ہوم << بابا مجبور، مقتولہ بیوی اور ہمارا معاشرہ: اصل قاتل کون ؟ – شبانہ ایاز
600x314

بابا مجبور، مقتولہ بیوی اور ہمارا معاشرہ: اصل قاتل کون ؟ – شبانہ ایاز

گزشتہ دنوں ہونے والے ایک واقعے پر سوشل میڈیا پر کئی منہ بولے دانشوروں کی بحث دیکھ کر اور اکثریت مردوں کی رائے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ عورت قتل ہو کر بھی کٹہرے میں کھڑی کر دی جاتی ہے۔ میرا اشارہ کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں پیش آنے والے ایک واقعہ کی طرف ہے، یہ نہ صرف ایک فرد کا جرم ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی اجتماعی ذہنیت کا آئینہ بھی ہے۔

64 سالہ اصغر علی (جنہیں سوشل میڈیا پر “بابا مجبور” کا لقب دے دیا گیا ہے) نے اپنی 58 سالہ بیوی اسما کو لوہے کی راڈ سے قتل کر دیا۔ پھر خود تھانے جا کر قتل کو اسلامی ٹچ دینے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق، قتل کا سبب بیوی کا “شوہر کا حق زوجیت” ادا نہ کرنا تھا۔ قتل کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا رخ مقتولہ کی طرف موڑ دیا گیا . اس کی زندگی، فیصلوں اور “کردار” پر سوال اٹھائے گئے، جبکہ قاتل کو “مجبور”، “برداشت کی حد” پر پہنچا ہوا اور بعض جگہوں پر “قتل کو جسٹیفائی” کیا گیا۔یہ واقعہ صرف ایک فوجداری مقدمہ نہیں، بلکہ پاکستانی معاشرے کے اخلاقی اور فکری بحران کا پوسٹ مارٹم ہے۔ جہاں عورت قتل ہو کر بھی ظالم ٹھہرائی جاتی ہے اور قاتل کے لیے مذہبی یا سماجی جواز تلاش کیے جاتے ہیں۔

قتل کے بعد قاتل کا ایک بیان سامنے آیا کہ”اب میری مشین ہی نہیں رہی۔” یہ ایک سادہ جملہ نہیں تھا۔ یہ ایک عورت کو، جو کئی دہائیوں تک بیوی، ماں، گھر سنبھالنے والی اور خاندان کی backbone رہی، محض ایک “مشین” سمجھنے کی ذہنیت کا عکاس ہے۔ 58 سالہ اسما نے بچوں کی پرورش کی، بڑھاپے کی کمزوریوں کا سامنا کیا، مگر اسے جنسی “حق” کی مشین سمجھا گیا۔ یہ سوچ نہ صرف ظلم ہے بلکہ انسانی dignity کا انکار ہے۔ سوشل میڈیا پر مردوں کی بڑی تعداد نے قاتل کے ساتھ ہمدردی جتائی۔ کچھ نے کہا “پانچ سال سے بیوی نے حق ادا نہیں کیا”،دوسری شادی نہیں کرنے دی، شوہر کو ایکسٹرا میریٹل افیئرز نہیں رکھنے دیئے لہذا یہ انجام تو ہونا ہی تھا ۔ یہ بحثیں جرم اور جواز کے درمیان خطرناک قربت پیدا کرتی ہیں۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق قتلِ ناحق حرام اور تشدد نا قابلِ قبول ہے۔
اس کیس میں سب سے افسوسناک پہلو قتل کو اسلامی ٹچ دینا ہے۔ کچھ لوگوں نے “ازدواجی حق” کے نام پر اس قتل کو شرعی رنگ دینے کی کوشش کی۔ مگر اسلام اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا” (سورۂ النساء: 93)
جو کوئی جان بوجھ کر مومن کو قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ ایک جان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے (سورۂ المائدہ: 32)

میاں بیوی کے تعلق کو قرآن نے “لباس” کہا ہے. (سورۂ البقرہ: 187)
لباس حفاظت کرتا ہے، عزت دیتا ہے، سکون دیتا ہے۔ یہ غلبہ یا تشدد کا رشتہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ کے فرمان کریم کا مفہوم ہے کہ”خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ”،
تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔ (ترمذی)

ازدواجی تنازعات کے لیے اسلام نے مصالحت، ثالثی، علیحدگی ،خلع اور طلاق کے راستے دیے ہیں۔ قتل یا تشدد کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ جو لوگ “بابا مجبور” کیس میں مذہبی جواز تلاش کر رہے ہیں، وہ دراصل دین کی بجائے اپنی خواہشات کا دفاع کر رہے ہیں۔ اسلام عورت کو انسان، بیوی کو شریکِ حیات اور ماں کو عزت کی مقام دیتا ہے، نہ کہ مشین ۔ پاکستانی معاشرے میں عورت پر ظلم ہونے کے بعد پہلا سوال اس کے کردار پر ہوتا ہے۔ وہ کہاں تھی؟ کیوں نکلی؟ کیوں انکار کیا؟ یہ دفاعی ذہنیت معاشرے کو بے گناہ ثابت کرنے اور مجرم کو جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

مثال کے طور پر، چند ماہ قبل 65 سالہ حکیم بابر کی نوجوان لڑکی سے دوسری شادی پر اسے سلیبرٹی بنا کر مبارک بادیں ہوئیں، مگر ایک آٹھ بیٹیوں والی ماں کی دوسری شادی پر طعنے پڑے۔ مرد کی مرضی مردانگی، عورت کی مرضی بغاوت کہلائی۔ بابا اصغر کیس میں بھی یہی ہوا —معاشرے کی ہمدردی قاتل کے ساتھ واضح نظر ائی۔چند وکلاء نے فری کیس لڑنے کی آفرز دیں۔یہ دوہرا معیار گھریلو تشدد کو normalized کرتا ہے۔ Human Rights Commission of Pakistan (HRCP) اور دیگر رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں خواتین پر تشدد کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ 2024 میں کم از کم 1,641 ڈومیسٹک وائلنس سے متعلق قتل، 3,385 تشدد کے کیسز، 4,175 ریپ، 733 گینگ ریپ اور 405 آنر کرائمز رپورٹ ہوئے۔ 2025 میں یہ رجحان مزید بڑھا، جہاں gender-based violence میں 25% اضافہ دیکھا گیا۔

صرف رپورٹ شدہ کیسز ہی ہزاروں میں ہیں۔ غیر رپورٹ شدہ کیسز کہاں تک جاتے ہیں، اندازہ لگانا مشکل ہے۔ HRCP کے مطابق، ہزاروں خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہیں، تیزاب گردی ہوتی ہے، اور گھریلو تشدد روزمرہ کی حقیقت بن چکا ہے۔یہ اعداد و شمار نہ صرف قانون کی ناکامی بلکہ معاشرتی سوچ کی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ صرف بابا اصغر کیس میں ہی نہیں۔ دیگر واقعات میں بھی نظر آتا ہے۔ مثلاً نور مقدم کیس (2021)* 27 سالہ نور کو اس کے جاننے والے ظاہر جعفر نے تشدد، ریپ اور سر قلم کر کے قتل کیا کیونکہ اس نے رشتہ ختم کرنا چاہا۔ کیس نے قومی سطح پر شور مچایا، مگر سوچ وہی رہی.

فرزانہ پروین (2024)* لاہور ہائی کورٹ کے باہر حاملہ فرزانہ کو اس کے باپ اور بھائیوں نے پسند کی شادی پر قتل کر دیا۔ ڈاکٹر ماہ نور کوئٹہ میں تیزاب حملہ، مبینہ طور پر انکار پر. موٹروے کیس، بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی . ہر کیس میں “کوئی وجہ تو ہوگی” والا جملہ سننے کو ملتا ہے۔ یہ جملہ ظلم کو جواز بخشتا ہے۔ 18-19 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کی مبینہ اجتماعی زیادتی، حمل اور موت کا کیس بھی اسی سوچ کی مثال ہے جہاں کمزور کا درد دفن ہو جاتا ہے جبکہ طاقتور کے گرد خاموشی کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے. ترکیہ میں رہتے ہوئے مجھے یہاں کے معاشرتی نظام میں ایک اہم فرق نظر آیا۔ یہاں عورت کا تحفظ لباس یا طرزِ زندگی سے مشروط نہیں۔

عورت حجاب میں ہو یا جدید لباس میں، قانون دونوں کو یکساں تحفظ دیتا ہے۔ عورت رات کو اکیلی سفر کر سکتی ہے کیونکہ ریاست اور قانون کی عملداری یقین دلاتی ہے کہ جرم جرم ہے، جواز نہیں۔ ترکیہ نے خواتین کو سیاست، تعلیم، کاروبار اور عدلیہ میں فعال کردار دیا ہے۔ Istanbul Convention جیسے اقدامات (اگرچہ بعد میں واپس لیے گئے مگر بحث جاری) نے VAW پر توجہ مرکوز کی۔ معاشرتی شعور یہ تسلیم کرتا ہے کہ عورت کا “نہیں” نارمل ہے، توہین یا انتقام کا جواز نہیں۔ پاکستان کو ترکیہ سے سیکھنا چاہیے۔۔ قانون کی برتری، تعلیم میں gender equality، اور مذہب کا درست استعمال۔ ترکیہ کی مثال بتاتی ہے کہ مسلم معاشرہ جدیدیت اور روایات کا توازن رکھتے ہوئے عورتوں کے حقوق کو محفوظ کر سکتا ہے۔

بابا اصغر کیس میں مقتولہ کے بیٹوں کا رویہ بھی عجیب ہے۔ اگر بیٹے کیس کی پیروی ہی نہ کریں اور قاتل باپ کے ساتھ کھڑے ہوں تو یہ صرف خاندان کا نہیں، بلکہ معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اکثریت پاکستانی گھروں میں لڑکوں کو “مرد کی بات حرف آخر ہوتی ہے” سکھایا جاتا ہے۔ بیٹی،بہن کے انکار کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ یہی سوچ قاتل پیدا کرتی ہے۔ عدالت بابا اصغر (اصغر علی) کا فیصلہ کرے گی۔ قانون سزا دے گا۔ مگر اصل قاتل وہ اجتماعی ذہنیت ہے جو۔۔۔

– عورت کے قتل کے بعد بھی اسی سے سوال کرتی ہے۔
– مرد کی خواہش کو حق اور عورت کی مرضی کو بغاوت سمجھتی ہے۔
– مذہب کو جواز کے لیے استعمال کرتی ہے۔
– “غیرت” کے نام پر انا کی حفاظت کرتی ہے۔

HRCP رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہزاروں کیسز میں conviction rate 2% سے کم ہے۔ قانون موجود ہے مگر عملداری نہیں۔ اصل جنگ گھروں، سکولوں،میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ
1. تعلیم: نصاب میں gender equality اور consent کی تعلیم لازمی ہو۔
2. قانون: Domestic Violence Act کی مکمل عملداری، fast-track courts۔
3. مذہبی رہنما: درست اسلامی تعلیمات پر خطبات۔
4. سوشل میڈیا: پلیٹ فارمز پر hate speech اور victim-blaming روکنا۔
5. خاندان: بیٹوں کو احترامِ نسواں سکھانا۔

“نہیں کا مطلب نہیں ہوتا ہے” — یہ سادہ سی حقیقت جب ہم سمجھ لیں گے تو عورتوں کے کم قتل، کم جنازے دیکھیں گے۔ لیکن یہاں ایک سوال عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر بھی ہے۔

اصل قاتل/مجرم کون ہے؟
کیا صرف وہ شخص جس نے راڈ/تیزاب کی بوتل اٹھائی؟
یا وہ سوچ بھی جو سوشل میڈیا پر قاتل اور مجرم کے لیے ہمدردی پیدا کرتی رہی؟
یا وہ سوچ جو عورت کے قتل کے بعد بھی عورت سے سوال کرتی ہے؟
یا وہ سوچ جو مرد کی خواہش کو حق اور عورت کی مرضی کو بغاوت سمجھتی ہے؟
یا وہ سوچ جو مذہب کو انصاف کے لیے نہیں بلکہ جواز کے لیے استعمال کرتی ہے؟

میرا خیال ہے کہ اصل قاتل اور مجرم صرف ایک شخص نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی پورا معاشرہ بھی جرم میں شریک ہوتا ہے۔ بابا اصغر کیس ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک بوڑھا شخص نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جو نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ اس سوچ کا احتساب کرنا ہوگا۔ عورت انسان ہے، مشین نہیں۔ اس کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔