ہوم << بے در و دیوار – عرفان علی عزیز
600x314

بے در و دیوار – عرفان علی عزیز

تپتے ہوئے صحرا کی وسعت میں ریت کے اونچے اونچے ٹبے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے، جن پر پڑتی دوپہر کی سورج کی کرنیں یوں چمکتی تھیں جیسے تپتا ہوا سونا بکھرا ہو۔ انھی ٹبوں کے دامن میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی نما گھر تھا، جس کی کچی دیواریں اور لکڑی اور سرکنڈوں سے بنی چھت اس ویران ماحول کی غمازی کرتی تھی۔
جھونپڑی کے باہر چھوٹے چھوٹے کیکر کے درختوں کے نیچے کتوں کی ٹولی بھی آرام کی رہی تھی انہی ریت پر بچھے ہوئے ایک پرانے، میلے چیتھڑے پر اظہر نیم دراز پڑا تھا۔

دوپہر کی سخت دھوپ اس کے جسم پر پڑ رہی تھی مگر اسے اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ اس کی رگوں میں آئس کا نشہ دوڑ رہا تھا، جس کی غنودگی میں اس کی آنکھیں آدھی کھلی اور آدھی بند تھیں۔ نشے کی اس جھونک میں اس کا دماغ سن اور جسم بے جان ہو رہا تھا، لیکن اس کی کمینہ خصلت اور گالی گلوج کی عادت پھر بھی زندہ تھی۔
جھونپڑی کے اندر اندھیرے اور حبس زدہ ماحول میں ستارہ، جسے سب محبت یا طنز سے منچلی کہتے تھے، خاموشی سے بیٹھی تھی۔ اس کے قریب ہی دَلو بیٹھا ہوا تھا، جس کے ہاتھ میں موجود سستے فون سے ہلکی آواز میں کوئی اداس گیت گونج رہا تھا۔ دَلو کے ہاتھ اٹھتے ہیں اور وہ بڑی بے تکلفی سے ستارہ کی کمر پر لمبے اور گھنے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگتا ہے۔ ستارہ اس کے پاس بیٹھی اس مدہم موسیقی میں کھوئی ہوئی تھی، باہر کی دنیا اور دھوپ کے شور سے بے نیاز۔
باہر ریت کی تپش اور نشے کے اثر سے اظہر کا گلا سوکھنے لگا۔ اس نے بے چینی سے کروٹ بدلی اور گندی گالی منہ سے نکالتے ہوئے پکارا۔

”اوئے منچلی! مر گئی کیا اندر؟ ذرا اٹھ اور باہر آ کر باپ کو ایک گھونٹ پانی پلا دو، پیاس سے حلق بیٹھا جا رہا ہے!“
ستارہ نے اندر بیٹھے بیٹھے باپ کی آواز سنی، اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار ابھرے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ وہ وہیں دَلو کے پاس بیٹھی رہی اور باہر جانے کا نام تک نہیں لیا۔
باہر اظہر کا غصہ اور بڑھ گیا۔ جب اندر سے کوئی جواب یا ہلچل نہ ہوئی، تو دَلو نے مسکراتے ہوئے ستارہ کی طرف دیکھا اور لاپرواہی سے بولا۔
”اس کمینے کو وہیں پڑا رہنے دو، اور بھونکنے دو اسے جتنا بھونکتا ہے۔ اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“
دَلو کی بات سن کر ستارہ وہیں بیٹھی رہی۔

آخر کار ستارہ اور دَلو باہر صحن میں نکل آئے۔ ان کے چہروں اور پیشانیوں پر پسینے کی موٹی موٹی بوندیں چمک رہی تھیں، اور وہ سانس بحال کرتے ہوئے اپنے کپڑے درست کر رہے تھے۔ گرمی اور تھکن سے ان کے جسم شرابور ہو چکے تھے۔
دَلو جانے کے لیے قدم بڑھانے لگا تو رک گیا، اس نے جیب سے پیسے نکال کر ستارہ کی ہتھیلی پر رکھے اور محبت بھرے لہجے میں کہا۔”یہ رکھ لو، خالہ رضیہ کے گھر جا کر اپنے ہاتھوں میں نئی چوڑیاں پہن لینا۔“
حالانکہ دونوں جانتے تھے کہ صحن کے سامنے درختوں کے پار میں کے نشے میں دھت پڑا اظہر یہ سارا منظر اپنی سرخ نشیلی آنکھوں سے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔کہ دلو آج بھی پیسے دے کر جائے گا۔نشے کے سحر اور ہوس نے اس کے دماغ کی رگیں تن دی تھیں۔ اس کا خون کھول اٹھا۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور غصے سے دہاڑتا ہوا بولا۔

”اوئے! یہ ہاتھ میں کیا تھما کر جا رہا ہے تجھے؟ لا ادھر وہ پیسے، چپ چاپ میرے حوالے کر!“
ستارہ نے تپتی ریت پر پیچھے کی طرف قدم ہٹائے، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی تلخی اور مزاحمت تھی۔ اس نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا۔”بابا، یہ میرے ہیں، میں نہیں دوں گی۔“
یہ انکار اظہر کے جلے پر نمک چھڑک گیا؛ اس کا غصہ اب قابو سے باہر ہو چکا تھا۔ اس کا منہ گالیوں، غضب اور غلاظت سے بگڑ گیا۔ وہ پاگلوں کی طرح چیختا ہوا بولا۔
”تو نہیں دے گی؟ دفع ہو جا یہاں سے، کتی کی بچی! جا کر نلکے سے پانی بھر لو، منہ اٹھا کر چلی جاتی ہو… اور اے دَلو کی گود چھوڑ دے، تو نے اس پورے گھر کو رنڈی خانہ بنا رکھا ہے! لوگ آتے ہیں، بیٹھتے ہیں اور محلے والے مجھے طعنے دیتے ہیں، سب مجھے بے غیرت کہتے ہیں… سن لے اچھی طرح، میں بے غیرت نہیں ہوں، پر نشئی ضرور ہوں..!“

اظہر کے منہ سے نکلنے والے ان غلاظت بھرے الفاظ اور گالیوں نے فضا کو اور بھی زہریلا کر دیا۔ ستارہ کا چہرہ غصے، شرمندگی اور شدید کراہت سے بگڑ گیا۔ اس نے نفرت سے ایک گہرا منہ بنایا، وہیں پڑا ہوا مٹی کا گھڑا اٹھایا، اور ایک ہی جھٹکے میں باہر نکل گئی۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ستارہ مٹی کا بھرا ہوا گھڑا سر پر اٹھائے واپس لوٹی۔ اس کی سانسیں اکھڑی ہوئی تھیں اور پیشانی پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ اس نے جب گھڑا ایک طرف رکھا اور اپنے ہاتھوں پر نگاہ ڈالی تو وہاں نئی چوڑیاں جگمگا رہی تھیں، جو اس نے بڑی محنت اور امید سے خودی کے پیسوں سے خولی تھیں۔ لیکن جب اس نے اپنے پرانے، زنگ آلود لوہے کے ٹرنک کا ڈھکن اٹھا کر اس مخصوص جگہ پر ہاتھ ڈالا جہاں اس نے اپنی کمائی چھپا کر رکھی تھی، تو اس کی انگلیاں خالی صندوق سے ٹکرا گئیں۔
اندر ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔ سب کچھ غائب تھا۔

ستارہ سمجھ گئی کہ یہ شیطانی حرکت کس کی ہے، مگر اس کے منہ سے ایک لفظ بھی باہر نہ نکلا۔ اس نے کوئی شور مچایا اور نہ ہی کسی کو آواز دی۔ وہیں صندوق کے قریب فرش پر بیٹھ کر اس نے اپنے ہاتھوں کی نئی چوڑیوں کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ اس کا دل اندر سے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکا تھا، مگر اس کے پاس رونے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
ابھی اس کے آنسو بھی خشک نہیں ہوئے تھے کہ باہر لڑکھڑاتے قدموں کی چاپ گونجی۔ دَلو اندر آ گیا تھا۔ وہ آئس اور شراب کے نشے میں اس قدر دھت تھا کہ اسے اپنے پیروں کا ہوش نہیں تھا۔ اس کی سرخ اور ہوس زدہ نظریں سیدھا ستارہ کے ہاتھوں کی نئی چوڑیوں اور اس کے چہرے پر پڑیں۔ نشے کی غنودگی میں اس کا دل للچایا، اور وہ ستارہ کے قریب آ کر اس کے ماتھے پر بکھرے ہوئے اور آگے سے کٹے ہوئے بالوں کی تعریف کرنے لگا۔ ستارہ کی اداس اور نم آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے ہلکی سی بے ساختہ مسکان دوڑ گئی، جیسے اس تاریک اندھیرے میں کسی نے ہلکا سا دیا جلا دیا ہو۔

مگر یہ سکون لمحاتی تھا۔ ابھی دَلو وہیں موجود تھا کہ جھونپڑی کے دروازے پر ایک اور سایہ نمودار ہوا۔ ستارہ کی ماں، جو جانے کتنے دنوں سے گھر سے غائب تھی، اچانک ایک نامعلوم غیر مرد کے ساتھ واپس لوٹی تھی۔ اس شخص کے چہرے پر ایک مکروہ سی مسکراہٹ تھی، اس نے اندر آتے ہی ماں کے ہاتھ پر کچھ نوٹ رکھے اور حق جتانے والے لہجے میں پوچھا۔
”بتاؤ، اب ستارہ کا رشتہ کب دو گی مجھے؟ کتنے دن اور انتظار کرنا پڑے گا؟“
ماں نے لالچ سے ان نوٹوں کو لپک کر اپنے قبضے میں کیا، قمیض کے دامن میں ٹھونسا اور مکارانہ مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔”بس تم زیادہ فکر نہ کرو، مجھے تھوڑا سا وقت دو، میں بہت جلد پکی خبر بتا دوں گی۔ بس سب ٹھیک ہو جائے گا، تم اب جاؤ یہاں سے۔“

وہ غیر مرد ماں کی بات سن کر مطمئن ہوا اور واپس چلا گیا۔ ماں نے مڑ کر دیکھا کہ دَلو اب بھی وہیں ستارہ کے قریب موجود ہے، مگر حیرت انگیز طور پر اس نے دَلو کو دیکھ کر کوئی غصہ نہیں کیا، کوئی طعنہ نہیں دیا۔بلکہ خاموشی سے اسے نظر انداز کر دیا۔ اور کچھ ہی لمحوں بعد دَلو بھی لڑکھڑاتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔
دَلو کے جاتے ہی ماں کا چھپا ہوا سارا زہر اور غصہ ستارہ پر پھٹ پڑا۔ اس کا اندر کا شیطان جاگ اٹھا؛ اس نے آگے بڑھ کر ایک جھٹکے میں ستارہ کو اس کے بالوں سے پکڑ لیا اور زمین پر جھکا کر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔
”تجھ سے کتنی بار کہا ہے، کتنی بار سمجھایا ہے کہ اس طرح کسی غیر مرد کو گھر میں نہ بٹھایا کر، کسی سے نہ ملا کر! سارا پنڈ ہمیں گشتی خانہ کتا ہے، لوگ انگلیاں اٹھاتے ہیں، اور تیرے ان گندے کرتوتوں کی وجہ سے میری بھی ناک کٹ گئی ہے!“

ستارہ نے درد سے تڑپ کر اپنا سر چھڑانے کی کوشش کی، اس کے اندر چھپی برسوں کی غلاظت اور بے بسی ایک ہی پل میں غصے کی لہر بن کر باہر نکل آئی۔ اس کی آنکھوں سے انگارے برسنے لگے، اس نے جھٹکا دے کر خود کو آزاد کیا اور ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دو ٹوک اور تلخ لہجے میں بول اٹھی۔
”تو مجھے کیا سکھاتی ہے، اماں! تو کون سا اپنے سگے باپ کے ساتھ گئی تھی جو آج مجھے شرافت کا درس دے رہی ہے؟ جو خود طوائفوں کی طرح غیر مردوں کے سودے کرتی ہو، اسے اپنی بیٹی کو طعنے دیتے ہوئے ڈوب مرنا چاہیے!“
ستارہ کی اس کھری، کاری ضرب اور کڑوی سچائی نے ماں کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔ اس کا چہرہ غصے اور ہتک سے نیل پیلا ہو گیا؛ وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگی، منہ سے گالیوں کی غلاظت بکتی ہوئی بالوں کو نوچتی اور دھمکیاں دیتی ہوئی ایک بار پھر جھونپڑی سے باہر نکل گئی اور غائب ہو گئی۔

جھونپڑی کی ویران فضا میں اب دھوئیں کے بادلوں کے ساتھ مکروہ رازوں کی بو بھی پھیل چکی تھی۔ دَلو کا معمول بن چکا تھا کہ وہ چوری کر کے یا ادھر ادھر سے ہاتھ صاف کر کے جو نقدی لاتا، وہ آ کر ستارہ پر نچھاور کر دیتا، مگر اس دولت کی چمک میں بھی دل کا کھوکھلا پن صاف دکھائی دیتا تھا۔ ادھر ستارہ کی ماں کا مکروہ دھندا عروج پر تھا؛ وہ شہر اور پنڈ کے کئی امیر اور نام نہاد معزز لوگوں کو ستارہ کے رشتے کا جھانسہ دے چکی تھی اور اس فریب کی آڑ میں ان سب سے بھاری رقمیں بٹور کر کھا گئی تھی۔ اس گھر میں اظہر جیسا بدخصلت انسان بھی موجود تھا، جو خود تو کسی کام کا نہیں تھا، مگر باپ ہونے کا رعب دکھا کر بیٹی اور ماں دونوں کی حرام کی کمائی پر پل رہا تھا۔
آخرکار ماں نے ستارہ کا رشتہ امیرلڑکے کے ساتھ طے کر ڈالا، جو پیسے کے بل بوتے پر اس سودے کو خرید چکا تھا۔
جب یہ فیصلہ ستارہ کے سامنے آیا تو اس کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے ایک ایک کر کے اپنے ہاتھوں کی وہ تمام چوڑیاں اتار کر زمین پر دے ماریں اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے توڑ ڈالا، صاف لفظوں میں اعلان کر دیا کہ اسے یہ رشتہ ہرگز منظور نہیں۔

پنڈ کے لوگ اور دَلو یہ سمجھ رہے تھے کہ ستارہ شاید اسی کے ساتھ فرار ہو جائے گی، مگر ستارہ کے ارادے بالکل مختلف تھے۔ وہ اس چکر میں نہیں تھی کہ دَلو کے ساتھ بھاگ کر اپنی زندگی کو مزید تاریک کرے؛ اس کی مخفی پلاننگ تو اسی محلے میں شرافت سے بکریاں چرانے والے غریب اور محنت کش نوجوان رحیمو کے ساتھ چپکے سے بھاگنے اور اس کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کرنے کی تیاریاں کر رہی تھی۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment