ہوم << یحیٰ بختیار کو نہ بھولیے - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

یحیٰ بختیار کو نہ بھولیے - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

محمد مشتاق 7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے ایک عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا۔ ایسا کارنامہ جس پر یقیناً پاکستانی قوم فخر کرسکتی ہے۔ طویل مشاورت، مباحثے، مکالمے، وضاحتوں، سوالات، جوابات اور تنقیح و تجزیے کے بعد بالآخر اس نے متفقہ فیصلہ سنا دیا کہ احمدیوں کے دونوں گروہ غیر مسلم ہیں۔
اس نتیجے تک پہنچنے سے پہلے جو قانونی اقدامات کیے گئے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ پوری اسمبلی کو ”سپیشل کمیٹی“ کی حیثیت دی گئی اور ساتھ ہی اسے باقاعدہ عدالتی اختیارات دیے گئے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ احمدیوں کے دونوں گروہوں کے نمائندوں کو بلاکر ان کا موقف سنا جائے، ان پر جرح کی جائے اور اس کے بعد فیصلہ سنایا جائے۔ اسی بنا پر یہ ذمہ داری اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحیٰ بختیار کے کاندھوں پر ڈالی گئی کہ دونوں گروہوں کے نمائندگان سے سوالات وہی کریں گے۔
یہ پوری کارروائی اب شائع بھی ہوچکی ہے اور قانون کے ہر طالب علم کو میں یہ مشورہ دوں گا کہ ایک دفعہ ضرور یہ پوری کارروائی پڑھیں۔ اس میں نہ صرف آپ کو چند نہایت اہم سوالات کے جواب مل جائیں گے بلکہ وہ بہت ساری الجھنیں بھی دور ہوجائیں گی جو اس مسئلے پر لوگ خواہ مخواہ ہی پیدا کررہے ہیں۔ مزید یہ کہ آپ یہ بھی دیکھ لیں گے کہ جرح کیسے کی جاتی ہے؟ یحیٰ بختیار نے جس طرح سوال کے بعد سوال، مختلف اطراف سے سوال اور استدراج کے ذریعے بالآخر ان کے منہ سے ہی وہ بات کہلوائی جس سے وہ گریزاں تھے، یہ سب کچھ نہایت قابلِ تحسین ہے اور قانون کے طالب علموں کے لیے اس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہ بھی دیکھیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی بھی عبارت سے استدلال کرنے سے قبل کیسے وہ پہلے اس عبارت کا مسلمہ ہونا ثابت کرتے تھے۔ یہ کارروائی پڑھنے کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دوسرے فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، یا ان کا موقف توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ کارروائی میں آپ یہ بھی دیکھ لیں گے کہ یحیٰ بختیار صاحب وقفے میں بار بار اسمبلی کے اراکین ، بالخصوص علمائے کرام سے مخاطب ہوکر یہ استدعا کرتے ہیں کہ جلدی نہ کریں اور ان کو پورا وقت دیں۔ وہ بار بار یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ جو کچھ آپ ان سے سننا چاہتے ہیں میں اسی کی طرف ان کو لا رہا ہوں لیکن یہ سب کچھ آہستہ آہستہ ہوگا اور اس میں وقت لگتا ہے تو لگنے دیں۔ یقیناً سوالات جن ارکانِ اسمبلی، بالخصوص علمائے کرام نے بنا کر دیے تھے وہ بھی داد کے مستحق ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے لیکن یہ بھی دیکھیے کہ ان سوالات کی ترتیب کس نے قائم کی اور پھر ان سوالات کے ذریعے بات اگلوائی کس نے! آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ یحیٰ بختیار کئی مواقع پر علمائے کرام سے، اور دیگر ارکانِ اسمبلی سے، یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ جو فلاں سوالات آپ نے دیے تھے وہ ٹھیک نہیں تھے اور براہ کرام مجھے کمزور قسم کے دلائل یا غیرثابت شدہ امور نہ دیں۔ مزید یہ کہ جگہ جگہ آپ کو یہ بھی مل جائے گا کہ خود اٹارنی جنرل نے اس موضوع پر کتنا تفصیلی مطالعہ کیا تھا اور باوجود بےانتہا مصروف ہونے کےکس طرح انھوں نے پوری یک سوئی کے ساتھ یہ مقدمہ لڑا۔ ایک جگہ وہ اسمبلی کو میٹنگز کی تفصیل بتاتے ہیں جن کو نمٹا کر وہ اسمبلی میں آئے ہوتے ہیں اور اسمبلی کے بعد پھر چند اہم میٹنگز میں جا رہے ہوتے ہیں۔ یقین کیجیے کہ اس موقع پر تو بےساختہ ہی دل سے ان کے لیے دعا نکلی۔ جگہ جگہ آپ یحیٰ بختیار کے ادبی ذوق کی داد دینے پر بھی خود کو مجبور پائیں گے، بالخصوص جب وہ غالبؔ کا کوئی شعر پڑھیں۔
جن امور پر اس کارروائی میں تفصیلی سوالات اور جوابات کا سلسلہ چلا ہے ان میں چند ایک یہ ہیں:
کیا ریاست کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے؟
کیا قانون میں مسلمان کی تعریف شامل کرنے سے کسی کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے؟
کیا جو خود کو احمدی کہتے ہیں، وہ عام مسلمانوں کی، جو مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے، تکفیر کرتے ہیں؟
سر ظفر اللہ خان نے قائد ِاعظم کی نمازِ جنازہ میں شرکت کیوں نہیں کی؟
تقسیمِ ہند کے موقع پر احمدیوں کا طرزِ عمل کیا رہا اور انھوں نے عام مسلمانوں سے خود کو الگ کیوں شمار کروایا؟
کشمیر کے تنازعے میں احمدیوں کا کیا کردار رہا اور انھوں نے کس طرح کشمیری مسلمانوں کے خلاف کارروائی میں دوسرے فریق کا ساتھ دیا؟
احمدیوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟
احمدیوں کا وہ گروہ جو بظاہر مرزا صاحب کو محض مجدد مانتا ہے کیوں عام احمدیوں سے، جو کھلے عام مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں، زیادہ خطرناک ہے؟
احمدیوں کے دونوں گروہوں کا اصل تنازعہ مذہبی ہے یا سیاسی و مالیاتی امور پر اختلاف کا شاخسانہ ہے؟
یہ اور اس طرح کے دیگر نہایت اہم امور پر اس کارروائی میں پوری تفصیل ملتی ہے جس کے بعد ہی قومی اسمبلی نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ جس طرح کا موقع احمدیوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے دیا، ایسا موقع کسی کو شاید ہی کبھی دیا گیا ہو۔ اس کے بعد ہی پوری سمبلی نے علی وجہ البصیرت یہ اعلان کیا کہ یہ دونوں گروہ غیر مسلم ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس اسمبلی کے تمام ارکان اور بالخصوص جناب یحیٰ بختیار پر اپنی رحمتیں نازل کرے اور انھیں بہترین اجر سے نوازے ! آمین ۔

Comments

Click here to post a comment

  • انتہائی غیر متعلق اور غیر مفید تنقید ہے.. غامدی صاحب نے کافر ہونے کی کیٹگری کا انکار نہیں کیا ہے بل کسی کو کافر قرار دینے کے جواز سے انکار کیا ہے...