اللّہ تعالٰی اس کائنات کا خالق، مالک، رازق اور رب ہے۔ اس نے زمین و آسمان کی ہر چیز کو ایک حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ بظاہر بعض مخلوقات انسان کے لیے نقصان دہ معلوم ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں اللّہ تعالٰی کی تخلیق میں کوئی چیز بے مقصد نہیں۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے:
ترجمہ: ”زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری لے آنے میں ان ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں اللّٰہ کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں۔ ( وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں) پَروَر دگار یہ سب کچھ آپ نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے۔ پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔“ ( سورۃ آل عمران آیت 190، 191 )
ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور اشاعت مارچ 1998ء ، صفحہ 205
اگر انسان غور کرے تو جونک، گھن اور دیمک بھی محض کیڑے نہیں بلکہ قدرت کی خاموش نشانیاں اور زندگی کے گہرے اسباق ہیں۔جونک پانی میں رہتی ہے۔ وہ خاموشی سے جسم سے چمٹ کر خون چوستی رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان کو دیر سے احساس ہوتا ہے کہ اس کی قوت کمزور ہو رہی ہے۔ گھن غلے کے ذخائر کو اس وقت نقصان پہنچاتا ہے جب انسان حفاظت میں غفلت برتتا ہے۔ اور دیمک سب سے زیادہ خاموش دشمن ہے۔ وہ لکڑی، کتابوں اور درختوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتی رہتی ہے۔ بظاہر سب کچھ صحیح دکھائی دیتا ہے، مگر اچانک ایک دن پوری عمارت یا تناور درخت زمین بوس ہو جاتا ہے۔یہی کیفیت انسان کے جسم اور روح کی بھی ہے۔ جسم کی دیمکیں لاپروائی، بے احتیاطی، غلط خوراک اور علاج سے غفلت ہیں، جبکہ روح کی دیمکیں گناہ، غفلت، خواہشاتِ نفس کی پیروی اور چھوٹی چھوٹی برائیاں ہیں۔ ابتدا میں یہ معمولی معلوم ہوتی ہیں، مگر آہستہ آہستہ انسان کے باطن کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔
قرآن مجید انسان کو خبردار کرتا ہے:
”ہرگز نہیں، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے ۔“ ( سورۃ المطففین آیت 14 ) ایضاً صفحہ 1531
یہ “زنگ” دراصل گناہوں اور بُری عادتوں کی وہ تہہ ہے جو دل کی روشنی کو ماند کر دیتی ہے۔ محمد رسول اللّہ ﷺ نے بھی نیک عادتوں کی اہمیت کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:
ترجمہ:”حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل اختیار کرو جتنی تم اپنے اندر طاقت پاؤ کیوں کہ اللّٰہ ( بدلہ دینے سے ) نہیں تھکے گا تمیں تھک اور اُکتا جاؤ گے ۔اس لیے پسندیدہ عمل اللّٰہ تعالٰی کے نزدیک وہی ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔ اگرچہ وہ تھوڑا ہو، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب کوئی عمل اختیار فرماتے تو پر مداومت ( استقامت) اختیار فرماتے تھے۔“( ابوداؤد) ،
مطالعہ حدیث از مولانا محمد فاروق خان، البدر پبلی کیشنز 23۔راحت مارکیٹ، اُردو بازار لاہور ،اشاعت اگست 1979ء، صفحہ 198
ایک اور حدیث نبوی ہے:
”اللّہ تعالٰی کو سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔“ (صحیح البخاری، حدیث: 6464؛ صحیح مسلم، حدیث: 783 )
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کو بڑے بڑے کارنامے نہیں بلکہ مسلسل اختیار کی جانے والی چھوٹی چھوٹی نیک عادتیں سنوارتی ہیں۔ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ:”خبردار! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے۔“ (صحیح البخاری، حدیث: 52؛ صحیح مسلم، حدیث: 1599)
دل ہی وہ گھر ہے جہاں ایمان بھی آباد ہوتا ہے اور خواہشات کی دیمک بھی جنم لیتی ہے۔ اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے تو کِردار کی پوری عمارت کمزور پڑ جاتی ہے۔
درحقیقت عادت دیمک کی مانند ہوتی ہے۔ وہ شور نہیں مچاتی، آہستہ آہستہ انسان کی شخصیت میں گھر کر لیتی ہے۔ ایک معمولی عمل بار بار دہرایا جائے تو وہ عادت بن جاتا ہے، عادت مزاج بن جاتی ہے، مزاج کردار کو تشکیل دیتا ہے، اور کردار انسان کی تقدیر کا رخ متعین کرتا ہے۔قرآن مجید میں اللّہ تعالٰی کا ارشاد اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے:
ترجمہ: ”ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس (اللّٰہ )کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللّٰہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللّٰہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ،نہ اللّٰہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہو سکتا ہے”.
(سورۃ الرعد آیت 11 ،تفہیم القرآن جلد 2، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور،اشاعت اپریل 1982ء،صفحہ 448، 449)
مولانا ظفرٓ علی خان نے اس حکم کی کتنی خوبصورت ترجمانی کی ہے:
؎خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جِس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
گویا انسان کی اصلاح کا آغاز اس کے اندر سے ہوتا ہے، اور اس اندرونی تبدیلی کا سب سے مضبوط ذریعہ اچھی عادتیں ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ نے خودی کی تعمیر اور مسلسل جدوجہد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
؎خودی کو کر بُلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے !
(کلیاتِ اقبال اُردُو ازعلامہ محمد اقبال ، غ ع ،صفحہ 347 ، تاریخ اشاعت فروری 1973ء)
یہ شعر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مضبوط کردار، بلند حوصلہ اور پاکیزہ عادتیں انسان کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہیں۔ ایک اور مقام پر اقبالؒ فرماتے ہیں:
؎عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنّم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
ایضاً صفحہ ٢٧٤
انسان کی زندگی کا حسن یا زوال اس کے مسلسل اعمال اور عادتوں سے جنم لیتا ہے۔ ہر عادت ایک بیج ہے۔ زمین یہ نہیں پوچھتی کہ کون سا بیج بویا جا رہا ہے، بلکہ وہ اسے اگا دیتی ہے۔ اگر سستی بوئی جائے گی تو محرومی کی فصل اگے گی، اگر نظم و ضبط اپنایا جائے گا تو عزت، کامیابی اور وقار حاصل ہوگا۔ اگر شکر کی عادت اختیار کی جائے گی تو دل سکون سے بھر جائے گا، اور اگر شکایت کو معمول بنا لیا جائے تو روح بے چینی اور مایوسی کے کانٹوں سے بھر جائے گی۔ دانش مند وہ نہیں جو کبھی لغزش کا شکار نہ ہو، بلکہ وہ ہے جو برائی کی پہلی دستک ہی پر اسے پہچان لے۔ دیمک سے جنگ عمارت گرنے کے بعد نہیں جیتی جاتی بلکہ اس وقت جیتی جاتی ہے جب اس کے پہلے حملے ہی کو روک دیا جائے۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کی بھی حفاظت کرے، اپنے جسم کے ساتھ اپنی روح کا بھی محاسبہ کرے، اور روزانہ اپنی عادتوں کا جائزہ لیتا رہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ عمارت گرنے سے پہلے شور نہیں مچاتی، بلکہ خاموشی سے اندر سے کھوکھلی ہوتی رہتی ہے۔ جو شخص اس خاموش سرسراہٹ کو وقت پر سن لیتا ہے، وہ اپنے کردار، اپنی زندگی اور اپنی تقدیر کو بھی سنوار لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ!
ہمیں ایسی عادتیں اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمارے ایمان، کردار کے سنورنے اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنیں۔ آمین۔



تبصرہ لکھیے