ہوم << لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی: ذمہ دار کون؟ – عصمت اسامہ
600x314

لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی: ذمہ دار کون؟ – عصمت اسامہ

کیا آپ میں سے کسی نے بیٹی کی پیدائش پر مٹھائی بانٹی ہے ؟
میرے والد صاحب نے بانٹی ہے۔ آپ سوچیں گے کہ یہ سوال کیوں پوچھا گیا؟ اس کا ایک مقصد ہے جو اس تحریر سے واضح ہوگا۔

میں نے جو کچھ سیکھا ،جتنی تعلیم حاصل کی ،جو کامیابیاں حاصل کیں ،ان میں اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بعد سے سے بڑا کردار ابوجی کا تھا۔ کبھی بچپن میں دوڑ لگاتے ہوئے گر جانا، کبھی کلاس میں سیکنڈ پوزیشن آنے پر منہ بنالینا کہ فرسٹ نہیں آسکی ۔ کبھی کوئی بیج ملنے پر اپنی خوشی سب سے پہلے والدین سے شئیر کرنا۔ اس وقت لگتا تھا کہ زندگی میں سب کچھ خود بخود مل رہا ہے۔ مگر ایسا نہیں تھا ، پیچھے ابوجی کی سپورٹ تھی ۔ مادی طور پر بھی اور جذباتی طور پر بھی۔ ابو جی نے مجھے ہمیشہ ” اللہ کا تحفہ” سمجھا اور اسی طرح ٹریٹ کیا۔انھوں نے کبھی بیٹی کو بوجھ نہیں سمجھا ،پھولوں کی طرح رکھا۔

وہ زیادہ امیر نہیں تھے مگر دل کے سخی تھے اور بہت صاف گو بھی۔ جہاں کوئی غلطی دیکھتے تھے تو مجھے اس سے آگاہ بھی کرتے تھے مگر ان کا انداز بہت soft ہوتا تھا ، جیسے کسی قیمتی شے کو بڑی احتیاط سے رکھا جاتا ہے کہ ٹھیس نہ لگ جائے ۔جب میں نے ایم اے کا امتحان پاس کیا تو انھوں نے اسپیشل آرڈر پر لڈو تیار کروائے اور ہمسایوں میں بانٹے۔مجھ سے زیادہ میرے ابو خوش تھے۔وہ میری ہر چھوٹی بڑی کامیابی کو celebrate کیا کرتے تھے۔

My father had always made me feel: I am special!

میرے شوہر مزاجاً کچھ مختلف ہیں ، زندگی کے دکھ سکھ، نشیب و فراز ،بہار و خزاں نے ہم دونوں کے اندر تغیرات رونما کئے۔ گھرداری کے سب فیصلے میاں صاحب ہی کرتے رہے ہیں ( فائدہ نقصان بھی ان کے کھاتے میں رہا).
ہم کبھی ایک دوسرے سے اتفاق کرتے تھے اور کبھی اختلاف بھی۔ جب میاں صاحب روزگار کی تلاش میں ملک سے باہر چلے گئے تو ایک بات کا بہت شدت سے مجھے احساس ہوا: اب میرے مسئلے سننے والا کوئی نہیں رہا!!

زندگی کی گاڑی دو پہیوں سے چلتی ہے ،ایک پہیہ کیسے چلاۓ؟ کوئی بچہ بخار سے تپ رہا ہے ، کس ڈاکٹر کو دکھاؤں؟ گھر کی کوئی مشین خراب ہوگئی ہے ،اسے کس دکان پر ٹھیک کروانے لے جاؤں؟ اولاد کے کسی subject میں ٹیسٹ اچھے نہیں ہورہے ،اب کیا کروں ؟اسکول لانے لے جانے والا رکشہ ڈرائیور چھٹیاں کر رہا ہے، اس مسئلے کو کیسے حل کروں؟ ایک دن میں خود بیمار ہوگئی ،مجھے کوئی ہاسپٹل لے جانے والا نہیں تھا۔ سارے کام بھی بے ترتیب ہوگئے۔
بہت سوچنے کے بعد میاں صاحب کو فون کیا : آپ وطن واپس آجائیں، مجھ سے سارے معاملات ہینڈل نہیں ہو پا رہے۔

جس دن وہ وطن واپس لوٹے ،وہ بچوں کے لئے عید جیسا دن تھا۔ بچوں کے لئے باپ کی سرپرستی کا سائبان ضروری تھا۔اللہ تعالیٰ یہ سائبان ہمیشہ سلامت رکھے۔ ماں کتنی ہی تعلیم یافتہ ہو ،صلاحیتوں کی مالک ہو ،وہ کبھی باپ کی کمی کو پورا نہیں کرسکتی۔ بچوں کی پرورش کے لئے ماں اور باپ دونوں ضروری ہیں۔خاندانی نظام کی بقا کے لئے باہم رفاقت لازمی ہے۔ عصر_ حاضر میں روز بروز خبریں تلخ ہو رہی ہیں، جرائم بڑھتے جارہے ہیں اور میڈیا بے لگام۔ جرم کرنے والا کوئی بھی ہوسکتا ہے مرد بھی اور عورت بھی۔

جرم کی نفسیات میں اخلاقی تربیت کی کمی ،دوسرے انسانوں سے حسد ،مقابلہ بازی ، دینی تعلیمات سے دوری ،خواہشات کا غلبہ،لالچ، خود غرضی اور اس جیسے بہت سے عوامل ہوسکتے ہیں مگر کچھ فیمنسٹ تنظیمیں ہمیشہ عورت کے خلاف جرائم کا زمہ دار ” مرد” کو ہی کیوں ٹھہراتی ہیں؟ ( ویسے اکثر گھریلو جھگڑوں میں عورت ہی عورت کی دشمن نکلتی ہے). حال ہی میں کوئٹہ سانحہ کی جو خبر آئی ہے ،اس میں نوجوان “لیڈی ڈاکٹر ماہ نور” پر کسی نے تیزاب پھینک دیا۔ یہ بہت بڑا جرم ہے کہ ایک مسیحا جس کے شب وروز انسانی جانیں بچانے میں صرف ہوتے ہیں ،اسے نشانہ بنایا جائے۔ ہماری قومی آبادی کے تناسب سے لیڈی ڈاکٹرز کی تعداد ویسے ہی بہت کم ہے۔

خواتین کو ہر علاقے میں لیڈی ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ڈاکٹرز بھی برسوں کی محنت اور جانفشانی کے بعد اس مقام تک پہنچتی ہیں ۔ جو ان کو نقصان پہنچاۓ وہ بلاشبہ کڑی سزا کا مستحق ہے لیکن یہ خبر کچھ اس طرح سے وائرل کی گئی ہے جیسے ہمارے معاشرے میں مرد ہی عورت کا دشمن ہے ، مرد ہی عورت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔جیسے مرد ہی عورت کی ترقی میں رکاوٹ ہے نعوذباللہ ۔ اس طرح کی سوچ ہمارے اخلاقی اور خاندانی نظام کے لیے زہر_قاتل سے کم نہیں ہے۔نوجوان لڑکیوں کی نفسیات ہر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس خبر کا دوسرا پہلو کیوں نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کو بچانے والا کوئٹہ ہسپتال کا ملازم عبدالرزاق بھی ایک مرد ہی تھا!

جس نے فوراً دوڑ لگا کے اور اپنی جان خطرے میں ڈال کے اس لیڈی ڈاکٹر کو بچایا ۔اس کوشش میں وہ خود بھی تیزاب سے زخمی ہوگیا۔ فیمنسٹ اور لبرل تنظیمیں ہر جرم کا زمہ دار ” مرد” کو ٹھہراتی ہیں ،سوال یہ ہے کہ مرد ہے کون؟ کیا یہ وہی بچہ نہیں ہے جو ماں کی آغوش میں پروان چڑھتا ہے؟ کیا یہ وہی بھائی نہیں ہے جو بہنوں کے کاموں کے لئے ہر وقت حاضر رہتا ہے ؟ کیا یہ مرد وہی شریکِ حیات نہیں ہے جس سے نکاح کے بعد عورت محفوظ ہوجاتی ہے ؟ کیا یہ مرد وہی بیٹا نہیں ہے جو والدین کے بڑھاپے کا سہارا بنتا ہے؟

سوال تو بنتا ہے!
جرم کی نفسیات کو کنٹرول کرنے کے لئے والدین ،اساتذہ، علمائے کرام ، میڈیا چینلز، ریاستی و قانونی ادارے سبھی کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور ہر وائرل ٹرینڈ کے پیچھے بھاگنے کی بجاۓ ،سنی سنائی خبر پر یقین کرنے کی بجاۓ تحقیق کرنے کی بھی!

مصنف کے بارے میں

عصمت اسامہ

عصمت اسامہ کالم نگار ،بلاگر اور مصنفہ ہیں۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہے۔ کتاب "سنہرے حروف" شائع ہوئی ہے۔ لکھنے کا آغاز کالج دور سے کیا۔ کئی ادبی تنظیموں کی جانب سے ایوارڈز اور مقابلہ جات میں اسناد اور انعامات حاصل کر چکی ہیں۔ اخبارات کے علاوہ افواج پاکستان کے " ہلال میگزین" میں لکھتی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment