ہوم << مکافاتِ عمل : ستلج فلم، کالرا اور اندرابی کے قاتلوں کی داستان – افتخار گیلانی
600x314

مکافاتِ عمل : ستلج فلم، کالرا اور اندرابی کے قاتلوں کی داستان – افتخار گیلانی

حال ہی میں جب بھارتی فلم سنسر بورڈ نے فلم ’ستلج‘ جس کا پہلا نام ’پنجاب 95‘ تھا ،کی ڈیجیٹل ریلیز کے محض 48 گھنٹوں کے اندر او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’زی 5‘ سے اس کی سٹریمنگ پر اچانک پابندی عائد کر دی، تو فلمی اور سیاسی حلقوں میں یہ ایک بحث کا موضوع بن گئی۔

ہنی تریہان کی ہدایت کاری اور دلجیت دوسانجھ کی جاندار اداکاری سے سجی یہ پولیٹیکل تھرلر دراصل اسی اور نوے کی دہائی میں پنجاب میں سکھ نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں اور لاوارث لاشوں کا معمہ حل کرنے والے ہیرو جسونت سنگھ کالرا کی زندگی پر مبنی ہے۔ سنسر بورڈ اور حکومت نے سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر فلم کو روک تو دیا، لیکن سکھ تنظیموں نے اس پابندی کو مسترد کرتے ہوئے ملک و بیرونِ ملک گوردواروں میں اس کی سکریننگ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بندشوں کے اس نئے تناظر نے ماضی کے کئی زخموں کو دوبارہ ہرا کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کی پاداش میں اپنی جان گنوانے والے جسونت سنگھ کالرا اور کشمیر کے مایہ ناز قانون دان جلیل اندرابی کی داستانیں ایک ہی روشنائی سے لکھی گئی ہیں۔ لیکن یہ کالم ان مقتولوں کی مظلومیت سے زیادہ، ان کے قاتلوں کے عبرت ناک انجام اور ’مکافاتِ عمل‘ (Karma) کے اس آہنی قانون کے بارے میں ہے، جو بالآخر دنیا کی ہر عدالت اور ہر طاقتور سرپرست سے بڑا ثابت ہوتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں، عدالتیں اور حکومتیں مجرموں کو بچانے کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں، تو قانونِ قدرت خود مدعی بن کر ان کا مسکن ڈھونڈ نکالتا ہے۔ چنڈی گڑھ کے ریلوے ٹریک سے لے کر کیلیفورنیا کے ایک مضافاتی گھر تک، یہ کالم ان ریاستی جلادوں کے اسی لرزہ خیز انجام کی کڑیوں پر مبنی ہے۔ بات ستمبر 1995 کی ہے۔ پنجاب میں شورش کا دور اب تقریباً تھم گیا تھا۔ لیکن جبر کی داستانیں ابھی تھمی نہیں تھیں۔ جسونت سنگھ کالرا نے صرف ترن تارن ضلع کے بلدیاتی ریکارڈ سے یہ سنسنی خیز ثبوت اکٹھے کیے تھے کہ پنجاب پولیس نے 25,000 سے زائد سکھ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کر کے ان کی لاشوں کو ’لاوارث‘ قرار دے کر خفیہ طور پر نذرِ آتش کر دیا تھا۔ کالرا نے یہ دھماکہ خیز شواہد کینیڈا کی پارلیمنٹ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے پیش کر دیے تھے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب 6 ستمبر 1995 کو کالرا کو ان کے امرتسر والے گھر کے باہر سے اغوا کر لیا گیا، تو دلی میں انسانی حقوق کی تنظیم ’پیپلز رائٹس آرگنائزیشن‘ کے سربراہ ڈاکٹر اروندو گھوش نے دہلی کافی ہوم کی چھت (Terrace) پر ایک ہنگامی میٹنگ بلائی تھی۔ اس میٹنگ کا مقصد کالرا کی بحفاظت واپسی کے لیے دباؤ بنانا اور ان کے خاندان کی مدد کے راستے تلاش کرنا تھا۔ ہم سب وہاں بیٹھے تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔ بالآخر 27 اکتوبر کو وہ المناک خبر آئی جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ خالصہ کو ترن تارن کے کانگ پولیس اسٹیشن میں بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش کو ایک قریبی ندی میں بہا دیا گیا تھا، جہاں سے وہ برآمد ہوئی۔ اس درندگی کے پیچھے جو نام سب سے نمایاں تھا، وہ تھا ترن تارن کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SSP) اجیت سنگھ سندھو کا تھا۔ سندھو وہ افسر تھا جس کو ریاستی حکومت نے خالصہ کے تحقیقاتی کام کو دبانے اور گواہوں کو ہراساں کرنے کے لیے خاص طور پر دوبارہ ترن تارن تعینات کیا تھا۔

سندھو کا ریکارڈ اکیلے کالرا کے خون سے رنگا ہوا نہیں تھا؛ وہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے عظیم ہیرو بھگت سنگھ کے بھانجے اور گاؤں کے منتخب رہنما کلجیت سنگھ دت کے 1989 میں اغوا اور حراستی قتل کا بھی بنیادی ملزم تھا۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ جب دت کے بھائی نے سندھو سے اپنے بھائی کی خیر عافیت پوچھی، تو اس مغرور افسر نے سرعام کہا تھا: ’’ہم لاش واپس نہیں کریں گے۔ جو کرنا ہے کر لو۔‘‘ کالرا کے قتل کے ابھی پانچ ہی مہینے گزرے تھے کہ کشمیر میں اسی خونی ڈرامے کا دوسرا ایکٹ کھیلا گیا۔ فروری 1996 کا مہینہ تھا اور رمضان المبارک کے دن تھے۔ بطور ایک جونئیر رپورٹر دہلی میں ایک سفارت خانے کی افطار پارٹی کو کور کرنے کی میری ڈیوٹی لگی تھی۔ دہلی کی اہم اور نامور شخصیات اور دیگر سفارت کار اس پارٹی میں شریک تھے۔ ان میں کشمیر کے معروف قانون دان اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن جلیل اندرابی بھی شامل تھے۔ وہ عدالتوں میں مختلف کیسوں کی پیروی کرنے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن (اسوقت وہ کونسل کے بجائے کمیشن ہی ہوتا تھا) میں شرکت کرنے کی وجہ سے ایک بڑا نام بن چکے تھے۔

اس شام جلیل صاحب کے چہرے پر روایتی مسکراہٹ کے پیچھے ایک گہری تشویش چھپی ہوئی تھی۔ وہ اس پارٹی میں موجود شرکاء کو بتا رہے تھے ان کو مسلسل سنگین دھمکیاں مل رہی ہیں۔ چند روز قبل کچھ نامعلوم مسلح افراد ان کے گھر میں گھس آئے تھے جن کا مقصد ان کو اغوا کرنا تھا۔ جلیل صاحب نے بڑی ہوشیاری سے مکان کی بالائی منزل پر چھپ کر اپنے کیمرے سے ان افراد کی تصویریں کھینچ لی ، جب ان کی اہلیہ نے نیچے ان مسلح افراد کو باتوں میں الجھائے رکھا ہوا تھا۔ اسی دوران جب محلے کے لوگ جمع ہوئے، تو وہ افراد فرار ہو گئے۔ جلیل صاحب اسی کیمرے اور فلم کو لے کر پہلی فرصت میں دہلی پہنچے تھے۔ ابھی ڈیجیٹل کیمروں کا زمانہ نہیں آیا تھا۔ دہلی میں انہوں نے تصویروں کو ڈیولپ کیا اور ان افراد کی شناخت آرمی کی 35 ویں راشٹریہ رائفلز کے راولپورہ کیمپ کے انچارج میجر اوتار سنگھ کے سرکاری مخبروںکے طور پر کر لی تھی۔ان تصویروں کو لیکر انہوں نے وزیرِ داخلہ ایس بی چوان، نائب وزیرِ داخلہ راجیش پائلٹ اور امریکی سفیر فرینک وائزنر سے ملاقاتیں کی تھیں اور ان کو اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا تھا۔انہوں نے اس میٹنگ میں بھی وہ تصویریں دکھائیں۔

وہ سرکرہ افراد اور سفارت کاروں سے بڑے معصومانہ انداز میں پوچھ رہے تھے کہ ان کا اب سرینگر واپس جانا کیا مناسب ہوگا؟محفل میں شریک افراد نے ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا: ’’چونکہ آپ نے حکومتِ وقت کے اعلیٰ ترین اربابِ اختیارکو اپنی صورتحال سے باضابطہ آگاہ کر دیا ہے، اس لیے اگر ان حملہ آوروں کا سرکار سے کوئی بھی تعلق ہوا، تو وہ اب آپ کو نقصان پہنچانے کی جرأت نہیں کریں گے کیونکہ انگلی سیدھی ان پر اٹھے گی۔‘‘ چونکہ عید کے دن قریب تھے، اس لیے وہ سرینگر لوٹ گئے۔لیکن ارباب حل و عقد کے مشورے کس قدر خوش فہمی پر مبنی تھے، اس کا اندازہ چند ہی دنوں میں ہو گیا۔ عید کے روز، 8 مارچ 1996 کو جب جلیل اندرابی اپنی اہلیہ کے ساتھ کار میں کسی رشتہ دار سے ملنے کے بعد گھر جا رہے تھے، تو میجر اوتار سنگھ کی قیادت میں وردی پوش اہلکاروں نے انہیں بیچ سڑک پر روکا۔

ان کی اہلیہ کے سامنے انہیں گھسیٹ کر فوجی گاڑی میں ڈالا گیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ ہائی کورٹ کے سخت احکامات اور فوج کی ابتدائی تردید کے درمیان، اغوا کے 19 دن بعد 27 مارچ کو جلیل اندرابی کی مسخ شدہ لاش دریائے جہلم میں تیرتی ہوئی ملی۔ ان کے سر میں گولیاں ماری گئی تھیں اور جسم تشدد سے چھلنی تھا، یہاں تک کہ ان کی آنکھیں تک نکال لی گئی تھیں۔ (جاری ہے)

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

افتخار گیلانی

افتخار گیلانی برصغیر کے معروف صحافی ہیں۔ سیاست اور خارجہ پالیسی جیسے موضوعات کی رپورٹنگ کرنے کا تین دہائیوں کا تجربہ ہے۔ ہندوستان کے بہت سے صحافتی اداروں میں ادارتی ذمہ داریوں کے علاوہ ترکی کی نیوزایجنسی انادولو اور جرمن ادارے ڈوئچے ویلے کےلیے کام کر چکے ہیں۔ ان کے کالم پاکستان اور ہندوستان کے کئی اخبارات میں چھپتے ہیں اور بڑے پیمانے پر سراہے جاتے ہیں۔ کئی میڈیا ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔ تہاڑ کے شب و روز نامی کتاب کے مصنف ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment