ہوم << مقام نبی یونس – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ
600x314

مقام نبی یونس – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

یروشلم سے ہیبرون جانے والی قدیم شاہراہ پر ہیبرون سے پانچ کلو میٹر دور شمال کی جانب ایک بہت اونچی پہاڑی پے
فلسطین کا سب سے اونچا مقام ، سطح سمندر سے نو سو سولہ میٹر ( تین ہزار فیٹ ) بلند یہودہ پہاڑ کی اس چوٹی پر فلسطین کا سب سے بلند ترین قصبہ حلحول آباد ہے ۔

سو فی صد مسلم فلسطینی آبادی پر مشتمل اس قصبے کی آبادی تقریباً ستائیس ہزار ہے ۔ یہاں کوئی یہودی نہیں رہتا۔ تاہم حلحول سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک یہودی نوآبادی ہے جس کا نام کارمی تروز ہے جہاں ایک ہزار کے قریب یہودی آباد ہیں ۔ حلحول صدیوں سے مقام نبی یونس کی وجہ سے تینوں ابراہیمی مذاہب کے زائرین کی نگاہوں کا مرکز رہا ہے ۔ مقام نبی یونس ۔ جہاں حضرت یونس علیہ السلام دفن ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ :
جب وہ تین دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے ۔ حضرت یونس علیہ السلام کو عراق کے قدیم شہر نینویٰ کی طرف بھیجا گیا۔ جو آج کل عراق کے موجودہ شہر موصل کے قریب واقع ہے . لوگوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور کفر و شرک پر اڑے رہے۔ تنگ آ کر آپ نے اللہ کے حکم کے بغیر شہر چھوڑا اور ایک جہاز میں سوار ہو گئے۔ قرآن میں اس دریا یا سمندر کا نام درج نہیں ہے، لیکن بائبل کی کتاب سلاطین ( کنگز) جلد دو مطابق یہ واقعہ بحیرہ روم میں پیش آیا۔جب وہ حیفا کی بندرگاہ سے سپین کے شہر ترسیس جانے کے لئے ایک کشتی میں سوار ہوئے تو اللہ نے بحیرہ روم میں ایک زبردست طوفان بھیجا۔ اس طوفان کی شدت اتنی تھی کہ جہاز کے ٹکڑے ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تو مسافروں نے ایک دوسرے سے کہا کہ یہ طوفان کسی گناہ گار کی وجہ سے آیا ہے جو اس کشتی میں سوار ہے جس پر قرعہ ڈالا گیا ۔

قرعہ ڈالنے پر آپ کا نام نکلا اور آپ کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ قرآن میں یہ درج نہیں کہ آپ کتنا عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے لیکن بائبل میں لکھا ہے کہ آپ نے تین دن اور تین راتیں مچھلی کے پیٹ میں گزاریں ۔ مچھلی کے پیٹ میں آپ نے توبہ کی اور اللہ کو پکارا
“ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ”
(ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بےشک میں ظالموں میں سے ہو گیا)۔

اللہ نے دعا قبول فرمائی، مچھلی نے آپ کو ساحل پر اگل دیا، اور آپ نے ایک بیل (لوکی) کے درخت کے سائے میں آرام کیا ۔ توبہ قبول ہونے کے بعد آپ کو دوبارہ اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا۔ اب کے قوم فوراً ایمان لے آئی اور اللہ نے عذاب ٹال دیا ۔ یہ واقعہ مختصراً قرآن مجید کی سورہ صافات میں درج ہے جبکہ تین اور جگہ سورہ قلم ، سورہ انبیاء اور سورہ یونس میں آپ کا ذکر آیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کوئی بندہ وہ دعا جو حضرت یونس نے کی تھی، پڑھ کر اپنی کسی مشکل میں اللہ سے نہیں مانگتا مگر اللہ اسے حل فرما دیتا ہے۔“

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بائبل کی “کتاب یونس “ میں درج ہے، جو عہد نامہ قدیم کا حصہ ہے یہ کتاب صرف چار ابواب پر مشتمل ہے، جس میں یہ پوری کہانی بڑی تفصیل سے بیان کی گئی ہے:
بائبل کی “ کتاب سلاطین جلد نمبر دو “ میں بھی حضرت یونس کا ذکر ملتا ہے، جہاں انہیں “یونس بن آمتائی” کے نام سے پکارا گیا ہے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے بادشاہ یربعام دوم کے دور میں اس کے عروج کی پیشین گوئی کی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حضرت یونس علیہ السلام کا دور :
کتاب سلاطین ( کنگز) کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام کا دور تقریباً آٹھویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ انہیں موجودہ دور کے شمالی عراق میں واقع قدیم شہر نینویٰ کی طرف بھیجا گیا تھا، جو اس وقت آشوری سلطنت کا دارالحکومت تھا ۔
آپ کا تعلق فلسطین کے شمالی علاقے گلیل (طبریہ ) میں ناصریہ کے اُس حصے سے تھا جو بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ کا مرکز بنا ۔ والد کا نام امتائی تھا اور حضرت یعقوب کے بیٹے زبولون کی نسل سے تعلق رکھتے تھے ۔
حضرت یونس علیہ السلام آٹھ سو پچاس قبل مسیح کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور سات سو پچاس قبل مسیح میں وفات پائی۔

قرآن مجید میں آپ کے خاندان کی تفصیلات درج نہیں ہیں، لیکن اسلامی روایات کے مطابق، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں “یونس بن متیٰ” کہہ کر پکارا تھا ۔ وہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہیں عراق کی آشوری قوم کی طرف بھیجا گیا حضرت یونس کی کہانی بین الاقوامی پیغام (غیر قوموں کی طرف بعثت) کی پہلی بائبل/قرآنی مثال ہے ۔
بائبل کی “کتاب یونس “ میں درج ہےجب وہ پہلی مرتبہ نینویٰ گئے تو اس وقت شلمنسر چہارم حکمران تھا ۔ جس کا دور حکومت سات سو تراسی سے سات سو تہتر قبل مسیح کا ہے ۔ اور جب مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد دوبارہ آشوری قوم کی طرف تشریف لائے تو اس وقت آشور دان سوم بادشاہ تھا ۔ جو سات سو بہتر سے سات سو پچپن قبل مسیح تک حکمران رہا ۔

وہ حضرت یونس پر ایمان لے آیا ۔ کتاب یونس کے باب تین میں آیا ہے کہ “جب بادشاہ کو پیغام ملا تو وہ تخت سے اٹھا، شاہی لباس اتارا، ٹاٹ اوڑھا اور راکھ پر بیٹھ گیا، اور پوری قوم کو روزے کا حکم دیا ۔” آپ کے دور میں حضرت داؤد علیہ السلام کی قائم کردہ عظیم الشان سلطنت دو حصوں میں بٹ چکی تھی . شمالی سلطنت اسرائیل اور جنوبی ریاست یہودہ . اسرائیل کا دارلسطنت سامریہ تھا اور اسپر یربعام دوئم کی حکومت تھی جبکہ ریاست یہودہ کا دارلحکومت یروشلم تھا جس پر امصیا حکمران تھا ۔ حضرت یونس کے دور میں ہی امصیا اور یربعام دوم کے درمیان بیت شمس کے مقام پر ایک بڑی جنگ ہوئی۔ جس میں شکست کے بعد امصیا کو قید کر لیا گیا۔ یروشلم کی فصیل گرائی گئی اور ہیکل کا خزانہ لوٹا گیا۔

اسرائیل کی سلطنت یربعام دوئم کے دور میں اپنے عروج پر پہنچی . کتاب سلاطین میں لکھا ہے کہ یربعام دوم حضرت سلیمان کے بعد بنی اسرائیل کی سب سے بڑی سلطنت کا مالک تھا. اس نے سات سو ترانوے سے سات سو باون قبل مسیح تک اکتالیس سال حکومت کی . یربعام دوم گرچہ بت پرست اور مشرک تھا لیکن بہت قابل حکمران اور بہترین جرنیل تھا اور اس کا دور شمالی اسرائیل سمیت سارے یہودیوں کا سنہری دور تھا ۔ یربعام کے دور میں چار انبیاء نے نبوت کے فرائض سر انجام دئیے . عاموس ، ہوسیع اور یوایل نے اسرائیلیوں میں تبلیغ کی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کو تبلیغ کے لئے آشوری قوم کی طرف بھیجا گیا تھا ۔ انہو ں نے یربعام دوئم کی سلطنت کی توسیع ،اس کے شاندار مستقبل اور عروج کی پیشن گوئی کی تھی جس کا ذکر بائبل میں موجود ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک نبی دو مقبرے :
حضرت یونس سے دو مقبرے منسوب ہیں ۔ ایک مقبرہ موصل کے قریب نینویٰ کے کھنڈرات میں واقع ہے اور دوسرا ہیبرون کے قریب حلحول کی پہاڑی چوٹی پر ۔ موصل میں واقع حضرت یونس علیہ السلام کا مزار، جسے مسجد النبی یونس کے نام سے جانا جاتا ہے، اپنی منفرد تاریخ اور اہمیت کی وجہ سے بہت ممتاز ہے۔

تاریخی اعتبار سے موصل والا مقبرہ زیادہ مستند مانا جاتا ہے اکثر مسلمان بھی شروع دن سے ہی اسے حضرت یونس کا مقبرہ سمجھتے چلے آئے ہیں کیونکہ یہ قدیم شہر نینویٰ کی پہاڑی پر واقع ہے . وہی شہر جہاں حضرت یونس علیہ السلام کو بھیجا گیا تھا ۔ اس مقام کا تذکرہ چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی سے ملتا ہے، یہاں پہلے ایک عیسائی عبادت گاہ میں ہننیشو اول نامی ایک عیسائی راہب دفن تھا جس کا انتقال سات سو ایک عیسوی میں ہوا تھا۔ تیرہ سو پینسٹھ عیسوی میں موصل کے حاکم جلال الدین ابراہیم الخاتنی نے اس جگہ کو کو جامع مسجد میں بدل دیا

گزشتہ صدیوں میں کئی بار اس مسجد کی تزئین و تنظیم نو ہوئی۔ عثمانی دور اور پھر انیس سو اسی کی دہائی میں صدام حسین کے دور میں اسے نئی شکل دی گئی۔ یروشلم تلمود کی یہودی روایت میں بھی اسے حضرت یونس کا مقبرہ تسلیم کیا گیا ہے ۔ موصل کا مقبرہ اب موجود نہیں ہے . داعش نے چوبیس جولائی دو ہزار چودہ کو اسے بم کے دھماکے سے اڑا دیا تھا ۔
مقبرے کی جگہ اب وہاں صرف ایک تباہ شدہ مسجد کے آثار باقی ہیں ۔ جو ماضی کی کہانی سناتے دکھائی دیتے ہیں ۔

موصل کا یہ مقام نہ صرف مذہبی اعتبار سے بلکہ تاریخی اور آثار قدیمہ کے لحاظ سے بھی انتہائی اہم ہے۔ داعش کی تباہ کاری نے ایک طرف تو ایک مقدس مقام مسمار کیا، لیکن دوسری طرف اس نے ماہرین کو اس قدیم تہذیب تک رسائی فراہم کر دی جو ہزاروں سالوں سے زمین کے نیچے دفن تھی۔ جب داعش کے خلاف کارروائی کے بعد علاقے کو آزاد کرایا گیا تو مسجد کے ملبے کے نیچے تقریباً ایک کلومیٹر لمبی سرنگیں ملیں۔ یہ سرنگیں داعش نے ملبے کے نیچے قیمتی نوادرات کی تلاش میں بنائی تھیں تاکہ انہیں اسمگل کیا جا سکے۔ ان سرنگوں کے ذریعے ماہرین آثار قدیمہ ایک شاندار نو-آشوری محل تک پہنچے۔

یہ محل کوئی عام عمارت نہیں تھی بلکہ آشوری سلطنت کے عروج کا مرکز تھا۔ ان کی شان وشوکت کا مظہر ۔ جہاں سے تین طاقتور آشوری بادشاہوں کی موجودگی کے آثار ملے :

سنحریب، جس نے تقریباً سات سو قبل مسح میں اسے تعمیر کرایا
اسارحدون، نے چھ سو پچاس قبل مسیح میں اس کی تعمیر نو کروائی اور اسے وسعت دی ۔
آشوربانیپال، جس نے چھ سو تیس قبل مسیح میں اسے دوبارہ تعمیر کروایا ۔

دوہزار پچیس میں ان کھنڈرات سے آشوری دور کی عظمت کی علامت ایک بہت بڑا لمسو کا مجسمہ دریافت ہوا ۔
چھ میٹر اونچا ۔ عقاب کے پروں اور بیل/شیر کے جسم والا ایک محافظ دیوتا لمسو جس کا سر انسان جیسا ہے . یہ اپنی نوعیت کا اب تک کا سب سے بڑا دریافت شدہ مجسمہ ہے۔ان کھنڈرات سے قدیم اینٹیں بھی ملیں جن پر بادشاہ سنحریب کا نام کندہ ہے جو محل کی تعمیر کی تصدیق کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مورخین موصل والے مقبرے کو حلحول کے مقابلے میں زیادہ مستند سمجھتے ہیں.

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مسجد بنی یونس : حلحول کی چوٹی
حضرت تمیم الداری کے مقبرے سے واپس لوٹتے ہوئے جب ہم ہیبرون کے قریب سے گزرے تو دور حلحول کی اونچی چوٹی پر بنی حضرت یونس کی مسجد نظر آئی تو میں نے بے اختیار ابو خالد سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اس جگہ لے جائے . ابو خالد نے گھڑی دیکھی اور سر ہلا کر کہنے لگا ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے . لیکن میرا خیال ہے کہ ہم اس جگہ کی زیارت کر سکتے ہیں ۔ “

اور چند ہی منٹوں کے بعد اس نے ہائے وے سکسٹی چھوڑ دی اور ایک ذیلی سڑک پر مڑ گیا جو اس ہہاڑی کے دامن کی طرف جارہی تھی ۔

“حلحول فلسطین کا سب سے بلند ترین قصبہ ہے جس کی اونچائی تقریباً تین ہزار فیٹ ہے “
اس نے ایک ٹرک کو اوور ٹیک کرتے ہوئے کہا ۔ حلحول کا نام سن کر بلال کے منہ سے بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی
اور ہم سب بھی مسکرانے لگے ۔
“کیا یہ ایک مذاحیہ قسم کا نام نہیں ہے “ میں نے اس سے پوچھا ۔
“قطعاً نہیں “ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔
“حلحول” عربی کے دو الفاظ “حل” (قیام کیا) اور “حول” (سال) سے بنا ہے، کیونکہ حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد ایک سال یہاں قیام کیا تھا ۔”

“ لیکن اس کی بعد تو وہ پھر واپس اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے تھے کیا ایسی کوئی تاریخی شہادت موجود ہے کہ وہ واپس فلسطین آئے تھے ۔ “
حمزہ نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا،
“نہیں وہ واپس نہیں آئے تھے زیادہ تر تاریخ دان یہی سمجھتے ہیں کہ وہ وہیں فوت ہوئے اور نینویٰ کی پہاڑی پر دفن ہوئے ۔ جہاں صدیوں سے ان کا مزار موجود ہے خود یہودیوں مقدس تلمود میں بھی یہی لکھا ہے ۔”
اس نے تعریفی انداز میں حمزہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ،

“ لیکن اس کے باوجود مقامی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اور حلحول کے گردونواح میں رہنے والے یہودی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ واپس آئے تھے اور حلحول میں ہی دفن ہیں ۔”
اسی گفتگو کے دوران ہماری گاڑی حلحول کے بارونق اور شوروغل سے بھرپور قصبے میں داخل ہوئی ۔
سامنے ہی دائیں جانب ایک چوکور دو منزلہ سفید رنگ کی بہت بڑی مسجد نظر آرہی تھی جسکے مشرقی کونے میں ایک بہت اونچا سفید مینار تھا ۔۔ وہی مینار جو ہمیں نیچے ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے دور سے نظر آیا تھا ۔ اس کی چھت پر دو سبز رنگ کے بڑے چھتری نما گنبد بنے تھے ۔ جیسے ہی ٹیکسی مسجد کے سامنے پہنچی اس کے اونچے مینار سے اللہ اکبر کے صدا بلند ہونے لگی ۔ یہ عصر کی اذان تھی ۔

سڑک پر خاصی چہل پہل تھی ۔ کئی رنگ اور نسل کے سیاح رنگ بھرنگے کپڑوں میں ملبوس ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ کچھ مسجد کے سامنے بنے قہوہ خانوں اور ریسٹیورںنٹس میں بیٹھے تھے ۔ لمبے کالے رنگ کے عبا اور کالے ہیٹ پہنے کچھ حریدی یہودی بھی نظر آئے جن کے بالوں کی لمبی لٹیں ان کی ٹوپیوں سے نیچے لٹک رہی تھیں . سڑک کے پار قسم ہا قسم کی دکانیں تھیں جن میں خریداروں کی بھیڑ لگی تھی ۔ہمیں گاڑی کھڑی کرنے کے لئے کافی دور جگہ ملی ۔
گاڑی کھڑی کر کے واپس آئے تو اذان ختم ہو چکی تھی ۔ ہم وضو کر کے مسجد میں داخل ہوئے تو جماعت نمازکے لئے تیار تھی ۔ نماز کے بعد مسجد کا تفصیلی جائزہ لینے کا موقعہ ملا ۔

سادہ سی مسجد لیکن اس سادگی میں بھی ایک وقار تھا ایک رعب و دبدبہ تھا . مربع شکل کا بڑا کھلا ہال جس میں جدید طرز تعمیر کے ساتھ قدیم ایوبی مسجد کی باقیات بھی نظر آتی ہیں ۔ اس ہال کے تین اطراف (جنوب، مشرق، مغرب) میں تین بڑے ستونوں پر مشتمل برآمدے تھے جن پر خوبصورت صلیبی طرز کی چھتیں بنی ہوئی تھیں ۔ ان برآمدوں کی دیواروں میں بنی کھڑکیاں نیچے تدفین والے کمرے کی طرف کھلتی تھیں ۔ موجودہ مسجد کی عمارت کا ڈھانچہ اسلامی دور سے پہلے کا ہے ، عمارت کی بنیادیں بازنطینی یا رومی دور کی ہو سکتی ہیں۔ جب مسلمانوں نے اسے اپنایا تو انہوں نے اندرونی ڈھانچہ کو تبدیل نہیں کیا، صرف چند تبدیلیاں کر کے اسے “مقام نبی یونس” قرار دے دیا۔

حضرت یونس کا مقبرہ تہہ خانے میں ہے جو عام زائرین کے لیے بند اور ناقابل رسائی ہے ۔ اسے صرف اوپر والی منزل سے کھڑکیوں کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے ۔ کھڑکی سے جھانکنے پر لکڑی کا ایک بڑا تعویز نظر آتا ہے، ایسا ہی جھونپڑی نما تعویز جیسا مسجد ابراہیمی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقبرے پر بنا ہے اس کے نیچے ایک غار نما کمرے میں اصل تدفین ہے ۔ لکڑی کے اس تعویز پر نیلے اور سبز رنگ کا ریشمی غلاف چڑھا تھا ۔ جس پر عر بی اور عبرانی میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام لکھا تھا ۔ سبز رنگ مسلمانوں اور نیلا رنگ یہودیوں کا مغربی کھڑکی کے اوپر ایک ریشمی پینل لٹکا ہوا تھا جس پر حضرت یونس کا نام کندہ ہے۔

یہ عثمانی سلطان عبدالحمید کا دیا تحفہ ہے جو حرم ابراہیمی میں موجود پینل سے مماثلت رکھتا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مقبرہ قبلہ رخ نہیں ہے اس کا رخ جنوب مغرب کی طرف ہے ۔ ماہرین کے مطابق یہ ثبوت ہے کہ یہ عمارت اسلام سے پہلے کے دور کی ہے اور بعد میں اسے حضرت یونس سے منسوب کر دیا گیا ۔ کیونکہ اسلامی دور میں بنی تمام قبریں قبلہ رخ ہوتی ہیں ۔ شاید اس لئے بھی کہ یہ مقبرہ حقیقی قبر نہیں ہے ، یہ صرف ایک یادگاری مزار ہے جو بعد میں بنایا گیا، ممکن ہے یہاں کوئی دفن نہ ہو۔ اس لیے اسے اسلامی اصولوں کے مطابق بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔

اس مقبرے پر یہ مسجد سب سے پہلے بارہ سو چھبیس عیسوی میں صلاح الدین کے بھتیجے اور سلطان العادل کے بیٹے سلطان المعظم عیسیٰ نے بنوائی تھی ۔ اس جگہ کو حضرت یونس سے منسوب کرنے کی روایت مسجد کی تعمیر سے بھی پہلے ملتی ہے جب تاریخ دان علی ہروی نے گیارہ سو تہتر عیسوی کے دوران اپنے سفر نامے میں اس کا ذکر کیاتھا ۔ سولہ سو اسی عیسوی کی دہائی میں صوفی عبد الغنی النابلسی نے حلحول میں حضرت یونس کے مقبرے کی زیارت کی اس نے اپنے سفر نامے میں لکھاہے کہ:

“ہم حلحول گاؤں گئے تاکہ حضرت یونس بن متیٰ (علیہ السلام) کے مزار کی زیارت کریں. ہم نے مسجد دیکھی، ایک غار دیکھا، اور ہم نے قبر کی زیارت کی۔”

موجودہ عمارت انیس سو بیاسی میں تعمیر ہوئی یہ ایک بڑی مسجد ہے جس میں پانچ ہزار نمازیوں کے لئے گنجائش موجود ہے۔ مقامی فلسطینی آبادی اس مقام کو معجزات سے منسلک کرتی ہے اور یہ اس سارے علاقے کے مذہبی ورثے کا مرکز ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

لَا إِلَٰهَ إِلَّا – تیرے سوا کوئی معبود نہیں
میں کھڑکی کے سامنے کھڑا سبز و نیلی چادر میں لپٹے تعویز کو دیکھتا رہا ۔ یہ تو طے ہے کہ انہوں نے توبہ قبول ہونے کے بعد یہاں قیام کیا تھا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ اس کے نیچے حضرت یونس آرام فرما ہیں یا نہیں . میں تو بس اتنا جانتا تھا کہ اس عمارت کے در ودیوار میں ان کی خوشبو بسی تھی ۔ وہ میرے محسن تھے ۔ ان کی مچھلی کے پیٹ میں پڑھی ہوئی دعا میری نمازوں کاسب سے بڑا سہارا تھی . اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا ۔ اس سے تعلق جوڑنے کا اِس سے خوبصورت آسان اور بہترین طریقہ مجھے آج تک نہیں ملا تھا ۔ میری ماں نے مجھے اس دعا کو پڑھنے کاایک انوکھا طریقہ بتایا تھا . وہ کہتی تھیں کہ اس دعا کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کر کے پڑھو تو تمہیں اور ہی لطف آئے گا.

لَا إِلَٰهَ إِلَّا – تیرے سوا کوئی معبود نہیں
أَنْتَ سُبْحَانَكَ – تو پاک ہے
إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ – بےشک میں ظالموں میں سے ہو گیا

اور میں نے اس پر عمل شروع کر دیا اور جب بھی اسے اس طرح پڑھتا ہوں تو مجھے کچھ اور یاد نہیں رہتا کوئی اور دعا کوئی اور لفظ زبان پر نہیں آتا بس انہیں ہی بار بار دہراتا ہوں ۔ انہی کی تکرار کرتا ہوں . بس پھر میں ہوتا ہوں اور میرا اللہ ہوتا ہے اور ہمارے درمیان حضرت یونس کی التجا کے یہ تین ٹکڑے ہوتے ہیں اور پھر ہر دفعہ پتہ نہیں کیوں دل نرم ہو جاتا ہے آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو جاتی ہے ۔ دل کی ساری کالک، ساری گندگی ، ساری کثافت آنسوؤں کے راستے باہر آنے لگتی ہے ہچکی بندھ جاتی ہے ۔

دامن تر ہوجاتا ہے کہ شاید حضرت یونس نے بھی مچھلی کے پیٹ کے اندھیرے میں اپنی تنہائی میں اپنے اللہ کو ایسے ہی پکارا ہو گا کہ مچھلی نے اس کی طاقت سے گھبرا کر انہیں ساحل پر اگل دیا تھا ۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment