ہوم << صوبے نہیں انتظامی یونٹس – آصف امین
600x314

صوبے نہیں انتظامی یونٹس – آصف امین

پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا موضوع نہیں۔ وقتاً فوقتاً جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور اور دیگر علاقوں سے الگ صوبوں کی آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا چھوٹے انتظامی یونٹ ہی ہمارے مسائل کا بہتر حل ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ انتظامی ساخت بہت بڑے جغرافیائی اور آبادی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ خصوصاً پنجاب جیسا بڑا صوبہ جہاں ایک طرف لاہور ترقی کا مرکز ہے، وہیں دور دراز علاقوں کے شہری بنیادی سہولتوں کے لیے بھی طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتِ حال میں نئے صوبوں کا مطالبہ کسی حد تک فطری محسوس ہوتا ہے۔لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نیا صوبہ بنانا صرف نقشے پر ایک لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے نئی اسمبلی، سیکریٹریٹ، محکمے، انتظامی ڈھانچہ اور بے شمار اخراجات درکار ہوں گے۔ اگر نیا صوبہ بنانے کے باوجود اختیار چند بڑے شہروں تک محدود رہا تو عام آدمی کی مشکلات کہاں ختم ہوں گی؟

اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیار کی مرکزیت ہے۔ اگر بڑے صوبوں کو مزید ڈویژنوں اور اضلاع میں منظم کیا جائے، تحصیلوں کو بااختیار بنایا جائے اور بلدیاتی اداروں کو حقیقی مالی و انتظامی اختیار دیا جائے تو عوام کے بہت سے مسائل ان کی دہلیز پر ہی حل ہوسکتے ہیں۔تاہم جہاں کسی خطے کی آبادی، جغرافیہ، معاشی ضرورت اور انتظامی مسائل یہ ثابت کریں کہ موجودہ صوبائی ڈھانچہ ناکافی ہے، وہاں نئے صوبے کا مطالبہ ضرور سنجیدگی سے زیرِ غور آنا چاہیے۔پاکستان کو محض زیادہ صوبوں کی نہیں بلکہ زیادہ مضبوط اور بااختیار انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے عوامی سہولت، انتظامی کارکردگی اور قومی یکجہتی کو سامنے رکھ کر کرنا ہوگا۔آخرکار عوام کو نئے صوبے کے نام سے زیادہ آسان زندگی، بہتر تعلیم، معیاری صحت، روزگار، انصاف اور فوری سرکاری سہولتیں درکار ہیں۔نقشے بدلنے سے زیادہ ضروری نظام بدلنا ہے؛ اور اگر نظام عوام کی دہلیز تک پہنچ جائے تو شاید بہت سے نئے صوبوں کی ضرورت خود بخود کم ہوجائے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا موضوع نہیں۔ وقتاً فوقتاً جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور اور دیگر علاقوں سے الگ صوبوں کے قیام کی آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے، یا چھوٹے انتظامی یونٹ ہی ہمارے مسائل کا بہتر حل ثابت ہو سکتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ انتظامی ساخت وسیع جغرافیائی حدود اور بڑی آبادی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ خصوصاً پنجاب جیسے بڑے صوبے میں، جہاں ایک طرف لاہور ترقی کا مرکز ہے، وہیں دور دراز علاقوں کے شہری بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتِ حال میں نئے صوبوں کا مطالبہ کسی حد تک فطری محسوس ہوتا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ نیا صوبہ بنانا محض نقشے پر ایک لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے نئی اسمبلی، سیکریٹریٹ، محکمے، انتظامی ڈھانچہ اور خطیر اخراجات درکار ہوں گے۔ اگر نیا صوبہ قائم ہونے کے باوجود اختیارات چند بڑے شہروں تک محدود رہے تو عام آدمی کی مشکلات کس طرح کم ہوں گی؟

میرے نزدیک اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات کا ارتکاز ہے۔ اگر بڑے صوبوں کو مزید ڈویژنوں اور اضلاع میں منظم کیا جائے، تحصیلوں کو بااختیار بنایا جائے اور بلدیاتی اداروں کو حقیقی مالی و انتظامی اختیارات دیے جائیں تو عوام کے بہت سے مسائل ان کی دہلیز پر ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔تاہم جہاں کسی خطے کی آبادی، جغرافیائی صورتِ حال، معاشی ضروریات اور انتظامی مسائل یہ ثابت کریں کہ موجودہ صوبائی ڈھانچہ ناکافی ہے، وہاں نئے صوبے کے قیام کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔پاکستان کو محض زیادہ صوبوں کی نہیں بلکہ مضبوط، مؤثر اور بااختیار انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے عوامی سہولت، انتظامی کارکردگی اور قومی یکجہتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

آخرکار عوام کو نئے صوبے کے نام سے زیادہ آسان زندگی، معیاری تعلیم، بہتر صحت، روزگار کے مواقع، فوری انصاف اور مؤثر سرکاری خدمات درکار ہیں۔ نقشے بدلنے سے زیادہ ضروری نظام کو بہتر بنانا ہے؛ اور اگر نظام عوام کی دہلیز تک پہنچ جائے تو شاید بہت سے نئے صوبوں کی ضرورت خود بخود کم ہو جائے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment