ہوم << دو منظرنامے - محمد عامر خاکوانی

دو منظرنامے - محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی کراچی میں الطاف حسین کی متنازع تقریر ، میڈیا ہائوسز پر حملوں کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی تھی، وہ اگلے فیز میں داخل ہوگئی ہے۔ ایک ہی دن میں سیاسی اعتبار سے اتنی بڑی سیاسی پیش رفت کا پہلے کبھی کسی تجزیہ کار نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اس پر بات کرتے ہیں، مگر پہلے الطاف حسین کی متنازع تقریر پر ایک مختصر تبصرہ ۔
الطاف حسین کی تقریر کے دو حصے تھے، ایک میں انہوں نے کارکنوں کو میڈیا ہائوسز پر حملے کے لیے اکسایا اور ساتھ ہی پاکستان کے خلاف سخت، ناگوار، گھٹیا جملے بولے اور مردہ باد کے نعرے بھی لگوائے۔ میڈیا ہائوسز پر حملوں کا ردعمل تو شدید ہونا ہی تھا ، چینلز میں مشتعل کارکن‘ جنہیں غنڈے کہنا شاید زیادہ مناسب ہو، گھسے ہوئے توڑ پھوڑ کرر ہے تھے ، ظاہر ہے ان سب کے لائیو فوٹیج بنے اور بار بار چلتے بھی رہے۔ کچھ دیر کے بعد جب الطاف حسین کی تقریر کے بعض ٹکڑے جو پاکستان کے خلاف نعرے بازی پر مشتمل تھے، وہ سوشل میڈیا پر چلنے لگے تو ایک طوفان سا امنڈ آیا۔ میں نے ایسے ایسے لوگوں کو اس فتنہ انگیز، عامیانہ تقریر کی شدید مذمت کرتے دیکھا، جو عام حالات میں ایم کیو ایم کے حامی اور قائدتحریک کا دفاع کیا کرتے۔ ایسے بھی تھے جو کراچی آپریشن کے حوالے سے بھی تحفظات رکھتے اور گاہے اسے تنقید کا نشانہ بنائے رکھتے، پاکستان کے خلاف نعرے بازی اور غلط کلمات نے انہیں بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایسے بے شمار لوگ اعلانیہ فیس بک پر سٹیٹس لگاتے، مختلف پوسٹوں پر کمنٹس کرتے رہے، ” ہم مہاجر ہیں، ایم کیو ایم کی تشکیل ، اس کی سیاست کے حامی ہیں، مگر پاکستان کے خلاف نعرے اورایسے کلمات قابل قبول نہیں ہیں۔ اس کا کوئی دفاع کیا جائے گا نہ ہی اس کی کسی قسم کی حمایت بلکہ ہم اعلانیہ اس کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔“ یہ مناظر دیکھنا نہایت دل خوش کن امر تھا۔ اس سے پہلے بلوچستان میں بھی وہاں کے بلوچ، پشتون نوجوانوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر کے خلاف پرجوش اظہار احتجاج کر کے، ریلیاں نکال کر اپنے وطن سے پیار کا ثبوت دیا۔
الطاف حسن کی ملک دشمن تقریر پر ہمارے اردو سپیکنگ یا مہاجر بھائیوں نے بھرپور ردعمل دے کر اپنے جذبات کا اعلانیہ اظہار کیا۔ ردعمل اس قدر شدید تھا کہ اس حوالے سے لکھی گئی تحریروں کو بھی غیرمعمولی پزیرائی ملی۔ میرے جیسے ہفتے میں تین دن کالم لکھنے والوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دن یا باری پر ہی کالم لکھ سکتے ہیں، بعض اوقات جس میں دو دن کا وقفہ بھی ہوتا ہے۔ ایسے میں فیس بک کی وال وہ فورم ہے جس پر اپنے فوری جذبات کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ الطاف حسین کی اس تقریر پر میں نے اپنے دلی جذبات کا اظہار ایک ٹوٹے پھوٹے بلاگ کی صورت میں کر ڈالا۔ مجھے اگلے دن خوشگوار حیرت ہوئی، جب معلوم ہوا کہ اس بلاگ کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا، ”دلیل ڈاٹ پی کے“ پر تو وہ پچپن ہزار سے زائد دفعہ دیکھا گیا اور چھ ہزار سے زیادہ فیس بک شئیرنگ ہوئیں۔ بعض دیگر ویب سائٹس پر بھی اسے ٹھیک ٹھاک ہٹس ملے۔ فیس بک پر مجھے سات آٹھ برس ہوگئے، اس دوران میں نہایت فعال رہا ہوں، مگر کسی تحریر پر اس قسم کی پذیرائی کی کوئی تاریخ نہیں۔ کالم لکھتے ہوئے تیرہ چودہ برس ہوگئے ہیں، لکھنے پڑھنے کا کام تو پچیس برسوں پر محیط ہے، میری دیانت دارانہ رائے ہے کہ اس تحریر میں کوئی خاص بات نہیں تھی، صرف دلی جذبات کا کھلا اظہار تھا۔ یہ پاکستان کے ساتھ لوگوں کی محبت، اس نظام کے ساتھ تمام تر شکایتوں کے باوجود ملک وقوم کے لئے گہرے دلی جذبات تھے، جن کی وجہ سے الطاف حسین کی ملک دشمن تقریر کو ہدف تنقید بنانے والی تحریروں کو پذیرائی ملی۔
ایک تاثر یہ دیا گیا کہ الطاف حسین نے شدید فرسٹریشن، دبائو یا پھر دھت ہو کر ایسی تقریر کی اور ملک دشمن نعرے لگائے، ان کے اکا دکا حامی یہ دلیل دیتے رہے کہ آپریشن کے باعث انہیں دیوار سے لگا دیا گیا تھا اور اس کے سوا کوئی آپشن نہیں باقی بچی تھی۔ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے۔ الطاف حسین کی سیاست پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ وہ انتہائی شاطر، چالاک ، دور تک نظر رکھنے والے کایاں شخص ہیں۔ کوئی کام وہ بلاوجہ نہیں کرتے اور مضمرات ان کی نظر میں رہتے ہیں۔ یہ کام انہوں نے دانستہ کیا اور اسے ایک گرینڈ پلان کا حصہ سمجھنا چاہیے۔
الطاف حسین نے اپنی اس تقریر کے ذریعے پہلے تو رابطہ کمیٹی پاکستان کو بے اثر بلکہ ناکام بنا دیا، جو پچھلے کئی دنوں سے احتجاجی بھوک ہڑتال کے ذریعے سیاسی دبائو ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی، بعض سیاسی حلقے متحر ک ہوچکے تھے کہ کوئی درمیانی راستہ نکال کر اس سیاسی احتجاج کو روکا جائے۔ ایسا اگر ہوجاتا تو رابطہ کمیٹی پاکستان اور ان کی سیاسی حکمت عملی کی جیت ہوتی۔ الطاف حسین نے وہ سب کچھ سبوتاژ کر دیا۔ دوسرا انہوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ آپریشن کے باوجود وہ چاہیں تو شہر ہلا سکتے ہیں، میڈیا کو دوبارہ انڈر پریشر لا سکتے ہیں۔ تیسرا انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ کارکنوں پر آج بھی ان کی گرفت ہے اور وہ بلا سوچے سمجھے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ چوتھا پیغام یہ تھا کہ میں عورتوں کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ شائد شدید عوامی ردعمل کا الطاف حسین زیادہ درست اندازہ نہیں لگا سکے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ایک قدم آگے بڑھا کر پہلے کی طرح پیچھے ہٹ جائیں گے، معافی مانگ لیں گے اور بات رفع دفع ہوجائے گی۔ اس بار ایسا نہیں ہوسکا، میرے خیال میں تو پہلے بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہر چیز کی حد ہوتی ہے اور بعض لکیریں ایسی ہیں ، انہیں عبور کرنے کے بعد واپسی ، معافی کا راستہ نہیں رہتا۔
منگل کی شام ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس کر کے ایک طرح سے ایم کیو ایم پاکستان کی آزادی اور رابطہ کمیٹی لندن کے غیر موثر ہونے کا جو اعلان کیا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ دو ممکن منظرنامے ہیں، دونوں کے لئے ہی بعض چیزیں مفروضے کے طور پر لینی پڑ رہی ہیں۔
پہلا یہ کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھی جو کہہ رہے تھے، حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے۔ یہ ایک مفروضہ ہے، مگر ایک خاص سطح پر یہ حقیقت بھی ہے کہ اس کا اعلان کیا گیا ہے اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اسے فوری رد نہیں کرنا چاہیے ۔ویسے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ایم کیو ایم کو بچانے کا یہی آخری طریقہ بچا تھا، ورنہ حالات جس طرف جا رہے تھے، اس میں پارٹی پر پابندی بھی لگ سکتی تھی۔ دوسری یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما‘ الطاف حسین کی پل پل بدلتی سوچ، صبح کچھ اور ، شام کو کچھ اور پالیسیوں اور بے تکے،انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات سے بری طرح تنگ آ چکے تھے۔ نجی محفلوں میں وہ اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ،مگر پبلک میں انہیں الطاف حسین کا دفاع کرنا پڑتا۔ انہیں بار بار ذلیل بھی کیا گیا، کبھی گالیاں، نعرے تو کبھی تھپڑ ، جوتے بھی پڑے۔ اس لئے ایم کیو ایم پاکستان کی یہی خواہش ہوگی کہ کاش کسی روز ان کی الطاف حسین اور ان کے سیکٹر انچارجوں سے جان چھوٹ جائے۔ قدرت نے یہ موقع پیدا کیا تو ہے، اگر فاروق ستار اور ان کے دیگررہنما جرات اور استقامت سے کام لیں تو وہ ایک نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔
دوسرا منظر نامہ یا مفروضہ یہ ہے کہ سب کچھ طے شدہ تھا، قائد تحریک دانستہ پیچھے ہٹے کہ اور کوئی آپشن نہیں بچی تھی۔ کراچی کی سیاست میں انہیں دوبارہ سے جگہ چاہیے تھی، آپریشن میں نرمی، بلدیاتی اداروں میںمئیر، ڈٹپی میئر کی جیت وغیرہ۔ وہ کچھ عرصے کے لئے پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور دوبارہ صحت یاب ہونے کا اعلان کر کے پھر سے قیادت باقاعدہ سنبھال سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کا اصل امتحان بھی تب ہوگا، جب الطاف حسین انہیں چیلنج کریں اور سیکٹرا نچارج، یونٹ انچارجوں پر مشتمل اپنے مخصوص مافیا سٹائل گروپ اور پھر کارکنوں میں اپنی مقبولیت اور مہاجر سیاست کے لئے پچھلے تین عشروں سے لازم وملزوم چلی آنی والی اپنی شخصیت کے زور پر ان سب کو ہٹا کر سٹیرنگ دوبارہ سنبھال لیں۔ اس حوالے سے ابھی کچھ انتظار کرنا ہوگا۔ چند دنوں کے اندر صورتحال بڑی حد تک واضح ہوجائے گی۔ ویسے ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ الطاف حسین کی گرفت اب پہلے جیسی نہیں رہے گی، پندرہ بیس فیصد تک وہ رہ پائیں گے، اگر انہوں نے پوری قوت بروئے کار لانے کی کوشش کی تو ممکن ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے بیشتر رہنما اعلانیہ الگ ہو کر اپنا الگ گروپ بنا لیں۔ یہ تمام آپشنز سب کے سامنے ہیں، تجزیہ کاروں کے علاوہ بھی تمام سیاسی، غیر سیاسی حلقے ان سب کو دیکھ رہے ، اندازے لگا رہے ہیں،اپنا ردعمل انہوں نے بھی سوچ رکھا ہوگا۔ ایم کیو ایم کے ایک” سابق“رہنما اور ٹی وی اینکر کے ساتھ البتہ وہی ہوا جو دلہن بنے بغیر بیوگی کا داغ لگ جانے والی خواتین کے مقدر میں آتا ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Click here to post a comment