مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
یہ آیت مبارکہ حضور اکرم ﷺ کی مدح میں ہے۔ بہت سارے علماء حضرات خاتم النبیین کا معنی “آخری نبی” کرتے ہیں۔ خاتم النبیین کا معنی صرف “آخری نبی” نہیں ہے۔ خاتم النبیین کا معنی اگر صرف “آخری نبی” کریں تو مدح بنتی نہیں ہے، اس لیے خاتم النبیین کا ایسا معنی کرنا چاہیے، جس سے پتہ چلے کا حضور علیہ السلام کی تعریف ہورہی ہے۔
صرف پہلے اور بعد میں آنے سے کسی کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ پہلے خلیفہ ہیں، جبکہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ آخری خلیفہ ہیں۔ خاتم الخلفاء حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں، لیکن ،،افضل البشر بعد الانبیاء،، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ پہلے آنے کی کوئی خاص وجہ ہو یا پھر آخر میں آنے کی کوئی خاص وجہ ہو۔ حضور اکرم ﷺ کی فضیلت آخر میں آنے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ حضور علیہ السلام کی فضیلت اس خاص وجہ سے ہے، جس وجہ سے آخر میں آئے ہیں۔
مثال سے سمجھیے: ایک طالب علم چھٹیوں میں بھی مدرسہ میں رہتا ہے، اس سے کوئی پوچھے بھائی آپ چھٹیوں میں بھی مدرسہ میں رہتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ کہتا ہے مدرسہ کے قریب ایک مسجد میں مؤذن ہوں، دن کے اوقات میں فارغ رہتا ہوں تو وقت گزاری کے لیے مدرسہ میں آجاتا ہوں۔ ایک دوسرا طالب علم بھی چھٹیوں کے اوقات میں مدرسہ میں رہتا ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے، آپ چھٹیوں میں بھی مدرسہ میں کیوں رہتے ہیں، وہ کہتا ہے میں مدرسہ میں دورہ کر رہا ہوں، گذشتہ سال کی کتابوں میں جو کمی کوتاہی رہ گئی ہے میں چھٹیوں میں مدرسہ میں رہ کر اس کمی کوتاہی کو پورا کرنا چاہتا ہوں۔ ان دونوں طالب علموں میں فضیلت کا حقدار وہ طالب علم ہے، جو چھٹیوں کے اوقات میں پڑھائی کی وجہ سے مدرسہ میں ٹھہرا ہوا ہے۔ معلوم ہوا صرف مدرسہ میں ٹھہرنا فضیلت کی بات نہیں ہے، بلکہ جس وجہ سے ٹھہرا ہے، وہ وجہ فضیلت کا سبب ہے۔ لہٰذا خاتم النبیین کا معنی ایسا بیان کیا جائے، جس سے پتہ چلے کہ حضور اکرم ﷺ کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔
خوب سمجھ لیں خاتمیت کی دو قسمیں ہیں۔
1۔ خاتمیت ذاتیہ
2۔ خاتمیت
خاتمیتِ زمانی سے مراد یہ ہے کہ کسی ہستی کا کسی سلسلے میں آخری ہونا، یعنی اس کے بعد زمانی اعتبار سے کوئی دوسرا نہ آئے۔ خاتمیت ذاتیہ کو مثال سے سمجھیں۔ دنیا میں نعمتوں کے حصول کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کو نعمتیں براہِ راست (بلاواسطہ) عطا کی جاتی ہیں، جبکہ بعض کو یہ نعمتیں کسی واسطے کے ذریعے ملتی ہیں۔ جب کوئی نعمت بغیر کسی واسطے کے ملے تو اسے “ذاتی” کہا جاتا ہے اور جب کسی کے واسطے سے ملے تو اسے “عرضی” کہا جاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو نبوت بلا واسطہ ملی ہے، تو حضور علیہ السلام کی نبوت ذاتی ہے اور باقی انبیاء کو حضور علیہ السلام کے واسطہ سے ملی ہے، لہذا ان کی نبوت عرضی ہے اور اصول یہ ہے کہ جو چیز کسی کو ذاتی طور پر عطا کی جائے، اس کا آغاز بھی اسی سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام بھی اسی پر ہوتا ہے۔ لہٰذا خاتمیت ذاتیہ کا معنیٰ یہ ہوا کہ نبوت شروع بھی حضور علیہ السلام سے ہوئی ہے اور ختم بھی ان پر ہی ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے خاتم النبیین کے دو معنیٰ ہیں آخری بھی ہے اور ذاتی بھی ہے۔
“خاتم النبیین” کے دونوں معنیٰ مراد لینے سے یہ بات نکھر کر سامنے آتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نہ صرف سلسلۂ نبوت کے آخری نبی ہیں، بلکہ نبوت کی اصل اور مرکز بھی ہیں، جن سے یہ نور شروع ہوا اور انہی پر کامل ہو کر ختم ہوا۔ اسی معنیٰ کی روشنی میں حضور اکرم ﷺ کی عظمت ایک کامل اور بے مثال حقیقت بن کر ابھرتی ہے۔



تبصرہ لکھیے