ہوم << کیا آپ مرتے ہوئے “آخری آدمی ” کو دیکھنا چاہتے ہیں؟ – اعجازالحق عثمانی
600x314

کیا آپ مرتے ہوئے “آخری آدمی ” کو دیکھنا چاہتے ہیں؟ – اعجازالحق عثمانی

کیا آپ نے کبھی کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے جو مر تو چکا ہے،مگر نہ کوئی زخم، نہ کوئی عارضہ، نہ کوئی سانحہ۔ آنکھیں وا ہیں، قدم رواں ہیں، لب جنبش میں ہیں۔مگر باطن کہیں خاموش ہو چکا ہے۔ ایک ایسی موت جس کا نہ کوئی کفن سلتا ہے، نہ ہی جنازہ اٹھتا ہے، اور نہ ہی کوئی لحد کھودی جاتی ہے۔ ایسی موت کوچوں میں بھٹکتی پھرتی ہے۔ دفتروں کی گرد آلود فائلوں میں سانس لیتی ہے، محفلوں میں قہقہے بکھیرتی ہے۔ اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی کہ اس کے پہلو میں ایک زندہ نعش بیٹھی ہے۔

نطشے نے صدیوں پہلے اس زندہ لاش کو “آخری آدمی” کہا تھا۔ وہ کردار جو “اوبرمینش” کی عین ضد ہے۔ ایک ایسا نہیلسٹ جس نے زندگی سے برسرپیکار رہنا کو خیرباد کہہ دیا، جو خطرہ مول نہیں لیتا، جو محض آسائش و ستائش کا طالب ہے، اور جسے یہ ادراک تک نہیں کہ وہ سانس تو لے رہا مگر کب اور کیسے اپنی روح سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ میں اکثر سوچتا ہوتا ہوں کہ انسان کی اصل متاع ااس کی فکر کا معیار ہے۔ مگر جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں، وہ دانستہ طور پر ایسا بنایا جارہا ہے کہ جس سے انسانی ذہن کی زرخیزی کو بنجر کر دیا جائے، تاکہ اسی افتادہ زمین سے زیادہ سے زیادہ معاشی خرمن سمیٹا جا سکے۔ یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو رفتہ رفتہ، دیمک کی مانند، ہماری بنیادوں کو چاٹ رہی ہے۔ نطشے نے “آخری آدمی” کی جو تمثیل کھینچی، وہ ایک ایسا کردار ہے جس نے آفات و مخاطرات سے روگردانی کر لی۔ وہ نہیلسٹ ہے، مگر ایک عجیب گونہ نہیلسٹ،غیرفعال، ماندہ، بے کیف۔ اس کی سرشت میں نہ باغیانہ حرارت باقی رہی، نہ سوال اٹھانے کی جسارت۔ اس کے نزدیک مقصد کوئی معنی نہیں رکھتا، کیونکہ معنی کی جستجو مشقت طلب ہے، اور مشقت اس کی لغت سے خارج ہو چکی ہے۔

اور جب انسان کے باطن میں یہ نہیلزم پختہ ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی کمزور ارادی طاقت کے باعث کسی سیل رواں کا حصہ بن جاتا ہے۔ کسی جماعت کا، کسی مسلک کا، کسی ایسی ریاست یا رہنما کا جو اسے یقین دلائے کہ اب اسے فکرمندی کی حاجت نہیں رہی، محض اعتماد و اطاعت درکار ہےاب۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں غلامی، آزادی کا لبادہ اوڑھ کر در آتی ہے۔مگر ہر نہیلزم رضاکارانہ نہیں ہوتا۔ یہی سب سے مہلک پہلو ہے اس بد بخت کا۔ جب انسان بلا ارادہ، بلا کسی شعوری فیصلے کے، اس گرداب میں دھنستا چلا جائے، تو یہ نہ صرف غیرارادی موت ہے بلکہ قتل بھی۔ ایسی موت جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، کیونکہ مقتول خود بھی بے خبر ہے کہ وہ کب کا فنا ہو چکا۔میں اپنی ذات کو بھی اس آئینے کے سامنے کھڑا کر کے دیکھتا ہوں۔
کیا میں بھی کہیں اسی سیم تھور زدہ سرزمین کا باسی تو نہیں بن گیا؟
جہاں فکر کی کوئی فصل نہیں اگتی؟

جب کبھی لگتا ہے کہ “آخری آدمی” بن گیا ہوں تو ڈر کر قلم اٹھتا ہوں۔اور مرتا ہوا “آخری آدمی” دیکھتا ہوں۔لکھنا میرے لیے کوئی تفنن طبع نہیں، بلکہ اس خاموش موت کے خلاف ایک مسلسل مزاحمت ہے۔ ہر سطر جو میں رقم کرتا ہوں، دراصل خود کو یہ باور کرانے کی سعی ہے کہ ابھی میں “آخری آدمی” نہیں بنا۔مگر اس گرد آلودہ فضاؤں میں کب تک اس” آخری آدمی ” کو مارے رکھوں؟ جہاں خود احتسابی سب سے دشوار عمل بن چکی ہے۔ تیس منٹ کسی موضوع پر سنجیدگی سے غور کرنا، ورزش سے بھی زیادہ کٹھن معلوم ہوتا ہے۔ کوئی ثقیل کتاب پڑھنا، وقت کا زیاں گردانا جاتا ہے، جبکہ اسی وقت کے سیکڑوں لمحے سطحی باتوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ دوستوں کی محفل میں بھی سنجیدہ و فکری نکتہ چھیڑنا جرم سمجھا جاتا ہے، بھلا اتنی مشقت کے بعد کون اپنی خفتہ فکر کو بیدار کرنا چاہے گا؟

اکثریت اپنی عمریں یونہی صرف کر دیتی ہے، خود کو یہ باور کراتے ہوئے کہ وہ عمیق فکر میں مصروف ہے، حالانکہ سوچ سطح آب سے نیچے کبھی نہیں اتری۔ ممکن ہے کوئی نادر شخص بغیر رقم کیے، بغیر کتابوں کے صفحے الٹے بھی گہرا مفکر ہو، مگر عام انسان کے لیے قلم و قرطاس ہی وہ کسوٹی ہیں جن پر خیال کو پرکھا جاتا ہے، تراشا جاتا ہے، اور از سر نو گھڑا جاسکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تاریخ کے فحول ذہنوں نے اپنی روداد، اپنے مکتوبات، اپنے منشور، اور اپنی تصانیف کے توسط سے اپنی فکر کو زندہ و جاوید رکھا۔ ہم قلم والوں کےلیے تو ادنی درجے کی سعی ہے یہ اس “آخری آدمی” کو مارنے کی۔ آپ بھی پڑھیے، سوچیے، لکھیے کہ “آخری آدمی” کو مرتا دیکھتے رہیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

اعجاز الحق عثمانی

اعجازالحق عثمانی ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ سپیرئیر یو نیورسٹی لاہور سے ایم فل کر رہے ہیں۔ تعلق تلہ گنگ سے ہے۔ ”انسائیکلو پیڈیا آف کلر کہار اور عثمانی نامہ، دو کتابوں کے مصنف ہیں۔ اردو پوائنٹ پر بطور اینکر جبکہ کئی پرائیوٹ ریڈیوز پر بطور آر جے کام کرتے رہے ہیں۔ مختلف اخبارات میں کالم لکھتے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment