ہوم << فرانس: معاشی ناہمواری کا بحران – ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
600x314

فرانس: معاشی ناہمواری کا بحران – ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

کسی معاشرے کے اضطراب کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ اس کے ایوانوں، پارلیمانوں اور اقتصادی اشاریوں کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا کبھی کبھی شہر کی کسی مہنگی تجارتی شاہراہ پر ٹوٹا ہوا شیشے کا دروازہ، بکھرا ہوا سامان اور لوٹ مار کا منظر بھی ان تضادات کو نمایاں کردیتا ہے جنہیں خوش نما معاشی اعداد و شمار کی دبیز تہوں میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فرانس سے متعلق ہنگاموں اور عالمی شہرت یافتہ لگژری برانڈز کی دکانوں میں لوٹ مار کی اطلاعات اسی وسیع تر سوال کی طرف توجہ مبذول کراتی ہیں کہ جدید ریاستیں معاشی ترقی، سماجی انصاف اور شہری اطمینان کے درمیان توازن قائم کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوئی ہیں۔

فرانس محض یورپ کا ایک ملک نہیں، بلکہ آزادی، مساوات اور اخوت جیسے سیاسی و سماجی تصورات کی تاریخی علامت بھی ہے۔ انقلابِ فرانس نے اٹھارہویں صدی کے اواخر میں موروثی مراعات، مطلق العنان اقتدار اور طبقاتی امتیاز کے خلاف ایک ایسی فکری تحریک کو جنم دیا جس کے اثرات عالمی سیاست اور جدید جمہوری تصورات پر مرتب ہوئے۔ لیکن تاریخ کا ایک بنیادی سبق یہ بھی ہے کہ کسی انقلاب کے نعرے اگر ریاستی ڈھانچے میں مستقل سماجی انصاف کی صورت اختیار نہ کرسکیں تو ان کی معنویت وقتاً فوقتاً نئے سوالات کی زد میں آتی رہتی ہے۔ آج کے فرانس میں عوامی بے چینی کے اسباب کو بھی اسی تاریخی اور معاشرتی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، اگرچہ کسی مخصوص احتجاج کو انقلابِ فرانس کے ساتھ براہِ راست مماثل قرار دینا علمی احتیاط کے منافی ہوگا۔

زیرِ بحث اطلاعات میں پیرس سمیت مختلف شہروں میں احتجاج، معاشی دباؤ اور عوامی سہولتوں سے متعلق شکایات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ان مظاہروں کے اسباب میں مہنگائی، قوتِ خرید میں کمی، خدماتِ عامہ کی خراب صورتِ حال اور معاشی عدم مساوات شامل ہیں تو یہ عوامل کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ دنیا کی متعدد معیشتوں میں شہریوں کو بڑھتے رہائشی اخراجات، توانائی کی قیمتوں، روزگار کے عدم تحفظ اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کی دشواریوں کا سامنا ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس اضافے کے ثمرات معاشرے کے مختلف طبقات تک کس تناسب سے پہنچتے ہیں، یہ سوال معاشی کامیابی کی حقیقی جانچ کے لیے زیادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

معاشی ناہمواری کا مسئلہ صرف امیر اور غریب کے درمیان آمدنی کے فرق تک محدود نہیں رہتا یہ مواقع، تعلیم، صحت، رہائش، سماجی تحفظ اور مستقبل کے امکانات میں تفاوت کو بھی اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔ جب ایک طرف دولت اور آسائش کی علامتیں غیرمعمولی نمایاں ہوں اور دوسری طرف شہریوں کا ایک طبقہ اپنی بنیادی ضروریات کے بارے میں مسلسل فکرمند رہے تو معاشرتی محرومی کا احساس شدت اختیار کرسکتا ہے۔ تاہم اس نفسیاتی کیفیت کو کسی پورے معاشرے کے تمام افراد کی مشترکہ سوچ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ عوامی ردِعمل طبقاتی، علاقائی اور سیاسی اعتبار سے مختلف ہوسکتا ہے۔

لوئی وٹون، ہرمیس اور رولیکس جیسے عالمی نام محض اشیا فروخت کرنے والے تجارتی اداروں کی شناخت نہیں، بلکہ عالمی منڈی میں برانڈ کی قدر، حیثیت کے اظہار اور مہنگی صارفیت کی علامت بھی ہیں۔ ان مصنوعات کی قیمت میں معیار اور ہنرمندی کے ساتھ برانڈ کی ساکھ، محدود دستیابی، ڈیزائن اور سماجی وقار کا تصور بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ چنانچہ ایسی دکانوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ایک علامتی پہلو ضرور رکھتی ہیں، لیکن اس علامت کو سمجھنے میں احتیاط لازم ہے۔ کسی مہنگی دکان کی لوٹ مار کو لازماً سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف شعوری بغاوت قرار نہیں دیا جاسکتا؛ یہ موقع پرستی، منظم جرائم، ہجوم کی نفسیات یا مختلف محرکات کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔ کسی مخصوص واقعے کی درست تعبیر کے لیے شواہد اور متعلقہ تحقیقات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

یہاں ایک نہایت اہم امتیاز ملحوظ رہنا چاہیے کہ احتجاج اور لوٹ مار ایک ہی چیز نہیں۔ شہریوں کو معاشی ناانصافی، ناقص انتظامی کارکردگی یا ریاستی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہونا جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن یہ حق دوسروں کی املاک تباہ کرنے، کاروبار لوٹنے اور شہریوں کی سلامتی خطرے میں ڈالنے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔ اسی طرح چند افراد یا گروہوں کے مجرمانہ افعال کو بنیاد بناکر تمام مظاہرین کو مجرم قرار دینا بھی انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہے۔ قانون کی حکمرانی کا حقیقی امتحان یہی ہے کہ ریاست پرامن اختلافِ رائے کا تحفظ کرے، تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے اور ہر شہری کے حقوق کو یکساں اہمیت دے۔

رائٹرز سے منسوب فراہم کردہ متن میں تقریباً 1,800 گرفتاریوں اور سیکڑوں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کا ذکر ہے، لیکن ان اعداد و شمار کو کسی مخصوص تاریخ اور واقعے کے ساتھ منسلک کرنے سے پہلے اصل خبر کی تصدیق ضروری ہے۔ محض ایک عدد خبر کو سنسنی خیز بنا سکتا ہے، مگر اس کی صحافتی قدر کا تعین صحت، سیاق و سباق اور قابلِ اعتماد ماخذ سے ہوتا ہے۔ یہی اصول مظاہرین کے مطالبات، تشدد کے محرکات اور سرکاری ردِعمل کی تشریح پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

فرانس کے اس معاملے سے وسیع تر سبق یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ معاشی استحکام صرف منڈیوں کی سرگرمی، تجارتی منافع اور دولت کے ارتکاز کا نام نہیں اس میں شہریوں کے اعتماد، بنیادی سہولتوں تک رسائی، منصفانہ مواقع اور اداروں کی جواب دہی کو بھی مرکزی مقام حاصل ہونا چاہیے۔ حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوامی شکایات کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے ان کے معاشی اور سماجی اسباب کا جائزہ لیں۔ دوسری طرف احتجاج کرنے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے جائز مطالبات کو تشدد اور لوٹ مار کی نذر نہ ہونے دیں۔

بالآخر کسی ملک کی ترقی کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کی شاہراہوں پر کتنے مہنگے برانڈز موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے شہری کتنے محفوظ، بااختیار اور مطمئن ہیں۔ دولت کی نمائش اگر سماجی ذمہ داری سے کٹ جائے اور عوامی احتجاج اگر اخلاقی حدود سے تجاوز کرجائے تو دونوں صورتوں میں معاشرتی توازن مجروح ہوتا ہے۔ ایک مستحکم ریاست وہی ہے جو معاشی ترقی کو انسانی وقار سے، آزادی کو ذمہ داری سے اور قانون کو غیرجانب داری سے وابستہ رکھے۔ یہی اصول فرانس کے لیے بھی اہم ہے اور دنیا کی ہر اس ریاست کے لیے بھی جو خوش حالی کے دعووں کو حقیقی عوامی اطمینان میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔