شام پانچ بجے تربیت اور تزکیہ کا آن لائن ہفتے وار سیشن تھا ۔ اسی وقت ہماری مربی تحسین فاطمہ کے شوہر کی تدفین ہو رہی تھی، اس لیے وہ کلاس نہ لے سکیں۔ تدفین کے تقریباً چوبیس گھنٹے بعد ان کا پیغام آیا:
“میں کل کلاس نہیں لے سکی، اس وقت گھر میں تدفین کے انتظامات ہو رہے تھے۔ کیا آپ کے پاس کلاس کی ریکارڈنگ موجود ہے؟”
پیغام پڑھ کر میں سوچنے لگی۔ غم اپنی جگہ، صدمہ اپنی جگہ، مگر علم کی تڑپ و طلب اور ذمہ داری کا احساس اپنی جگہ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے نزدیک علم محض معلومات نہیں بلکہ زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ تحسین باجی نے گزشتہ تین برس میں کینسر کے مریض شوہر کی ایسی خدمت کی جس کا تصور بھی آسان نہیں۔ اپنی اولاد کی ایسی تربیت کی کہ آج ان کی تیسری نسل بھی دین کی خدمت اور اقامتِ دین کے سفر میں شریک ہے۔ ان کے شوہر عبدالرشید صاحب کی وفات پر مسجد کے امام صاحب نے جو گواہی دی، وہ کسی بھی انسان کے لیے دنیا کی بڑی کامیابیوں سے بڑھ کر ہے۔
ان کی بیٹی نے وڈیو کلپ بھیجی جس میں وہ بتا رہے ہیں:
“پچاس برس سے وہ اسی محلے میں رہتے اور اسی مسجد میں آتے تھے، صفِ اول میں کھڑے ہوتے تھے، تکبیرِ اولیٰ کو معمولی چیز نہیں سمجھتے تھے، اخلاق میں ممتاز تھے، محلے والوں کے حالات سے باخبر رہتے تھے اور مالی معاملات میں بے حد دیانت دار تھے”۔
بیٹی نے بتایا :
“ایک دن اباجان مسجد نہ جاسکے تو نمازی پریشان ہو گئے۔ انہیں یقین تھا کہ اگر عبدالرشید صاحب جماعت میں موجود نہیں تو ضرور کوئی غیر معمولی بات ہوئی ہوگی۔ گھر آکر انھیں معلوم ہوا کہ وہ شدید علیل ہونے کے باعث ہسپتال میں تھے”۔
میں سوچتی ہوں ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہوں گے جن کے بارے میں محلے کا امام، پڑوسی یا ساتھی یہ گواہی دے سکیں؟
ہم ساری زندگی مال، جائیداد، عہدے اور اسٹیٹس کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ قبر کے دہانے پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو ساتھ کیا جاتا ہے؟
اچھی شہرت، دعائیں، لوگوں کی دی ہوئی نیک گواہیاں، اولاد کی صالح تربیت، اور وہ اعمال جو اللہ کے ہاں قبول ہو جائیں۔ باقی سب یہیں رہ جاتا ہے۔
کامیاب زندگی وہ نہیں جس میں انسان مادی آسائشوں سے گھر بھر دے، بلکہ وہ ہے جس کے جانے کے بعد لوگ کہیں
“اللہ ان پر رحم فرمائے، وہ واقعی ایک نیک انسان تھے۔”



تبصرہ لکھیے