ہوم << برف کے اندر جلتی ہوئی آگ – نعیم اللہ باجوہ
600x314

برف کے اندر جلتی ہوئی آگ – نعیم اللہ باجوہ

(روح کی اس سرحد پر جہاں تپش، انجماد سے ملتی ہے)

کہتے ہیں انسان مٹی سے بنا ہے۔ مگر یہ پوری حقیقت نہیں۔ مٹی تو صرف اس کے جسم کا قصہ ہے؛ اس کے اندر ایک اور دنیا آباد ہے—ایسی دنیا جس میں آگ بھی ہے، برف بھی، سمندر بھی، صحرا بھی، اور ایک ایسا آسمان بھی جس کی کوئی حد ابھی تک دریافت نہیں ہوئی۔ انسان باہر سے ایک وجود ہے، اندر سے ایک موسم۔ اور شاید ہماری پوری زندگی اسی سوال کا جواب تلاش کرتے گزر جاتی ہے کہ اس موسم کو کس طرح قابو میں رکھا جائے؟

کیونکہ انسان صرف جلتا نہیں، پگھلتا بھی ہے۔ صرف پگھلتا نہیں، جم بھی جاتا ہے۔ کبھی محبت اسے موم کر دیتی ہے، کبھی غم اسے پتھر۔ کبھی ایک لفظ اسے برسوں تک مہکاتا رہتا ہے، کبھی ایک جملہ اس کے اندر ایسی سردی اتار دیتا ہے جو موسم بدلنے کے بعد بھی نہیں جاتی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ انسان کی تباہی ہمیشہ آگ سے نہیں ہوتی۔ کبھی وہ زیادہ دیر تک جمی ہوئی برف میں بھی مر جاتا ہے۔ روح کی ایک حالت وہ ہے جہاں احساس بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ وہاں انسان ہر چیز کو گہرا محسوس کرتا ہے؛ ایک نظر، ایک بے اعتنائی، ایک خاموشی، ایک یاد، کسی کی خوشی، کسی کا دکھ۔ ایسے دل پر دنیا آسانی سے اثر کرتی ہے۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے جب مسلسل ضربیں اسے یہ سکھانے لگتی ہیں کہ محسوس کرنا خطرناک ہے۔ دل اپنے گرد تہہ چڑھانا شروع کر دیتا ہے۔ پہلے وہ صرف ایک شخص سے بے نیاز ہوتا ہے، پھر چند لوگوں سے، پھر تعلقات سے، اور آخرکار کبھی کبھی زندگی ہی سے۔

یہ انجماد ہے۔
مگر ہر انجماد صبر نہیں ہوتا۔ کچھ برفیں دراصل زخموں کی لاشیں ہوتی ہیں۔ وہ جذبات کو محفوظ نہیں کرتیں، دفن کر دیتی ہیں۔ اور کچھ آگیں محبت نہیں ہوتیں، وہ اندر چھپی ہوئی کثافت کو مسلسل پکا رہی ہوتی ہیں۔ غصہ، اگر شعور سے محروم ہو جائے تو انتقام بن جاتا ہے۔ انتقام، اگر وقت کے حوالے کر دیا جائے تو مزاج بن جاتا ہے۔ اور مزاج، اگر انسان کو اپنا مالک بنا لے تو پھر انسان اپنے ہی زخموں کا محافظ بن جاتا ہے۔ وہ اپنے دکھ کو اتنے عرصے تک سینے سے لگائے رکھتا ہے کہ آخرکار اسے اپنا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کثافت جنم لیتی ہے۔ کثافت ہمیشہ سیاہ نہیں ہوتی۔ کبھی وہ بہت خوبصورت چہرے کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔ کبھی بڑے بڑے الفاظ میں، کبھی مذہب کے دعوے میں۔ کبھی محبت کے نام پر۔ کبھی اصول پسندی کے لباس میں۔ اور کبھی اس جملے میں:
“میں نے تو صرف اپنا حق مانگا تھا۔”

حالانکہ انسان کبھی کبھی اپنے حق سے زیادہ اپنے زخم کا بدلہ مانگ رہا ہوتا ہے۔ روح کا سفر شاید اسی مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں انسان پہلی بار اپنے اندر جھانک کر یہ تسلیم کرتا ہے:
“میرے ساتھ جو ہوا، وہ میری مرضی نہیں تھا؛ مگر اس کے بعد میں کیا بنوں گا، اس کا فیصلہ مجھے کرنا ہے۔”
یہی فیصلہ انسان کو مظلوم سے صاحبِ شعور بناتا ہے۔ کیونکہ زندگی میں سب سے خطرناک لمحہ وہ نہیں جب کوئی ہمیں توڑ دے۔ سب سے خطرناک لمحہ وہ ہے جب ہم اپنے ٹوٹنے کو اپنی شخصیت کا مستقل حصہ بنا لیں۔ پھر ہم ہر نئے شخص کو پرانے شخص کی سزا دینے لگتے ہیں۔ ہر نئی محبت سے پرانے فریب کا حساب مانگتے ہیں۔ ہر نئی دوستی سے پرانی وفا کا ثبوت چاہتے ہیں۔

اور کسی نئے انسان کو بھی اس جرم میں سزا دے دیتے ہیں جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں۔ تب زخم صرف زخم نہیں رہتا وہ کردار بن جاتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے اندر ایک اور آگ روشن کرنا پڑتی ہے۔ یہ آگ غصے کی نہیں۔ یہ بصیرت کی آگ ہے۔ جو انسان کو جلاتی نہیں،اس کے اندر سے غیر ضروری چیزیں جلاتی ہے۔ سونا آگ میں جاتا ہے تو سونا ہی رہتا ہے، مگر میل چھوڑ آتا ہے۔ انسان بھی شاید اسی طرح ہے۔کچھ آگیں ہمیں ختم کرنے نہیں آتیں۔وہ ہمارے اندر سے وہ چیزیں نکالنے آتی ہیں جنہیں ہم خود کبھی نہیں نکال سکتے تھے۔کبھی محرومی ہمیں شکر سکھاتی ہے۔کبھی تنہائی ہمیں اپنے اندر کی آواز سناتی ہے۔کبھی دھوکا ہمیں لوگوں سے نہیں، اپنے اندھے اعتماد سے نجات دلاتا ہے۔کبھی شکست ہمیں کامیابی کی خواہش سے نہیں، کامیابی کے غرور سے بچاتی ہے۔اور کبھی کوئی ایسا شخص ہماری زندگی میں آتا ہے جو ہمیں اتنا زخمی کر جاتا ہے کہ ہم پہلی بار سمجھتے ہیں:ہمیں دوسروں سے نہیں، اپنے اندر کے ردِعمل سے بھی حفاظت کرنی ہے۔یہی تطہیر ہے۔مگر تطہیر کا راستہ ہمیشہ نرم نہیں ہوتا۔کبھی روح کو بچانے کے لیے اسے سخت ہونا پڑتا ہے۔یہاں ایک عجیب راز کھلتا ہے:ہر نرمی لطافت نہیں ہوتی،اور ہر سختی کثافت نہیں ہوتی۔کبھی نرم ہونا اپنی ذات سے خیانت ہے۔کبھی “نہیں” کہنا سب سے پاکیزہ جواب ہوتا ہے۔

کبھی کسی دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دینا نفرت نہیں، اپنے اندر کی آخری روشنی کی حفاظت ہوتی ہے۔کبھی فاصلے محبت کی موت نہیں ہوتے؛وہ محبت کو زہر بننے سے بچاتے ہیں۔اور کبھی چٹان بننا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ اندر کا چشمہ بہتا رہے۔مگر یہاں بھی ایک خطرہ ہے۔انسان اگر مسلسل مزاحمت کرتا رہے تو ایک دن اسے اپنی سختی سے محبت ہو جاتی ہے۔وہ سمجھنے لگتا ہے کہ کسی کو اپنے قریب نہ آنے دینا ہی قوت ہے۔کسی پر اعتبار نہ کرنا دانائی ہے۔کسی کے لیے نرم نہ ہونا خودداری ہے۔ہر تعلق میں بدگمانی رکھنا تجربہ ہے۔پھر وہ اپنے گرد ایک ایسا قلعہ بنا لیتا ہے جس میں دشمن تو داخل نہیں ہو سکتا،مگر محبت بھی نہیں۔اور یہ شاید انسان کی سب سے خاموش شکست ہے:وہ خود کو بچاتے بچاتے خود سے محروم ہو جائے۔اس لیے روح کا کمال صرف مضبوط ہونا نہیں۔مضبوط رہ کر نرم رہنا ہے۔یہ بہت مشکل فن ہے۔پتھر ہونا آسان ہے۔موم ہونا بھی آسان ہے۔اصل کمال یہ ہے کہ انسان کے اندر چٹان کا حوصلہ ہو اور پھول کی لطافت۔

وہ ظلم کے سامنے ڈٹ سکے،مگر مظلوم کے سامنے پگھل سکے۔وہ اپنی حد کی حفاظت کر سکے،مگر دوسروں کی کمزوری کی تحقیر نہ کرے۔وہ معاف کر سکے،مگر ظلم کو معافی کا نام دے کر جاری نہ رکھے۔وہ محبت کر سکے،مگر محبت میں اپنی روح گروی نہ رکھے۔یہی توازن ہے۔اور توازن سکون نہیں۔توازن ایک زندہ کشمکش ہے۔یہ ہر روز دوبارہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔انسان اپنے اندر ایک میزان لے کر پیدا ہوتا ہے۔اس کے ایک پلڑے میں آگ ہے،دوسرے میں برف۔ایک طرف خواہش،دوسری طرف ضبط۔ایک طرف محبت،دوسری طرف فاصلہ۔ایک طرف معافی،دوسری طرف انصاف۔ایک طرف دل،دوسری طرف عقل۔اور زندگی ہر روز اس میزان کو ہلاتی ہے۔کبھی کسی کی محبت ایک پلڑے میں وزن بڑھا دیتی ہے۔کبھی کوئی حادثہ دوسرے پلڑے میں پتھر ڈال دیتا ہے۔کبھی کوئی جدائی پورا میزان الٹ دیتی ہے۔مگر روح کی تربیت شاید یہی ہے کہ انسان ہر بار اپنے اندر واپس آئے اور میزان کو دوبارہ سیدھا کرے۔یہی باطنی ریاضت ہے۔

پھر ایک دن انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ لطافت کوئی پیدائشی وصف نہیں۔یہ تو بار بار مرنے اور بار بار پیدا ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔انا کا ایک حصہ مرے تو عاجزی پیدا ہوتی ہے۔بدگمانی کا ایک حصہ مرے تو حسنِ ظن پیدا ہوتا ہے۔انتقام کا ایک حصہ مرے تو درگزر پیدا ہوتا ہے۔خود غرضی کا ایک حصہ مرے تو ایثار پیدا ہوتا ہے۔اور جب انسان اپنے دکھ کو دوسروں کے لیے زہر بنانے سے انکار کر دے تو اس کے اندر ایک ایسی روشنی پیدا ہوتی ہے جس کا کوئی نام شاید لغت میں نہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کثافت لطافت کو جنم دیتی ہے۔جیسے کوئلہ اپنے اندر ہیرا چھپائے بیٹھا ہو۔جیسے رات اپنی تہہ میں صبح کا امکان رکھتی ہو۔جیسے زمین کے اندھیرے میں بیج اپنی سبز دعا سنبھالے رکھتا ہو۔جیسے زخم کے اندر کبھی کبھی انسان کا سب سے خوبصورت شعور جنم لیتا ہے۔مگر یہاں ایک آخری حقیقت بھی ہے:انسان خود کو پاک نہیں کر سکتا۔وہ صرف اپنے اندر کی کھڑکیاں کھول سکتا ہے۔روشنی پھر بھی کہیں اور سے آتی ہے۔وہ چراغ کی لو کو ہوا سے بچا سکتا ہے،

مگر روشنی کا اصل سرچشمہ اس کے اختیار میں نہیں۔اسی لیے روح کی لطافت میں ریاضت کے ساتھ عطا بھی شامل ہے۔انسان کوشش کرتا ہے،پھر جھکتا ہے۔اپنے نفس سے لڑتا ہے،پھر دعا کرتا ہے۔اپنے اندر کی کثافت پہچانتا ہے،پھر اس سے نجات کے لیے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔شاید روحانی زندگی کا سب سے خوبصورت راز یہی ہے:انسان جتنا اپنے آپ کو صاف کرتا ہے، اتنا ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ روشنی اس کی اپنی نہیں۔اور یہی احساس اسے تکبر سے بچاتا ہے۔آخرکار انسان کو برف بھی درکار ہے اور آگ بھی۔برف اسے بتاتی ہے کہ ہر تپش کے سامنے پگھل جانا ضروری نہیں۔آگ اسے بتاتی ہے کہ ہر انجماد زندگی نہیں ہوتا۔برف اسے ضبط دیتی ہے۔آگ اسے حرکت۔برف اسے حد سکھاتی ہے۔آگ اسے محبت۔برف اسے اپنے آپ کو بچانا سکھاتی ہے۔آگ اسے اپنے آپ سے آگے بڑھنا۔اور روح کا کمال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ دونوں ایک دوسرے کی دشمن نہیں رہتیں۔

جب آگ چراغ بن جاتی ہے۔
جب برف آئینہ بن جاتی ہے۔

جب سختی اصول کی حفاظت کرتی ہے اور نرمی انسانیت کی۔تب انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اصل لطافت نرم ہونے میں نہیں؛اصل لطافت یہ ہے کہ دنیا کی تمام سختیوں سے گزرنے کے باوجود دل کے اندر سختی کو مستقل گھر نہ بنانے دیا جائے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے زخموں کا مالک بن جاتا ہے۔جہاں کوئی اسے زخمی کر سکتا ہے،مگر اس کے اخلاق کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔جہاں کوئی اس سے محبت چھین سکتا ہے،مگر اسے محبت سے محروم نہیں کر سکتا۔جہاں کوئی اس کے راستے میں اندھیرا رکھ سکتا ہے،مگر وہ اندھیرے کو اپنے اندر منتقل نہیں کرتا۔

اور شاید انسان کی سب سے بڑی فتح یہی ہے:اس نے تاریکی دیکھی، مگر تاریک نہیں ہوا۔اس نے آگ دیکھی، مگر آگ نہیں بنا۔اس نے برف دیکھی، مگر پتھر نہیں ہوا۔اس نے زخم سہے، مگر زخم بانٹنے والا نہیں بنا۔اس نے دنیا کی کثافت کو چھوا،مگر اپنی روح کی لطافت کو مرنے نہیں دیا۔پھر ایک دن وہ اپنی ذات کی اسی باریک سرحد پر کھڑا ہوتا ہے جہاں انجماد اور تپش ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔وہ نہ مکمل برف ہے، نہ مکمل آگ۔وہ میزان ہے۔اور شاید یہی انسان کی اصل منزل ہے:نہ اتنا جلنا کہ خود راکھ ہو جائے،نہ اتنا جمنا کہ محبت مر جائے۔ بس اتنی حرارت باقی رہے کہ دل زندہ رہے، اور اتنی بصیرت کہ حرارت آگ نہ بنے۔اتنی سختی کہ باطل کے سامنے جھکا نہ جا سکے، اور اتنی لطافت کہ کسی بے بس دل کو چھوئے تو اسے درد نہ ہو۔ یہی روح کا توازن ہے۔

اور شاید زندگی کا سب سے بڑا فن بھی یہی ہے کہ دنیا تمہیں جس شکل میں ڈھالنا چاہے، تم اپنے رب کی عطا کردہ لطافت کو اس کے حوالے نہ کرو۔ کیونکہ آخر میں انسان کی پہچان یہ نہیں کہ اس پر کیا گزری. انسان کی اصل پہچان یہ ہے کہ جو کچھ اس پر گزرا، اس کے بعد وہ کیا بن گیا۔ اور اگر تمام آگوں، تمام برفوں، تمام زخموں اور تمام اندھیروں کے بعد بھی اس کے اندر کسی ایک گوشے میں محبت زندہ رہ گئی تو سمجھو، روح نے ابھی شکست تسلیم نہیں کی۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نعیم اللہ باجوہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment