ہوم << وہ کل جو کبھی آیا ہی نہیں – نعیم اللہ باجوہ
600x314

وہ کل جو کبھی آیا ہی نہیں – نعیم اللہ باجوہ

انسان کی سب سے خاموش شکست یہ نہیں کہ اس کے ہاتھ سے کوئی موقع نکل گیا؛ اصل شکست یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ہمیشہ ایک ایسے دن کے لیے محفوظ کرتا رہا جو کبھی آیا ہی نہیں۔ ہم وقت کو عجیب مخلوق سمجھتے ہیں۔ جو لمحہ ہمارے سامنے کھڑا ہے، اسے معمولی جان کر گزر جانے دیتے ہیں، اور جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا، اس کے لیے اپنی نیندیں، مسکراہٹیں اور سکون قربان کر دیتے ہیں۔ ہم مستقبل کے محل میں اتنے عرصے سے رہ رہے ہیں کہ موجودہ لمحہ ہمارے اپنے گھر میں اجنبی ہو گیا ہے۔

“کل” ایک نہایت حسین دھوکا ہے۔ وہ انسان کو امید بھی دیتا ہے اور اس کے ہاتھ سے “آج” بھی لے لیتا ہے۔ ہم کہتے ہیں:
“جب حالات سازگار ہوں گے تو جئیں گے۔”
مگر حالات کبھی کسی کے دروازے پر مکمل موسم لے کر نہیں آتے۔ زندگی کی کشتی کو ہمیشہ کچھ لہروں کے ساتھ ہی چلنا پڑتا ہے۔ جو شخص سمندر کے بالکل ساکت ہونے کا انتظار کرے، وہ ساحل پر کھڑے کھڑے بوڑھا ہو جاتا ہے۔ زندگی دراصل کسی بڑے واقعے کا نام نہیں؛ یہ ان معمولی لمحوں کا وہ خزانہ ہے جنہیں ہم معمولی سمجھ کر خرچ کرتے رہتے ہیں:

ایک کپ چائے کے ساتھ بیٹھا ہوا باپ، ماں کی آواز پر پلٹتا ہوا بیٹا، رزق کے لیے اٹھتے ہوئے ہاتھ، کسی تھکے ہوئے شخص کے کندھے پر رکھا ہوا ہاتھ، اور رات کے آخری پہر اپنے رب کے سامنے جھکا ہوا سر۔یہی زندگی ہے۔ ہم اسے کسی بڑی کامیابی کے آنے تک ملتوی کرتے رہتے ہیں، پھر ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ جس منزل کے لیے دوڑتے رہے، وہاں پہنچ کر سب سے پہلے اپنے گزرے ہوئے دنوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے—اور گزرے ہوئے دن کسی بازار میں نہیں ملتے۔ وقت کی سب سے بڑی بے رحمی یہی ہے کہ وہ ہمیں کبھی یہ نہیں بتاتا کہ کون سا لمحہ آخری بار ہمارے پاس آیا ہے۔ جس شخص سے ہم آج بات کر سکتے ہیں، کل شاید اس کی آواز صرف یاد رہ جائے۔ جس بچے کو آج گلے لگایا جا سکتا ہے، کل شاید اس کے پاس بیٹھنے کے لیے وقت نہ ہو۔ جس نیکی کو آج کیا جا سکتا ہے، کل شاید اس کا موقع نہ بچے۔اس لیے زندگی کا دانا آدمی مستقبل کی تعمیر ضرور کرتا ہے، مگر اپنی روح کو تعمیر کے ملبے میں دفن نہیں کرتا۔ وہ منصوبہ بناتا ہے، مگر نتیجے کا مالک بننے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ بیج زمین میں رکھتا ہے، پھر آسمان سے بحث نہیں کرتا کہ بارش میرے حساب سے کیوں نہیں ہوئی۔

یہی توکل ہے۔ توکل ہاتھ باندھ کر بیٹھنے کا نام نہیں؛ یہ ہاتھ سے کام لینے اور دل کو نتیجے کی غلامی سے آزاد رکھنے کا نام ہے۔انسان کے اختیار کی ایک سرحد ہے: اس سرحد کے اندر محنت ہے، نیت ہے، انتخاب ہے، کردار ہے۔ اس کے باہر تقدیر کے وہ دروازے ہیں جن پر انسان اپنی دستک تو پہنچا سکتا ہے، حکم نہیں۔زندگی کا سکون شاید اسی دن شروع ہوتا ہے جب آدمی یہ فرق سیکھ لیتا ہے کہ کہاں اسے پوری قوت سے قدم رکھنا ہے اور کہاں اپنے بے بس دل کو سجدے میں رکھ دینا ہے۔ ورنہ ذہن ایک ایسا کارخانہ بن جاتا ہے جو ان حادثوں کی بھی تیاری کرتا رہتا ہے جو کبھی پیش ہی نہیں آتے۔ ہم نے آنے والے کل کے اتنے جنازے اپنے ذہن میں پہلے ہی اٹھا رکھے ہیں کہ آج کی خوشی کے لیے ہمارے کندھے خالی نہیں رہے۔ فکر اگر عمل کی طرف لے جائے تو چراغ ہے؛ اگر صرف خوف کو بڑھائے تو دھواں ہے—اور دھوئیں سے راستہ نہیں ملتا۔

لیکن انسان کا المیہ صرف اپنی زندگی تک محدود نہیں رہتا۔ ایک فرد جب اپنے وقت سے غافل ہوتا ہے تو شاید صرف اس کا ایک دن ضائع ہوتا ہے؛ ایک معاشرہ جب اپنی نئی نسل سے غافل ہوتا ہے تو آنے والی کئی دہائیوں کا چہرہ بگڑ جاتا ہے۔قومیں اچانک نہیں مرتیں۔ پہلے ان کے اندر حساسیت کم ہوتی ہے، پھر برائی معمول لگنے لگتی ہے، پھر ظلم خبر بن کر آتا ہے، پھر خبر تفریح بن جاتی ہے، اور آخرکار تباہی اتنی مانوس ہو جاتی ہے کہ کوئی اسے تباہی کہنے والا بھی باقی نہیں رہتا۔نشہ صرف ایک کیمیائی زہر نہیں؛ یہ اس خلا کا نام بھی ہے جسے ہم نے اپنے نوجوان کے اندر خالی چھوڑ دیا. جہاں مقصد نہیں ہوتا، وہاں لذت اپنا مذہب بنا لیتی ہے۔ جہاں امید نہیں ہوتی، وہاں فرار ایک راستہ معلوم ہونے لگتا ہے۔ اور جہاں معاشرہ اپنے بچوں کو خواب نہیں دیتا، وہاں بازار انہیں مصنوعی خواب فروخت کرنے لگتا ہے۔ اس لیے کسی نوجوان کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “اس راستے پر مت جاؤ۔” اس کے سامنے کوئی ایسا راستہ بھی ہونا چاہیے جس پر چلنے کی وجہ موجود ہو۔ اسے تعلیم چاہیے، ہنر چاہیے، روزگار چاہیے، محبت چاہیے، مقصد چاہیے، اور سب سے بڑھ کر یہ احساس چاہیے کہ اس کا وجود کسی بڑے مصرف کے لیے ہے۔ محض ممانعت انسان کو نہیں بچاتی؛ معنی بچاتے ہیں۔

معاشرہ اس وقت خطرناک موڑ پر پہنچتا ہے جب برائی سے زیادہ خطرناک چیز اس کی بے حسی بن جاتی ہے۔ جب پڑوس میں کسی گھر کا چراغ بجھتا ہے اور ہم کھڑکی بند کر لیتے ہیں، یہ صرف خاموشی نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی یہ اپنے آنے والے کل کے خلاف گواہی ہوتی ہے۔ ہم دوسروں کے بچوں کو “ان کے مسئلے” کہہ کر نظرانداز کرتے ہیں، پھر حیران ہوتے ہیں کہ مسئلہ ہمارے دروازے تک کیسے پہنچ گیا۔یاد رکھیے برائی کبھی اتنی طاقتور نہیں ہوتی جتنی ایک اچھے معاشرے کی بے نیازی اسے بنا دیتی ہے۔اس لیے آج کا دن صرف ذاتی کامیابی کے لیے نہیں: آج کسی کو بچانے کا دن بھی ہو سکتا ہے۔ آج کسی مایوس شخص کو امید دینے کا دن ہو سکتا ہے۔ آج کسی نوجوان کے ہاتھ میں نشے کا سامان آنے سے پہلے کتاب، ہنر یا مقصد رکھنے کا دن ہو سکتا ہے۔ آج اپنے گھر میں ایک ایسی گفتگو شروع کرنے کا دن ہو سکتا ہے جو کسی زندگی کا رخ بدل دے۔

ہم اکثر بڑے انقلاب کے انتظار میں چھوٹی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرتے ہیں، حالانکہ تاریخ کے بڑے موڑ اکثر کسی تخت پر نہیں، کسی انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ ایک فیصلہ، ایک انکار، ایک سچی کوشش، ایک قدم—اور کبھی کبھی ایک آدمی کا جاگ جانا پورے خاندان کی تقدیر میں صبح کر دیتا ہے۔اس لیے اپنے کل کو چھوڑنا نہیں، مگر اسے آج کا قاتل بھی نہ بننے دیں۔ خواب کو سمت بنائیں، بوجھ نہیں۔ منصوبے کو چراغ بنائیں، خوف کا محل نہیں۔ محنت کو عبادت کی طرح کریں اور نتیجے کو دعا کی طرح آسمان کے سپرد کر دیں۔کیونکہ زندگی کا راز شاید یہ نہیں کہ ہمیں کتنا وقت ملا؛ راز یہ ہے کہ جو وقت ملا، اس میں ہم کتنے زندہ تھے.اور آخرکار جب عمر اپنے آخری کنارے پر پہنچتی ہے تو انسان کو اپنی ناکام کوششوں کا اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا ان لمحوں کا ہوتا ہے جنہیں اس نے صرف اس لیے جینے سے انکار کر دیا تھا کہ
“ابھی وقت نہیں آیا۔”

وقت کبھی نہیں آتا، وقت ہمیشہ ہوتا ہے۔ آنے والا کل صرف ایک امکان ہے؛ مگر آج، پوری کائنات سمیت، ہمارے ہاتھ میں رکھا ہوا ایک زندہ امانت ہے۔ اسے انتظار میں مت مار دیجیے۔ جو زندگی آج سانس لے رہی ہے، اسے اس زندگی کے لیے قربان نہ کریں جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ اگر کچھ کرنا ہے تو ابھی کریں۔ کیونکہ بعض دروازے دستک سے نہیں کھلتے؛ وہ صرف اس وقت کھلتے ہیں جب انسان انتظار سے اٹھ کر ان کی طرف چل پڑتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نعیم اللہ باجوہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment