ہوم << عبوری دور، فریقین کا لائحہ عمل کیا ہو؟ محمد عامر خاکوانی

عبوری دور، فریقین کا لائحہ عمل کیا ہو؟ محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی کراچی کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک بات واضح ہے کہ اس وقت عبوری دور (Transition Period) چل رہا ہے۔ دونوں فریقوں کے لیے کچھ چیزیں اوپن ہیں اور دونوں نے بعض باتیں اپنے قول وفعل سے ثابت کرنی ہیں۔ایم کیوایم پاکستان، یعنی ڈاکٹر فاروق ستار اینڈ کمپنی ایک فریق ہیں، جبکہ ریاست پاکستان یعنی حکومت اور ریاستی ادارے دوسرا فریق ہیں۔ یہ عبوری دور اپنے اندر کئی پیچیدگیاں اور نزاکتیں سموئے ہوئے ہے۔ بہت احتیاط سے، دیکھ بھال کر، سوچتے سمجھتے ہوئے ایک ایک قدم اٹھانا ہوگا۔ حکومت اور اداروں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کہ ان کی معمولی سی غلطی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کراچی میں فساد برپا کرنا، عوام اور اداروں میں فاصلے پیدا کرنا ایک ملک دشمن گرینڈ ڈیزائن کا حصہ ہو سکتا ہے، اسے انتہائی سنجیدگی سے ڈیل کرنا ہوگا۔
جہاں تک ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے ”اعلان بغاوت“ اور ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ سے علیحدہ ہونے کا اقدام ہے، اسے مثبت حوالے سے لینا چاہیے۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کو اس پر شکوک ہیں اور ان کے خیال میں یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، یہ تنقید کرنے والے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فاروق ستار اور ان کے ساتھ کھل کر الطاف حسین پر تنقید اور ان کے ساتھ لاتعلقی ظاہر کریں۔ میرے خیال میں یہ مطالبہ اس وقت کچھ ناجائز ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنی پریس کانفرنس میں اور اس کے بعد بہت کھل کر ایک پوزیشن لی ہے۔ ایم کیوایم کی پوری تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر متحدہ کے سیاسی رہنمائوں، اراکین اسمبلی اور کارکنوں نے واضح طور پر بانی جماعت سے فاصلہ کیا، ان سے تعلق توڑنے اور اپنے طور پر فیصلے کرنے کی بات کی ہے۔ قائد تحریک کو ذہن علاج کرانے کا برملا مشورہ دیا گیا، نرگست زدہ الطاف حسین کے لیے یہ کسی صدمے سے کم نہیں رہا ہوگا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ٹریک ریکارڈ اور پارٹی کے سٹرکچر کو دیکھتے ہوئے یہ غیرمعمولی بات ہے ۔ اسے سراہنا چاہیے اور کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آئے بغیر اس بات کا اعتبار کرنا چاہیے۔
فاروق ستار پر تنقید کرنے والوں کو یہ سادہ بات سمجھنی چاہیے کہ الطاف حسین پچھلے تین عشروں سے پارٹی کا مرکزی ستون رہے ہیں، درحقیقت ایم کیو ایم الطاف ہی کا دوسرا نام رہا ہے۔ لوگ ان کے نام پر ووٹ دیتے اور اعتماد کرتے رہے ہیں۔ اتنی بڑی سیاسی عصبیت سے یکایک لاتعلق نہیں ہوا جا سکتا۔ یہ بجلی کا سوچ آن آف کرنے والا معاملہ نہیں کہ ایک لمحے میں صورتحال بدل جائے۔ الطاف حسین کے فیصلوں اور تقریروں سے لاتعلقی اختیار کرنا دوسری بات ہے اور الطاف حسین پر تبریٰ کرنا ایک اور سٹانس ہے۔ اس وقت ڈاکٹر فاروق ستار کے لیے دوسری آپشن پر چلنا ممکن نہیں۔ الطاف حسین کو گالیاں دے کر ایم کیو ایم نہیں چلائی جا سکتی، ایسی صورت میں صرف مصطفی کمال اینڈ کمپنی کے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس ہی ہوسکے گی۔ ایم کیو ایم اگر چلانا ہے تو اس کا وہی طریقہ ہوسکتا ہے جو”ایم کیو ایم پاکستان“ نے اختیار کیا ہے۔ کراچی کے معروضی سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ واحد آپشن تھی۔ یہ تجربہ بھی ضروری نہیں کامیاب ہوسکے۔ اسے کامیاب بنانے کے لیے تمام سیاسی اور غیر سیاسی کرداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کو سپورٹ کیا جانا چاہیے۔ اگر وہ ایم کیو ایم کے سابقہ مافیا سٹائل سے ہٹ کر سیاسی جدوجہد کرنا چاہ رہے ہیں، بدمعاشوں، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں سے فاصلہ کرتے ہوئے سیاسی انداز میں اپنا راستہ بناتے ہیں تو ملک کے تمام سیاسی اور جمہوری عناصر کو ان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔ ان لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے کہ ہم نے پرامن سیاست کر کے دیکھ لی، مگر پھر بھی ہمارے لیے گنجائش پیدا نہ ہوئی۔ سب سے اہم میئر کراچی کے اختیارات ہیں۔ کراچی کو خاصے عرصے کے بعد بلدیاتی نمائندے ملے ہیں، بدقسمتی سے سندھ حکومت نے جو بلدیاتی قانون بنایا، اس کے مطابق میئر خواہ وہ کراچی کا ہو یا اندرون سندھ کے کسی ضلع کا، اس کے اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کراچی کو ایک بااختیار میئر چاہیے۔ متحدہ نے لوگوں سے بلدیاتی مینڈیٹ لیا ہے، اس کا احترام کیا جائے اور لوکل باڈی سسٹم کو کراچی کے مسائل میں کمی لانے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ نومنتخب میئر پر کئی سنگین الزامات ہیں، انہیں قانون کا سامنا کرنا چاہیے اور قانونی رعایتوں سے استفادہ بھی۔ اگر ممکن ہو تو سندھ حکومت متحدہ قومی موومنٹ کو اپنا حصہ بنائے، انہیں اہم وزارتیں دی جائیں اور مین سٹریم پالیٹکس میں آنے کا راستہ دیا جائے۔
یہ یاد رکھاجائے کہ مافیا سٹائل پالیٹکس کے ساتھ جڑنا بھی آسان نہیں اور الگ ہونا بھی قطعی طور پر آسان نہیں۔ سیاستدانوں کو ایم کیو ایم پاکستان کے لیے راستہ نکالنا اور رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی۔ الطاف حسین کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوگی کہ ایم کیو ایم پاکستان کا تجربہ ناکام ہوجائے اور سیاست کرنے کے خواہش مند عناصر منہ کی کھا کر پلٹیں اور دوبارہ سے پرانی ڈرٹی پالیٹکس کا حصہ بننے پر مجبور ہوں۔ اس لیے اگر الطاف حسین سے لاتعلقی کرنے والے دل سے اس پر سنجیدہ ہیں یا نہیں، اس سے قطع نظر، انہیں پورا موقع ملے اور سپورٹ کی جائے۔ تمام سیاسی، غیر سیاسی ریاستی اداروں کو عملی طور پر یہ بتانا چاہیے کہ ہم مہاجروں یا مہاجر بنیاد پر سیاست کے خلاف نہیں بلکہ صرف اس سیاست کی بنیاد پر مافیا سٹائل جرائم اور مجرموں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔
ریاستی اداروں کو اس پروبیشن پیریڈ کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ کراچی میں آپریشن جاری رہنا چاہیے، ایم کیو ایم کے رینکس کے اندر جو جرائم پیشہ لوگ ہیں، ان کے گرد شکنجہ تنگ ہونا چاہیے، کسی مجرم کو نہیں چھوڑنا چاہیے، جس جس نے جرم کیا ہے، اسے قانون کی گرفت میں لے آیا جائے، کسی کو کلین چٹ نہ دی جائے اور ڈرائی کلینر کی دکان بھی نہ کھولی جائے کہ جو وہاں گیا، وہ دھل کر آ گیا، چاہے پاک سرزمین پارٹی ہو، چاہے ایم کیو ایم حقیقی یا متحدہ قومی موومنٹ، ہر ایک سے کریمنل عناصر کا صفایا ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ متحدہ قومی موومنٹ یا اس کے بانی قائد کے جرائم پر تنقید الگ معاملہ ہے اور مہاجر ایشوز پر سیاست ایک الگ بات. مہاجروں کے مسائل ہیں، ان کی محرومی کی حقیقی وجوہ موجود ہیں۔ اس پر طویل بحث ہوسکتی ہے، کوئی چاہے تو اس سے اختلاف کر سکتا ہے، لسانی و مسلکی بنیاد پر سیاست کی مخالفت کرنے کا ایک جواز موجود رہتا ہے، مگر بہرحال کراچی کے مخصوص معروضی حالات ہیں۔ کراچی میں رہنے والا ہی انہیں سمجھ سکتا ہے۔ اہل کراچی ایک طویل عرصے سے ایم کیو ایم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں تو کچھ اس کی وجوہ بھی ہیں۔ ان وجوہات کو سمجھنا، لوگوں کے مسائل حل کرنا، اردو سپیکنگ آبادی کے تحفظات، ان کی محرومیاں دور کرنا ہوں گی۔ اس کے بغیر مہاجر قوم پر ست سیاست ختم نہیں ہوسکتی۔ جب مسائل کم ہوجائیں گے تو قوم پرست سیاست کی جگہ ازخود قومی جماعتیں لے لیں گی۔
کراچی میں گڑبڑ کی کوششیں جاری رہیں گی۔ فیصل واڈا پر ہونے والے حملے کی طرح مختلف اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کا خدشہ موجود ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں کو بھی فول پروف سکیورٹی ملنی چاہیے۔ دیگر سیاسی اور اہم شخصیات میں سے کسی کو خطرہ ہو تو اسے بلاتامل سپورٹ کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک تعلق ہے، ان لوگوں کا جو مرنے کی جذباتی باتیں کرتے اور پاکستانی پرچم میں دفن ہونے کی وصیت کرتے ہیں تویہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ ہر شادی شدہ مرد کو اپنی ازدواجی زندگی کے دوران بیگمات کی جذباتی، خود ترسی کے جذبے سے لبھڑی ہوئی دھمکیاں سننے کا درجنوں بار موقع ملتا ہے۔ نیک بخت بیویاں ہچکیاں لیتے ہوئے جذباتی وصیت باقاعدہ لکھواتی ہیں، جن میں یہ شرط سرفہرست ہوتی ہے کہ میرے مرنے کے بعد کسی کلموہی سے شادی نہیں کرنی۔ (یہ اور بات کہ خاوند بیچاروں کو وہ دل خوش کن ساعت کبھی دیکھنا نصیب نہیں ہوتی۔) نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی باتیں توجہ حاصل کرنے کے خواہش مند کیا کرتے ہیں، ان کی طرف ایک ٹشو پیپر ضرور بڑھا دیں، مگر باتیں سیریس نہ لی جائیں، ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا جائے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Click here to post a comment