شام کا وقت تھا۔ نیا شادی شدہ جوڑا ٹیرس میں بیٹھا کافی پی رہا تھا اور باہر ہوتی ہلکی بارش سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
آخرکار شوہر نے بیوی کی ضد کے آگے ہار مانتے ہوئے اپنے دل کا حال بیان کرنا شروع کیا۔
“پتا ہے کیا؟ دراصل گزری زندگی میں مجھے مختلف لڑکیوں سے بہت لگاؤ رہا۔ پھر ہر ایک سے تقریباً ایک ہی طرح کی باتیں کیں۔ ہمیشہ ہر لڑکی کو بہت سراہا؛ اس کا پہننا، سجنا، سنورنا، ہنسنا، چلنا، اٹھنا، بیٹھنا، مطلب اس کی ہر ہر ادا کی تعریف کی۔
کبھی کسی سے دل لگا، تو کبھی کوئی دل سے اتر گئی۔ بس، یہی سلسلہ چلتا رہا۔
اور اب تم میری زندگی میں گھر والوں کی پسند سے میری بیوی بن کر آئی ہو۔ تم اکثر پوچھتی ہو نا کہ میں خاموش کیوں رہتا ہوں؟ تم سے باتیں کیوں نہیں کرتا؟
تو جاناں! باتیں تو بہت ہیں، مگر اب بے حس اور بے اثر لگتی ہیں۔ اسی لیے تم سے کچھ کہہ نہیں پاتا۔ تمہاری خوبصورتی، تمہاری باتیں، تمہارا سجنا سنورنا میرے دل میں وہ کیفیت پیدا نہیں کرتا، کیونکہ یہ سب اب میرے لیے وہ معنی نہیں رکھتے۔ میں پہلے ہی بہت سی لڑکیوں سے سچی اور جھوٹی اتنی باتیں، اتنی تعریفیں کر چکا ہوں کہ اندر سے مکمل خالی ہو گیا ہوں۔ یہی بات آج میرے لیے سب سے بڑا پچھتاوا ہے۔
کاش! میں ایسا نہ ہوتا۔ میرا کسی سے کوئی تعلق نہ ہوتا۔ میں اپنے جذبات، احساسات اور محبت کو پہلے ہی ضائع نہ کر دیتا۔ آج میں اس طرح جذبات سے عاری ہو کر تمہارے سامنے نہ بیٹھا ہوتا۔ میں یوں خاموش نہ ہوتا۔
کاش! اللہ مجھے معاف کر دے۔ کاش! مجھے سکون آ جائے۔”
شادی کے چند ہفتوں بعد آج پہلی مرتبہ لڑکی اپنے شوہر کی اداسی اور اس کے دل کا حال جان پائی تھی۔
یہ سب سن کر اسے بے حد تکلیف ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تو تھے، مگر جیسے جم گئے ہوں۔ ہاتھ میں کافی کا مگ پکڑے وہ باہر دیکھنے لگی۔ لان میں برستے ننھے ننھے قطرے اسے یوں محسوس ہو رہے تھے جیسے اس کے اپنے آنسو زمین پر برس رہے ہوں۔
اس کا شوہر اس کے ساتھ بیٹھا اپنی زندگی کی وہ کہانی سنا رہا تھا، جس نے اس کے دل میں ہلچل مچا دی تھی۔
مگر پھر وہ خاموشی سے اٹھی، کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور شوہر کے قریب جا کر زمین پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنا سر اس کے گھٹنوں پر رکھا، اوپر دیکھا اور شوہر کی جھکی ہوئی نگاہوں میں نگاہیں ڈال کر بولی:
“قسم سے، آپ کی باتوں نے مجھے بہت تکلیف دی ہے، اتنی کہ میں رو بھی نہیں پا رہی۔ لیکن ایک بات بہت اچھی لگی کہ آپ نے سچ بولا، وہ بھی میری بار بار کی ضد پر۔
آپ کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہے، آپ اللہ سے معافی مانگتے ہیں، تو میرا یقین ہے کہ رب ضرور آپ کو معاف کرے گا۔
اور… آپ نے کہا نا کہ آپ اندر سے خالی ہو؟
تو یقین جانیے، یہ جان کر مجھے خوشی ہوئی، کیونکہ اب اس خالی جگہ کو میں اپنی محبت سے بھر دوں گی۔
جو کچھ آپ نے کیا، وہ میں نے تو نہیں کیا نا۔ میرے پاس ابھی بہت محبت ہے، اور وہ بھی خالص۔
میری باتیں، میرے جذبات، میرے احساسات اور میری تعریفیں سب نئی ہیں۔ آپ میرے شوہر ہیں، میرے ہم لباس ہیں۔ میں جو کچھ بھی آپ کو دوں گی، اس میں مجھے اپنا ہی عکس نظر آئے گا۔ میری محبت اور میری تعریفیں اب صرف آپ کے لیے ہوں گی۔”
یہ کہتے ہی اس کے رکے ہوئے آنسو بے اختیار بہہ نکلے، اور وہ بلک بلک کر رونے لگی۔ ادھر اس کا شوہر اپنی روتی ہوئی بیوی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہی سوچ رہا تھا کہ پوری زندگی فلرٹ نما دوستیوں میں وہ جس محبت کو کبھی سمجھ ہی نہ سکا، اس کا مفہوم اس کی بیوی نے صرف چند جملوں میں اسے سمجھا دیا۔
اسی لمحے اس کی اپنی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔ وہ آنسو گھٹنوں پر سر رکھے بیوی کے گالوں پر گرے، جیسے اسے دلاسہ دے رہے ہوں۔
باہر ہونے والی ہلکی بارش تو رک چکی تھی، مگر ٹیرس میں اب آنکھوں کے آسمان سے برسات ہو رہی تھی؛ ایسی برسات جو دل کی گرد دھو دے، سب کچھ صاف شفاف کر دے، تاکہ اس کے بعد اندر کے موسم میں بھی باہر کی طرح ایک خوبصورت نکھار آ جائے۔



تبصرہ لکھیے