ہوم << قادیانی مسئلہ، آئین پر عمل یقنی بنایا جائے - کاشف خان

قادیانی مسئلہ، آئین پر عمل یقنی بنایا جائے - کاشف خان

آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہِ وسلم) پر ہر قسم کی نبوت اور وحی کا اختتام اور آپ کا آخری نبی ہونا اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے.
مگر آپ ﷺ نے پیشن گوئی فرما دی تھی کہ میرے بعد دجال اور جھوٹے آئیں گے جو نبوت کا دعوی کریں گے. فرمانِ رسول ہے کہ ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دجال اور جھوٹے نہ اٹھائے جائیں جن میں سے ہر یہ کہتا ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے.“ ( ترمذی)
چنانچہ نبی آخرالزماں ﷺ کے دور حیات کے آخری حصے میں مسیلمہ کذاب اور اسود عینی نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا، وہ سلسلہ مرزا غلام قادیانی تک آن پہنچا. مرزا قادیانی 1835ء کو پیدا ہوا اور کئی دعوے کیا اور بالآخر نبوت کا اعلان کر دیا. اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ اک جھوٹا شخص تھا جو کبھی امام مہدی بن جاتا تو کبھی جنس تبدیل کر کے خود کو حاملہ کہتا. وہ 1908ء میں بیت الخلاء میں مرا جو نشان عبرت ہے.
قیام پاکستان کے بعد اکثر قادیانی اپنے خلیفہ مرزا بشیرالدین کے ساتھ ربوہ (چناب نگر) میں آبیٹھے اور یہیں اپنا ہیڈکوارٹر بنا لیا. جب انہوں نے تبلیغ بڑھائی تو وقتا فوقتاً اس کی مخالفت کی کی گئی. 1952ء میں حکومت کی قائم کردہ بنیادی اصولوں کی کمیٹی نے کام شروع کیا، اس کی رپورٹ 22 دسمبر 1952ء کو شائع ہوئی جس میں قادیانی مذہب کو مکمل مسترد کر دیا گیا. 16 جنوری 1953ء کو تمام علماء کراچی میں جمع ہوئے اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا مگر حکومت نے اسے تسلیم نہ کیا. مولانا مودودی کو گرفتار کر لیا گیا. 28 مارچ سے 3 مئی تک ان سے پوچھ گچھ کی گئی، پھر بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلا کر سزائے موت کا اعلان کر دیا گیا جس سے مذہبی جماعتوں نے احتجاج شروع کر دیا.
معاملے نے طول اس وقت پکڑا جب 22 مئی کو ٹرین چناب ایکسپریس ربوہ ریلوے سٹیشن پر رکی تو حسب معمول قادیانی نوجوان قادیانیت کا لٹریچر تقسیم کرنے لگے. اس ٹرین میں نشتر کالج ملتان کے طلبہ اور اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنان موجود تھے جنہوں نے ختم نبوت زندہ باد اور قادیانیت مردہ باد کے نعرے لگائے. 29 مئی کو جب یہ ٹرین انھی طلبہ کو لے کر واپس ربوہ ریلوے سٹیشن پر رکی تو وہاں ہزاروں قادیانی پستولوں، خنجروں، لاٹھیوں اور اینٹوں کے ساتھ موجود تھے، ٹرین رکتے ہی طلبہ کی بوگی پر ٹوٹ پڑے . اس واقعے سے قادیانی مخالف تحریک نے زور پکڑا اور احتجاج ملک گیر ہو گیا جس کا دباؤ پارلیمنٹ اور اسمبلی پر پڑا اور آخرکار 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو قومی اسمبلی نے دائرہ
اسلام سے خارج قرار دے دیا. بلاشبہ یہ ایک بڑی کامیابی تھی مگر اس کے بعد بھی قادیانی متحرک رہے جس کی بنا پر 1984ء پر دائرہ اسلام کی تبلیغ سے روکنے کے لیے امتناع قادیانیت آرڈینینس جاری ہوا جس کی وجہ سے B-298 تعزیرات پاکستان میں اضافہ ہوا، C-298 کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتا، شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسلام کے نام پر تبلیغ کر سکتا ہے.
اس آرڈینینس کی موجودگی کے باوجود قادیانی آج بھی کھلم کھلا خود کو مسلمان کہتے ہیں اور تبلیغ جاری رکھے ہوئے ہیں. ربوہ ان کا آج بھی گڑھ ہے، یہ علاقہ 24 مربع کلومیٹر پہ محیط ہے اور قادیانیوں کی بڑی تعداد یہاں آباد ہے. قادیانی اس وقت کئی ملکوں میں پھیل چکے ہیں. ہر سال اپنے ہیڈکوارٹرز سے 400 مبلغ تیار کرکے پوری دنیا میں بھیجتے ہیں جو قادیانیت کا درس دیتے ہیں. ان کا آسان ہدف غربت کے شکار لوگ ہیں. سندھ کی ریگستانی پٹی اور افریقی ممالک میں کافی سرگرم ہیں اور منظم انداز میں اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں.
قادیانی کافی اہم شعبوں میں پھیل چکے ہیں. 10 فروری 2006ء کو لندن قادیانی عبادت گاہ میں قادیانی جماعت کے پانچویں خلیفہ مرزا مسرور نے دنیا بھر کے قادیانیوں کو ہدایت کی کہ وہ صحافت کا شعبہ اپنائیں. اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس شعبے میں بھی یہ لوگ گھس گئے. انگریزی صحافت اور سوشل میڈیا پر زیادہ تر قادیانیوں کو تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے متفقہ طور پر قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے والی ترمیم کو واپس لینے، پاکستان کو ایک سیکولر ملک بنانے، دینی مدارس پر پابندی لگانے، اسرائیل کو تسلیم کرنے، اسقاطِ حمل کی اجازت دینے، شراب پر پابندی ہٹانے، ہم جنس پرستی کو فروغ دینے، جہاد کو دہشت گردی قرار دینے اور طوائفوں کو جنسی ورکر قرار دینے پر کوئی نہ کوئی مضمون چھپتا رہتا ہے.
افسوس ہے کہ قادیانی پاکستانی آئین میں دی گئی اپنی حقیقت ماننے سے انکاری ہیں. حکومت لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی پر تو خوب سختی کرتی ہے مگر اسلام کا نام غلط استعمال کرنے والوں پر کوئی پابندی نہیں. ضروری ہے کہ آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے، اور جس طرح کالعدم تنظیموں کی مکمل نگرانی کی جاتی ہے، اور پابندی کو یقینی بنایا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح قادیانیوں پر نظر رکھی جائے اور اسلامی شعائر کے غلط استعمال سے انھیں روکا جائے.

Comments

Click here to post a comment