ہمارا ملک ترقی پذیر نہیں ہے تو ترقی یافتہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جس ملک کے محنت کش مجبور، بے بس، لاچار اور مفلس ہی رہیں۔انہیں کھانے پینے،علاج، تعلیم اور جان و مال کا تحفظ نہ ہو۔حالانکہ مزدور کسان ہی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرتا ہے ہے،یہ اگر ہاتھ کھینچ لے تو ملک تباہ ہو جاٸے۔لیکن یہی طبقہ مشکلات و آزماٸش میں جکڑا ہوا ہے۔بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
حکمران طبقے اور اعلٰی افسروں کے لیے بجلی، تیل، پانی، علاج اور گیس مفت ہے اور ساتھ ہی دیگر مراعات بھی۔لیکن عوام کے لیے مشکلات ہی مشکلات۔ جیسے ہی گرمی شدت بڑھتی ہے تو بجلی کی کمی ہو جاتی ہے۔ عوامی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ شروع ہو جاتی ہے۔مزدور کسان جو دن بھر محنت مشقت کرتا ہے، رات کو آرام پانا چاہتا ہے لیکن بجلی غاٸب ہو جاتی ہے۔ لیکن بجلی کے بل بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ مزدور کی مزدوری کم اور مشقت زیادہ سے زیادہ، جو دن بھر اپنی زندگی کی توانائی دوسروں کے گھروں، دکانوں، کارخانوں اور کھیتوں میں خرچ کر دیتا ہے؟
وہ مزدور جو صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے، دھوپ میں اینٹیں اٹھاتا ہے، سڑکیں بناتا ہے، کھیتوں میں ہل چلاتا ہے، کارخانوں میں مشینوں کے شور کے درمیان پسینہ بہاتا ہے، تعمیرات کی بلند عمارتوں پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتا ہے اور شام کو تھکا ماندہ اپنے گھر لوٹتا ہے، اس کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوتی ہے؟ ایک وقت کی باعزت روٹی، بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور رات کو چند گھنٹوں کی پُرسکون نیند۔ مگر جب رات بھی گرمی، حبس، اندھیرے اور بجلی کی غیر یقینی کا شکار ہو جائے تو مزدور کا جسم کب آرام کرے اور اس کی تھکن کب اترے؟ یہ صرف بجلی کا مسئلہ نہیں؛ یہ انسانی وقار، معاشرتی عدل و انصاف اور بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔
محنت کی عظمت اور قرآن کا پیغام
دِینِ اسلام نے محنت کرنے والے انسان کو حقیر نہیں سمجھا بلکہ اس کی جدوجہد اور کسبِ حلال کو عزت عطا کی۔ قرآن مجید میں اللّہ تعالٰی کا ارشاد ہے:
ترجمہ: ”اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے ۔اور یہ کہ اس کی سعی ( یا کوشش ) عنقریب دیکھی جائے گی پھر اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی۔“ ( سورۃ النجم آیت 39، 40، 41، ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور اشاعت مارچ 1998ء ، صفحہ 1341 )
”یعنی ہر شخص جو کچھ بھی پائے گا اپنے عمل کا پھل پائے گا ۔ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرے کو نہیں مل سکتا۔ اور کوئی شخص سعی و عمل کے بغیر کچھ نہیں پا سکتا۔ (ایضاً صفحہ 1345)
یہ آیت بنیادی طور پر انسان کے اپنے عمل اور کوشش کی ذمہ داری بیان کرتی ہے، لیکن اس میں محنت اور سعی کی قدر کا ایک عظیم اصول بھی مضمر ہے۔ جو شخص اپنے ہاتھوں، ذہن اور جسم کی طاقت سے حلال روزی کماتا ہے، اس کی محنت کو معمولی سمجھنا دراصل انسانی عظمت کو معمولی سمجھنا ہے۔ قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللّہ تعالٰی نے انسان کے لیے دن کو معاش اور رات کو آرام کا ذریعہ بنایاہے۔ اللّہ تعالٰی کا ارشاد ہے:
ترجمہ: ”اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا، اور رات کو پردہ پوش،اور دن کومعاش کا وقت بنایا۔“ ( سورۃ النباء آیت 9تا11 ) ایضاً صفحہ 1513
قرآن کے اس تصوّر میں زندگی کا ایک خوب صورت توازن پوشیدہ ہے: دن محنت کے لیے، رات آرام کے لیے؛ دن معاش کے لیے، رات جسم و جان کی تجدید کے لیے۔ اگر دن بھر مزدور سے کام لیا جائے اور رات کو اسے آرام کا موقع بھی نہ ملے تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ انسانی ضرورتوں سے بے اعتنائی بھی ہے اور ظلم بھی۔
مزدور کی اجرت: احسان نہیں، حق ہے
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ مزدور کو اکثر ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے اس پر احسان کیا جا رہا ہو، حالاں کہ وہ اپنی محنت بیچ رہا ہے اور اس کے بدلے اجرت کا مستحق ہے۔ مزدور کی اجرت صدقہ نہیں، اس کا حق ہے۔ رسول اللّہ ﷺ نے مزدور کے حق کو اس قدر اہمیت دی کہ ایک حدیثِ قدسی میں اللّہ تعالیٰ کی طرف سے سخت وعید بیان فرمائی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ: تین آدمی ہیں جن سے قیامت کے دن میرا جھگڑا ہو گا،ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر کوئی معاہدہ کیا پھر اس نے اس عہد کو توڑ ڈالا،دوسرا وہ شخص جس نے کسی شریف اور آزاد آدمی کو اغوا کر کے اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی، تیسرا وہ شخص جس نے کسی مزدور کو مزدوری پر لگایا پھر اس سے پورا کام لیا اور کام لینے کے بعد اس کو اس کی مزدوری نہیں دی۔“ ( صحیح بخاری)
راہ عمل از مولانا جلیل احسن ندوی،ناشر: اسلامک پبلیکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور، صفحہ 117
ذرا اس وعید کی شدت پر غور کیجیے۔ مزدور سے کام لینا اور اس کی اجرت روک لینا ایسا معمولی معاملہ نہیں کہ اسے کاروباری چال، حساب کتاب کی تاخیر یا معمول کی بے قاعدگی کہہ کر نظرانداز کر دیا جائے۔ جس شخص نے کسی انسان کی پوری قوتِ کار استعمال کر لی مگر اس کا حق ادا نہ کیا، اس کے خلاف قیامت کے دن اللّہ تعالٰی خود مدعی ہوں گے۔ اس سے بڑا انتباہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
“پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری”
ترجمہ:”ابنِ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں،محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو۔( ابنِ ماجہ )
”کیونکہ مزدور کہتے ہی اس شخص کو ہیں،جس کو اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے روز محنت کرنی پڑتی ہے۔ اب اگر اس کی مزدوری کسی دوسرے دن پر ٹال دی جائے یا مار لی جائے،غصب کر لی جائے تو وہ شام کو کیا کھائے گا اور اپنے بچوں کو کیا کھلائے گا۔“
ایضاً صفحہ 117
اسلامی معاشرت میں مزدور کا حق اس لیے اہم ہے کہ مزدور صرف ”لیبر“ نہیں؛ وہ انسان ہے، اللّہ کا بندہ ہے، کسی گھر کا کفیل ہے، کسی ماں کا بیٹا ہے، کسی بچے کا باپ ہے۔ اس کے پسینے میں اس کے گھر کا چولہا جلتا ہے اور اس کی اجرت میں اس کے بچوں کی روٹی، دوا، تعلیم اور لباس شامل ہوتا ہے۔عدل: اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔اسلام نے عدل کو محض عدالتوں اور فیصلوں تک محدود نہیں رکھا۔ بازار میں عدل، کاروبار میں عدل، اجرت میں عدل، حکومت میں عدل اور معاشرت میں عدل—سب اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں۔
اللّہ تعالٰی فرماتا ہے: اللّٰہ تعالٰی عدل اور احسان اور صلّہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتاہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سب جان لو۔ ( سورۃ النحل آیت 90 )، ایضاً صفحہ 709
یہ آیت ہمارے اجتماعی زندگی کے لیے ایک جامع دستور ہے۔ جہاں عدل ہو وہاں طاقتور کمزور کو نہیں کھاتا، مالک مزدور کا حق نہیں دباتا، تاجر گاہک کو نہیں لوٹتا اور حکمران رعایا کو بے سہارا نہیں چھوڑتا۔اسی طرح اللّہ تعالٰی فرماتا ہے:
ترجمہ: مسلمانو! اللّٰہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللّٰہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللّٰہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے ۔ (سورۃ النساء آیت 58 ) ، ایضاً صفحہ 239
مزدور کی اجرت بھی ایک امانت ہے۔ ملازمت کا معاہدہ بھی ایک امانت ہے۔ کسی انسان کے وقت، صلاحیت اور جسمانی طاقت سے فائدہ اٹھانا اور اس کے بدلے طے شدہ حق ادا نہ کرنا امانت داری کے منافی ہے۔بلکہ ظلم و زیادتی ہے۔
وہ مزدور جو سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے، کیا اس کا جسم رات کو آرام کا حق دار نہیں؟
وہ خاتون جو پورا دن گھریلو مشقت کرتی ہے، کیا اسے رات کو پنکھے کی ہوا میں سکون سے سونے کا حق نہیں؟
وہ بچہ جو گرمی اور حبس میں روتا رہتا ہے، کیا اس کے والدین صرف اس لیے اسے تسلی دیں کہ “جنریٹر خریدنے کی استطاعت نہیں”؟
وہ مریض جسے سانس لینے میں دشواری ہے، کیا اس کی تکلیف صرف اس لیے کم اہم ہے کہ اس کے گھر میں بجلی کا متبادل انتظام موجود نہیں؟
یہ سوال کسی ایک طبقے کے خلاف نہیں؛ یہ پورے معاشرے کے ضمیر سے ہے۔امیر آدمی بجلی جانے پر جنریٹر یا یو پی ایس چلا لیتا ہے۔ متوسط طبقہ کسی نہ کسی طرح متبادل انتظام کر لیتا ہے۔ مگر غریب آدمی؟ اس کے پاس اکثر ایک پنکھا، ایک چارپائی اور دعا کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔یوں بجلی کا بحران صرف بجلی کا بحران نہیں رہتا؛ وہ طبقاتی نابرابری کی ایک اور شکل بن جاتا ہے۔
اقبال اور بندۂ مزدور
علامہ اقبال نے سرمایہ پرستی اور انسانی استحصال کے خلاف اپنی شاعری میں کئی مقامات پر آواز بلند کی۔ ان کے ہاں مزدور محض معاشی طبقہ نہیں بلکہ انسانی وقار اور عدل کے سوال کی علامت ہے۔ نظم “لینن: خدا کے حضور میں” میں اقبال سرمایہ دارانہ استحصال کی تلخی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
؎مزدوروں کی خدائے ذوالجلال سے فریاد:
تو قادر و عادل ہے ،مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂٕ مزدور کے اوقات
کلیاتِ اقبال اُردُو از علامہ محمد اقبالؒ ،غ ع ، اشاعت فروری 1973ء ، صفحہ 400
اور آگے سوال اٹھاتے ہیں:
؎کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ ؟
دُنیا ھے تیری منتظرِ روزِ مکافات!
ایضاً صفحہ 400
یہ اشعار اقبال کے اس گہرے احساس کی ترجمانی کرتے ہیں کہ اگر دنیا کی معاشی ترتیب انسان کو انسان کا غلام بنا دے اور محنت کرنے والا اپنی محنت کے ثمر سے محروم ہو جائے تو معاشی ترقی بھی انسانی انصاف کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ یہ اشعار اقبال کے مستند متن میں موجود ہیں۔ اقبال کا ایک اور معروف شعر انسانی عظمت اور بلند ہمتی کا درس دیتا ہے:
؎نہیں تیرا نَشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے! بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں!
ایضاً صفحہ 412۔
یہ شعر اگرچہ براہِ راست مزدور کے حقوق کے بارے میں نہیں، لیکن اقبال کے تصورِ خودی میں انسان کو محکومی، پستی اور احساسِ کمتری سے نکال کر بلند حوصلگی اور خود اعتمادی کی طرف لے جاتا ہے۔اسی طرح اقبال کا یہ شعر انسانی ہمدردی کا ایک روشن اصول سامنے رکھتا ہے:
؎خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں،بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا
ایضاً صفحہ 141
مزدور صرف ہاتھ نہیں، ایک مکمل انسان ہے
ہم نے معاشرے میں مزدور کے ساتھ ایک عجیب رویہ اختیار کر لیا ہے۔ جس شخص کے ہاتھ سے ہماری عمارت تعمیر ہوتی ہے، ہم اسے ”مزدور“ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جس کسان کی محنت سے ہمارے دسترخوان پر اناج آتا ہے، ہم اسے صرف ”کسان“ سمجھتے ہیں۔ جس ڈرائیور کی آنکھیں رات گئے تک جاگتی ہیں، ہم اسے صرف ”ڈرائیور“ کہتے ہیں۔ ہم ان کے پیشوں کو دیکھتے ہیں، ان کی انسانیت کو نہیں۔انہیں جانو مانو اور انسانوں جیسا سلوک کرو۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مزدور کے ہاتھ پر پڑے چھالے صرف اس کی غربت کی علامت نہیں؛ وہ ہماری معیشت کی تعمیر کے نشان ہیں۔ اس کی پیشانی کا پسینہ صرف اس کے جسم سے نہیں نکلتا، اس میں ہماری بستیوں، سڑکوں، کارخانوں، کھیتوں اور عمارتوں کی داستان بھی شامل ہوتی ہے۔اگر مزدور نہ ہو تو شہر کی بلند عمارتیں خاموش ہو جائیں، کھیت ویران ہو جائیں، کارخانے رک جائیں اور بازاروں کی رونق ماند پڑ جائے۔جس ہاتھ کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، دراصل وہی ہاتھ معاشرے کو حرکت دیتا ہے۔مزدور کسان کے ساتھ ظلم و زیادتی مسلمان معاشرے اور مسلمان ملک میں ہو رہی ہے۔ہم کیسے مسلمان ہے؟ علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں:
؎شور ہے ہو گئے دُنیا سے مسلماں نابُود
ہم یہ کہتےہیں کہ تھےبھی کہیں مُسلم موجُود؟
وضع میں تُم ہو نصاریٰ تو تمدُّن میں ہنُود
یہ مسلماں ہیں!جِنھیں دیکھ کے شرمائیں یہُود!
یوں تو سیّد بھی ہو، مِرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کُچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
ایضاً صفحہ 203
حکومت اور صاحبانِ اختیار کی ذمہ داری
ریاست کی ذمہ داری صرف بجلی پیدا کرنا یا بل وصول کرنا نہیں؛ ریاست کی اصل ذمہ داری یہ بھی ہے کہ بنیادی سہولتیں عام انسان تک منصفانہ انداز میں پہنچیں۔
بجلی کی فراہمی میں یہ احساس شامل ہونا چاہیے کہ بجلی صرف ایک تجارتی شے نہیں، جدید زندگی کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ ہسپتال، پانی، تعلیم، روزگار، صنعت، زراعت اور گھریلو زندگی سب بجلی سے جڑے ہوئے ہیں۔اس لیے توانائی کے نظام میں شفافیت، جواب دہی، مؤثر منصوبہ بندی اور کمزور طبقوں کا تحفظ ناگزیر ہے۔اسی طرح مزدور کے لیے بروقت اور منصفانہ اجرت، محفوظ ماحولِ کار، مناسب اوقاتِ کار اور قانونی تحفظ محض انتظامی مطالبات نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تقاضے ہیں۔حکمرانوں کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ عوام کا منصبِ اقتدار دراصل ایک امانت ہے، اور قرآن کا حکم ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچائی جائیں اور فیصلے عدل کے ساتھ کیے جائیں۔
تاجر، صنعت کار اور مالک کے لیے ایک سوال
ہر صنعت کار، تاجر اور مالک کو رات سونے سے پہلے صرف ایک سوال اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا آج میں نے کسی انسان سے اس کی محنت پوری لی اور اس کا حق پورا ادا کیا؟
اگر جواب ہاں ہے تو اللّہ کا شکر ادا کرے۔اگر جواب نفی میں ہے تو اسے اس حدیث کو یاد کرنا چاہیے جس میں اللّہ تعالٰی نے اس شخص کے بارے میں سخت وعید فرمائی جو مزدور سے پورا کام لے مگر اس کی اجرت ادا نہ کرے۔کاروبار میں منافع حرام نہیں، مگر ظلم کے ذریعے منافع کمانا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔ دولت کمانا جرم نہیں، مگر کسی کے پسینے کو اپنے منافع کا ایندھن بنا دینا اور اسے اس کا حق نہ دینا جرمِ اخلاق بھی ہے اور جرمِ آخرت بھی۔
ہمارے لیے بھی ایک سبق
صرف حکومت، صنعت کار اور بڑے مالکان ہی ذمہ دار نہیں؛ ہم سب ذمہ دار ہیں۔ہم اپنے گھروں میں کام کرنے والے افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ ان کی اجرت وقت پر دیتے ہیں یا مہینوں مؤخر کرتے ہیں؟ دکاندار، مستری، درزی، ڈرائیور، مالی، چوکیدار اور دوسرے محنت کشوں کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے؟
کسی غریب سے چند سو روپے بچا لینا اگر ہمارے لیے معمولی بات ہے تو اس کے گھر میں وہی چند سو روپے شاید ایک بچے کی دوا، ایک دن کا راشن یا اسکول کی فیس ہوں۔ہمیں اپنے دل سے یہ خیال نکالنا ہوگا کہ غریب کی ضرورت ہماری ذمہ داری نہیں۔قرآن کا عدل ہمیں صرف مسجد میں نہیں، بازار میں بھی چاہیے؛ صرف نماز میں نہیں، معاملات میں بھی چاہیے؛ صرف زبان پر نہیں، کردار میں بھی چاہیے۔ اللّہ تعالٰی عدل کا حکم دیتا ہے اور زیادتی سے روکتا ہے۔
روشنی صرف بلب کی نہیں
رات کا اندھیرا صرف اس وقت نہیں ہوتا جب بلب بجھ جائیں۔ اصل اندھیرا اس وقت اترتا ہے جب دلوں سے احساسِ انسانیت بجھ جائے۔ایک شہر میں ہزاروں گھروں کی کھڑکیوں سے روشنی جھانک رہی ہو، مگر اگر ایک مزدور کی جھونپڑی میں اس کے بچوں کی بھوک اور گرمی کے آنسو موجود ہوں تو اس شہر کو مکمل روشن نہیں کہا جا سکتا۔روشنی صرف بجلی کی نہیں؛ روشنی انصاف کی بھی ہوتی ہے۔ روٹی صرف آٹے کی نہیں؛ روٹی عزتِ نفس کی بھی ہوتی ہے۔
آرام صرف نرم بستر کا نام نہیں؛ آرام اس اطمینان کا نام ہے کہ انسان نے دن بھر کی حلال محنت کے بعد رات کو بے خوف ہو کر آنکھیں بند کی ہیں۔اور ترقی صرف بلند عمارتوں، چوڑی سڑکوں اور روشن بازاروں کا نام نہیں؛ ترقی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ معاشرے کا سب سے کمزور انسان کس قدر محفوظ، باعزت اور مطمئن زندگی گزار رہا ہے۔ مزدور کے پسینے کی قدر کیجیے۔ اس کی اجرت وقت پر ادا کیجیے۔ اس کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کیجیے۔ اپنے گھروں، کاروباروں اور اداروں میں انصاف کو جگہ دیجیے۔ حکمرانوں سے بھی مطالبہ کیجیے کہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی زندگی کا مسئلہ سمجھا جائے۔محمد رسول اللّہ ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ مزدور کی اجرت روکنے والا قیامت کے دن اللّہ کی طرف سے سخت گرفت کا سامنا کرے گا۔ اور قرآن کا اعلان ہے:
“یقیناً اللہ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا۔”(النحل، 16:90)
لہٰذا ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ”مزدور کو حق دو“ بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہیے کہ مزدور کا حق واقعی حق ہے۔رات کا اندھیرا شاید ہمارے اختیار میں نہ ہو، مگر انصاف کا چراغ جلانا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔اگر ہم نے وہ چراغ روشن کر دیا تو ممکن ہے بجلی کی روشنی کبھی کم بھی ہو جائے، مگر انسانیت کی روشنی کم نہیں ہوگی۔اور جس معاشرے میں مزدور کے پسینے کی قدر، اس کی روٹی کا احترام، اس کے آرام کا خیال اور اس کے حق کی حفاظت ہونے لگے، وہ معاشرہ صرف روشن نہیں ہوتا، وہ زندہ ہو جاتا ہے۔



تبصرہ لکھیے