ہوم << خودداری اور وقت کے تقاضے – فخرالزمان سرحدی
600x314

خودداری اور وقت کے تقاضے – فخرالزمان سرحدی

علم ایک روشنی ہے جس سے انسان کی زندگی کے گوشے روشن اور منور ہوتے ہیں۔مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی شخصیت کا اصل حسن اس کے کردار، اخلاق اور خودداری میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ خودداری ایک ایسی عظیم صفت ہے جو انسان کو عزتِ نفس، اعتماد اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ خوددار شخص اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت کرتا ہے، اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے اور کسی ناجائز فائدے یا وقتی مفاد کے لیے اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔

یہی خوبی انسان کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے اور معاشرے میں اسے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ عصر نو کے تناظر میں دیکھا جاۓ توآج کا دور تیز رفتار ترقی اور مسلسل تبدیلیوں کا دور ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، کاروبار اور ذرائع ابلاغ میں ہر روز نئی جدتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے حالات میں صرف روایتی علم یا پرانے طریقوں پر انحصار کافی نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ انسان نئی مہارتیں حاصل کرے، جدید علوم سے آگاہی حاصل کرے اور اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بناتا رہے۔ جو لوگ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں، وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، جبکہ تبدیلی کو قبول نہ کرنے والے اکثر پیچھے رہ جاتے ہیں۔
خودداری اور وقت کے تقاضوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ اگر انسان خوددار ہے لیکن زمانے کی ضروریات سے بے خبر ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

اسی طرح اگر کوئی شخص جدید دور کی تمام سہولیات سے فائدہ تو اٹھاتا ہے لیکن اپنی عزتِ نفس، اخلاق اور اصولوں کو نظر انداز کر دیتا ہے تو اس کی کامیابی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اپنی شناخت، کردار اور اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کے نئے راستے اختیار کرے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ محنت، دیانت، نظم و ضبط اور خود اعتمادی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں، زبانوں اور تحقیق پر بھی توجہ دیں تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔ اس کے ساتھ انہیں اپنے والدین، اساتذہ اور معاشرتی اقدار کا احترام بھی کرنا چاہیے، کیونکہ جدیدیت کا مطلب اپنی تہذیب اور اخلاقی اقدار کو ترک کرنا نہیں بلکہ انہیں برقرار رکھتے ہوئے ترقی کرنا ہے۔

اسلام بھی خودداری، محنت اور رزقِ حلال کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ضروریات جائز ذرائع سے پوری کرے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرے۔ یہی تعلیم آج کے دور میں بھی کامیابی کی بنیاد ہے۔ جب انسان اپنی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے، مسلسل سیکھتا ہے اور دیانت داری سے کام کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتا ہے بلکہ قوم کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خودداری انسان کا قیمتی سرمایہ ہے، جبکہ وقت کے تقاضوں کو سمجھنا ترقی کی شرط ہے۔ جو لوگ اپنی عزتِ نفس، اعلیٰ اخلاق اور اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کرتے ہیں، وہی حقیقی معنوں میں کامیاب، باوقار اور بااثر انسان بنتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو کامیابی، معاشرے کو استحکام اور قوم کو ترقی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔نوجوان نسل کسی بھی ملک اور قوم کا اثاثہ ہوتی ہے اس لیے بہتر تعلیم و تربیت سے ان کی کردار سازی کا حسین عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔یہی وقت کا تقاضا بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

فخرالزمان سرحدی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment