ہوم << مسخرہ – محمد شفیق اعوان
600x314

مسخرہ – محمد شفیق اعوان

شہر کے وسط میں ایک قدیم عمارت تھی جسے لوگ ’’ایوانِ انصاف‘‘ کے نام سے جانتے تھے۔ عمارت کی پیشانی پر سنہری حروف میں لکھا تھا:
’’یہاں ہر شخص کو انصاف ملتا ہے۔‘‘

مگر عمارت کے اندر داخل ہونے والا ہر شخص جانتا تھا کہ ان حروف پر جمی گَرد صرف ہوا کی پیداوار نہیں، بلکہ برسوں کی بے انصافی کا نتیجہ ہے۔ دروازے کے دونوں طرف پتھر کے دو شیر نصب تھے۔ ان کے چہروں پر ایسی ہیبت طاری تھی جیسے وہ انصاف کے محافظ نہیں، بلکہ انصاف مانگنے والوں کو ڈرانے کے لیے بٹھائے گئے ہوں۔اسی شہر میں ایک شخص رہتا تھا جسے لوگ ’’مسخرہ‘‘ کہتے تھے۔ اس کا اصل نام کسی کو معلوم نہ تھا۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ وہ کسی زمانے میں ایک مدرسے کا طالب علم رہا ہے، کچھ کا خیال تھا کہ وہ کسی دربار کا بھولا بسرا فن کار ہے، اور بعض اسے پاگل قرار دیتے تھے۔ خود مسخرہ کہا کرتا تھا،
’’نام میں کیا رکھا ہے، صاحبو! آدمی کی پہچان تو اس کی بات سے ہوتی ہے۔ البتہ اگر بات میں وزن نہ ہو تو پھر آدمی اپنا نام کسی بڑے ترازو میں بھی رکھ دے، تب بھی تول پورا نہیں ہوتا۔‘‘

مسخرے کا لباس عجیب تھا۔ رنگ برنگی قمیص، جگہ جگہ سے پیوند لگی شلوار، سر پر لال اور پیلی دھاریوں والی ٹوپی، پاؤں میں ایک پرانا جوتا اور دوسرے پاؤں میں اس سے بھی زیادہ پرانا جوتا۔ اس کی کمر سے بندھی چھوٹی سی گھنٹی اس وقت بجنے لگتی جب وہ تیزی سے چلتا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ رہتی، مگر آنکھوں میں ایک ایسی اداسی تھی جو ہنسی کے بازار میں بھی اپنا خریدار تلاش نہیں کر پاتی تھی۔وہ بازاروں، چوراہوں اور دفتروں کے باہر کھڑا ہو کر لوگوں کو ہنساتا تھا۔ کبھی کسی لالچی دکاندار کی نقل اتارتا، کبھی کسی متکبر افسر کے لہجے میں بات کرتا اور کبھی کسی ایسے سیاست دان کی تقریر دہراتا جو پانچ منٹ میں پانچ سال کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کر سکتا تھا۔ لوگ ہنستے، تالیاں بجاتے، سکّے اچھالتے اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔ لیکن مسخرہ اکثر ان کی ہنسی کے بعد خاموش ہو جاتا۔ اسے معلوم تھا کہ قہقہے جلد ختم ہو جاتے ہیں، مگر جن حقیقتوں پر وہ قہقہے لگاتے ہیں، وہ دیر تک زندہ رہتی ہیں۔

ایک روز شہر کے بڑے چوک میں اس نے اعلان کیا، ’’آئیے، آئیے! آج کی خاص پیش کش! ایک ایسا آئینہ جس میں ہر شخص کو صرف اپنی خوبیاں نظر آئیں گی۔ خامیاں دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ تو دوسروں میں ہوتی ہیں!‘‘
لوگ جمع ہو گئے۔ ایک صاحب نے آگے بڑھ کر پوچھا، ’’قیمت کیا ہے؟‘‘
مسخرے نے جواب دیا، ’’بہت معمولی! صرف اپنی عقل، اپنا ضمیر اور سچ سننے کی تھوڑی سی ہمت۔‘‘
صاحب نے فوراً قدم پیچھے ہٹا لیا۔مجمع میں قہقہہ بلند ہوا۔
مسخرہ مسکرایا اور بولا، ’’دیکھیے جناب! آئینہ اتنا مہنگا بھی نہیں تھا، مگر خریدار کی جیب میں شاید ضمیر کے لیے جگہ ہی نہیں تھی۔‘‘

اسی مجمع میں ایک شخص کھڑا تھا جس کا نام گستاخ مراد آبادی تھا۔ وہ صاف گوئی کے لیے مشہور تھا۔ اس کی زبان پر مصلحت کے تالے کم ہی لگتے تھے۔ وہ جب کسی کی غلطی دیکھتا تو خاموش رہنا اپنی ذات سے غداری سمجھتا۔ تاہم، اس کی صاف گوئی میں کبھی کبھی تلخی اس قدر بڑھ جاتی کہ سچ کی روشنی بھی اس کے لہجے کی دھند میں چھپ جاتی۔گستاخ مراد آبادی نے مسخرے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا،
’’بھائی مسخرہ! تم لوگوں کو ہنساتے بہت ہو، مگر کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ تمہاری بات سے کسی کی اصلاح ہوتی ہے یا لوگ محض تمہارے تماشے سے لطف اندوز ہو کر چلے جاتے ہیں؟‘‘
مسخرے نے اپنی ٹوپی سیدھی کی اور بولا، ’’گستاخ صاحب! میں تو دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں، اندر داخل ہونا ہر شخص کی اپنی مرضی ہے۔ کوئی دروازہ کھول کر سچ کو اندر بٹھا لیتا ہے، کوئی کھڑکی بند کر کے پردہ گرا دیتا ہے۔ اب میں ہر گھر کی دیوار توڑنے لگوں تو مسخرہ نہیں، معمار یا مزدور بن جاؤں گا۔‘‘

گستاخ مراد آبادی نے کہا، ’’بات تو تم نے خوب کہی، لیکن کبھی کبھی دروازہ توڑنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔‘‘مسخرے کی مسکراہٹ قدرے مدھم پڑ گئی۔
’’ضروری تو ہے، مگر پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ دروازے کے پیچھے کوئی مظلوم تو نہیں بیٹھا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ظالم کو نکالنے کے شوق میں ہم مظلوم کے سر پر بھی دیوار گرا دیں۔‘‘
گستاخ مراد آبادی کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے مسخرے کے کندھے سے ہاتھ ہٹا لیا۔ اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ ہر تیز بات بہادری نہیں ہوتی اور ہر نرم بات کمزوری نہیں کہلاتی۔شہر میں ان دنوں ایک بڑے جلسے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ شہر کے حاکم، جناب عالی مرتبت، صدرِ مجلس اور خادمِ عوام، اپنی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے کے خواہش مند تھے۔ ان کے مشیروں نے انہیں بتایا تھا کہ عوام کو خوش رکھنے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں: بلند آواز اور بلند دعوے۔ چنانچہ جلسے کے لیے ایک عظیم الشان اسٹیج بنایا گیا، رنگ برنگے بینر لگائے گئے اور شہر کے مختلف حصوں سے لوگوں کو لانے کے لیے گاڑیوں کا انتظام کیا گیا۔

اسٹیج کے عقب میں ایک بڑا بینر آویزاں تھا جس پر لکھا تھا: ’’عوام کی خوش حالی ہمارا اوّلین مقصد ہے۔‘‘ اس کے نیچے ایک چھوٹے سے کاغذ پر کسی نے لکھ دیا تھا: ’’براہِ کرم اس مقصد کو تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں۔‘‘
یہ تحریر دیکھ کر منتظمین نے فوراً کاغذ پھاڑ دیا، مگر اسے لکھنے والے کا پتا نہ چل سکا۔جلسے کے دن گستاخ مراد آبادی بھی وہاں پہنچ گیا۔ مسخرہ ایک طرف کھڑا اپنی گھنٹی بجا رہا تھا۔ اس کے پاس ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا جس کے ہاتھ میں درخواستوں کا ایک موٹا پلندہ تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ تین برس سے اپنے مرحوم بیٹے کی پنشن کے لیے دفاتر کے چکر لگا رہا ہے۔ ہر دفتر میں اسے ایک نئی فہرست تھما دی جاتی، ہر میز پر ایک نیا دستخط مانگا جاتا اور ہر دروازے پر ایک نئی تاریخ دے دی جاتی۔
بوڑھے نے مسخرے سے پوچھا، ’’بیٹا! کیا یہاں بھی کوئی تماشا ہونے والا ہے؟‘‘

مسخرے نے اس کے ہاتھ میں موجود کاغذات دیکھے اور آہستہ سے کہا، ’’بابا جی! یہاں تماشا تو روز ہوتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی اسٹیج پر فن کار ہوتے ہیں اور کبھی فائلوں کے پیچھے چھپے ہوئے کِردار۔‘‘بوڑھے نے سر جھکا لیا۔
اسی اثنا میں جلسے کا آغاز ہوا۔ حاکم صاحب اسٹیج پر تشریف لائے تو تالیوں کا شور بلند ہوا۔ انہوں نے ہاتھ ہلا کر مجمع کو خاموش کرایا اور تقریر شروع کی۔
’’میرے عزیز ہم وطنو! ہم نے عوام کی خدمت کے لیے دن رات ایک کر دیا ہے۔ شہر میں خوش حالی کا دَور دَورہ ہے۔ ہر گھر میں خوشی ہے، ہر چہرے پر مسکراہٹ ہے اور ہر دل میں اُمید کے چراغ روشن ہیں۔‘‘
مجمع میں بیٹھے لوگوں میں سے ایک شخص نے اپنے خالی تھیلے کو دیکھا، دوسرے نے اپنی جیب ٹٹولی اور تیسرے نے بجلی کے بل کو مٹھی میں دبا لیا۔ پھر بھی تالیاں بجتی رہیں، کیونکہ بعض اوقات ہاتھ دل کی رضا سے نہیں، ماحول کے دباؤ سے بھی حرکت کرتے ہیں۔

حاکم صاحب نے مزید فرمایا، ’’ہم نے مہنگائی پر قابو پا لیا ہے۔ بے روزگاری ختم کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انصاف اب ہر دروازے پر دستک دے رہا ہے۔‘‘
مسخرہ اچانک آگے بڑھا اور اس نے اپنی گھنٹی بجا دی۔
’’جناب! ایک چھوٹا سا سوال ہے۔‘‘حاکم صاحب نے ناگواری سے اسے دیکھا۔ ’’کیا بات ہے؟‘‘
مسخرے نے ادب سے سر جھکایا۔ ’’جناب! اگر مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے تو میری جیب میں موجود سو روپے اتنے خوف زدہ کیوں ہیں کہ بازار میں داخل ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں؟‘‘لوگ ہنس پڑے۔
حاکم صاحب نے اپنی مسکراہٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ’’یہ سب مخالفین کا پروپیگنڈا ہے۔‘‘

مسخرے نے فوراً کہا، ’’جناب! پھر تو میری جیب بھی مخالف جماعت سے تعلق رکھتی ہے۔ ہر مہینے تنخواہ آتے ہی خالی ہو جاتی ہے۔‘‘
قہقہوں کا شور بلند ہوا۔ اسٹیج پر بیٹھے چند افراد نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ حاکم صاحب نے پانی کا گلاس اٹھایا اور گھونٹ بھرنے لگے۔
مسخرے نے دوبارہ عرض کیا، ’’جناب! ایک اور بات پوچھ لوں؟‘‘
’’اب کیا ہے؟‘‘ حاکم صاحب نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔
’’آپ نے فرمایا کہ انصاف ہر دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ہمارے محلّے کے ایک بوڑھے بابا تین برس سے اپنے بیٹے کی پنشن کے لیے دفاتر کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔ اگر انصاف واقعی دستک دے رہا ہے تو شاید وہ غلط دروازے پر کھڑا ہے۔ کیا کوئی اسے صحیح پتا بتا سکتا ہے؟‘‘
مجمع میں خاموشی چھا گئی۔ بوڑھے نے اپنے کاغذات سینے سے لگا لیے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

حاکم صاحب نے غصے سے کہا، ’’تم کون ہوتے ہو حکومتی معاملات پر سوال اٹھانے والے؟ تمہارا کام لوگوں کو ہنسانا ہے، حکومت چلانا نہیں!‘‘
مسخرے نے اپنی ٹوپی اتار کر سینے سے لگا لی۔
’’بالکل درست فرمایا جناب! میرا کام ہنسانا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ آپ کے معاملات دیکھ کر کبھی کبھی رونا آ جاتا ہے۔ پھر میں سوچتا ہوں کہ اگر میں بھی رونے لگوں تو لوگوں کو ہنسائے گا کون؟‘‘
یہ سنتے ہی مجمع میں ایسی ہنسی گونجی جس میں خوشی سے زیادہ بے بسی شامل تھی۔
حاکم صاحب نے منتظمین کو اشارہ کیا۔ دو اہل کار آگے بڑھے اور مسخرے کو اسٹیج سے دُور لے جانے لگے۔ وہ مزاحمت کیے بغیر ان کے ساتھ چل پڑا، مگر جاتے جاتے اس نے پلٹ کر کہا، ’’جناب! میری ایک درخواست ہے۔ اگر کبھی آپ کو اپنی تعریف سننے سے فرصت ملے تو اس بوڑھے کی فریاد بھی سن لیجیے گا۔ تعریف کرنے والے آپ کو ہر جگہ مل جائیں گے، مگر سچ بولنے والے ہمیشہ اتنے خوش نصیب نہیں ہوتے کہ آپ تک پہنچ سکیں۔‘‘

اس بار کسی نے قہقہہ نہیں لگایا۔جلسے کے بعد گستاخ مراد آبادی مسخرے کے ساتھ ایک پرانی چائے کی دکان پر جا بیٹھا۔ دکان کا نام ’’امید‘‘ تھا، مگر اس کے بورڈ پر لفظ ’’امید‘‘ کا آخری حرف ٹوٹ چکا تھا۔ دکان دار نے دو پیالے چائے کے رکھے اور کہا، ’’صاحبو! چینی کم ہے، دودھ کم ہے، پتی بھی کچھ کم ہے، مگر قیمت پوری ہے۔ آخر زمانے کے ساتھ چلنا بھی تو ضروری ہے۔‘‘مسخرہ ہنس دیا۔
گستاخ مراد آبادی نے کہا، ’’آج تم نے حاکم کو سب کے سامنے شرمندہ کر دیا۔‘‘
مسخرے نے چائے کا پیالہ اٹھاتے ہوئے جواب دیا، ’’نہیں گستاخ صاحب! میں نے صرف سوال کیا ہے۔ شرمندگی تو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کے پاس جواب نہ ہو اور وہ اپنے سوال کرنے والے کو مجرم سمجھنے لگے۔‘‘
گستاخ مراد آبادی نے کچھ توقف کے بعد کہا، ’’تمہاری باتوں میں دانائی ہے، مگر مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی۔ اگر سچ بولنے سے کچھ بدلتا نہیں، تو پھر سچ بولنے کا فائدہ کیا ہے؟‘‘

مسخرے نے پیالہ میز پر رکھ دیا۔
’’کیا تم نے کبھی اندھیرے کمرے میں چراغ جلایا ہے؟‘‘
’’ہاں، کئی بار۔‘‘
’’تو کیا چراغ پورے شہر کا اندھیرا ختم کر دیتا ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’پھر بھی تم چراغ جلاتے ہو یا نہیں؟‘‘
گستاخ مراد آبادی نے آہستہ سے کہا، ’’جلاتا ہوں۔‘‘

مسخرے نے مسکرا کر جواب دیا، ’’بس یہی سچ کا فائدہ ہے۔ چراغ سورج ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا، وہ صرف اپنے حصے کا اندھیرا کم کرتا ہے۔ ہر سچ فوراً انقلاب نہیں لاتا، مگر ہر انقلاب کے راستے میں کسی نہ کسی سچ کی روشنی ضرور ہوتی ہے۔‘‘
دکان کے ایک کونے میں بیٹھے شخص نے یہ گفتگو سنی تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے پاس آ گیا۔ اس کا نام علامہ ابن العجم الشرقی تھا۔ وہ علم و ادب کا شناور، نرم گفتار اور اچھی بات کہنے والا شخص تھا۔ اس کے چہرے پر وقار تھا، مگر اس وقار میں تکبر کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ لوگوں کی بات سنتا، ان کے دُکھ سمجھتا اور پھر ایسی بات کہتا جو دِل پر بوجھ بننے کے بجائے ذہن کے بند دریچے کھول دیتی۔علامہ ابن العجم الشرقی نے مسخرے کی طرف دیکھ کر کہا، ’’تم نے چراغ کی مثال دی ہے، لیکن چراغ جلانے والے کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی روشنی کس سمت میں پڑ رہی ہے۔ بعض اوقات انسان سچ تو بولتا ہے، مگر اس کے لہجے کی تندی سچ کے اثر کو کم کر دیتی ہے۔‘‘
گستاخ مراد آبادی نے فوراً کہا، ’’علامہ صاحب! کیا سچ بولنے کے لیے بھی اجازت درکار ہے؟‘‘

علامہ مسکرائے۔ ’’نہیں، سچ بولنے کے لیے اجازت نہیں، بصیرت درکار ہے۔ زبان تلوار بھی بن سکتی ہے اور مرہم بھی۔ تلوار زخم کھولتی ہے، مرہم زخم بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دونوں کی ضرورت الگ الگ موقعوں پر پڑ سکتی ہے، مگر جو شخص ہر مسئلے کا حل تلوار میں تلاش کرے، وہ آخرکار اپنے ہی ہاتھ زخمی کر بیٹھتا ہے۔‘‘
گستاخ مراد آبادی نے نظریں جھکا لیں۔علامہ نے بات جاری رکھی، ’’یاد رکھیے، گستاخی اور بے باکی ایک چیز نہیں۔ بے باکی حق کے لیے کھڑے ہونے کا نام ہے، جبکہ گستاخی کبھی کبھی اپنے غصے کو حق کا لباس پہنا دینے کا نام بن جاتی ہے۔ اسی طرح خوشامد اور ادب میں بھی فرق ہے۔ ادب سچ کو خوب صورت انداز میں پیش کرتا ہے، خوشامد جھوٹ کو خوش نما بنا کر بیچتی ہے۔‘‘
مسخرہ خوشی سے اپنی گھنٹی بجانے لگا۔ ’’واہ علامہ صاحب! آپ نے تو میری دکان کی پوری فہرست ہی پڑھ دی۔ میرے پاس ہنسی بھی ہے، طنز بھی، مگر اب معلوم ہوا کہ ان دونوں کے ساتھ حکمت کا ہونا بھی ضروری ہے۔‘‘

علامہ نے جواب دیا، ’’بیٹا! مزاح وہ آئینہ ہے جو انسان کو ہنستے ہوئے اپنا چہرہ دکھاتا ہے۔ لیکن اگر آئینہ دکھانے والا ہی چہرے بگاڑنے لگے تو پھر آئینے اور تماشے میں فرق باقی نہیں رہتا۔‘‘
تینوں دیر تک باتیں کرتے رہے۔ باہر شام اتر رہی تھی۔ سڑک پر گاڑیوں کا شور بڑھ گیا تھا اور آسمان پر پرندوں کے چھوٹے چھوٹے جھنڈ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ انسانوں کے اس شہر میں پرندے شاید ان چند مخلوقات میں سے تھے جنہیں ابھی تک اپنی منزل کے لیے کسی سفارش، کسی مہر یا کسی دستخط کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔اگلی صبح شہر کے سب سے بڑے اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی: ’’انتظامیہ نے ایک شرپسند مسخرے کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔‘‘ خبر میں لکھا تھا کہ مسخرے کی گفتگو سے شہر کے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے بیانات کو عوام میں بے چینی پھیلانے کی کوشش قرار دیا گیا۔خبر کے نیچے حاکم صاحب کی تصویر تھی۔ وہ مسکرا رہے تھے۔

گستاخ مراد آبادی نے اخبار پڑھ کر غصے سے کہا، ’’یہ کیسا انصاف ہے؟ ایک شخص سوال کرے تو شرپسند، اور دوسرا شخص عوام کے سامنے جھوٹ بولے تو خادمِ عوام!‘‘
علامہ ابن العجم الشرقی نے اخبار تہہ کرتے ہوئے کہا، ’’یہ صرف مسخرے کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب لوگ سچ سے زیادہ سچ بولنے والے کی حیثیت کو دیکھنے لگیں تو انصاف کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔ پھر آدمی دلیل کا جواب دلیل سے نہیں، عہدے سے دیتا ہے؛ سوال کا جواب وضاحت سے نہیں، دھمکی سے دیتا ہے۔‘‘
گستاخ مراد آبادی نے کہا، ’’تو کیا ہمیں خاموش ہو جانا چاہیے؟‘‘
علامہ نے جواب دیا، ’’خاموشی کبھی حکمت ہوتی ہے اور کبھی بزدلی۔ اسی طرح بولنا کبھی بہادری ہوتا ہے اور کبھی محض شور۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کب، کیوں اور کس کے حق میں بول رہا ہے۔ اگر تمہاری آواز کسی مظلوم کے لیے بلند ہوتی ہے تو اسے بلند رکھو، لیکن اگر وہ صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے بلند ہوتی ہے تو پہلے اپنے دل کی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرو۔‘‘

اسی روز دوپہر کے وقت مسخرے کو شہر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں طلب کیا گیا۔ کمرے میں ایک میز، تین کرسیاں اور دیوار پر آویزاں ایک بڑا سا آئینہ تھا۔ میز کے پیچھے ایک افسر بیٹھا تھا، جس کی مونچھیں اس کے عہدے سے زیادہ بااختیار معلوم ہوتی تھیں۔افسر نے فائل کھولتے ہوئے پوچھا، ’’تم نے جلسے میں حکومت کے خلاف گفتگو کیوں کی؟‘‘
مسخرے نے ادب سے کہا، ’’جناب! میں نے حکومت کے خلاف نہیں، حالات کے حق میں گفتگو کی تھی۔‘‘
افسر نے چونک کر پوچھا، ’’یہ کیا مطلب ہوا؟‘‘
مسخرے نے جواب دیا، ’’حکومت کہتی ہے کہ حالات اچھے ہیں، مگر حالات خود کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ میں نے صرف حالات کی ترجمانی کی ہے۔‘‘
افسر نے قلم میز پر پٹخا۔ ’’تم اپنے آپ کو بہت عقل مند سمجھتے ہو؟‘‘

مسخرے نے دیوار پر لگے آئینے کی طرف دیکھا۔
’’نہیں جناب! عقل مند ہوتا تو شاید یہاں نہ بیٹھا ہوتا۔ البتہ اتنا ضرور جانتا ہوں کہ آئینے کو توڑ دینے سے چہرے کی خامیاں ختم نہیں ہوتیں۔‘‘
افسر نے غصّے سے کہا، ’’تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حکومت کی توہین ناقابلِ برداشت ہے۔‘‘
مسخرے نے نرمی سے عرض کیا، ’’جناب! حکومت کی توہین اور حکومت کی اصلاح میں فرق ہوتا ہے۔ اگر کسی بچے کے چہرے پر مٹی لگی ہو اور ماں اسے دھونے کا کہے تو کیا یہ بچے کی توہین ہے؟‘‘
افسر نے جواب دیا، ’’تم حکومت کو بچہ سمجھتے ہو؟‘‘

مسخرہ مسکرایا، ’’نہیں جناب! میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ جو اپنی غلطی ماننے سے انکار کرے، اسے سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے، چاہے وہ بچہ ہو یا بادشاہ۔‘‘
افسر نے فائل بند کر دی۔ اسے مسخرے کی باتوں سے زیادہ اس کی بے خوفی پر غصہ آ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ مسخرہ ڈر جائے، معافی مانگے اور آئندہ زبان بند رکھنے کا وعدہ کرے۔ لیکن مسخرہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔
آخر افسر نے پوچھا، ’’تمہیں اپنی جان عزیز نہیں؟‘‘
مسخرے نے پہلی مرتبہ سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔
’’جناب! جان سب کو عزیز ہوتی ہے، مگر بعض لوگوں کو اپنی عزت بھی عزیز ہوتی ہے۔ میں کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، لیکن اگر سچ بولنے کے لیے ہر بار اپنی زبان کو قید کرنا پڑے تو پھر انسان اور پتھر میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟‘‘

افسر کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے دیا۔
مسخرہ کمرے سے باہر نکلا تو اس کے قدموں میں پہلے جیسی پھرتی نہ تھی۔ وہ بھی انسان تھا، اسے بھی خوف آتا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ خوف کو اپنی زبان کا مالک نہیں بننے دیتا تھا۔
چند دن گزرے۔ شہر میں اچانک شدید بارش ہوئی۔ ندی کا پانی کناروں سے باہر نکل آیا۔ نشیبی بستیوں میں پانی داخل ہو گیا۔ لوگوں کے گھر ڈوبنے لگے، دکانیں بند ہو گئیں اور سڑکیں تالابوں میں بدل گئیں۔ وہ شہر جس میں ہر روز ترقی کے دعوے کیے جاتے تھے، چند گھنٹوں میں اپنی کمزور بنیادوں سمیت پانی میں کھڑا تھا۔
لوگ مدد کے لیے پکارنے لگے۔ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور صورتِ حال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ مگر بستی کے لوگ جانتے تھے کہ ان تک ابھی کوئی کشتی نہیں پہنچی، کسی نے ان کے بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل نہیں کیا اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔

مسخرہ اپنی پرانی ٹوپی سر پر جمائے پانی میں اتر گیا۔ اس نے ایک بچے کو اٹھا کر محفوظ مقام تک پہنچایا، پھر ایک بوڑھی عورت کو سہارا دیا۔ اس کی گھنٹی پانی میں بھیگ کر خاموش ہو چکی تھی، مگر اس کے ہاتھ مسلسل حرکت کر رہے تھے۔
گستاخ مراد آبادی بھی وہاں پہنچ گیا۔ اس نے لوگوں کو جمع کیا، نوجوانوں کے ساتھ مل کر لکڑی کے تختوں سے عارضی راستہ بنایا اور پھنسے ہوئے خاندانوں کو نکالنے میں مدد کی۔ علامہ ابن العجم الشرقی نے محلے کی مسجد اور ایک اسکول کے دروازے کھلوا دیے، جہاں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کے لیے پناہ کا انتظام کیا گیا۔
رات گئے جب بارش تھمی تو حاکم صاحب کی گاڑیوں کا قافلہ وہاں پہنچا۔ کیمرے ساتھ تھے، تصویریں بنائی جا رہی تھیں اور امدادی سامان کی تقسیم کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ ایک افسر نے حاکم صاحب کے ہاتھ میں خشک راشن کا تھیلا دیا تاکہ وہ اسے ایک متاثرہ خاندان کے حوالے کرتے ہوئے تصویر بنوا سکیں۔
حاکم صاحب ایک گھر کے سامنے پہنچے تو مسخرہ وہیں بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے کیچڑ سے بھرے ہوئے تھے، چہرے پر تھکن تھی اور ہاتھوں پر خراشیں تھیں۔

حاکم صاحب نے اسے دیکھ کر کہا، ’’تم یہاں بھی آ گئے؟‘‘
مسخرے نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا، ’’جی جناب! سنا تھا کہ عوام کی خدمت ہو رہی ہے، سوچا ہم بھی ہاتھ بٹا دیں۔‘‘
حاکم صاحب نے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’ہم نے تمام متاثرین کے لیے امدادی سامان فراہم کر دیا ہے۔‘‘
مسخرے نے اپنے سامنے بیٹھے ایک بچے کی طرف اشارہ کیا جس کے ہاتھ میں خالی پیالہ تھا۔
’’جناب! یہ بچہ شاید آپ کے اعلان سے بے خبر رہ گیا ہے۔ اسے بھی اطلاع دے دیجیے کہ امداد آ چکی ہے، تاکہ یہ بھوک سے بے ہوش ہونے سے پہلے خوشی منا لے۔‘‘
حاکم صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ انہوں نے کیمرے والوں کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔

اسی وقت علامہ ابن العجم الشرقی آگے بڑھے اور مؤدبانہ انداز میں بولے، ’’جناب! یہ موقع ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں، لوگوں کو سہارا دینے کا ہے۔ اگر انتظامیہ سے کوتاہی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرنا کمزوری نہیں، ذمہ داری ہے۔ انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ کبھی غلطی نہ کرے، بلکہ اس میں ہے کہ غلطی سامنے آنے پر اصلاح سے انکار نہ کرے۔‘‘
حاکم صاحب نے کچھ کہنا چاہا، مگر ان کی نگاہ ایک عورت پر پڑی جو اپنے بھیگے ہوئے بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔ بچے کے ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے۔ قریب ہی ایک بوڑھا شخص اپنی چھت کے گر جانے کا قصہ سنا رہا تھا۔ دوسری طرف چند نوجوان زخمیوں کو اٹھا کر لے جا رہے تھے۔

پہلی مرتبہ حاکم صاحب نے اپنے اردگرد کیمرے تلاش کرنے کے بجائے لوگوں کے چہرے دیکھے۔
انہوں نے اپنے ساتھ آئے افسر سے کہا، ’’فوراً مزید راشن منگوائیں، طبی عملہ بلائیں اور ان لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کریں۔‘‘ افسر نے تعمیل میں سر ہلایا۔
مسخرے نے آہستہ سے کہا، ’’جناب! آج آپ نے ایک اچھا حکم دیا ہے۔‘‘
حاکم صاحب نے اسے دیکھا۔ شاید وہ اس جملے میں چھپی ہوئی تعریف سننا چاہتے تھے، مگر مسخرے نے بات مکمل کر دی۔
’’بس کوشش کیجیے گا کہ اس حکم کی عمر اگلی تقریر تک محدود نہ رہے۔‘‘
حاکم صاحب کے لبوں پر ایک کمزور سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اس مرتبہ وہ مسکراہٹ کیمرے کے لیے نہیں تھی۔

بارش کے بعد شہر کی گلیوں میں کیچڑ تھا، دیواروں پر نمی کے نشان تھے اور کئی گھروں کے دروازے ٹوٹ چکے تھے۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت صفائی شروع کر دی۔ کہیں نوجوان ملبہ ہٹا رہے تھے، کہیں عورتیں کھانا پکا کر متاثرین میں تقسیم کر رہی تھیں اور کہیں بچے اپنی کتابوں کو دھوپ میں سکھا رہے تھے۔مسخرہ ایک دن پھر پرانے چوک میں پہنچا۔ اس کی ٹوپی اب بھی رنگ برنگی تھی، مگر اس کے پیوند پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکے تھے۔ اس نے گھنٹی بجائی تو چند بچے دوڑ کر اس کے پاس آ گئے۔
ایک بچے نے پوچھا، ’’مسخرے چچا! کیا آپ پھر ہمیں ہنسائیں گے؟‘‘مسخرے نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’ضرور بیٹا! لیکن آج پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ۔ اگر تمہارے گھر میں آگ لگ جائے اور کوئی شخص تمہارے سامنے کھڑا ہو کر تمہیں لطیفے سنانے لگے تو تم کیا کرو گے؟‘‘
بچے نے فوراً جواب دیا، ’’اس سے کہوں گا کہ پہلے آگ بجھاؤ، پھر لطیفے سنانا!‘‘
مسخرہ زور سے ہنسا۔ ’’شاباش! تم نے تو آج کی پوری مجلس کی سب سے بڑی بات کہہ دی۔ ہنسی اپنی جگہ، مگر جہاں گھر جل رہے ہوں وہاں پہلے آگ بجھانا ضروری ہے۔‘‘

گستاخ مراد آبادی اور علامہ ابن العجم الشرقی بھی وہاں پہنچ گئے۔ تینوں چوک کے کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ علامہ نے مسخرے سے پوچھا، ’’اب تمہیں اپنے فن کا مقصد پہلے سے زیادہ واضح ہو گیا ہوگا؟‘‘
مسخرے نے کہا، ’’جی علامہ صاحب! پہلے میں سمجھتا تھا کہ لوگوں کو ہنسانا ہی میرا کام ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ ہنسی کے اندر سوال بھی چھپا ہوتا ہے، اور سوال کے اندر اصلاح کا امکان۔ لیکن اب یہ بھی سمجھ آیا ہے کہ صرف دوسروں کی غلطیاں دکھانا کافی نہیں، جہاں ہاتھ بڑھانے کی ضرورت ہو وہاں ہاتھ بھی بڑھانا چاہیے۔‘‘
گستاخ مراد آبادی نے کہا، ’’اور میں نے یہ سیکھا ہے کہ سچ کو بلند آواز میں کہنا ہی کافی نہیں، اسے ایسے کہنا بھی ضروری ہے کہ سننے والا اپنے دفاع کے بجائے اپنی اصلاح کے بارے میں سوچ سکے۔‘‘
علامہ ابن العجم الشرقی نے مسکرا کر کہا، ’’یہی شعور انسان کو تماشائی سے کردار بناتا ہے۔ معاشرے کی اصلاح صرف کسی ایک شخص کی ذمہ داری نہیں۔ حکمران کو جواب دہ ہونا چاہیے، شہری کو ذمہ دار ہونا چاہیے، صاحبِ علم کو دیانت دار ہونا چاہیے اور صاحبِ زبان کو اپنی زبان کے اثرات کا احساس ہونا چاہیے۔ جب ہر شخص اپنا حصہ ادا کرے تو اجتماعی زندگی میں تبدیلی کی راہ نکلتی ہے۔‘‘مسخرے نے اپنی ٹوپی اتاری، اسے جھاڑا اور دوبارہ سر پر رکھ لیا۔

’’تو پھر علامہ صاحب! کیا اب مجھے مسخرہ کہنا بند کر دیا جائے؟‘‘علامہ ہنس پڑے۔
’’نہیں، تم مسخرہ ہی رہو۔ بس خیال رکھنا کہ تمہاری ہنسی کسی کی عزت نہ توڑے، تمہارا طنز کسی مظلوم کے زخموں پر نمک نہ چھڑکے اور تمہاری خاموشی کسی ظالم کے لیے ڈھال نہ بن جائے۔‘‘
گستاخ مراد آبادی نے اضافہ کیا، ’’اور ہمیں بھی یاد دلاتے رہنا کہ ہم دوسروں کی اصلاح کرتے کرتے خود کو فراموش نہ کر بیٹھیں۔‘‘
مسخرے نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا، ’’صاحبو! یہ تو بہت مشکل کام ہے۔ دوسروں کے چہروں پر گَرد دیکھنا آسان ہے، اپنے چہرے پر جمی مٹی صاف کرنا ذرا دشوار ہے۔‘‘تینوں ہنس پڑے۔کچھ عرصے بعد شہر میں ایک نئی عمارت تعمیر ہوئی۔ اس کے دروازے پر ایک تختی لگائی گئی جس پر لکھا تھا: ’’مرکزِ عوامی خدمت و اصلاح‘‘۔ اس مرکز میں لوگوں کی شکایات سنی جاتیں، ان کی درخواستوں پر کارروائی کی جاتی اور ہر ماہ انتظامیہ کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کی جاتی۔ یہ تبدیلی مکمل نہیں تھی، مگر ایک آغاز ضرور تھا۔

حاکم صاحب اب بھی حاکم تھے۔ ان کے مشیر بھی موجود تھے، تقریریں بھی ہوتی تھیں اور تعریف کرنے والوں کی کمی بھی نہ تھی۔ فرق صرف یہ آیا تھا کہ کبھی کبھی وہ کسی سوال کو سن کر فوراً غصے میں نہیں آتے تھے۔ بعض اوقات وہ رُک کر سوچتے، کسی افسر سے وضاحت مانگتے اور کبھی اپنی غلطی تسلیم بھی کر لیتے۔ شاید انہیں پہلی مرتبہ احساس ہوا تھا کہ عہدہ انسان کو بڑا ضرور بنا سکتا ہے، مگر درست ثابت نہیں کر سکتا۔مسخرہ اب بھی شہر کے چوک میں لوگوں کو ہنساتا تھا۔ کبھی وہ دکانداروں کے ناپ تول پر لطیفہ سناتا، کبھی دفتروں کی سستی پر طنز کرتا اور کبھی اپنے ہی اوپر ہنس لیتا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا،
’’بھائیو! میں بھی انسان ہوں۔ میری بات کو آخری سچ نہ سمجھ لینا۔ اگر کبھی میری غلطی نظر آئے تو مجھے بھی آئینہ دکھا دینا۔ آخر آئینے کو بھی تو معلوم ہونا چاہیے کہ اس میں اپنا چہرہ دکھانے والا کون ہے!‘‘

ایک شام علامہ ابن العجم الشرقی اس کے پاس آئے۔ چوک میں لوگ جمع تھے۔ ایک شخص نے مسخرے سے پوچھا، ’’تمہارے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا مسخرہ کون ہے؟‘‘
مسخرے نے اپنی ٹوپی اتاری، اسے ہاتھ میں گھمایا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، ’’وہ شخص جو دوسروں کو بے وقوف سمجھتا ہے، اپنی ہر غلطی کا الزام زمانے پر رکھتا ہے، ہر تعریف کو سچ اور ہر تنقید کو سازش سمجھتا ہے۔‘‘
اس شخص نے پوچھا، ’’کیا وہ کوئی بادشاہ ہوتا ہے؟‘‘
مسخرے نے جواب دیا، ’’ہو بھی سکتا ہے، مگر ضروری نہیں۔ وہ کسی دفتر کا افسر، کسی ادارے کا سربراہ، کسی محفل کا مقرر، کسی گھر کا بزرگ یا کبھی کبھی تمہارے سامنے کھڑا ہوا ایک عام آدمی بھی ہو سکتا ہے۔‘‘مجمع میں ہلکی سی ہنسی پھیلی۔مسخرے نے اپنی انگلی اپنے سینے کی طرف اٹھائی۔

’’اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ کبھی کبھی وہ ہمارے اندر بھی بیٹھا ہوتا ہے۔ ہم اسے پہچان نہیں پاتے، کیونکہ اس نے ہمارے اپنے چہرے کا نقاب پہن رکھا ہوتا ہے۔‘‘
اس بار مجمع خاموش رہا۔علامہ ابن العجم الشرقی نے آہستہ سے کہا، ’’آج تم نے سب سے مشکل آئینہ دکھایا ہے۔‘‘
مسخرہ مسکرایا۔ ’’علامہ صاحب! دوسروں کے چہرے دکھانے والے آئینے تو ہر بازار میں مل جاتے ہیں۔ اصل آئینہ وہ ہے جس کے سامنے کھڑے ہو کر انسان اپنی ذات سے سوال کر سکے۔‘‘
چوک میں شام کی روشنی دھیرے دھیرے مدھم ہو رہی تھی۔ دکانوں کے چراغ روشن ہونے لگے تھے۔ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے، مگر اس روز کئی چہروں پر ایک ایسی خاموشی تھی جو ہنسی کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ شاید کسی نے اپنے لہجے کے بارے میں سوچا تھا، کسی نے اپنے عہدے کے بارے میں، کسی نے اپنے وعدوں کے بارے میں اور کسی نے پہلی مرتبہ اپنے ضمیر کی آواز سننے کی کوشش کی تھی۔

مسخرہ اپنی گھنٹی بجاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔اس کے پیچھے بچے ہنستے ہوئے چل رہے تھے۔ گستاخ مراد آبادی خاموشی سے اس کی باتوں پر غور کر رہا تھا اور علامہ ابن العجم الشرقی آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے زیرِ لب کہہ رہے تھے،
’’اللّہ کرے کہ انسان ہنسی سے صرف لطف اندوز نہ ہو، اس سے کچھ سیکھ بھی لے۔‘‘
چوک کے کنارے لگے ایک پرانے آئینے پر شام کی آخری کرن پڑی تو اس میں تین چہرے دکھائی دیے۔ ایک مسخرے کا، ایک سچ کے متلاشی کا اور ایک نصیحت کرنے والے کا۔ پھر کرن آگے بڑھ گئی اور آئینہ دوبارہ دھندلا سا ہو گیا۔لیکن اس روز شہر کے لوگوں نے ایک بات ضرور سمجھ لی تھی کہ آئینہ کبھی کسی کو خوب صورت یا بدصورت نہیں بناتا؛ وہ صرف حقیقت دکھاتا ہے۔ اس حقیقت کو قبول کرنا یا اس سے منہ موڑ لینا انسان کا اپنا فیصلہ ہے۔

اور شاید اسی لیے دنیا میں مسخرے کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی؛ اس لیے نہیں کہ لوگ ہنسی سے محروم نہ ہوں، بلکہ اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سنجیدگی کے نام پر جھوٹ تخت نشین ہو جائے، خوشامد دانش مندی کہلانے لگے اور سچ بولنے والے کو اس کے سوالوں سمیت دروازے سے باہر نکال دیا جائے۔کیونکہ معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اس میں مسخرے موجود ہیں؛ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کبھی کبھی پورا معاشرہ تماشا بن جاتا ہے اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ایسے میں ایک مسخرہ آتا ہے، اپنی گھنٹی بجاتا ہے، چند جملے کہتا ہے اور ہنسی کے پردے میں چھپا ہوا آئینہ لوگوں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔جو دیکھ لے، وہ سنور سکتا ہے؛ جو نہ دیکھے، وہ عمر بھر اپنی ہی خوش فہمی کا قیدی رہتا ہے۔اور جو آئینہ توڑنے کے بعد بھی اپنے چہرے کو بے عیب سمجھے، اس سے بڑا مسخرہ شاید ہی کوئی ہو۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment