تاریخِِ انسانی گواہ ہے کہ جب کسی معاشرے سے عدل و انصاف رخصت ہو جائے، قانون کی بالادستی کمزور پڑ جائے، حق دار کو حق نہ ملے، مظلوم کی فریاد بے اثر ہو جائے اور طاقتور اپنی خواہش و مفاد کو قانون سمجھنے لگیں تو وہاں طوائفُ الملوکی جنم لیتی ہے۔ طوائِفُ الملُوکی محض سیاسی انتشار یا حکومتی کمزوری کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی اجتماعی کیفیت ہے جس میں قانون کا احترام ختم، اخلاقی حدود پامال، ادارے کمزور، مفاد پرستی مضبوط اور طاقت کا بے لگام استعمال معمول بن جاتا ہے۔
ہر شخص اپنی خواہش، اپنی طاقت اور اپنے مفاد کو مقدم سمجھنے لگتا ہے۔ نتیجتاً معاشرہ نظم و ضبط کے بجائے انتشار، بے یقینی، خوف اور بداعتمادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ریاست کا پورا نظام ایک مذاق، ایک ڈرامہ اور ایک مسلسل حادثہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ قانون کی کتابیں الماریوں میں محفوظ رہتی ہیں، دفاتر میں فائلیں چلتی رہتی ہیں، عدالتیں مقدمات سنتی رہتی ہیں، تقریریں ہوتی رہتی ہیں، مگر عملی زندگی میں اگر فیصلہ دلیل کے بجائے طاقت، انصاف کے بجائے تعلق، حق کے بجائے دولت اور قانون کے بجائے اثر و رسوخ اور رشوت سے ہونے لگے تو ریاست کی روح مجروح ہو جاتی ہے۔ پھر عام آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے: آخر وہ کس دروازے پر دستک دے؟ کس سے فریاد کرے؟
اور کس سے انصاف کی امید رکھے؟
قانون اگر کمزور کے لیے ہو تو یہ قانون نہیں، ظلم کا پردہ ہے. ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں، عمارتوں یا نعروں میں نہیں بلکہ قانون کی یکساں بالادستی میں ہوتی ہے۔ قانون کی عظمت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ طاقتور اور کمزور، امیر اور غریب، حاکم اور محکوم، اپنے اور غیر سب کے لیے ایک ہی معیار قائم کرے۔
اگر ایک غریب آدمی معمولی جرم پر گرفتار ہو جائے، مگر بااثر شخص سنگین خلاف ورزی کے باوجود قانون سے بچ نکلے، تو مسئلہ صرف ایک مقدمے کا نہیں رہتا؛ یہ پورے معاشرے کے اعتماد کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ جب عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ انصاف خریدنے والوں، سفارش رکھنے والوں، رشوت دینے اور لینے والوں یا طاقتور تعلقات رکھنے والوں کے لیے الگ راستہ ہے تو پھر قانون کا احترام دلوں سے نکل جاتا ہے۔ اور جس معاشرے میں قانون کا احترام ختم ہو جائے، وہاں جنگل کا قانون زیادہ دیر دُور نہیں رہتا۔ وہاں درندوں کا راج قاٸم ہو کر رہتا ہے۔
’’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘‘ ایک محاورہ یا معاشرتی المیہ؟
ہمارے معاشرے میں ایک مشہور محاورہ ہے: ”جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس۔‘‘ یہ محاورہ دراصل اُس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں حق اور دلیل کے بجائے طاقت فیصلہ کرتی ہے۔ جس کے پاس دولت ہے، اختیار ہے، تعلقات ہیں یا طاقت ہے، وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔کمزور شخص اپنے حق کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہتا ہے، جبکہ طاقتور اپنی طاقت کے بل پر دروازے کھلواتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور رعایا کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہونا شروع ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید کا نظامِ عدل:
دِینِ اسلام نے عدل کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔قرآن مجید میں اللّہ تعالٰی فرماتا ہے:
ترجمہ: ” اللّٰہ تعالٰی عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتاہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سب سبق لو۔“ ( سورۃ النحل آیت 90 )
ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ناشر: ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور، صفحہ 709
اس مختصر مگر جامع آیت میں اجتماعی زندگی کی تعمیر کے بنیادی اصول بیان کر دیے گئے ہیں: عدل، احسان، حقوق کی ادائیگی اور ظلم و سرکشی سے اجتناب۔ غور کیجیے کہ قرآن عدل کے مقابلے میں صرف ’’ظلم‘‘ کا لفظ نہیں لاتا بلکہ بغی یعنی سرکشی، زیادتی اور حدود سے تجاوز سے بھی روکتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو طاقتور کو قانون سے بالاتر سمجھنے کی ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا جس معاشرے میں ظلم، زیادتی، حق تلفی اور طاقت کا ناجائز استعمال عام ہو جائے، وہاں قرآن کی اس بنیادی ہدایت سے انحراف پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔
انصاف اپنے خلاف بھی ہو تو انصاف!
قرآنِ مجید نے انصاف کا ایسا بلند معیار قائم کیا ہے جس میں انسان کو اپنے مفاد کے خلاف بھی حق کی گواہی دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
اللّہ تعالٰی فرماتا ہے:
ترجمہ:’’اے لوگو جو ایمان لاٸے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری ذات پر یا تہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللّہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پَیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچّاٸی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللّہ کو اس کی خبر ہے۔“
( سورۃ النساء آیت 135) ایضاً صفحہ 273
یہ آیت انصاف کی بنیاد ہی بدل دیتی ہے۔ یہاں انصاف کا معیار یہ نہیں کہ ’’میرا آدمی کون ہے؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ ’’حق کیا ہے؟‘‘
اگر مجرم اپنا ہو تو اس کے جرم کو جرم کہنا، اگر مخالف حق پر ہو تو اس کے حق کو تسلیم کرنا، اور اگر فیصلہ اپنے مفاد کے خلاف جاتا ہو تب بھی حق کا ساتھ دینا، یہی حقیقی عدل ہے۔آج ہماری بہت سی سماجی خرابیوں کی جڑ یہی ہے کہ ہم انصاف کو اصول کے بجائے وابستگی سے دیکھتے ہیں۔اپنا آدمی غلط ہو تو ہم عذر تراشتے ہیں، دوسرا آدمی درست ہو تو ہم اس کی نیت پر حملہ کرتے ہیں۔یہ عدل نہیں؛ یہ تعصب ہے۔
دشمن سے بھی انصاف!
قرآن مجید نے انصاف کو صرف دوستوں اور اپنوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ دشمن کے معاملے میں بھی عدل کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللّٰہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ اللّٰہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللّٰہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ ( سورۃ المائدہ آیت 8 ) ، ایضاً صفحہ 297
یہاں قرآن نے انسانی نفسیات کے ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کی ہے: دشمنی انسان کو انصاف سے ہٹا دیتی ہے۔مگر اسلامی تصورِ عدل یہ ہے کہ مخالف کے ساتھ بھی ظلم نہ کیا جائے۔اگر ہم کسی شخص سے اختلاف کی وجہ سے اس کا حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیں تو ہم دراصل اس شخص کے ساتھ نہیں بلکہ عدل کے اصول کے ساتھ خیانت کر رہے ہوتے ہیں۔
اقبالؒ: قوموں کی تقدیر افراد کے کردار سے بنتی ہے
علامہ اقبالؒ نے فرد اور قوم کے باہمی تعلق کو نہایت خوب صورتی سے بیان کیا:
؎افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارہ
کلیاتِ اقبال اُردُو از علامہ محمد اقبالؒ ،غ ع ، اشاعت فروری 1973ء ، صفحہ 657
یہ شعر فرد کی اجتماعی ذمہ داری کا اعلان ہے۔ اقبال کے نزدیک قوم کوئی بے جان ہجوم نہیں بلکہ زندہ افراد کا مجموعہ ہے۔ اگر افراد کردار، دیانت، محنت، شعور اور ذمہ داری سے محروم ہو جائیں تو قوم بھی کمزور ہو جاتی ہے۔یہ شعر ہمارے موضوع سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں: حکمران خراب ہیں، ادارے خراب ہیں، معاشرہ خراب ہے۔لیکن اقبالٓ ہمیں آئینہ دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ قوم افراد ہی سے بنتی ہے۔ اگر ایک شہری رشوت دیتا ہے، دوسرا رشوت لیتا ہے، تیسرا سفارش کرواتا ہے، چوتھا جھوٹا بیان دیتا ہے، پانچواں حق تلفی دیکھ کر خاموش رہتا ہے اور چھٹا طاقتور کی زیادتی کو اس لیے درست سمجھتا ہے کہ اس کا فائدہ اس کے اپنے گروہ کو پہنچ رہا ہے، تو پھر طوائفُ الملوکی صرف ایوانِ اقتدار میں نہیں بلکہ معاشرے کے کردار میں پیدا ہو چکی ہے۔اقبالٓ کا پیغام یہ ہے کہ قومی اصلاح کا آغاز فرد کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ فرد اور جماعت کا تعلق: ٓاقبالٓ نے ”رموزِ بے خودی “میں فرد اور مِلّت کے تعلق کو فارسی اشعار میں بھی بیان کیا:
؎فرد را ربطِ جماعت رحمت است
جوہرِ او را کمال از ملت است
ترجمہ: ”فرد کے لیے جماعت کے ساتھ تعلق رحمت کا باعث ہے؛ اس کے جوہر اور صلاحیتوں کو مِلّت ہی کے ذریعے کمال حاصل ہوتا ہے۔“
پھر فرماتے ہیں:
؎ تا توانی با جماعت یار باش
رونقِ ہنگامۂ احرار باش
ترجمہ: ”جہاں تک ہو سکے جماعت کا ساتھ دے اور آزاد لوگوں کی اجتماعی جدوجہد کی رونق بن۔“
ایک اور موقع پر علامہ فرماتے ہیں:
؎فرد قائم ربطِ مِلّت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں، اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
ایضاً صفحہ 190
اقبالٓ کے ہاں فرد کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اجتماعی ذمہ داری سے آزاد ہو جائے۔ فرد جب قانون، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری سے کٹ جاتا ہے تو اس کی آزادی خود غرضی بن جاتی ہے۔اور جب اجتماعی زندگی اصول و قانون سے محروم ہو جائے تو آزادی انارکی بن جاتی ہے۔لہٰذا مضبوط قوم کے لیے ضروری ہے کہ فرد باکردار بھی ہو اور قانون کا پابند بھی۔
اکبرٓ الہ آبادیؒ: طنز کے آئینے میں طاقت اور بے انصافی
اگر اقبالٓ نے قوم کی اصلاح کے لیے کردار اور اجتماعی ذمہ داری کا درس دیا تو اکبر الہ آبادیؒ نے اپنے طنز کے ذریعے معاشرتی اور سیاسی تضادات کو بے نقاب کیا۔
ان کا یہ مشہور شعر آج بھی ناانصافی کے دوہرے معیار پر ایک کاری طنز محسوس ہوتا ہے:
؎ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
یہاں ’’قتل‘‘ صرف جسمانی قتل تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے؛ شعر کا طنزیہ اثر اس وسیع سماجی صورتِ حال پر بھی پڑتا ہے جہاں کمزور کی معمولی لغزش بھی جرم بنا دی جاتی ہے اور طاقتور کی بڑی زیادتی بھی نظر انداز ہو جاتی ہے۔کمزور اگر احتجاج کرے تو بدنام، طاقتور اگر زیادتی کرے تو خاموشی!یہی تو وہ دورنگی، دورخاپن، منافقت اور دوہرا معیار ہے جو قانون کے احترام کو ختم کرتا ہے۔اکبرٓ الہ آبادی کا کمال یہ ہے کہ وہ ایک شعر میں پورے نظام کے تضاد کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔
اکبرؒ کا ایک اور طنزیہ آئینہ
اکبرٓ الہ آبادی کا یہ شعر بھی ہمارے معاشرتی اور سیاسی رویوں پر گہرا طنز ہے:
؎پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحبِ اولاد ہو گئے
یہ شعر بھی اکبرٓ کے معروف طنزیہ اشعار میں درج ہے۔اس شعر کو وکلا کی پوری برادری پر حکم نہیں سمجھنا چاہیے؛ اکبرٓ کا طنز دراصل قانون کے پیشے کے غلط استعمال، قانونی موشگافیوں اور انصاف کو محض پیشہ ورانہ چالوں تک محدود کر دینے والی ذہنیت پر ہے۔قانون اگر مظلوم کی حفاظت کا ذریعہ بننے کے بجائے طاقتور کو بچانے کا ہتھیار بن جائے تو قانون کی روح مجروح ہو جاتی ہے۔
طوائفُ الملوکی اور جنگل کا قانون:
جنگل میں طاقتور جانور کمزور جانور کو دبا لیتا ہے۔ وہاں کسی عدالت کا وجود نہیں، کوئی آئین نہیں، کوئی ضابطۂ شہادت نہیں۔ طاقت ہی بقا کا ذریعہ ہے۔لیکن انسان کو اللّہ تعالٰی نے عقل، شعور، اخلاق اور قانون عطا کیا ہے۔اس لیے انسانی معاشرے کی ترقی کا اصل نشان یہ نہیں کہ وہاں طاقتور کتنے طاقتور ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کمزور کتنا محفوظ ہے۔ایک مہذب ریاست وہ ہے جہاں ایک غریب شہری بھی یہ یقین رکھتا ہو کہ اگر اس کا حق مارا گیا تو قانون اس کی حفاظت کرے گا۔ اس کی جان و مال اور عزت وعظمت،عفت و عصمت محفوظ ہے۔اگر یہ یقین ختم ہو جائے تو عمارتیں ریاست کی باقی رہ سکتی ہیں، مگر ریاستی اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
طوائفُ الملوکی صرف حکمران پیدا نہیں کرتے
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ معاشرتی انتشار و افتراق اور فتنہ و فساد کا سارا بوجھ صرف حکمرانوں پر ڈال دینا آسان ہے، مگر مکمل حل نہیں۔حکمران جواب دہ ہیں۔ ادارے جواب دہ ہیں۔ افسر جواب دہ ہیں۔ عدالتیں، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی اپنی جگہ جواب دہ ہیں۔لیکن ہر شہری بھی جواب دہ ہیں۔ رشوت دینے والا بھی ذمہ دار ہے اور لینے والا بھی۔ جھوٹی گواہی دینے والا بھی ذمہ دار ہے اور جھوٹی گواہی خریدنے والا بھی۔سفارش کرنے والا بھی ذمہ دار ہے اور میرٹ پامال کرنے والا بھی۔ حق جانتے ہوئے خاموش رہنے والا بھی معاشرتی خرابی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔اسی لیے قرآن مجید کا پیغام صرف حکمرانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر فرد، ہر انسان کے لیے ہے۔
انصاف کا چراغ کیسے روشن ہو؟
طوائفُ الملوکی کا علاج محض تقریروں اور مذمتی بیانات سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے چند بنیادی اصولوں کو زندگی کا حصہ بنانا ہوگا:
اول: قانون سب کے لیے برابر ہو۔
دوم: ادارے افراد کے بجائے اصولوں کے تابع ہوں۔
سوم: سفارش اور رشوت کے دروازے بند کیے جائیں۔
چہارم: جھوٹی گواہی اور جھوٹے الزام کو معمولی جرم نہ سمجھا جائے۔
پنجم: عدلیہ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں میرٹ، دیانت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔
ششم: شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض بھی سمجھیں۔
ہفتم: سیاسی، مذہبی، لسانی اور ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حق کو حق اور باطل کو باطل کہا جائے۔
ہشتم: بچوں کی تربیت میں صرف کامیابی نہیں بلکہ کردار، امانت، دیانت اور قانون پسندی کو بھی بنیادی مقام دیا جائے۔
نہم: ہرشہری کی جان و مال، عفت و عصمت اورعزت و مرتبہ کو تحفظ دیا جائے . خاموشی بھی کبھی ظلم کو طاقت دیتی ہے،ایک معاشرے کی تباہی اس وقت تیز ہو جاتی ہے جب لوگ ظلم کو دیکھ کر کہتے ہیں: ’’ہمیں کیا؟‘‘
آج کسی اور کا حق مارا جا رہا ہے، کل ہمارا حق بھی مارا جا سکتا ہے۔آج کسی کمزور کو انصاف نہیں ملا، کل ہم بھی اسی دروازے پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا محض کسی دوسرے کے لیے نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے لیے بھی ضروری ہے۔لیکن آواز اٹھانے کا مطلب فساد یا قانون شکنی نہیں؛ بلکہ حق، دلیل، آئین، قانون اور پُرامن اجتماعی جدوجہد کے ذریعے اصلاح کی کوشش ہے۔
اقبال کا پیغام: کردار پیدا کرو
اقبال کی فکر کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔ ایک قوم کے پاس خزانہ ہو مگر دیانت نہ ہو تو دولت اسے نہیں بچا سکتی۔ قانون ہو مگر قانون نافذ کرنے والے کردار سے محروم ہوں تو قانون کتابوں میں رہ جاتا ہے۔
ادارے ہوں مگر اداروں میں بیٹھے افراد ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دیں تو ادارے اپنی روح کھو دیتے ہیں۔ اسی لیے اقبال کا شعر محض ایک ادبی مصرع نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کا منشور بن جاتا ہے:
؎افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارہ
ایضاً صفحہ 657
سوال ’’قانون کہاں ہے؟‘‘ سے آگے بڑھنا ہوگا
ہم اکثر پوچھتے ہیں: قانون کہاں ہے؟
مگر شاید ہمیں ایک اور سوال بھی پوچھنا چاہیے: قانون کی پاسداری کون کرے گا؟
ہم حکومت سے انصاف مانگتے ہیں، مگر کیا ہم خود انصاف کرتے ہیں؟
ہم رشوت کے خلاف بولتے ہیں، مگر کیا ہم سفارش کو قبول نہیں کرتے؟
ہم طاقتور کی زیادتی پر احتجاج کرتے ہیں، مگر کیا اپنے اختیار میں آنے والے کمزور کے ساتھ انصاف کرتے ہیں؟ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، مگر کیا خود قانون کی پابندی کرتے ہیں؟
یہ سوال صرف حکمرانوں سے نہیں، ہم سب سے ہے۔قرآن مجید کا حکم واضح ہے: عدل کرو، خواہ معاملہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو؛ دشمنی بھی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے۔اقبالٓ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قوموں کی تقدیر افراد کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔اور اکبر الہ آبادی اپنے طنز کے آئینے میں ہمیں یہ دکھاتے ہیں کہ جب معاشرے میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ معیار بن جائیں تو مظلوم کی آہ بھی بدنام اور ظالم کی زیادتی بھی بے نام ہو جاتی ہے۔لہٰذا طوائفُ الملوکی کا علاج کسی ایک حکمران، ایک ادارے یا ایک قانون کی تبدیلی میں نہیں؛ اس کا اصل علاج عدل، قانون کی بالادست، دیانت، کردار، جواب دہی اور اجتماعی شعور میں ہے۔
یاد رکھیے!
طاقت ہمیشہ نہیں رہتی، عہدے ہمیشہ نہیں رہتے، دولت ہمیشہ نہیں رہتی، مگر کردار کی خوشبو نسلوں تک باقی رہتی ہے۔ جس دن ریاست کا طاقتور بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہوگا اور کمزور بھی قانون کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھے گا، اس دن طوائفُ الملوکی کا اندھیرا چھٹنا شروع ہوگا۔
ورنہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی ہوگا: جب قانون کمزور اور طاقتور آزاد ہو جائیں تو ریاست باقی رہتے ہوئے بھی معاشرہ اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ اور پھر ہر طرف ایک ہی سوال گونجتا ہے:
’’قانون موجود ہے، مگر انصاف کہاں ہے؟‘‘
اس سوال کا جواب عدالتوں، ایوانوں اور دفاتر سے پہلے ہمیں اپنے اپنے کردار میں تلاش کرنا ہوگا۔



تبصرہ لکھیے