ہوم << معرکہ ستمبر، فتح ہوئی تھی یا شکست - آصف محمود

معرکہ ستمبر، فتح ہوئی تھی یا شکست - آصف محمود

آصف محمود یوم دفاع کے موقع پر دو گروہ آمنے سامنے ہیں۔ ایک کا دعوی ہے کہ چھ ستمبر کی جنگ میں شکست ہوئی تھی اور دوسرا گروہ اس دعوے کے ابطال کے ساتھ ساتھ اس موقف کے حاملین کی حب الوطنی پر بھی سوال اٹھا رہا ہے۔ پہلے گروہ نے اپنے موقف کے حق میں ائیر مارشل اصغر خان کا مئوقف پیش کیا تو یاروں نے اصغر خان کو بھی مجسمہ شیطانیت قرار دے دیا۔ سوال اب یہ ہے کہ معرکہ ستمبر میں فتح ہوئی تھی یا شکست؟
چاند ماری، تعصب اور پوائنٹ سکورنگ سے ہٹ کر اگر معاملے کو دیانت اور تحمل کے ساتھ دیکھا جائے تو دونوں گروہوں کی بات میں وزن ہے۔
اس جنگ کے دو مراحل تھے۔ ایک طرف فیصلہ ساز طبقہ تھا اور دوسری جانب جنگ لڑنے والے سرفروش تھے۔ دونوں پہلوئوں کو الگ الگ دیکھنے کی ضروت ہے۔ یہ جنگ فیصلہ سازوں کی فکری کم مائیگی کا شاہکار تھی۔ ابھی کل ہی جنرل خالد نعیم کہنے لگے کہ اس جنگ کا ایک ہی سبق ہے اور وہ یہ کہ : ’’جنگ کب اور کیسے نہیں لڑنی چاہیے‘‘۔ اصغر خان اور خالد نعیم ہی نہیں نصف درجن سے زائد جرنیلوں کو جانتا ہوں جن کا یہی موقف ہے کہ یہ جنگ ہمارے فکری افلاس کا شاہکار تھی۔ فیصلہ سازوں نے آزادی کشمیر کے لیے آپریشن جبرالٹر شروع کیا جو فنی اعتبار سے مجموعہ نقائص تھا۔ بغیر تیاری کے کمانڈوز کو رزم گاہ میں اتار دیا گیا، انجام سب کے سامنے ہے۔ فیصلہ سازوں کے ویژن اور صلاحیتوں کا عالم یہ تھا کہ کشمیر میں لڑائی شروع کرکے وہ اطمینان سے بیٹھے تھے کہ جواب میں بھارت بین الاقوامی سرحد پر حملہ آور نہیں ہوگا اور یہ معرکہ صرف کشمیر تک محدود رہے گا۔ یہ اندازے غلط نکلے اور بھارت نے لاہور وغیرہ پر حملہ کر دیا۔ اور ہم آج تک شور مچا رہے ہیں کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح حملہ کر دیا۔ اندازے ہمارے غلط ثابت ہوئے اور بجائے غلطی تسلیم کرنے کے ہم آج تک بھارت کو گالیاں دیتے ہیں کہ سالا چوروں کی طرح حملہ آور ہو گیا۔ اگر ہم خود کو فیلڈ مارشل بقلم خود بنا سکتے ہیں تو ہمیں دشمن کی جوابی چال کا اندازہ تو ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ہم اگر فیلڈ مارشل ہو کر بھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکے تو اس کا الزام کبھی بھٹو پر لگا دینا کہ اس نے کہا تھا کہ بھارت بین الاقوامی سرحد پر حملہ نہیں کرے گا یا بھارت کو طعنہ دینا کہ وہ چوروں کی طرح حملہ آور ہو گیا کوئی معقول رویہ نہیں ہے۔ جنگ تو ہوتی ہے چال کا نام ہے اور ویسے بھی ہم نے خود جبرالٹر آپریشن کون سا بھارت کو ایس ایم ایس کرنے کے بعد کیا تھا کہ پیارے پڑوسی تیار ہو جائو، ہم آپریشن جبرالٹر شروع کرنے والے ہیں۔
ہمیں کچھ سوالات پر غور کرنا چاہیے تھا جو ہم نے نہیں کیا ۔
1۔ جب ہم نے کشمیر میں جبرالٹر شروع کر دیا تو کیا وجہ ہے کہ لاہور سیکٹر میں فوج تعینات نہیں کی تھی۔ کیا یہ نااہلی نہیں تھی؟
2۔ کیا وجہ ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ہمیں بتا ہی نہ سکی کہ بھارتی دستے پیش قدمی کر رہے ہیں۔ کم از کم ایک ڈویژن فوج کے ساتھ بھارت نے حملہ کیا اور ہماری انٹیلی جنس کے پاس اتنی بھاری موومنٹ کی کوئی اطلاع ہی نہ تھی اور ہم آج تک یہی کہہ رہے ہیں کہ کم بخت نے چوروں کی طرح حملہ کر دیا؟
ہم بھارتی حملے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔ صرف ہماری فضائیہ اس جنگ کے لیے تیار تھی۔ مجھے ایک ائیرمارشل نے بتایا کہ فیلڈ مارشل صاحب نے فوجی قیادت کو کہا تھا کہ جنگ کا کوئی خطرہ نہیں لیکن ائیرچیف نے میٹنگ سے واپسی پر فضائیہ کو جنگ کے لیے تیار ہونے کا حکم دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت لازمی طور پر حملہ کرے گا۔ چنانچہ جب بھارتی فوج نے حملہ کیا تو فضائیہ نے اسے ناکوں چنے چبوا دیے۔ برگیڈئیر انعام الحق جو ستمبر 65ء کے معرکے میں لاہور سیکٹر میں آرمی آپریشنز کے انچارج تھے، بتاتے ہیں کہ انہیں رینجرز نے فون کر کے بتایا کہ بھارتی ٹینک آ رہے ہیں ورنہ ہمیں کوئی انٹیلی جنس اطلاع نہیں تھی۔ برگیڈئیر یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہائی کمان نے نہ صرف بارڈر پر اضافی نفری نہ لگائی بلکہ جب کہا گیا کہ یہاں کم از کم بارودی سرنگیں ہی نصب کر دی جائیں تو اس کی اجازت بھی نہ دی گئی کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ بیس فیصد فوجی معمول کی چھٹیوں پر تھے، انہیں بھی واپس نہ بلایا گیا۔ چھمب چوڑیاں سیکٹر میں ہم نے یکم ستمبر کو کارروائی کی اور ابتدائی کامیابی کے بعد پینتیس گھنٹے کے لیے کارروائی معطل کر دی، چنانچہ میجر جنرل جوگندر سنگھ جو اس وقت ویسٹرن کمانڈ کے چیف آف سٹاف تھے، اپنی کتاب میں لکھتے ہیں’’دشمن نے ہمیں بچا لیا‘‘۔ تو یہ تھا ہمارے اعلی سطح پر بیٹھے فیصلہ سازوں کی فکری صلاحیتوں کا عالم۔
سابق سیکرٹری خارجہ جناب اکرم ذکی نے ایک روز مجھے بتایا کہ 66ء میں بیرون ملک ایک بھارتی ہم منصب سے ان کی نوک جھونک ہوگئی تو انہوں نے کہا کہ کبھی لاہور آئیں آپ کو ناشتہ کرائیں۔ ذکی صاحب بتاتے ہیں کہ اس کے جواب میں اس نے رک کر کہا کہ مسٹر ذکی 65ء کی لڑائی سے قبل ہم آپ سے واقعی خوفزدہ تھے لیکن اب ایسا نہیں۔ اب ہمیں معلوم ہے کہ آپ کے فیصلہ سازوں کی صلاحیت کا عالم کیا ہے، اس لیے میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ اب ہم سے نہ لڑنا، نقصان اٹھائوگے۔ ذکی صاحب انگلیوں پرگن کے بتاتے ہیں کہ صرف پانچ سال بعد ہمیں مشرقی پاکستان میں شکست کا سامنا تھا۔ تو جناب ہمیں یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ ستمبر پینسٹھ کی جنگ فیصلہ سازوں کے فکری افلاس کا شاہکار تھی۔
تاہم یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بھارت پوری قوت سے حملہ کرتا ہے۔ ہماری کوئی تیاری نہیں۔ ہمیں بارڈر پر دستے تک تعینات نہیں کرنے دیے گئے۔بارودی سرنگیں بھی نصب نہیں کرنے دی گئیں لیکن جب دشمن نے پوری قوت کے ساتھ حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی اور میجر شفقت بلوچ جیسے جی داروں نے اپنے ساتھیوں سمیت قیادت کی نااہلی کا کفارہ اس شان سے ادا کر دیا کہ کمال ہی کر دیا۔ شفقت بلوچ کا کہنا ہے کہ 5 ستمبر کو انہیں باقاعدہ بتایا گیا کہ دشمن کے حملے کا کوئی خطرہ نہیں لیکن انہیں لگ رہا تھا کہ جنگ ہوگی اور میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ جان پہ کھیل جانا ہے۔ قیادت کی نااہلی کے باوجود ہمارا سپاہی اس شان سے لڑا کہ اس کا بانکپن لوک داستان بن گیا۔ فیصلہ ساز ہار گئے لیکن ہمارے جوانوں نے ملک کے دفاع کے لیے جان کی بازی لگا دی۔ نور جہاں نے ٹھیک ہی کہا تھا :’’اے وطن کے سجیلے جوانو !میرے نغمے تمہارے لیے ہیں‘‘۔ میرا ایمان ہے ہمارا یہ نغمہ بعد از شہادت کاتب تقدیر نے مجسم کر دیا ہو گا کہ:
’’ گئے جو ہوگے شہادت کا جام پی کر تم
رسول پاک ﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہوگا
علی تمہاری شہادت پہ جھومتے ہوں گے
حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہوگا
تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں‘‘
اس لیے ہم اپنے فیصلہ سازوں کی غلطی بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن ہم اپنے ان پاک وجودوں کو سلام بھی ضرور پیش کریں گے جنہوں نے جان جیسی متاع عزیز قربان کر کے ہمارا مستقبل محفوظ کیا۔
غازیوں اور شہیدوں کو ہمارا سلام
افق کے اس پار جانے والو سلام تم پر!

Comments

Click here to post a comment

  • بہت خوب...
    لیکن بیالوجی کا طالب علم ہونے کے ناطے گزارش کرنا چاہوں گا کہ بچے کی پیدائش کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس میں کچھ ابہام ہے.. مرد اور عورت کے تئیس تئیس جوڑے کرومو سومز میں سے بائیس ایک جیسے ہوتے ہیں جبکہ ایک مختلف ہوتا ہے جو کہ عورت میں "ایکس ایکس"اور مرد میں "ایکس وائی" ہوتاہے.مرد اور عورت میں جب گیمیٹس بنانے کا عمل ہوتا ہے تو یہ کروموسومز علیحدہ علیحدہ ہو جاتے ہیں ..اب عورت کے ہر گیمیٹ(ایگ) میں تو ایکس کروموسوم ہوتا ہے جبکہ مرد کے گیمیٹ(سپرم)نصف ایکس والے ہوں گے اور نصف وائی والے.اگر ایکس والا سپرم ایگ سے ملتا ہے تو لڑکی ہو گی اور اگروائی والا سپرم ایگ سے ملتا ہے تو لڑکا ہوگا.یعنی مرداور عورت ایک ایک کروموسوم کا اشتراک کرتے ہیں نہ کہ جوڑوں کا. (فرد میں کروموسومز جوڑوں کی صورت میں ہوتے ہیں ، گیمیٹس میں نہیں)