ہوم << اندلس، عروجِ علم اور زوالِ فکر – ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
600x314

اندلس، عروجِ علم اور زوالِ فکر – ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

اندلس کے شہر غرناطہ، قرطبہ اور اشبیلیہ میں قدم رکھتے ہوئے انسان صرف تاریخی مقامات کی سیاحت نہیں کرتا بلکہ وہ دراصل ایک ایسی تہذیبی داستان کے آثار کے درمیان چل رہا ہوتا ہے جس نے کبھی انسانی فکر کو نئی سمتیں عطا کی تھیں۔ ان شہروں کے خاموش مینار، سنگی محرابیں اور وسیع صحن محض ایک ماضی کی عظمت کے نمائندہ نہیں بلکہ وہ سوالات بھی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں جو ہر سنجیدہ ذہن کو متوجہ کرتے ہیں۔

یہ سوال محض اس بات تک محدود نہیں کہ آٹھ سو برس تک قائم رہنے والی ایک شاندار مسلم تہذیب کیوں مٹ گئی، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ وہ تہذیب آخر کیسے پیدا ہوئی تھی۔ کسی بھی تہذیب کے زوال کو سمجھنے سے پہلے اس کے عروج کی بنیادوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ عظمت اور زوال دونوں کی جڑیں انسانی فکر اور رویوں میں ہوتی ہیں۔ مسلم اسپین کی تاریخ اسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ آٹھویں صدی میں جب مسلمان اندلس پہنچے تو وہ صرف ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر نہیں آئے تھے بلکہ وہ ایک فکری روایت کے حامل تھے جس کی بنیاد علم، تحقیق اور جستجو پر رکھی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ چند صدیوں کے اندر اندر اندلس ایک ایسی تہذیبی تجربہ گاہ میں تبدیل ہوگیا جہاں سائنس، فلسفہ، ادب، طب، ریاضی اور فنونِ لطیفہ نے غیر معمولی ترقی کی۔ قرطبہ کی اموی خلافت خصوصاً عبدالرحمٰن ثالث کے عہد میں علمی اور ثقافتی ترقی کا ایسا مرکز بن گئی جس کی مثال اس زمانے کے یورپ میں کہیں نہیں ملتی تھی۔

دسویں صدی کا قرطبہ نہ صرف آبادی اور شہری منصوبہ بندی کے لحاظ سے ایک ترقی یافتہ شہر تھا بلکہ اس کی علمی سرگرمیاں بھی غیر معمولی تھیں۔ یہاں پختہ سڑکیں، رات کے وقت روشن رہنے والی گلیاں، عوامی حمام، ہسپتال اور عظیم کتب خانے موجود تھے۔ خلیفہ الحکم ثانی کے کتب خانے میں لاکھوں کتابیں محفوظ تھیں، جو اس دور کے یورپ کے لیے تقریباً ناقابلِ تصور بات تھی۔ اندلس کی یہ علمی بیداری محض حکمرانوں کی سرپرستی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اس کے پس منظر میں ایک گہرا فکری محرک موجود تھا۔ مسلمانوں کے لیے علم کا حصول صرف دنیاوی ترقی کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک روحانی جستجو بھی تھا۔ ان کے نزدیک کائنات کا مطالعہ دراصل خالقِ کائنات کی معرفت کا راستہ تھا۔ یہی وہ تصور تھا جس نے مسلمانوں کو فلکیات، طب، کیمیا، ریاضی اور فلسفہ جیسے علوم میں آگے بڑھنے کی تحریک دی۔ اندلس کی درسگاہیں اور کتب خانے دراصل اسی ذہنی روایت کا تسلسل تھے۔

اسلامی فکر میں علم کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس کی بنیاد براہِ راست قرآن مجید کی تعلیمات میں ملتی ہے۔ قرآن انسان کو بار بار کائنات پر غور کرنے، فطرت کے نظام کو سمجھنے اور تخلیق کے اسرار کو دریافت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، رات اور دن کی گردش، بادلوں کی تشکیل، بارش کے نزول اور زمین کی زندگی، یہ سب ایسے مظاہر ہیں جنہیں قرآن انسانی عقل کے لیے نشانیاں قرار دیتا ہے۔ اسی طرح قرآن علم اور جہالت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے سوال اٹھاتا ہے کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔ یہ اسلوب دراصل انسان کو غوروفکر اور تحقیق کی طرف مائل کرنے کا ایک فکری طریقہ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ابتدائی مسلم معاشروں میں علم کو ایک مقدس قدر کی حیثیت حاصل تھی۔ تعلیم، تحقیق اور علمی مکالمہ معاشرتی زندگی کا اہم حصہ تھے۔ مسلمان علما یونانی فلسفہ، ایرانی حکمت اور ہندی ریاضی جیسے مختلف علمی ذخائر سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں نئے تناظر میں آگے بڑھاتے تھے۔ اندلس اسی علمی تعامل کی ایک روشن مثال تھا جہاں مختلف ثقافتوں کے علما مل کر علم کے نئے افق دریافت کر رہے تھے۔

تاہم تاریخ کی یہی درخشاں روایت ہمیشہ قائم نہیں رہ سکی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے بعض حصوں میں وہ فکری توانائی کمزور پڑنے لگی جو کبھی اس کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ تحقیق اور تخلیق کی جگہ تقلید نے لے لی، سوال اٹھانے کی روایت کمزور ہوگئی اور علمی ادارے اپنی تخلیقی روح کھونے لگے۔ جب کسی معاشرے میں فکری جمود پیدا ہوجائے تو اس کے سیاسی اور معاشی ڈھانچے بھی آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ اندلس کی داستان بھی اسی حقیقت کی ایک علامتی مثال ہے۔ اندلس کے زوال کو صرف فوجی یا سیاسی عوامل سے سمجھنا دراصل تاریخ کو سطحی انداز میں دیکھنے کے مترادف ہے۔ حقیقی زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی تہذیب کی فکری بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ جب تحقیق کی جگہ تعصب لے لے، جب علم کی جستجو کی جگہ عیش و عشرت غالب آجائے اور جب معاشرے اپنی تخلیقی صلاحیت کھو بیٹھیں تو پھر سیاسی شکست صرف وقت کی بات رہ جاتی ہے۔ اندلس کی عظیم تہذیب بھی بالآخر اسی عمل کا شکار ہوئی۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن کی تعلیمات نے ایک زمانے میں مسلمانوں کو علم کی جستجو کی طرف راغب کیا تھا تو آج وہی تعلیمات ہمیں اسی طرح کیوں متحرک نہیں کر رہیں۔ اس سوال کا جواب قرآن میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے طرزِ فکر میں پوشیدہ ہے۔ ہم نے قرآن کو ایک زندہ فکری کتاب کے بجائے زیادہ تر ایک مذہبی رسم کی حیثیت دے دی ہے۔ اس کی آیات میں موجود فکری دعوت اور تحقیقی روح کو سمجھنے کے بجائے ہم نے اسے صرف ثواب کے حصول تک محدود کر دیا ہے۔ نتیجتاً وہ تخلیقی تحریک جو کبھی مسلم ذہن کو متحرک کرتی تھی آہستہ آہستہ کمزور پڑ گئی۔ اندلس کے کھنڈرات اس اعتبار سے محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ایک فکری آئینہ بھی ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تہذیبیں صرف فوجی طاقت یا اقتصادی وسائل سے نہیں بنتیں بلکہ ان کی اصل بنیاد علم اور فکر ہوتی ہے۔ جب تک معاشرے تحقیق، سوال اور تخلیق کی روایت کو زندہ رکھتے ہیں وہ ترقی کی راہوں پر گامزن رہتے ہیں۔ لیکن جب یہی روایت کمزور پڑ جائے تو عظیم ترین سلطنتیں بھی تاریخ کے صفحات میں سمٹ جاتی ہیں۔

اسی حقیقت کو علامہ محمد اقبال نے اپنے مخصوص اسلوب میں بیان کیا تھا کہ مسلمانوں کی عزت و وقار دراصل قرآن کی اس فکری روح سے وابستہ تھا جو انہیں غوروفکر اور جستجو کی دعوت دیتی ہے۔ اقبال کے نزدیک قرآن محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک ایسی فکری دستاویز ہے جو انسان کو کائنات کے اسرار دریافت کرنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی تحریک دیتی ہے۔ آج جب مسلم دنیا ایک بار پھر فکری اور علمی چیلنجوں سے دوچار ہے تو اندلس کی تاریخ ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔ یہ سبق یہ ہے کہ تہذیبوں کی حقیقی قوت ان کے تعلیمی اور فکری نظام میں ہوتی ہے۔ اگر معاشرے علم کو اپنی ترقی کا محور بنا لیں، تحقیق کو اپنی ثقافت کا حصہ بنا دیں اور ایمان کو عقل کے ساتھ ہم آہنگ کر دیں تو ایک نئی فکری نشاۃِ ثانیہ کا آغاز ممکن ہے۔ اندلس کی خاموش دیواریں شاید آج بھی یہی پیغام دیتی ہیں کہ تاریخ کا سفر ختم نہیں ہوا۔ جو قومیں اپنے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ لیتی ہیں وہ مستقبل کی تعمیر بھی کر سکتی ہیں۔

علم، جستجو اور تخلیق کی وہی روایت جو کبھی قرطبہ اور غرناطہ کو دنیا کا علمی مرکز بناتی تھی، اگر دوبارہ زندہ ہو جائے تو ایک نئی تہذیبی بیداری بھی جنم لے سکتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو اندلس کے سنگ و خشت میں آج بھی محفوظ ہے اور جو ہر سنجیدہ ذہن کو دعوت دیتا ہے کہ وہ تاریخ کو صرف یاد نہ کرے بلکہ اس سے رہنمائی بھی حاصل کرے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment