شام کی ہلکی سرخ دھوپ خزاں رسیدہ پارک کے درختوں کی ننگی ٹہنیوں سے چھن کر آ رہی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں، اور دنیا دھیرے دھیرے خاموشی کی چادر اوڑھ لیتی ہے۔ پارک کے بیچوں بیچ ایک پرانا، لکڑی کا بینچ تھا، جہاں عاصم برسوں سے ہر ہفتے کے اسی دن، اسی وقت آ کر بیٹھتا تھا۔
عاصم، جس کے چہرے پر وقت نے اپنی خاموش لکیریں کھینچ دی تھیں، ایک خاموش طبع انسان تھا۔ وہ کبھی ایک نامور آرٹسٹ تھا، جس کے کینوس پر زندگی کے رنگ بکھرے ہوتے تھے، لیکن اب وہ صرف ایک یادگار بن کر رہ گیا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں اب برش نہیں، بلکہ ایک پرانی، دھول بھری ڈائری ہوتی تھی، جس کے صفحات اس کے ماضی کے گہرے رازوں کو چھپائے ہوئے تھے۔ وہ خاموشی سے خزاں کے گرتے ہوئے پتوں کو دیکھ رہا تھا، جو ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے زمین پر بکھر رہے تھے۔ ہر گرتا ہوا پتا اسے اس کی محبت کی یاد دلاتا تھا۔ سارہ، جو ایک حسین سراب بن کر رہ گئی تھی۔
سارہ، جس کی ہنسی بہار کی پہلی بارش کی طرح تھی، اور جس کی آنکھیں گہرے سمندر کی طرح رازوں سے بھری ہوئی تھیں۔ وہ عاصم کی روح کا حصہ بن گئی تھی، اس کے ہر فن پارے میں جھلکتی تھی۔ ان کی محبت ایک خواب کی طرح تھی، جہاں سب کچھ ممکن لگتا تھا، لیکن زندگی کا بے رحم سچ کچھ اور ہی تھا۔ ان کے درمیان ایک بڑی خلیج تھی، طبقاتی فرق۔ سارہ ایک امیر خاندان کی بیٹی تھی، جبکہ عاصم ایک عام سا آرٹسٹ۔ سارہ کے والدین ان کے رشتے کے سخت مخالف تھے، اور انہوں نے سارہ کی شادی ایک دوسرے شخص سے طے کر دی تھی۔
عاصم کو وہ دن آج بھی یاد تھا، جب سارہ نے اسے آخری بار اس پارک میں بلایا تھا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں، لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔ اس نے عاصم کو بتایا کہ وہ اپنی فیملی کی خوشی کے لیے یہ شادی کر رہی ہے، اور اسے بھول جانے کے لیے کہا۔
“عاصم، ہماری راہیں اب الگ ہیں،” اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا تھا۔ “ہماری محبت ایک سراب تھی، جو کبھی حقیقت نہ بن سکی۔”
اس نے عاصم کو ایک آخری بوسہ دیا، اور پھر ہمیشہ کے لیے چلی گئی۔
عاصم نے کبھی دوسری شادی نہیں کی۔ اس کی زندگی صرف اس کی یادوں کے گرد گھومتی رہی۔ وہ آج بھی اس پارک میں آتا، اس بینچ پر بیٹھتا، اور ان لمحوں کو دوبارہ جینے کی کوشش کرتا، جب سارہ اس کے ساتھ تھی۔
شام گہری ہو رہی تھی، اور پارک میں خاموشی بڑھتی جا رہی تھی۔ عاصم نے اپنی ڈائری بند کی، اور خزاں کے بکھرے ہوئے پتوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے گھر کی طرف چل دیا۔ اس کا دل اداس تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں ابھی بھی ایک ہلکی سی امید تھی کہ شاید، کبھی، کسی اور جنم میں، وہ اور سارہ دوبارہ مل سکیں گے۔
بارہ سال… ایک طویل بن باس۔
اسی پارک کا وہی بینچ تھا، لیکن موسم خزاں کا نہیں، شدید سردی کی ایک دھندلی شام کا تھا، جہاں ہر سانس کے ساتھ منہ سے نکلتا ہوا دھواں ماضی کے دھندلکوں میں گم ہو رہا تھا۔ عاصم کے کوٹ کے کالر کھڑے تھے، اور اس کی انگلیاں سردی سے سن ہو رہی تھیں، مگر وہ ساکت بیٹھا تھا۔
اچانک دھند کو چیرتی ہوئی ایک گاڑی پارک کے جنگلے کے پاس آ کر رکی۔ پچھلا دروازہ کھلا، اور ایک وکیل نما سنجیدہ شخص باہر نکلا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک پرانا بیگ تھا۔ وہ سیدھا عاصم کی طرف بڑھا، اور بنا کوئی تمہید باندھے، انتہائی سنجیدگی سے بولا:
“کیا آپ ہی عاصم ہیں؟”
عاصم نے چونک کر سر اٹھایا۔ اس کی ویران آنکھوں میں ایک سوال تھا۔
“جی، میں عاصم ہوں۔”
اس شخص نے گہرا سانس لیا، اور بیگ سے ایک مخملی جلد والی ڈائری اور چنبیلی کے خشک پھولوں کا ایک گچھا نکال کر عاصم کی طرف بڑھا دیا۔
“میرا نام دانیال ہے۔ میں سارہ کا کزن اور فیملی لائر ہوں۔ سارہ نے مرنے سے پہلے یہ امانت آپ تک پہنچانے کی وصیت کی تھی. وہ دو دن پہلے کینسر کے باعث اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔”
عاصم کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔ “مرنے سے پہلے؟ کینسر؟” اس کے منہ سے صرف یہ لفظ نکل سکے۔ اس کا پورا وجود برف کی طرح جم گیا۔
“عاصم صاحب،” دانیال کی آواز میں ایک گہرا دکھ تھا، “آپ جسے بے وفائی سمجھ کر بارہ سال تڑپتے رہے، وہ سارہ کی زندگی کی سب سے بڑی قربانی تھی۔ بارہ سال پہلے، جب آپ دونوں مل رہے تھے، سارہ کو معلوم ہو چکا تھا کہ اسے بلڈ کینسر ہے، اور اس کے پاس زندگی کے چند ہی سال باقی ہیں۔”
وکیل نے ایک لمحے کا وقفہ لیا۔ عاصم کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔
“وہ جانتی تھی کہ اگر وہ آپ کو بتا کر مرتی، تو آپ کبھی جی نہ پاتے۔ آپ ایک حساس آرٹسٹ تھے، وہ آپ کو عمر بھر کا روگ نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس لیے اس نے اپنے والدین اور ایک جھوٹی شادی کا ڈرامہ رچایا۔ اس نے کسی سے شادی نہیں کی تھی، عاصم! وہ بارہ سال ہسپتالوں کے سرد کمروں میں صرف آپ کی دی ہوئی یادوں کے سہارے زندگی کی جنگ لڑتی رہی، تاکہ آپ اس سے نفرت کر کے ہی سہی، مگر اپنی زندگی جی سکیں۔”
دانیال یہ کہہ کر مڑا، اور دھند میں غائب ہو گیا، پیچھے عاصم کو ایک لامتناہی اندھیرے میں چھوڑ گیا۔
عاصم کے کانپتے ہاتھوں نے سارہ کی ڈائری کھولی۔ صفحات پر جگہ جگہ سارہ کے آنسوؤں کے سوکھے ہوئے نشانات تھے، جنہوں نے سیاہی کو پھیلا دیا تھا۔ آخری صفحے پر سارہ کی لرزتی ہوئی تحریر لکھی تھی:
“عاصم… میرے کینوس کا واحد رنگ!
مجھے معاف کر دینا کہ میں نے تم سے تمہاری سارہ کو چھین لیا۔ میں تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے مرنے کا خوف نہیں دیکھ سکتی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ تم مجھ سے نفرت کرو، کیونکہ نفرت انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، اور محبت… محبت تو انسان کو وہیں روک دیتی ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے آخری سانس تک صرف تم سے محبت کی ہے۔ اگر ہو سکے، تو کینوس پر دوبارہ رنگ بکھیرنا۔ میں تمہاری ہر تصویر کی اوٹ میں مسکراتی ملوں گی…”
پارک پر رات کا سیاہ اندھیرا پوری طرح چھا چکا تھا، اور دھند اتنی گہری ہو چکی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔
عاصم نے سارہ کی ڈائری کو اپنے سینے سے لگا لیا، اور گھٹنوں میں سر دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ وہ محبت، جسے وہ بارہ سال سے ایک سراب سمجھ کر اس کا پیچھا کر رہا تھا، وہ سراب نہیں تھی، وہ تو ایک ایسی حقیقت تھی جس نے عاصم کو زندگی دینے کے لیے خود کو مٹا دیا تھا۔
پرانے بینچ پر اب صرف ایک اداس آرٹسٹ بیٹھا تھا، جس کے پاس اب رنگ تو تھے، مگر ان رنگوں کو کینوس پر اتارنے والی روح ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی تھی۔ محبت سچی تھی، مگر اب وہ صرف چنبیلی کے سوکھے پھولوں کی خوشبو بن کر عاصم کے دل کے قبرستان میں دفن ہو چکی تھی۔



تبصرہ لکھیے