ہوم << “پیڑ پودے” ،نظم فراق جلال پوری – فخرالزمان سرحدی
600x314

“پیڑ پودے” ،نظم فراق جلال پوری – فخرالزمان سرحدی

نظم”پیڑ پودے“فراق جلالپوری نے ایسے خوبصورت انداز میں تحریر کی جس سے قارٸین لطف اندوز ہوتے اور فطرت کی رعناٸی سے بھی محظوظ ہوتے ہیں۔نظم کی تشریح اتنی دلکش اور خوبصورت ہے جو نظارہ فطرت کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ایک اخبار میں بعنوان”کتنی رونق ہے پیڑ پودوں سے“مطالعہ کا اتفاق ہوا۔

اس تحریر میں ایک چاشنی اور دلکشی ملی ۔فطرت کے نظارے کتنے مسحور کن ہوتے ہیں۔شاید ہمیں احساس نہیں۔گہری نظر سے مشاہدہ کیا جاۓ تو کاٸنات ایک بہترین نظارا ہے۔اس میں زمین کی خوبصورتی پیڑ پودوں سے ہے۔ہریالی سے زمین کس قدر دلکش معلوم ہوتی ہے۔ہرے بھرے کھیت اور سبزہ کی دولت نہ صرف حیوانات کے لیے خوراک بلکہ انسانوں کے لیے غذاٸیت بھی میسر ہوتی ہے۔پیڑ پودے تو زمین کا زیور ہیں۔ان پر پرندوں کی چہچاہٹ اور نغمہ سراٸی بھی عجب سحر انگیز منظر پیش کرتی ہے۔بے سکونی سے نجات ملتی اور دلوں کو سرور ملتا ہے۔ہر طرف ایک رونق نظر آتی ہے۔ماحولیاتی فضا تو عجب منظر پیش کرتی اور دلوں کو لبھاتی ہے۔

یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جہاں پیڑ پودے کثرت سے ہوتے ہیں وہاں برسات بھی زیادہ ہوتی ہے۔گھروں کی رونقیں بھی تو پیڑ پودوں سے دوبالا ہوتی ہے۔اس لیے ان کی دیکھ بھال بھی ضروری ہوتی ہے۔قدرت کے بے شمار انعامات ہیں۔پیڑ پودوں سے پھول اور پھل حاصل ہوتے ہیں۔اس لیے ان کی دیکھ بھال اور پانی دینا بھی تو ضروری ہوتا ہے۔جنگلات اور ویرانوں میں پیدا ہونے والے پیڑ پودوں سے سانس لینے کے لیے نہ صرف آکسیجن ملتی ہے بلکہ زندگی کی رونق بھی بڑھتی ہے۔شعراء نے جس محبت اور چاہت سے پیڑ پودوں پر کلام پیش کیے اور اہل قلم نے جس خوبصورت پیراۓ میں قلمی تراشے پیش کیے یہ ادبی سرمایہ کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔اس ضمن میں شعراء کا کلام اور نظمیں پیڑ پودوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔

بقول شاعر:-
حمد
اے خدا ہے تو ہی مالک دو جہاں
تیری قدرت کے جلوے ہیں ہر سو عیاں
جگمگائیں ترے نور کی بھیک سے
چاند تارے کرن چاندنی کہکشاں
پھول شبنم چمن رنگ خوشبو دھنک
سب کے سب ہیں تیری عظمتوں کے نشاں
پیڑ پودے تیری حکمرانی میں ہیں
تیرے ہی حکم سے ہیں سمندر رواں
تیرا کلمہ ہواؤں کے ہونٹوں پہ ہے
گونجتی ہے فضاؤں میں تیری اذاں
ہر بلندی تیرے سامنے پست ہے
تیرے آگے جھکائے ہے سر آسماں
ہاتھ اٹھا کر یہی مانگتے ہیں دعا
کر دے ہر دل کو تو پیار کا گلستاں(احمد وصی)

یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کاٸنات رب کریم نے بناٸی ہے۔زمین کو فرش بنا کر دریا اور سمندر بہا دیے۔پہاڑ بناۓ اور ہرے بھرے میدان سجا کر قدرتی مناظر سے انسانوں کے لیے بے شمار نعمتیں پیدا کردیں۔اس پر رب کریم کا جتنا بھی شکر ادا کیا جاۓ کم ہے۔رب کریم کی عنایات بے شمار ہیں۔پھول قسم قسم کے کھلنے سے باغ و چمن کی رونق دوبالا ہوتی ہے۔پرندوں کی نغمہ سرائی سے جنگل و میدان میں زندگی کا احساس ہوتا ہے۔

انسانیت سے محبت کا درس ملتا اور الفت کے چمن زار زندہ ہوتے ہیں۔قدرتی مناظر دل آویز معلوم ہوتے ہیں۔گویا سب کچھ رب کریم نے انسان کے لیے تخلیق فرمایا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment