اللہ تعالیٰ کی ذات کا ہر انسان کو بے حد شکر ادا کرنا چاہیے، چونکہ شکر کے بغیر زندگی بے فائدہ ہے۔ جب انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں، زندگی اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں دی گئی تمام تر نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرے گا تو یہ اپنے رب کے ساتھ ناانصافی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ جس حال میں رکھے، ہر قیمت پر اس پر اکتفا کرتے ہوئے شکر بجا لانا چاہیے کہ مولا! تو نے کئی لوگوں سے اعلیٰ مجھے بنایا، ہر چیز عطا فرمائی۔ تب رب تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے گا۔ اللہ کے فضل و کرم اور شکر سے کوئی بھی چیز مبرا نہیں۔ اس کے فضل و کرم سے ہی سب کچھ ممکن ہے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار ہیں۔ نعمتوں کا شکر ادا کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم بھی دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے تم کو اطلاع فرما دی کہ اگر تم شکر کرو گے تو تم کو زیادہ نعمت دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو (یہ سمجھ رکھو) میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ (القرآن)
چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”سو تم مجھے یاد کیا کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو۔“ (سورۃ البقرۃ: 152/2)
دوسری جگہ ارشادِ ربانی ہے: ”اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ؟ اور اللہ (ہر حق کا) قدرشناس ہے، (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہے۔“ (سورۃ النساء: 147/4)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ”اگر تم کفر کرو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر (و ناشکری) پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکرگزاری کرو (تو) اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے۔“ (سورۃ الزمر: 39/7)
انسان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہے اور اس کا شکر ادا کرے۔ شکر دل، زبان اور عمل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ جو بندہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے مزید نعمتوں سے نوازتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔“ (سورۃ ابراہیم)
آپ ﷺ نے شکر کی ایک اور نہایت خوبصورت قسم بیان فرمائی اور وہ ہے باری تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار اور ان کا تذکرہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ اپنے رب کی نعمت کو بیان کرتے رہیں۔“ (سورۃ الضحیٰ)
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”تم میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو۔“
ذکر کی تین اقسام ہیں: زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا، دل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور اپنے اعضاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا۔ زبان سے ذکر یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے، توبہ و استغفار کرے۔ دل سے شکر یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرے، اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر غور کرے۔ اعضاء سے شکر کرنا مراد یہ ہے کہ اپنے اعضاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت والے کاموں میں لگایا جائے۔
جو بندہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے، اس کی نافرمانی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اسے عذاب سے نجات عطا فرما دے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”اگر تم ایمان لائے اور شکر گزار بن گئے تو اللہ تمہیں عذاب نہیں دے گا۔“ (سورۃ النساء)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ کہتا ہے الحمدللہ، تو یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے نعمت دینے سے بہتر ہوتا ہے۔“ (ابن ماجہ)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جسے شکر کرنے کی توفیق ملی، اللہ تعالیٰ اسے مزید نعمتوں سے نوازے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دوں گا۔ اور جسے توبہ کی توفیق عطا ہوئی، وہ توبہ کی قبولیت سے محروم نہ ہو گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے۔“ (درمنثور)
نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے بوسیدہ کپڑے پہن رکھے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس مال ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ تجھے مال دے تو پھر اس کی نعمت اور کرم کا اثر بھی تجھ پر دکھائی دینا چاہیے۔“ (سنن ابی داود، اللباس، حدیث 4063)
اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل پسند کرتا ہے کہ وہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے پر دیکھے۔“ (جامع الترمذی، الادب، حدیث 2819)
حضرت سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر کوئی شکر کرنے والا دل اور ذکر کرنے والی زبان رکھے۔“ (سنن ابن ماجہ، النکاح، حدیث 1856)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک پھٹ جاتے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے (ایک مرتبہ) عرض کیا: ”اللہ کے رسول ﷺ! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی تمام لغزشیں معاف کر دی ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیا پھر میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟“ (صحیح البخاری، التفسیر، حدیث 4837)
آپ ﷺ اپنی نیند سے بیدار ہو کر سب سے پہلا جو کلمہ ارشاد فرماتے، وہ اللہ کی حمد پر مبنی ہوتا۔ آپ ﷺ فرماتے: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندگی دی اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔“ (صحیح البخاری، الدعوات، حدیث 6312)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بات سے بھی راضی ہوتا ہے کہ بندہ کھانا کھا کر اس کا شکر ادا کرے یا پانی پی کر اس کا شکر ادا کرے۔“ (أخرجہ مسلم فی الصحیح، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار)
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی اس شان پر خوشی کرنی چاہیے کہ اس کے ہر حال میں خیر ہے اور یہ مقام اس کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں۔ اگر وہ نعمتوں کے ملنے پر شکر کرے تو اس کو اجر ملتا ہے اور اگر وہ مصیبت آنے پر صبر کرے تب بھی اس کو اجر ملتا ہے۔“ (أخرجہ مسلم فی الصحیح، کتاب الزہد والرقائق)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”کھانے پر شکر کرنے والا درجہ میں صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر ہے۔“ (أخرجہ الترمذی فی السنن، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع)
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کہا جائے گا کہ حمد کرنے والے کھڑے ہو جائیں۔ لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہو جائے گا اور وہ جنت میں جائیں گے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ﷺ! حمد کرنے والے کون ہیں؟ فرمایا: ”جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔“
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بندے پر نعمت کی اور اس نے الحمدللہ کہا تو اس نے نعمت کا شکر ادا کر دیا، اور اگر دوسری بار الحمدللہ کہا تو اللہ تعالیٰ اسے نیا ثواب عطا فرمائے گا، اور تیسری بار الحمدللہ کہا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔“ (حاکم، بیہقی)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت فرماتے ہیں، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سب سے پہلے جنت کی طرف حمد کرنے والے ان افراد کو بلایا جائے گا جو سختی اور خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں۔“ (طبرانی، حاکم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو اپنے کرم سے نوازنے کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کی عمریں دراز کر دیتا ہے اور انہیں شکر گزاری کی تلقین الہام کر دیتا ہے۔“ (کنزالعمال)
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”جس بندے کو اللہ کریم نے اہل و عیال اور مال و دولت کی نعمت عطا فرمائی اور وہ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہے تو وہ اس میں (شکرِ نعمت کی وجہ سے) سوائے موت کے اور کوئی آفت نہیں دیکھے گا۔“ (بیہقی)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انسانوں میں اللہ تعالیٰ کا سب سے شکر گزار بندہ وہ ہے جو لوگوں کا زیادہ شکر ادا کرنے والا ہو۔“ (احمد، طبرانی)
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق دے اور جو کچھ اس نے عطا کیا ہے، ہر حال میں اس پر خوش رہنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔ آمین۔
نوٹ: میں نے عبارت کی اصل ترتیب اور مفہوم برقرار رکھتے ہوئے رموزِ اوقاف اور پیراگرافنگ درست کی ہے۔ احادیث، قرآنی حوالوں اور ان کے نمبروں کی اشاعت سے پہلے مستند مصادر سے تصدیق ضرور کر لیجیے؛ میں نے ان کی صحت کی تحقیق نہیں کی۔



تبصرہ لکھیے