ جب تک زندہ رہا مجھے کیوبا کے سگار بھجوایا کرتا تھا ۔ یہاں مجھے سب زیادہ بڑی شکایت یہ ہے کہ اچھا سگریٹ نہیں ملتا جب تم اگلی بار آؤ تو میرے لئے آسڑیلیا سے اچھے سگریٹ لے کر آنا ۔ “
میں نے وعدہ کر لیا۔ وہ چین سموکر تھا کبھی سگریٹ بھجنے نہ دیتا ۔ پہلی سگریٹ ختم ہوتے ہی نیا سگریٹ سلگا لیتا ۔
کافی کا رسیا ۔کالی تلخ بغیر دودھ اور شکر کے کافی ۔ سگریٹ کے ہر کش کی ساتھ ایک چسکی اور ہر نئے سگریٹ کے ساتھ ایک نیا کپ کافی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
باب مجلس ، کونسل گیٹ
“اس گیٹ کو کونسل گیٹ کیوں کہتے ہیں ۔ “
بلال نے پوچھا ۔
اس نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے غور سے بلال کو دیکھا
“تمہارا نام بلال ہے “ اس نے بلال سے پوچھا
“تم کیا کرتے ہو ۔”
“ میں سائیکالوجی میں گریجویشن کر رہا ہوں اور اس کے بعد میڈیسن کرنے کا ارادہ ہے ۔”
بلال نے جواب دیا ۔
“ یہ بڑا اچھا سوال ہے ۔ “ اس نے پھر ایک گہرا کش لگایا اور
دھواں باہر نکالتے ہوئے بولا ۔
“ کیا تم جانتے ہو کہ مسجد اقصٰی کے احاطے میں داخلے کے لئے بارہ گیٹ ہیں جن میں اب صرف چھ کھلے ہیں اور چھ بند ہیں ۔
اس گیٹ کو جہاں ہم بیٹھے ہیں باب مجلس یا کونسل گیٹ اس لئے کہتے ہیں کہ برٹش دور میں اس سامنے والی عمارت میں سپریم مسلم کونسل کا صدر دفتر تھا ۔ یہاں مسجد اقصٰی کا نگران یا ناظر بھی بیٹھا کرتا تھا اس لئے اسے باب ناظر یا انسپکٹر گیٹ بھی کہتے ہیں ۔
اس نے سامنے دائیں جانب ایک دومنزلہ پیلے سے رنگ کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔ یہاں اب اسرائیلی گورنمنٹ نے ایمگریشن کا آفس بنا رکھا ہے ۔ اس گیٹ کی تاریخ صلیبیوں کے دور سے شروع ہوتی ہے پھر تیرھویں صدی میں سلطان ایوبی کے بھتیجے سلطان معظم عیسٰی نے اس کی مرمت اور تعمیر نو کروائی ۔ اس گیٹ کا ایک اور نام بھی بڑا مشہور ہے اسے باب حبس یا پریسن گیٹ بھی کہتے ہیں ۔ اس نے سامنے بنے پولیس سٹیشن کی طرف اشارہ کیا ۔
“وہ جہاں اب پولیس سٹیشن کا بورڈ لگا ہے اس جگہ پہلے ایوبی دور میں دروازے کے اندر ایک رباط (سرائے ) تھی جسے بعد میں قید خانے میں بدل دیا گیا . وہ قید خانہ اب بھی موجود ہے لیکن باہر پولیس سٹیشن کا بورڈ لگا رکھا ہے ۔ لیکن اس کے سارے قیدی صرف فلسطینی ہی ہوتے ہیں ۔۔ “
“اس سارے محلے میں میرا قبیلہ آباد ہے ۔ بنو غانم ، میرے آباؤاجداد کا تعلق شیخ غانم بن علی بن حسین سے تھا جو نابلس کے رہنے والے تھے وہ سلطان صلاح الدین کے ساتھ یروشلم آئے تھے اور ایک بہت بڑے اور مشہور عالم تھے ۔ سلطان نے انہیں مدرسہ صالحیہ کا مہتمم مقرر کیا تھا ۔ اس سے اگلا گیٹ انہی سے منسوب ہے ۔ باب بنی غانم
اسے باب الغوانمہ بھی کہتے ہیں ۔”
اس نے پولیس سٹیشن کے پیچھے سے جھانکنے والے ایک بلند مینار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
“ وہ منارہ بنو غانم ہے مسجد اقصٰی کا سب سے اونچا مینار ۔ جو اس گیٹ کے ساتھ بنا ہے ، یہ مینار اڑتیس میٹر اونچا ہے . یہ مینار خلیفہ عبدالمالک بن مروان نے بنوایا تھا . اسے قلاون مینار بھی کہتے ہیں کیونکہ مملوک سلطان اشرف قلاون نے اس کی تعمیر نو کروائی تھی ۔ “ اس کی معلومات بڑی بیش قیمت تھیں ۔
“آپ کس جرمن آرگنائزیشن کے لئے کام کرتے ہیں ۔ “ میں نے پوچھا
“ سینٹ جان ہسپتال “ اس نے جواب دیا ۔
“وہی ادارہ جو ہاسپٹلرز نے بنایا تھا ۔۔” حمزہ نے لقمہ دیا ۔۔
“ ہاں ۔۔ ہاسپٹلرز نے اس کا آغاز کیا تھا ۔۔تم تاریخ سے بخوبی واقف معلوم ہوتے ہو ۔۔”
اس نے تعریفانہ انداز میں حمزہ کی طرف دیکھا ۔
جس پر میں نے اسے بتایاکہ حمزہ ملبورن کی یونیورسٹی سے اسلامک پولیٹیکل سسٹم میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے اور عربی ۔۔ فارسی زبانوں کا ماہر ہے ۔ تو اس نے حمزہ سے عربی میں اس کی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا وہ اس کے شامی لہجے اور شستہ ادبی عربی سے بہت متاثر نظر آتا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
القدس کی شامیں
پھرہمارا معمول بن گیا ۔ عصر کی نماز پڑھتے ہی ہم اس کے ساتھ باب مجلس کے سامنے بنے اس فلسطینی چائے خانے میں آکر بیٹھ جاتے ۔ وہ سگریٹ پیتا رہتا اور سامنے کھڑے یہودی سپاہیوں کو گالیاں دیتا ۔ اپنی کہانیاں سناتا ۔
ہم یونہی مغرب تک اس کےساتھ بیٹھے رہتے چائے پیتے اس کی دلچسپ شخصیت سے اس کی کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے ۔ اکثر رات کا کھانا بھی اس کے ساتھ کھاتے اس نے ہمیں یروشلم کے سارے روائیتی کھانے کھلائے ۔ سارے اچھے ریسٹورینٹس پر لے گیا ۔ رات کو عشاء کے بعد ہم دیر تک اس کے ساتھ مسلم کواٹرز ، کرسچئین کواٹررز اور آرمینئین کواٹررز میں گھومتے رہتے ۔ لیکن وہ ہمیشہ جیوز کواٹررز کی طرف جانے سے اجتناب کرتا ۔کہتا کہ خوامخواہ مصیبت کو آواز دینے کی کیا ضرورت ہے ۔
یروشلم میں موسم گرما کی دوپہر جتنی ستم گر ہوتی ہے شامیں اور رات اتنی ہی مہربان ۔اور اس سہانے موسم میں ہم اکثر آدھی آدھی رات تک اس کے ساتھ یروشلم کی گلیوں میں آوارہ گردی کرتے رہتے ۔ ایک دن ہم باب مجلس کے گیٹ کے باہر چائے خانے پر بیٹھے تھے کہ اچانک حمزہ کی نظر سامنے ایک مکان پر پر پڑی جس پر اسرائیل کا نیلا پرچم لہرا رہا تھا ۔ حمزہ نے اس کی اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ “مسلم کواٹررز میں بھی کیا یہودی رہتے ہیں ۔۔”
“بہت کم “حلاق نے نیا سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا ۔ “پورے محلے میں بس چند ہی گھر ہیں ۔”
“کیا اسرائیلی مسلم کواٹرز کے فلسطنیوں سے ان کے مکان خریدنے کی کوشش نہیں کرتے “
حمزہ نے پھر سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ
“ کرتے ہیں ۔ پوری کوشش کرتے ہیں ہر جائز ناجائز طریقے سے یہ مکان ہتھیانے کی کوشش کرتے ہیں وہ مسلم کواٹررز کے مکانوں کی قیمت پچاس گنا تک آفر کرتے ہیں شروع میں لالچ میں آکر چند فلسطینیوں نے اپنے مکان بیچے بھی جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
پھر یہ فیصلہ ہوا کہ مسلم کواٹر کا ہر گھر مسجد اقصٰی ٹرسٹ کے نام کر دیا جائے ۔ اور یہی ہوا آج مسلم کواٹرز کا ہر گھر اقصٰی کی ملکیت ہے ۔ میں ان چند پہلے چند فلسطینیوں میں سے ایک تھا جس نے اپنے باپ دادا کا آبائی مکان ٹرسٹ کے نام کیا ۔” اس نے فخر سے کہا ۔
اس کا یہ فخریہ انداز دیکھ کر میں سوچتا رہ گیا کہ مسلم کواٹرز کے رہنے والوں کے لئے مسجد اقصٰی ہی سب کچھ ہے قربانیوں کی جو مثال ان قدسیوں نے پیش کی ہے وہ دنیا کی کوئی اور قوم پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ ان کا صرف جینا مرنا ہی نہیں ان کی مال ومتاع بھی اس مسجد پر قربان ہے ۔ یہاں رہنے والے سارے کے سارے ڈاکٹر حلاق ہیں ۔۔ کوئی کسی سے کم نہیں ان قدسیوں کی ہر ادا نرالی ہے اور اقصٰی کی قدر بھی صرف یہی جانتے ہیں ۔ ہم جیسے نہیں ۔



تبصرہ لکھیے