ہوم << ریاست کے وسائل پر ملکیت کا حق – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
600x314

ریاست کے وسائل پر ملکیت کا حق – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ریاست کے وسائل کس کے ہیں؟ ان پر ملکیت کا حق کس کو حاصل ہے؟ ان کی تقسیم اور ان کے استعمال کیلیے فیصلے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ ان سوالات کا انحصار اس پر ہے کہ ریاست اور شہریوں کا تعلق کس اصول پر قائم ہے؟ اس آخری سوال پر غور کریں، تو ایک اور سوال سامنے کھڑا ہوجاتا ہے: کیا ریاست ہدف ہے یا وسیلہ؟ مقصد ہے یا ذریعہ؟ منزل ہے یا راستہ؟

پھر ان سارے سوالات سے پہلے بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست کیا ہے؟ اسی سے شروع کرلیتے ہیں۔ سیاسیات کی نصابی کتب میں عام طور پر ریاست کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ چار عناصر کے مجموعے کو ریاست کہا جاتا ہے: مخصوص خطہ زمین، اس پر مستقل قیام پذیر آبادی، وہاں قائم منظّم حکومت اور اقتدارِ اعلیٰ۔ ’ریاستوں کے حقوق وہ فرائض کے متعلق مونٹیویڈیو معاہدہ 1933ء ‘ میں ’’اقتدارِاعلیٰ‘‘ کی جگہ ’’دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت‘‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ ان چار عناصر کے مجموعے سے ایک الگ اور مستقل قانونی وجود تشکیل پاتا ہے جسے قانون اپنی مخصوص اصطلاح میں ’’شخصیت‘‘عطا کرتا ہے۔ گویا ان چار عناصر سے تشکیل پانے والا وجود، یعنی ریاست،بین الاقوامیقانون کی نظر میں ایک ’’فرضی شخص‘‘ہے اور بین الاقوامی قانون اس فرضی شخص پر فرائض عائد کرتا اور اس کیلیے حقوق متعین کرتا ہے۔ ریاست نام کا یہ فرضی شخص وجود میں کیسے آتا ہے؟

سیاسیات کی نصابی کتب میں اس کیلیے مختلف نظریات بیان کیے جاتے ہیں۔ مثلاً برطانیہ کے ایک بادشاہ نے کہا تھا کہ اسے خدا نے حکمران بنایا ہے اور خدا نے ہی لوگوں کو اس کا محکوم بنایا ہے۔ ’خدائی استحقاق‘ کا یہ نظریہ آج عجیب معلوم ہوتا ہے حالانکہ آج بھی جب کوئی ریاست یا کسی ریاست کا کوئی ادارہ عوام کے سامنے جوابدہی سے خود کو مبرّا سمجھتا ہے، تو یہ اصل میں ’خدائی استحقاق‘ کے اس نظریے ہی کی بازگشت ہوتی ہے۔ تاہم بقولِ اقبال، جب سے آدم ذرا خود شناس اور خود نگر ہوا ہے، تو ’خدائی استحقاق‘ کے اس نظریے کو ’جمہوری لباس‘ پہنا دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ مان لیا گیا ہے کہ حاکم و محکوم کا تعلق ایک ’عمرانی معاہدے‘ کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے، ایک ایسا معاہدہ جس میں حاکم و محکوم کے حقوق و فرائض متعین کردیے گئے ہیں۔ کئی لوگ ریاست کے آئین کو ہی ایک ایسا عمرانی معاہدہ سمجھتے ہیں۔

ہمارے ہاں ’پیغامِ پاکستان‘ نامی دستاویز میں بھی ایسا ہی قرار دیا گیا ہے۔ یہ موقف کئی سوالات اور تضادات کو جنم دیتا ہے، لیکن ان کو نظر انداز کرکے فی الوقت اس بات پر غور کی ضرورت ہے کہ ’وفاقی ریاست‘کئی اکائیوں کا مجموعہ ہوتی ہے اور وہ اکائیاں اپنی خود مختاری بڑی حد تک محفوظ رکھتے ہوئے دفاع، امورِ خارجہ اور ایسے چند مخصوص امور میں اپنا اختیار ایک وفاقی حکومت کیلیے چھوڑ دیتی ہیں۔اس لیے اس بندوبست کا تحریر میں لانا ضروری ہوتا ہے اور اس تحریری بندوبست کو، جسے آئین کہا جاتا ہے، وفاقی ریاست کی ان اکائیوں کے درمیان ایک طرح سے ’بین الاقوامی معاہدے‘ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اس معاہدے میں وفاق اور اکائیوں کے درمیان (جنھیں ہمارے ہاں صوبے کہا جاتا ہے) امور طے کرلیے جاتے ہیں اور تمام فریقوں کیلیے حدود کا تعین کرلیا جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے آئین کی دفعہ 172 میں طے کیا گیا ہے کہ پاکستان کے علاقائی پانیوں سے ماورا سمندری سطح میں زمین، معدنیات اور دیگر قیمتی اشیا کی ملکیت وفاقی حکومت کے پاس ہوگی، لیکن کسی صوبے یا اس سے متصل علاقائی پانی میں معدنی تیل اور قدرتی گیس صوبے اور وفاقی حکومت کی مشترک ملکیت میں ہوں گے۔

اسی طرح زمینی محصولات کیلیے قانون سازی کا اختیار صوبوں کے پاس ہے اور ایسے قوانین میں تصریح کی گئی ہے کہ تمام معدنیات اور کان صوبائی حکومت کی ملکیت میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت، یا خود ریاست، اس کے پاس یہ ملکیت کہاں سے آگئی؟ آئین و قانون میں ان کے لیے یہ ملکیت کس اصول پر تسلیم کی گئی ہے؟ ہمارا آئین اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع ہوتا ہے اور آئین کے دیباچے کی ابتدا میں یہ اقرار کیا گیا ہے کہ پوری کائنات پر اقتدارِ اعلیٰ تنہا اللہ تعالیٰ کی ہے اور یہ کہ اس کے تفویض کردہ اختیارات پاکستان کے عوام کے پاس ایک ’’مقدس امانت‘‘ کے طور پر ہیں جنھیں وہ ’’اس کے مقرر کردہ حدود کے اندر‘‘ رہ کر ’’اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے‘‘استعمال کریں گے۔ تو پھر اصل سوال یہ ہے کہ معدنیات اور دیگر وسائل کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کیا حدود مقرر کی ہیں اور پاکستان کے عوام نے اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود کے اندر اس اختیار کے استعمال کیلیے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے آئین و قانون میں کیا اصول طے کیے ہیں؟ اس آئینی و قانونی بندوبست سے باہر کسی کو ملکیت یا تصرف کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

ایک یہودی لوک کہانی میں سکندر اعظم کسی دور دراز علاقے میں ایک قبیلے تک پہنچ جاتا ہے اور وہاں کے سردار سے کہتا ہے کہ وہ ان کے رسم و رواج کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ سردار اسے اپنے ساتھ ایک مقدمے کی سماعت کیلیے بٹھا دیتا ہے۔ مدعی کہتا ہے کہ اس نے زمین اپنے دوست کو بیچ دی تھی لیکن بعد میں اس زمین میں خزانہ نکل آیا، تو اب اس کا دوست وہ خزانہ اسے لوٹا دینا چاہتا ہے جبکہ خود اس کا دعوی یہ ہے کہ وہ زمین سب کچھ سمیت بیچ چکا ہے اور اس لیے وہ زمین واپس نہیں لے سکتا۔ مدعا علیہکہتا ہے کہ میں نے تو صرف زمین ہی خریدی تھی، خزانے کا تو مجھے علم ہی نہیں تھا، اس لیے یہ خزانہ میں نہیں لے سکتا۔ سردار ان دونوں سے پوچھتا ہے کہ کیا ان کے بیٹے اور بیٹی کی آپس میں شادی کرائی جاسکتی ہے؟

ان کی رضامندی پر وہ فیصلہ کردیتا ہے کہ خزانہ اس بچی کو جہیز میں دے دیا جائے۔ سکندر حیرت سے یہ معاملہ دیکھتا ہے۔ سردار حیرت کی وجہ پوچھتا ہے، تو سکندر بتاتا ہے کہ میرے ملک میں یہ مقدمہ یوں ہوتا کہ مدعی خزانے پر دعوی کرتا اور مدعا علیہ اسے خزانہ دینے سے انکار کرتا۔ سردار پوچھتا ہے کہ پھر آپ کیسے فیصلہ کرتے؟ سکندر کہتا ہے کہ میرا یہ فیصلہ یہ ہوتا کہ زمین خریدار کی ہوئی، قیمت فروخت کنندہ لے، اور خزانہ سرکار کا! سردار حیرت سے پوچھتا ہے کہ کیا تم لوگوں کو رزق وافر مقدار میں ملتا ہے؟ سکندر جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ سردار تھوڑی دیر سوچتا ہے، پھر پوچھتا ہے کہ کیا تمھارے ہاں بچے، ضعیف اور معذور ہوتے ہیں؟ سکندرکہتا ہے کہ ہاں۔ سردار کہتا ہے کہ تمھیں رزق انھی کی وجہ سے ملتا ہے ورنہ تمھارے کرتوت ایسے ہیں کہ تم اس رزق کے مستحق نہیں تھے۔ ملتا جلتا واقعہ صحیح حدیث میں بھی پچھلی اقوام کے حوالے سے ذکر ہوا ہے، اگرچہ اس میں سکندر کا نام مذکور نہیں ہے۔ یہ بات بھی صحیح حدیث میں آئی ہے کہ تمھیں رزق تمھارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ملتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔قبل ازیں سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داری بھی انجام دی۔ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment