ہوم << سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ ہی اسوۂ حسنہ اور کامیاب زندگی کا واحد راستہ – محمد عدنان
600x314

سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ ہی اسوۂ حسنہ اور کامیاب زندگی کا واحد راستہ – محمد عدنان

مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب، فیصل مسجد اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر

نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی ہمارے لیے کامل نمونہ

معزز نمازی حضرات!
اللہ رب العزت نے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک زندگی کو پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُو اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيرًا۔
ترجمہ:یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اس آیتِ مبارکہ کی روشنی میں بیان فرمایا کہ مسلمان کی زندگی کے لیے حقیقی اور کامل رہنمائی اگر کہیں موجود ہے تو وہ نبی کریم ﷺ کی مبارک سیرت میں ہے۔ گویا نبی کریم ﷺ کی زندگی صرف ایک نمونہ نہیں بلکہ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔دنیا میں سعادت، اطمینان اور عزت حاصل کرنے اور آخرت میں کامیابی و نجات پانے کا سب سے محفوظ راستہ یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور تعلیمات کے مطابق ڈھال لے۔

سیرتِ نبوی ﷺ کی چار عظیم خصوصیات
ڈاکٹر صاحب نے نہایت خوبصورت انداز میں سیرتِ طیبہ کی چار نمایاں خصوصیات بیان فرمائیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہر اعتبار سے کامل، جامع اور بے مثال ہے۔

1۔ سیرتِ نبوی ﷺ ’’اَجمل‘‘ ہے
سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی اَجمل ہے، یعنی سب سے زیادہ خوبصورت اور حسین ہے۔آپ ﷺ کے اخلاق، معاملات، عبادات، معاشرت، عادات، گفتار اور کردار، زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں حسن و جمال کی اعلیٰ ترین مثال موجود نہ ہو۔دنیا انسان کو زندگی گزارنے کے مختلف طریقے پیش کرتی ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ان تمام طریقوں سے زیادہ خوبصورت اور پاکیزہ ہے۔اس لیے اگر کوئی شخص سیرتِ نبوی ﷺ کو چھوڑ کر اپنی عقل، خواہش یا معاشرے کے بنائے ہوئے کسی طریقے کو زندگی کا معیار بنا لیتا ہے تو وہ درحقیقت اَجمل کو چھوڑ کر اس کے مقابلے میں کم تر اور بدتر راستہ اختیار کرتا ہے۔

2۔ سیرتِ نبوی ﷺ ’’اَعظم‘‘ ہے
دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت اَعظم ہے، یعنی سب سے عظیم اور بلند مرتبہ۔دنیا کے بڑے سے بڑے انسان، فلسفی، مفکر اور رہنما اپنی اپنی جگہ کچھ اصول اور نظریات پیش کر سکتے ہیں۔لیکن رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس کے مقابلے میں کسی کی زندگی اس درجے کی عظمت نہیں رکھتی۔آپ ﷺ کی تعلیمات انسان کو اللہ تعالیٰ سے تعلق، عبادت، اخلاق، عدل، رحم، عفو، صبر، شکر، معاملات اور معاشرت کے ہر شعبے میں اعلیٰ ترین رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔لہٰذا جو شخص نبی کریم ﷺ کے طریقے کو چھوڑ کر اپنے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ اَعظم کو چھوڑ کر ذلت اور کم تری کے راستے کی طرف جاتا ہے۔

3۔ سیرتِ نبوی ﷺ ’’اَکمل‘‘ ہے
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ سیرتِ رسول اللہ ﷺ اَکمل ہے، یعنی ہر اعتبار سے مکمل ہے۔ اسلام نے انسان کی زندگی کے کسی اہم شعبے کو نظرانداز نہیں کیا۔مسجد سے لے کر گھر تک، عبادت سے لے کر معاملات تک، والدین سے حسنِ سلوک سے لے کر اولاد کی تربیت تک، پڑوسی کے حقوق سے لے کر معاشرے کے معاملات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہر مقام پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔اسی لیے انسان کو اپنی زندگی کے لیے کسی ایسے نظام کی ضرورت نہیں جو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے باہر سے حاصل کیا جائے اور پھر اسے کامل سمجھا جائے۔ سیرتِ نبوی ﷺ اپنے اندر مکمل رہنمائی رکھتی ہے۔جو شخص اس کامل طریقے کو چھوڑ کر اپنی طرف سے کوئی طریقہ بناتا ہے تو وہ اَکمل کے مقابلے میں ناقص راستہ اختیار کرتا ہے۔

4۔ سیرتِ نبوی ﷺ ’’اَسہل‘‘ ہے
چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت اَسہل ہے، یعنی زندگی گزارنے کا سب سے آسان اور متوازن طریقہ۔اسلام انسان کو ایسی زندگی کی طرف نہیں بلاتا جو ناقابلِ عمل ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی مبارک زندگی کے ذریعے عبادت، معاملات، معاشرت اور انسانی ضروریات کے درمیان بہترین توازن قائم کرکے دکھایا۔آپ ﷺ کی سنت پر عمل انسان کو زندگی کے مختلف معاملات میں اعتدال، آسانی اور اطمینان عطا کرتا ہے۔اس کے برعکس جب انسان اپنی خواہشات، رسم و رواج یا اپنی بنائی ہوئی پیچیدہ راہوں کو زندگی کا معیار بناتا ہے تو بسا اوقات وہ ایسی مشکلات میں مبتلا ہوجاتا ہے جن سے سیرتِ نبوی ﷺ اسے محفوظ رکھ سکتی تھی۔گویا اَجمل، اَعظم، اَکمل اور اَسہل، یہ چاروں صفات سیرتِ رسول اللہ ﷺ کی عظمت کو واضح کرتی ہیں۔

اپنی طرف سے بنائے ہوئے راستوں کا انجام
ڈاکٹر صاحب نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بعض لوگ اپنی زندگی گزارنے کے لیے ایسے طریقے اختیار کر لیتے ہیں جو انہیں بظاہر اچھے، جدید یا کامیاب محسوس ہوتے ہیں۔ لیکن جب انہیں سیرتِ نبوی ﷺ کے معیار پر پرکھا جائے تو حقیقت سامنے آتی ہے۔جو راستہ اَجمل کے مقابلے میں ہو، وہ خوبصورتی کے بجائے بدصورتی کی طرف لے جاتا ہے۔جو اَعظم کے مقابلے میں ہو، وہ عظمت کے بجائے ذلت کا سبب بنتا ہے۔جو اَکمل کے مقابلے میں ہو، وہ تکمیل کے بجائے نقص اور کمزوری کا راستہ ہے۔اور جو اَسہل کے مقابلے میں ہو، وہ زندگی میں آسانی کے بجائے مشکلات اور پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے۔اس لیے عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اپنی خواہشات اور من پسند نظریات کے مطابق چلانے کے بجائے رسول اللہ ﷺ کے مبارک طریقے کو اپنا معیار بنائے۔

سیرتِ نبوی ﷺ دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات کا ذریعہ
معزز حاضرین!
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنانے میں صرف آخرت کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی کا سکون بھی موجود ہے۔انسان خوشی میں ہو یا غم میں، آسانی میں ہو یا پریشانی میں، صحت میں ہو یا بیماری میں، کامیابی کے وقت ہو یا آزمائش کے وقت، ہر موقع پر اسے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل کیا تھا، آپ ﷺ نے کیا فرمایا، کیا عمل کیا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت کس انداز میں فرمائی۔جب ہم سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں گے تو ہمارے معاملات میں بھی بہتری آئے گی، ہمارے اخلاق سنوریں گے اور ہمارے دل کو اطمینان نصیب ہوگا۔

سیرت سیکھنے کی ضرورت
ڈاکٹر صاحب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف سیرتِ نبوی ﷺ سے محبت کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ سیرت کو سیکھنا اور پھر اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
جب تک انسان سیکھے گا نہیں، اس وقت تک صحیح طریقے سے عمل کیسے کرے گا؟
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں، احادیثِ مبارکہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔سیرت کے دروس اور محافل میں شرکت کریں اور ایسے اہلِ علم کی صحبت اختیار کریں جو خود سیرتِ طیبہ سے واقف ہوں اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتے ہوں۔سیرتِ رسول اللہ ﷺ جتنی زیادہ ہماری زندگی میں آئے گی، اتنا ہی ہمارا کردار، ہماری عبادت، ہمارے معاملات اور ہمارا معاشرتی رویہ سنت کے مطابق ہوتا جائے گا۔اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم صرف نبی کریم ﷺ کا نام محبت سے لیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ ﷺ کی محبت ہمارے کردار میں نظر آئے۔ہماری زندگی آپ ﷺ کی سنت کے مطابق ہو اور ہمارے معاملات آپ ﷺ کی تعلیمات کے آئینہ دار ہوں۔

پیغام اور دعا
آخر میں ہمیں اپنے دل میں یہ عہد پیدا کرنا چاہیے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی کا حقیقی نمونہ بنائیں گے۔اپنی خوشیوں، غموں، مشکلات، پریشانیوں اور روزمرہ کے تمام معاملات میں آپ ﷺ کی سنت سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ رب العزت ہمیں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے۔آپ ﷺ کی سیرت کو سمجھنے، سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری زندگیوں کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھال دے اور دنیا میں سکون و سعادت اور آخرت میں نجات نصیب فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب نبی ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔