ہوم << گریڈز کی دوڑ میں گم ہوتا استاد کا کردار - نوریہ مدثر

گریڈز کی دوڑ میں گم ہوتا استاد کا کردار - نوریہ مدثر

انسان جس بھی مقام و مرتبہ تک پہنچے اسے وہاں تک پہنچانے میں اس کے اساتذہ کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے. استاد ہی وہ ہستی ہے جو تعلیم کے قیمتی زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ اخلاقی، علمی و روحانی تربیت کرتا ہے، اسی لیے روحانی والد کا درجہ دیا گیا ہے۔ استاد بنا ستائش و توصیف کی تمنا کے اپنا فرض عبادت سمجھ کر ادا کرتا ہے، اور ایک طالب علم کو فرش سے عرش تک لے جاتا ہے۔
آج گریڈز، نمبرز، ڈگریز کی دوڑ نے استاد اور مقام استاد کو فراموش کر دیا ہے۔ سرکاری سکولوں پر نظر دوڑائی جائے تو ’’مار نہیں، پیار‘‘ کی پالیسی نے طلبہ کی اخلاقی تربیت پر برا اثر ڈالا ہے۔ انسان جب غلطی کرے تو اس غلطی پر تنبیہ اسے سکھاتی ہے۔ جب استاد کے ہاتھ ہی باندھ دیے گئے ہیں تو نئی نسل کے طوفان بدتمیزی پر نوحہ کناں ہونا قرین انصاف نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک والدین خود اساتذہ کے پاس جا کر اپنے بچوں کی شکایتیں کرتے تھے کہ آپ انھیں یہ سمجھائیں، فلاں نصیحت کریں، وغیرہ وغیرہ کیونکہ یہ تصور پایا جاتا تھا کہ بچوں کو استاد ہی سدھار سکتا ہے۔ مگر اب تو شاگرد ذرا سی ڈانٹ کی شکایت لگا کر اپنے والدین کے ہاتھوں اپنے استاد کو سکھاتے ہیں۔ ایسے طلبہ عزت و احترام سے محروم تباہ کردار کے مالک بنتے ہیں۔
اگر پرائیوٹ سکولز کی بات کی جائے تو وہاں بھاری فیسوں اور تنخواہوں کے بوجھ نے استاد کو شیوہ پیغمبری بھلا دیاہے۔ اے لیول ، اولیول کے ٹرینڈ نے ان ٹیچرز کو روبوٹ بنا دیا ہے۔ وہ بس اپنے ادارے کا اچھا رزلٹ دینے کے پابند ہیں۔ استاد اور شاگرد کے درمیان احترام کا تعلق پیسے میں گم ہو گیا ہے.
پرائیوٹ کالجز کے پروفیسرز بھی چند کاغذوں کے عوض اپنی عزت نفس و خودداری بھلائے بیٹھے ہیں۔ بس سٹوڈنٹس کو رٹو طوطے بنا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوتے ہیں۔ یہ بس ڈگری ہولڈرز کی کھیپ تیار کر رہے ہیں۔ اپنے اپنے نصاب سے تیار کردہ لیکچرز دے دیتے ہیں ۔یہ سوچتے ہی نہیں کہ وہ سکھا کیا رہے ہیں؟ علم کی کیا روشنی پھیلا رہے ہیں؟ فقط روزی کمانے والے اساتذہ معاشرے کا کوئی بھلا نہیں کر سکتے۔
ڈگری حاصل کرنے کو ہی اپنا مقصدِحیات سمجھنے والے ملکی تعمیر و ترقی میں کیا حصہ لے سکیں گے؟ میں اعلی تعلیم کے حصول کو غلط نہیں کہہ رہی بس سیکھنے و جاننے کے عمل پر سوال اٹھا رہی ہوں، جو کہ لمحہ ِفکریہ ہے۔ ہمیں اپنا مستقبل سنوارنا ہے یا اخلاق و کردار سے عاری مردہ ضمیر معاشرہ تشکیل دینا ہے؟ آج طلبہ کی تربیت سے پہلے اساتذہ کی تربیت ضروری ہے۔
ہمارے نبی کریم ﷺ بہترین معلم تھے۔ اپنے اصحاب کو انھوں نے بہترین تعلیم و اخلاق سے آراستہ کیا۔ شیر ِخدا نے تو خود کو ایک لفظ سکھانے والے کو اپنا مالک قرار دے دیا۔خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے آپس میں استاد کی جوتی اٹھانے پر لڑتے ہیں کہ دونوں چاہتے ہیں کہ وہ اپنے استاد کی تکریم زیادہ سے زیادہ کر سکیں۔ وہ استاد واقعی میں روحانی و علمی تربیت کرتے تھے، اور بارِامانت جانتے ہوئے اپنا علم منتقل کرنا افضل سمجھتے تھے۔ آج اساتذہ کو ویسا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے.

Comments

Click here to post a comment