سیاست کو عموماً اقتدار، مفادات، جماعتی وابستگیوں اور انتخابی معرکوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سیاست کی اصل روح انسانوں سے جڑنے، دکھ سکھ میں شریک ہونے اور سماجی رشتوں کو نبھانے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو کسی سیاستدان کو محض ووٹ لینے والا فرد نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں جگہ بنانے والی شخصیت بناتی ہیں۔
اوکاڑہ میں نعمت کلب میں ہونے والی حالیہ آمد نے ایک بار پھر یہ احساس تازہ کردیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر انسانی رشتے اور روایات ہمیشہ مقدم رہتی ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی نعمت کلب اوکاڑہ آمد محض ایک رسمی سیاسی ملاقات نہیں تھی بلکہ یہ تعلق، خلوص اور سماجی روایات کا خوبصورت اظہار تھا۔ دونوں رہنماؤں نے چوہدری ارشد اقبال کے بڑے بھائی اور رکنِ قومی اسمبلی ریاض الحق جج کے تایا حاجی محمد صدیق مرحوم کے انتقال پر اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا، فاتحہ خوانی میں شریک ہوئے اور غمزدہ خاندان کے ساتھ وقت گزارا۔
بظاہر یہ ایک تعزیتی ملاقات تھی مگر درحقیقت اس کے اندر ہماری معاشرتی اقدار، سیاسی روایات اور انسانی تعلقات کی ایک گہری جھلک موجود تھی۔ برصغیر خصوصاً پاکستانی معاشرے میں کسی کے غم میں شریک ہونا صرف ایک سماجی رسم نہیں بلکہ ایک اخلاقی، مذہبی اور تہذیبی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ اسلام نے تعزیت، دلداری اور غم بانٹنے کو نہ صرف پسندیدہ عمل قرار دیا بلکہ اسے انسانی اخوت کی بنیاد بھی کہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بڑے سیاسی رہنما بھی جب کسی عام یا خاص فرد کے گھر تعزیت کے لیے جاتے ہیں تو یہ عمل لوگوں کے دلوں میں احترام پیدا کرتا ہے۔ انسان کے دکھ میں شریک ہونا دراصل اس کے ساتھ قلبی تعلق کا اظہار ہوتا ہے اور یہی تعلق معاشروں کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔
اوکاڑہ کی سرزمین ہمیشہ سیاسی شعور، مہمان نوازی اور خاندانی روایات کے حوالے سے منفرد پہچان رکھتی ہے۔ یہاں سیاست صرف جلسوں، نعروں اور انتخابی بینروں تک محدود نہیں بلکہ تعلقات، احترام اور رواداری کی صورت میں بھی زندہ دکھائی دیتی ہے۔ نعمت خاندان نے گزشتہ چند برسوں میں اسی روایت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ نعمت کلب اوکاڑہ آج صرف ایک سیاسی یا سماجی مقام نہیں بلکہ ایک ایسی بیٹھک کی صورت اختیار کرچکا ہے جہاں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ عزت اور محبت کے ساتھ جمع ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والا ہر شخص خلوص، اپنائیت اور احترام کا احساس لے کر واپس جاتا ہے۔
چوہدری ارشد اقبال اور ریاض الحق جج کا خاندان اوکاڑہ کی سیاست میں ایک باوقار مقام رکھتا ہے۔ ریاض الحق جج مسلسل تین مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں اور آج بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی میں اوکاڑہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔ سیاست میں مسلسل کامیابی محض انتخابی حکمت عملی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے عوامی اعتماد، کردار اور رویّے کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اوکاڑہ کے عوام نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو عزت دی ہے جو ان کے دکھ سکھ میں شریک رہے، جنہوں نے اپنے دروازے کھلے رکھے اور جنہوں نے اقتدار کو خدمت کا ذریعہ بنایا۔
نعمت خاندان کی شناخت شرافت، خدمتِ خلق اور عوامی تعلق سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں منعقد ہونے والی تقریبات، ملاقاتیں اور سماجی سرگرمیاں محض سیاسی رنگ نہیں رکھتیں بلکہ ان میں ایک خاندانی اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ اوکاڑہ کے لوگ اس خاندان کے ساتھ اپنے جذباتی تعلق کا اظہار بھی اسی انداز میں کرتے ہیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو سیاست میں سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے، کیونکہ اقتدار عارضی ہوسکتا ہے مگر عزت اور تعلق مستقل حیثیت رکھتے ہیں۔ہمارے ہاں بدقسمتی سے سیاست کو اس قدر تلخ بنا دیا گیا ہے کہ لوگ مخالف سیاسی جماعت کے کارکن کو بھی دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے جہاں اختلافِ رائے کے بجائے نفرت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر مختلف سیاسی سوچ رکھنے والے رہنما ایک دوسرے کے غم میں شریک ہوں، ایک دوسرے کے گھروں میں جائیں اور سماجی تعلقات کو برقرار رکھیں تو یہ ایک مثبت پیغام ہوتا ہے۔ اس سے عوام کو بھی یہ سبق ملتا ہے کہ سیاست دشمنی کا نام نہیں بلکہ نظریاتی اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنے کا نام ہے۔سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی شخصیت بھی اسی حوالے سے منفرد سمجھی جاتی ہے۔ وہ سیاسی اختلافات کے باوجود مختلف طبقات سے روابط رکھنے اور شخصی تعلقات نبھانے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔
ان کی اوکاڑہ آمد اس بات کا ثبوت تھی کہ سیاست کے میدان میں تعلقات کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ اسی طرح وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی شرکت نے بھی اس تعزیتی موقع کو ایک قومی رنگ دیا۔ یہ مناظر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو روایات، احترام اور انسانیت کو اہمیت دیتے ہیں۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون اپنے رویّے، کردار اور انسان دوستی سے لوگوں کے دل جیتتا ہے۔ عوام ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتے ہیں جو مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
خوشیوں میں شریک ہونا آسان ہوتا ہے مگر غم میں ساتھ دینا اصل تعلق کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعزیتی ملاقاتیں محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ انسانی رشتوں کی مضبوطی کا اظہار ہوتی ہیں۔آج جب معاشرہ تیزی سے مادہ پرستی، خود غرضی اور سیاسی تقسیم کا شکار ہورہا ہے تو ایسے مواقع امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ ابھی مکمل طور پر اپنی روایات سے محروم نہیں ہوا۔ اب بھی لوگ رشتوں کی حرمت کو سمجھتے ہیں، اب بھی بزرگوں کی وفات پر شہر غمگین ہوتا ہے، اب بھی لوگ سیاسی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کے دروازے پر پہنچتے ہیں۔ یہی وہ خوبصورتی ہے جو ہمارے معاشرے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
سیاست میں سیاسی وابستگی اپنی جگہ اہم ضرور ہے، کیونکہ نظریات اور جماعتیں جمہوریت کا حسن ہوتی ہیں، مگر انسانیت، اخلاق اور تعلق اس سے کہیں زیادہ بڑی حقیقت ہیں۔ جو سیاستدان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے وہ صرف ایوانوں میں نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ بنا لیتا ہے۔ اوکاڑہ میں ہونے والی یہ تعزیتی ملاقات اسی زندہ روایت کا خوبصورت اظہار تھی، جہاں سیاست سے بڑھ کر انسانیت بولتی دکھائی دی۔



تبصرہ لکھیے