ہوم << تنقید اور فہم تنقید - محمد حسن

تنقید اور فہم تنقید - محمد حسن

محمد حسن غامدی اہل علم کا یہ حق ہی نہیں ذمہ داری بھی ہے کہ وہ جس بات کو اپنے فہم کے مطابق مذہب کے خلاف سمجھیں اس پر تنقید کریں۔ اس ذمےداری کا تقاضا ہے کہ اگر کسی فکر پر تنقید مقصود ہو تو وہاں سے کی جائے جہاں سے مخاطب اسے پیش کرتا ہے. مثلا، اگر کوئی صاحب علم کسی مکتبہ فکر کے تصوارات یا عادات پر یہ کہتے ہیں کہ ان کے افعال ”مشرکانہ“ ہیں. اب اگر ہمیں اس پر تنقید کرنی ہوگی تو ہم یہ بتائیں گےکہ یہ معاملہ حقائق کے بر عکس ہے۔ جن لوگوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرتے یا کرتے تو ہیں لیکن جنھیں مشرکانہ عادات کہا جا رہا ہے، وہ شرک کی تعریف میں داخل نہیں ہوتیں.
استاد مکرم جاوید احمد غامدی نے تصوف پر تنقید کی ہے. وہ لکھی ہوئی موجود ہے. اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ اس تصوف کو خود صوفیا کیسے بیان کرتے ہیں. پھر قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی فہم کے مطابق بتایا کہ ان کے نزدیک اصل مذہب کیا ہے. پھر بتایا جو تصوف کی فکر ہے وہ دین کے بیان کردہ افکار سے الگ ایک متوازی حیثیت کیسے رکھتی ہے. اب ہمیں اگر اس مقدمہ پر تنقید کرنی ہو تو ہمیں ان تین باتوں کو موضوع بنانا پڑے گا.
1- تصوف کی جو ہدایات مخاطب نے نقل کیں، وہ درست نہیں.
2- باتیں تو درست ہیں لیکن اسے سمھجنے میں غلطی ہوگئی ہے.
3- دین بھی وہی بات کہتا ہے جو تصوف بیان کر رہا ہے. اور پھر ہم ان نصوص کی تشریح کریں گے جنھیں تصوف سے متصادم قرار دیا گیا ہے.
لیکن اگر ہم مشرکانہ عادات اور صوفیانہ روایت پر تنقید کا جواب یہاں سے دینا شروع کردیں کہ ہائے مسلمانو! انھوں نے تو پوری امت کی تکفیر کردی، سب صالحین کو کافر یا مشرک قرار دے دیا تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ مخاطب بات جہاں سے کر رہا ہے وہ سمجھی ہی نہیں گئی، جب وہ سمجھی ہی نہیں گئی تو اس پر تنقید کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ یہ بات اخلاقی اصول کے بھی خلاف ہے کہ ہم تنقید کرتے وقت مخاطب سے وہ بات منسوب کریں جو وہ کہیں بیان ہی نہیں کر رہا۔
تصوف متوازی دین ہو یا اس کا کوئی عمل مشرکانہ شباہت رکھتا ہو، اگر انسان اصلا اسلام کا ماننے والا ہے اور دیانت داری سے اسی بات کو دین سمھجتا ہے تو اس سے اس بندے کے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا. وہ مسلمان ہی رہتا ہے. یہ محض اس کے فہم کی ایک غلطی ہے جو نیک نیتی سے ہو تو باعث اجر بھی بن جاتی ہے، اور یہی اس کا عذر بھی ہے.
استاد مکرم اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اِس نوعیت کے تمام نظریات و عقائد غلط قرار دیے جا سکتے ہیں، اِنھیں ضلالت اور گمراہی بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن اِن کے حاملین چونکہ قرآن و حدیث ہی سے استدلال کر رہے ہوتے ہیں، اِس لیے اُنھیں غیرمسلم یا کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اِن نظریات و عقائد کے بارے میں خدا کا فیصلہ کیا ہے؟ اِس کے لیے قیامت کا انتظار کرنا چاہیے۔ دنیا میں اِن کے حاملین اپنے اقرار کے مطابق مسلمان ہیں، مسلمان سمجھے جائیں گے اور اُن کے ساتھ تمام معاملات اُسی طریقے سے ہو ں گے، جس طرح مسلمانوں کی جماعت کے ایک فرد کے ساتھ کیے جاتے ہیں. ہمارے نزدیک ہر وہ شخص مسلمان ہے جو اسلام قبول کرنے کا دعوی کرے.“
گویا مخاطب خود بیان کر رہا ہے کہ وہ کسی صوفی یا مفکر کو دائرہ اسلام سے خارج سمھجنے کا اصول ہی غلط سمھجتا ہے، اس کی تنقید فکر پر ہے، بندے پر نہیں۔ اب اگر ہمیں یہ تنقید کرنی ہے کہ فلاں آدمی صوفیا کی تکفیر کرتا ہے تو پہلے اس کا یہ مئوقف نقل کریں گے، پھر ہمیں اس کے وہ جملے نقل کرنے چاہییں، جن میں وہ صاف اپنے ہی اصول کی خلاف ورزی کر کے کسی شخص کو کافر لکھ رہا ہے۔ لیکن اگر ہم اس کے وہ جملے نقل کریں جو تصوف کی فکر پر تنقید ہے اور ثابت یہ کریں کہ بندوں کی تکفیر کی جا رہی ہے تو دراصل ہم مخاطب کے موقف پر تنقید ہی نہیں کر رہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ کہ جب ہم کسی پر تکفیر کرنے کا دعوی کریں تو کم از کم اس کا اصولی نقطہ نظر تو جان لیں. یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف ہم یہ تنقید کریں کہ فلاں صاحب صوفیا کو دائرہ اسلام سے خارج سمھجتے ہیں اور دوسری طرف کہا جا رہا ہو کہ وہ تو کسی کی تکفیر کرتے ہی نہیں ہیں۔ اگر ہمیں اپنے مخاطب کے تصور تکفیر پر تنقید کرنی پڑے گی تو ہم پہلے یہ جانیں گے کہ وہ اس اصطلاح سے کیا مراد لیتا ہے اور اس کے کیا دلائل دیتا ہے۔
استاذ مکرم اس حوالے سے اپنا موقف لکھتے ہیں:
”اسلام کے سوا باقی تمام ادیان کے ماننے والوں کو غیرمسلم کہا جاتا ہے۔ یہی تعبیر اُن لوگوں کے لیے بھی ہے جو کسی دین یا مذہب کو نہیں مانتے۔ یہ کوئی تحقیر کا لفظ نہیں ہے، بلکہ محض اِس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ اسلام کے ماننے والے نہیں ہیں۔ اِنھیں بالعموم کافر بھی کہہ دیا جاتا ہے، لیکن ہم نے اپنی کتابوں میں بہ دلائل واضح کر دیا ہے کہ تکفیر کے لیے اتمام حجت ضروری ہے اور یہ صرف خدا ہی جانتا اور وہی بتا سکتا ہے کہ کسی شخص یا گروہ پر فی الواقع اتمام حجت ہو گیا ہے اور اب ہم اُس کو کافر کہہ سکتے ہیں۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد یہ حق اب کسی فرد یا گروہ کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے.“
اب ہم اگر غامدی صاحب کی اس بات پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو جو مقدمہ انھوں نے پیش کیا ہے اس پر بحث کریں گے۔ ہمیں بتانا ہوگا کہ تکفیر کے لیے اتمام حجت ضروری نہیں۔ لیکن ہم اگر قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی اقوال اٹھا کر اور ان سے دلائل دیں کہ دیکھیں خود اللہ اور رسول تکفیر کر رہے ہیں تو یہ دلیل خود ہماری اپنی تنقید کے خلاف ہے۔ انھیں تو حق ہے اس بات کا۔ مخاطب تو انھی کا یہ حق تسلیم کر رہا ہےگویا یہ دلائل دے کر ہم اس کے موقف کی تائید کر رہے ہیں۔
اس کے بعد اگر ہم اپنی تنقید میں اگر یہ حدیث بیان کریں:
رسول اللہ صلی اللہ وسلم اتمام حجت کے بعد اپنے مخاطبین کو یہ نصیحت کر رہے ہیں کہ اس مرحلے پر بھی کوئی شخص جانتے بوجھتے انکار کر رہا ہے تو اس کا فیصلہ عجلت میں نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی حق واضح کر دینے کے باوجود بتایا جا رہا ہے کہ احتیاط سے سوچ سمجھ کر رویے اور انکار دیکھ کر کافر کا حکم لگانا ہے اس لیے کہ اس کے بعد ان کے لیے عذاب ہے۔ ورنہ یہ نہ ہو کہ تم کسی کے بارے میں فیصلہ کرو اور وہ غلط ثابت ہوجائے۔
اب یہاں یہ بات رسول اللہ کن کو کہہ رہے ہیں، اپنے مخاطبین کو جنھوں نے یہ حکم لگانا ہے، جنھیں یہ حق رسول اللہ کی موجودگی اور ان کے اتمام حجت کے بعد حاصل ہوا، تو یہ دلیل تو مخاطب کی ہے۔ ہماری تنقید تو اس کے برخلاف ہے، اس روایت کی بنیاد پر مخاطب پر تنقید نہیں ہو سکتی۔
اسی طرح رسول اللہ نے بتایا کہ اگر واضح کفر نظر آئے تو تمھیں حق ہے کہ تم اس نظم اجتماعی سے نکل جائو ورنہ نہیں۔ اس روایت سے بھی ہم مخاطب پر تنقید نہیں کر سکتے کہ ہمیں بھی حق ہے کہ ہم تکفیر کریں کیونکہ روایت میں یہاں تکفیر کی کہیں بات ہی نہیں کی جارہی بلکہ اس فعل کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ کفر کی حد تک پہنچ جائے تب تم یہ قدم اٹھا سکتے ہو۔ کفر، شرک، ارتداد یقینا لوگ کرتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔ یہ بات تو مخاطب بھی مانتا ہے۔ یہ کام بحیثیت مسلمان کریں گے تو ہم ان کے کفر کے خلاف آواز بلند کریں گے لیکن انھیں ہم تب کافر قرار دے دیں اس کے لیے روایت وہ پیش کرنی چاہیے جس میں رسول اللہ قیامت تک کے مسلمانوں کو یہ حکم دیں کہ تمھیں حق ہے کہ تم لوگوں کو ان کے کفر کی وجہ سے کافر قرار دیتے رہنا۔ تب ہماری تنقید مخاطب کے موقف پر تنقید کہلائے گی۔
اسی طرح اگر ہم ارتداد کی سزا پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو وہاں سے کریں گے جہاں سے مخاطب اسے پیش کرتا ہے۔ مخاطب اسے اتمام حجت کی تحت سزا کا ہی ایک اطلاق سمھجتا ہے کہ رسول اللہ کی موجوگی میں جو حق سے انکار کریں یا مان کر انکار کریں، ان پر خدا کے عذاب کا کوڑا برس کے رہےگا۔
اس پوری بات کو استاد مکرم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے مضمون ”مسلم اور غیر مسلم“ میں تفصیلا سمجھایا ہے جسے غور سے پڑھنا چاہیے۔ اس کے بعد اگر کوئی تنقید مقصود ہے تو ضرور ہونی چاہیے لیکن وہاں سے جہاں سے مخاطب اسے پیش کرتا ہے۔ ایک صاحب نے مجھ سےکہا: غامدی صاحب پر تنقیدات کا جواب کہاں ملے گا؟ میں نے عرض کیا غامدی صاحب کا موقف ان کی کتابوں میں ”چھپا ہوا موجود ہے چُھپا ہوا نھیں ہے“. لوگوں کو یہ حق ہے کہ ان پر تنقید کریں، ان سے اختلاف کا بھی حق ہے، لیکن ان کے موقف کو جیسے کہ وہ ہے اور جیسے وہ اسے سمجھتے ہیں اور جیسے بیان کر رہے ہیں، یہ حقیقت نقل کر کے ان پر تنقید کی گئی ہو، آپ کے علم میں آئے تو ضرور بتائیے گا، میں اب تک محروم رہا ہوں۔ لہذا یہ ان پر ہونے والی تنقیدات ہی نہیں اپنے قائم کردہ تصورات پر تنقید ہے. اس کا جواب انھی سے لیجیے جو یہ داد تنقید وصول کر رہے ہیں!
محمد حسن.

Comments

Click here to post a comment