ہوم << ابن رشد کے شکوے- فیاض قرطبی
600x314

ابن رشد کے شکوے- فیاض قرطبی

آج قرطبہ میں گھومتے پھرتے شہر کے قدیم محلہ خودریا (Judería)، یعنی یہودیوں کے محلے میں، شہر کی قدیم فصیل کے سائے میں ایک مجسمہ نظر آیا۔ قریب پہنچا تو نام ابو الولید ابنِ رشد (Averroes) لکھا دیکھا۔ ہم کیمرے سے ایک عدد سیلفی لینے لگے تو بابا جی گویا ہوئے:

“بیٹا! سیلفی اپنی رسک پر لینا، اور اسے دنیا کے سامنے نہ لانا، ورنہ تم بھی ملحد مشہور ہو جاؤ گے۔” میں نے حیرانگی سے ابنِ رشد کی جانب دیکھا اور پوچھا:
“بابا جی! وہ کیوں؟”بابا جی گویا ہوئے:
“بیٹا! شاید تم میری حیات کے متعلق نہیں جانتے۔ گیارہ سو اٹھائیس عیسوی میں اسی شہر میں پیدا ہوا تھا۔ فقہِ مالکی میں عبور کے بعد اشبیلیہ کا قاضی مقرر کیا گیا۔ اس سے پہلے میرے والد اور دادا بھی قاضی رہ چکے تھے۔”
میری نظر ڈوبتے سورج کی جانب اٹھی کہ مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ اگر تفصیلی تعارف جاری رہا تو رات بیت جانی تھی۔ میں نے کہا:
“بابا جی! آپ کی حیات اور تصنیفات کے متعلق کچھ پڑھ رکھا ہے۔ آپ مختصراً اس سیلفی سے منع کرنے والے موضوع پر روشنی ڈالیں۔”

ابنِ رشد گویا ہوئے:
“بیٹا! میں نے ارسطو کی متروک کتب، جمہوریہ اور مابعد الطبیعات کو عربی میں ترجمہ کیا، ان پر حاشیے لکھے اور اپنی آراء بھی پیش کیں۔ اس وقت تک فلسفے کے بارے میں ارسطو کو حرفِ آخر سمجھا جاتا تھا۔
میں نے اس کے کئی نظریات کو دلائل سے غلط ثابت کیا اور کئی ادھورے فلسفیانہ مباحث کو مکمل کیا۔ اس پر اس وقت کے کچھ لوگوں نے حسد میں میرے خلاف امیر ابو یوسف المنصور کو بھڑکا دیا۔ میری کتب جلوا دی گئیں اور مجھے ملک بدر کر دیا گیا۔”

میں نے بابا جی سے کہا:
“بابا جی! آپ سے اپنے تو خفا تھے ہی، غیر بھی آپ سے خوش نہیں تھے۔ تیرہویں صدی میں یورپ کی بیشتر یونیورسٹیوں میں ارسطو کی وہی تشریحات پڑھائی جاتی تھیں جو آپ نے لکھی تھیں، مگر اہلِ کلیسا نے ان پر مکمل پابندی لگوا دی تھی۔”
بابا جی بولے:
“ہاں، کچھ عرصہ تک یہ پابندی برقرار رہی، کیونکہ اس علم کی روشنی سے پادریوں اور جاگیردار طبقے کے گٹھ جوڑ کے خلاف تحریکِ بیداری منظم ہو رہی تھی۔”
میں نے بابا جی سے پوچھا:
“لیکن اپنے مسلمان علما بھی تو آپ کو ملحد قرار دیتے رہے، اس کی وجہ کیا تھی؟”

ابنِ رشد بولے:
“اس کی اصل وجہ میری وہ تصنیف بنی جو تہافت التہافت کے نام سے میں نے امام غزالی کی کتاب تہافت الفلاسفہ کے جواب میں لکھی تھی۔
امام غزالی جب تصوف کی طرف مائل ہوئے تو انہوں نے یونانی علوم کو فتنہ قرار دیتے ہوئے فلسفے کو رد کیا۔ میں نے دلائل کے ساتھ ان کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیا، جس پر لوگوں نے مجھے گمراہ قرار دے دیا، حالانکہ میں فقہِ مالکی پر عبور رکھتا تھا، صرف و نحو اور علمِ حدیث پر بھی میری کتب موجود ہیں۔”
میں نے ابنِ رشد کے مجسمے کے نیچے لگی تختی پڑھتے ہوئے بابا جی سے پوچھا:
“آپ کے تعارف میں تو آپ کو ڈاکٹر بھی لکھا ہوا ہے، کیا آپ طبیب بھی تھے؟”

بابا جی نے لمبی سانس لی اور بولے:
“بیٹا! ہمارے زمانے میں کوئی عالم اس وقت تک عالم نہیں کہلاتا تھا جب تک وہ مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل نہ کر لیتا۔
میں نے اپنے دور کے مشہور ماہرِ طب ابنِ ظہر سے اس شعبے میں تربیت حاصل کی تھی، اور طب پر میری ایک انسائیکلوپیڈیا کتاب الکلیات فی الطب بھی ہے، جو لاطینی زبان میں ترجمہ ہو کر یورپ بھر میں مشہور ہوئی۔ اس کے علاوہ میں نے طبیعیات اور فلکیات پر بھی رسائل لکھے تھے۔ میری اکثر کتب یورپ کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ خود مسلمانوں نے اس سے کم فائدہ اٹھایا۔ بیٹا! بڑے عرصے سے یہ شکوہ دل میں لیے کھڑا ہوں، آج تم ملے تو بیان کرنے کا موقع میسر آیا۔”

میں نے بابا جی کا شکوہ سنا تو اقبال یاد آ گئے، جنہوں نے کہا تھا:

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اور ہم فصیلِ شہر کے ساتھ ساتھ چلنے لگے، اگلے بابے کی تلاش میں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment