ہوم << وہ سبق جو ہم بھولتے جا رہے ہیں - نعیم احمد

وہ سبق جو ہم بھولتے جا رہے ہیں - نعیم احمد

نعیم احمد اسلام کے نام پر قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کی ان تھک کوششوں سے بننے والا ملک، جس میں بسنے والوں کو قائد نے اچھا شہری بننے کے لیے ’’ایمان، اتحاد، تنظیم‘‘ کا ایک سبق دیا تھا۔ کیا یہ سبق ہم بھولتے جا رہے ہیں؟ ایسا ہم جان بوجھ کر کر رہے ہیں؟ یا ہم اچھا شہری بننا ہی نہیں چاہتے؟ یہ فکر ہم میں کیوں پروان چڑھ گئی ہے کہ کسی بھی اچھے عمل میں پہل دوسروں کو کرنی چاہیے؟ اس کے لیے ہم خود پہل کیوں نہیں کرتے؟ اس سبق کی نفی کرتے ہوئے اس طرح کے کئی اور سوال پیدا ہو گئے ہیں۔
کسی بھی شعبے کو دیکھ لیجیے، عام آدمی صرف اس وجہ سے کسی بھی نظم کی پابندی نہیں کرنا چاہتا کہ اس سے اوپر جو کلاس ہے وہ ان ضوابط کی پابندی نہیں کرتی جو کہ سب کے لیے ایک ہی ہیں۔ کسی بھی نظام کو بگاڑنے کے لیے ہزار تاویلیں ہو سکتی ہیں، لیکن اس نظام کو کامیاب بنانے کے لیے صحیح اصول کا رد کر دینا عقل مندی کی بات نہیں ہے۔ اکثریت کی غلط روش کو دیکھتے ہوئے اس کا حصہ آسانی سے بنا جا سکتا ہے، اس کے برعکس صحیح راہ کو اختیار کرنے کے لیے صرف اس لیے گریز کیا جاتا ہے کہ اس میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شارٹ کٹ کامیاب زندگی کا حل نہیں ہیں۔ کامیابی چاہتے ہیں تو ان مشکلات کا مقابلہ دلیرانہ انداز سے کیجیے۔
ملکی سطح پر چلنے والے اداروں میں برے افراد کے ساتھ اچھے ذہن کے لوگ بھی کام کرتے ہیں۔ آپ نظام کے خلاف کام ہوتا ہوا دیکھیں تو اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچائیے۔ اپنا فرض تو ادا کیجیے! ایک دو بار کی کوشش کی ناکامی کے بعد ہمت مت ہاریے۔ قطرہ قطرہ گرنے والا پانی، پتھر میں بھی سوراخ کر دیتا ہے۔ یہ تو پھر آپ جیسے گوشت پوست کے انسان ہیں۔
شہر میں ٹریفک کے اصولوں کی پاسداری کس حد تک کی جاتی ہے، اس کا مشاہدہ آئے روز کرتے ہیں۔ اسی ایک نظام سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ میں ذمہ داری کا احساس کس حد تک پایا جاتا ہے۔ جس اشارے پر وارڈن موجود ہے وہاں بڑے نظم کے ساتھ ٹریفک قوانین کی پابندی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، اور جس جگہ نگران موجود نہیں ہے، وہاں بے دھڑک اشارہ توڑ دیا جاتا ہے۔ مستزاد یہ کہ اسے اپنی بہادری کی دھاک بٹھانے کے تناظر میں لیا جاتا ہے، حالانکہ بہادری تو یہ ہے کہ آپ خود اصولوں کی پاسداری کریں اور کسی دوسرے کی طرف سے اس کی خلاف ورزی پر خاموش تماشائی نہ بنیں، بلکہ اس غلط فعل کی مذمت کے لیے آواز اٹھائیں۔
ہم سب نے یہ الفاظ سن رکھے ہیں: ’’نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے‘‘ اس تناظر میں ہم نماز پڑھتے جاتے ہیں اور ہر وہ کام بھی کیے جا رہے ہیں جس کی ممانعت ہے۔ اور سمجھ یہ رہے ہیں کہ نماز پڑھ لی بس اب ہم سے کوئی برائی سرزد نہیں ہو سکتی، اگر الفاظ پر غور کیا جائے تو وہاں ’’روکتی ہے‘‘ کے الفاظ ہیں، ’’روک دیتی ہے‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔ اپنے ارادے کی پختگی سے آپ کو خود برے کاموں سے رکنا ہو گا، ہر برائی سے خود کو بچانا ہوگا۔ نماز پڑھنے کے بعد ہر قبیح فعل آپ کے لیے جائز نہیں ہو جائےگا۔ بے ایمانی کے کاموں میں ایمان داری دکھانے کے بجائے ایمان داری کے امور پوری دیانت سے انجام دیجیے۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

Comments

Click here to post a comment