قسط نمبر 4
صعصعہ بن صوحان عبدی وغیرہ کا دمشق پہنچنا
قسط نمبر 4 گزشتہ سے پیوستہ ہے۔ الغرض وہ لوگ دمشق میں پہنچے جناب معاویہ نے ان کو کنیسہ مریم میں رکھا ان کے نام پر وہی وظیفہ جاری کر دیا۔ جو انہیں عراق میں خلافت سے ملا کرتا تھا اور روز صبح و شام انہیں اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھا کے کھلاتے دو چار روز بعد برسبیل تذکرہ ان سے کہا:
”تم لوگ اہل عرب ہو۔ خدا نے تمہیں دانت دیے ہیں اور زبانیں بھی دی ہیں۔ تم کو شرف اسلام حاصل ہوا۔ دنیا کی قوموں پر غالب آئے، اور ان کی دولت کے وارث ہوئے مگر سنتا ہوں تم کو قریش سے مخالفت ہے حالانکہ اگر قریش نہ ہوتے تو تم ذلیل و خوار ہوتے ۔ یاد رکھو کہ تمھارے امام و خلیفہ تمھارے حق میں سپر کا کام کرتے ہیں۔ اس سپر سے تم باہر نہ نکلو۔ تمہارے امام خود تمہارے ظلم کو برداشت کرتے اور تمھاری حرکتوں سے تکلیفیں اٹھاتے ہیں ۔ لہذا میں تمہیں خدا کا واسطہ دلا کے کہتا ہوں کہ ان حرکتوں سے باز آ جاؤ ورنہ خدا تم پر ایسی آزمائشیں ڈالے گا جوبہت بری ہوگی۔ “
اس تقریر کے جواب میں صعصعہ بن صوحان عبدی نے کہا:
“قریش کی جنبہ داری میں آپ اتنا سب کہہ گئے مگر اس کا خیال نہ کیا کہ یہ لوگ نہ تعداد میں دیگر قبائل عرب زیادہ ہیں اور نہ جاہلیت میں کچھ ایسے بڑے بہادر تھے کہ آپ ہمیں ان کا خوف دلائیں۔ رہا یہ جو آپ نے ڈھال کا نام لیا تو سنیے۔ ڈھال جب پھٹ جائے تو ہم آزاد اور اس سے باہر ہیں ۔”
صعصعہ بن صوحان عبدی عبد القیس سے تعلق رکھتے تھے۔ بڑے فصیح و بلیغ تھے۔ زبان آور تھے۔ شبعی کہتے ہیں کہ صعصعہ ایک بہترین مقرر تھے۔ اصحاب علی سے تعلق رکھتے تھے۔صعصعہ کا یہ جواب سن کر جناب معاویہ نے کہا۔اب میری سمجھ میں آگیا کہ تم لوگ بےوقوف اور بے عقلی کے ہاتھوں خراب ہو۔ تم ہی ان سب میں فصیح اور زبان آور معلوم ہوتے ہو مگر تمہاری عقل کا یہ حال ہے کہ میں تو اسلام کا ذکر کرتا ہوں اور تم جاہلیت کا تذکرہ چھڑے دیتے ہو۔خدا ان لوگوں کو غارت کرے جنہوں نے تمہارے فتنہ کو بڑھایا۔ خیر اب مجھ سے عقل سیکھو، غالباً یہ تو تمارا خیال نہ ہوگا کہ جاہلیت اور اسلام دونوں عہدوں میں قریش کو جو عزت حاصل ہوئی وہ فقط خدا کی مرحمت تھی ۔ اس کو میں تسلیم کرتا ہوں کہ نہ وہ تعداد میں دیگر قبائل عرب سے زیادہ تھے اور نہ سب سے زبردست تھے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ وہ سب سے زیادہ شریف تھے اور نیکو کاری میں بڑھے ہوئے تھے۔
جاہلیت میں جب تمام قبائل عرب ایک دوسرے کو کھائے جاتے تھے۔ خدا نے محض اپنی عنایت سے ان کو اس آفت سے محفوظ رکھا اس لیے کہ ان کو اپنے حرم کے مقبول عام مامن میں جگہ دی جب کہ چاروں طرف لوٹ مار ہوتی رہتی تھی کوئی عربی یا عجمی اور گورا یا کالا ایسا بھی نظر آتا ہے جس کے وطن پر مصیبتیں پڑی ہوں، اور اس کی عزت خاک میں نہ ملی ہو۔ بجز قریش کے جن پرکسی دشمن نے اگر دست درازی کا ارادہ بھی کیا تو خدا نے اس کو ذلیل و رسواء کر دیا، یہاں تک کہ اللہ کی مرضی ہوئی کہ جو شخص اس کے دین کی عزت و پیروی کرے اُسے دنیا کی ذلت اور نبی کی خجالت سے محفوظ رکھے چنانچہ بہترین مخلوقات یعنی اپنے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت خلق اللہ کے لیے منتخب فرمایا پھر ان کے لیے اصحاب و رفقا منتخب فرمائے۔ اور بہترین صحاب وہی تھے جو قریش میں سے تھے ۔ اس دینی سلطنت کی بنیاد انہیں کے لیے قائم کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت خاص انہیں کے واسطے مخصوص کر دی ۔
لہذا تم خوب یاد رکھو کہ اس کے لیے بجز قریش کے اور کوئی موزوں نہیں ہے۔ جاہلیت اور کفر کے زمانے میں جب خدا ان کی حفاظت کرتا تھا تو کیا تمھارا خیال ہے کہ اب دینداری اور حق پرستی کے زمانے میں نہ کرے گا ؟
تم لوگوں کی حالت پر افسوس ہے اور اے صعصعہ تو تو وہ شخص ہے جس کا گاؤں سب گاؤں سے بہتر ہے اس کے گھر انتہا ہے زیادہ متعفن، اس کی وادی انتہا سے زیادہ پست۔ اس کے رہنے والے انتہا سے زیادہ بدنام اور اس کے جوار والے انتہا سے زیادہ نالائق ہیں کبھی کوئی شریف و وضیع آدمی اس بستی میں نہ آباد ہوا ہوگا کہ لوگ اُسے برا نہ کہنے لگے ہوں چنانچہ وہ لوگ سارے اہل عرب میں بدترین خطابوں سے یاد رکھے جاتے ہیں اور جن لوگوں سے ان سے سمدھیا نہ رہا۔وہ بھی نہایت برے تھے یاد کرو کہ تم لوگ فارسیوں کے مطیع ومنقاد تھے کہ دعوت اسلام کا آواز بلند ہو لیکن اب بھی ہنوز بحرین میں سکون نہیں ہو سکا تھا کہ تم لوگ بھی دعوت اسلام میں شریک ہو جاتے پھر اس کے ساتھ یہی خیال کر کہ تو اپنی قوم بھر میں برا ہے.
یہاں تک کہ اسلام نے تجھے کو نکال کر اور لوگوں میں شامل کردیا۔ مگر باوجود ان سب باتوں کے اب تُو آیا ہے کہ دین میں نقص پیدا کرے ؟
اور اسلام کو ذلیل کرے؟ خوب یاد کر کہ قریش کو اس سے ضرر نہ پہنچے گا اور کوئی چیز ان کو اپنا فرض بجالانے سے نہ روکے گا شیطان تم لوگوں سے غافل نہیں ہے ۔ اس کو تہماری خباثت معلوم ہوگئی۔ چنانچہ تمھارے ہی ذریعے سے وہ لوگوں کو بہکانے لگا تم لوگ اپنی شرارت سے ایک بات پیدا کر دیئے تو خدا تمہاری سرکوبی کے لیے اس سے بڑھ کے بڑی بات پیدا کر دے گا۔“
اس قدر سمجھانے بجھانے کے بعد جناب معاویہ ان کے پاس سے چلے آئے ۔ دو چار روز پھر ملے اور فرمایا تم گنتی کے چند آدمی ہو کسی کو تم سے فایدہ پہنچ سکتا ہے نہ ضرر لیکن اگر اپنی فلاح چاہتے ہو تواپنے ساتھیوں میں جا کے خاموش ہو کر بیٹھ رہو۔ اور جو انعام وظیفہ تمہیں مل رہا ہے وہ تم کو غارت نہ کردے۔ بہر حال تمہارا جہاں جی چاہے جاؤ میں تمھارے سب حالات امیر المومنین کو لکھ بھیجوں گا۔“
اس کے بعد پھر ان لوگوں کو بلوا کے کہا میں پھر تم سے کہتا ہوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے معصوم تھے۔ انھوں نے مجھ کو والی مقرر فرمایا اور اپنے معاملات میں شریک کیا۔ پھر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے انہوں مجھے گورنر مقرر کیا۔ بعد ازاں عمر فاروق خلیفہ ہوئے۔ انھوں نے بھی مجھ سے یہی خدمت لی۔ اس کے بعد عثمان ذوالنورین خلیفہ ہوئے اور انہوں نے بھی مجھے والی بنایا ہے یہ بھی کہتا ہوں کہ جن جن حضرات نے مجھے والی بنایا ۔ آخر تک مجھ سے خوش رہے ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کا معمول تھا کہ حکومت کے عہدوں کے لیے مسلمانوں میں سے ان لوگوں کو منتخب فرمایا کرتے تھے جو دولتمند ہوتے اور معاوضہ خیر کے مستحق ہوتے۔ لہذا تم لوگ اس بارے میں اختلاف نہ کرو اور میں سمجھتا ہو کہ تم جو کچھ زبان سے کہتے ہو اس کے خلاف کو تمہارے دل گواہی دے رہے ہیں؟
بعض راویوں کا بیان ہے کہ اس موقع پر جناب معاویہ نے ان لوگوں سے یہ بھی کہا سنو میں تم کو کسی بات کا حکم نہیں دیتا ہوں جب تک خود اپنے آپ کو اور اپنے خاندان والوں کو اس کا پابند نہیں بنا لیتا ہوں سارے قریش جانتے ہیں کہ میرے والد ابو سفیان سارے قریش میں اشرف تھے۔اور اشرف قریش کے فرزند تھے۔ بجز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جن کو اللہ جل شانہ نے شرافت دی ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا۔ اور سب سے شرف و فضل سے سیراب کیا۔ اور ابوسفیان کی نسبت تو میرا یہ خیال ہے اگر وہ سب آدمیوں کے باپ ہوتے تو ہر آدمی اعلے درجے کا مدبر و شجاع ہوتا۔اس پر صعصعہ نے بگڑ کرکہا۔تم جھوٹ کہتے ہو۔ سارے آدمی جن کی نسل سے ہیں یعنی آدم علیہ السلام اور ابوسفیان سے افضل اعلیٰ تھے۔ خدا نے انہیں خاص اپنے ہاتھ سے بنایا ان میں روح پھونکی اور فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا مگر جو ان سب باتوں کے اُن کی نسل میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی عقلمند بھی ہیں اور احمق بھی ۔ حضرت معاویہ نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا اور اٹھ کر چلے گئے۔
دوسری رات پھر ان سے ملے اور دیر تک گفتگو کرنے کے بعد کہا لوگو نیکی اختیار کرو۔اور اگر یہ نہیں ہو سکتا تو خاموش رہو۔اس پر صعصعہ نے کہا۔آپ حکومت کے اہل نہی ہیں اور نہ آپ کو فخرحاصل ہے۔ کہ اپ کی اطاعت میں خدا کی معصیت گوارا کرلی جائے۔ جناب معاویہ نے کہا۔ میں نے سب باتوں سے پہلے تم سے نہیں کہا تھاکہ میں تمہیں خدا سے ڈرنے اور رسول کی پیروی کرنے کا حکم دیتا ہوں ، اور یہ چاہتا ہوں کہ سب کے سب خدا کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو۔ اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ ان لوگوں نے کہا اختلاف ہم نے نہیں بلکہ تم نے اختلاف کرنےاور حکم نبوی کی مخالفت کا ہمیں درس دیا۔یہ سن کر معاویہ نے کہا۔اچھا تو اب میں تمہیں خدا اور رسول کی پیروی کا حکم دیتا ہوں۔اگر اختلاف کا کہا تھا درگاہ الٰہی میں توبہ کرتا ہوں۔اور تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ جماعت کے ساتھ چلو اپنے اماموں (خلفاء کی عزت کرو۔ اور جہاں تک ہو سکے ان کو اچھے راستے پر لے چلو۔
اس کے جواب میں صعصعہ نے درشتی کے ساتھ کہا اور ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اس عہدے سے علحدہ ہو جاؤ مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو تم سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں۔ جن کے آباؤ اجداد سابق الاسلام ہونے میں تمھارے باپ سے افضل ہے اور وہ خود بھی تم سے پہلے مسلمان ہونے کا شرف رکھتے ہیں۔ معاویہ نے کہا۔خداکی قسم مجھے بہتوں کے مقابلے میں سابق الاسلام ہونے کا فخر حاصل ہے اور ان میں ایسے بھی بہت سے لوگ موجود ہیں جو مجھ سے پہلے ایمان لائے اور مجھ سے افضل ہیں۔ مگر ساتھ ہی یہی ہے کہ میرے زمانے میں کوئی امارت کی خدمت انجام دینے والا اتنا زبر دست نہیں ہے جتنا کہ میں ہوں عمر بن خطاب کی یہی رائے تھی اور انہیں کوئی مجھ سے زیادہ زبردست نظر آتا تومیرے حال پر نظرعنایت ہرگز نہ ہوتی۔ مجھ سے کوئی ایسا فعل بھی نہیں سرزد ہوا کہ میں خدمت سے علحدہ ہونے کے قابل سمجھا جاؤں۔ بہرحال تم لوگ ان باتوں سے باز آؤ اور میں قسم کھا کے کہتا ہوں کہ اگر معاملات کا فیصلہ تمہاری ہوسوں کے مطابق ہوتا تو اسلام کو ایک دن یا ایک شب کے لیے بھی استقامت نہ حاصل ہوتی۔
اس بات کو سمجھو۔اور صلاحیت کی باتیں کرو۔خدا کی سطوت بہت زبردست ہے مجھے اندیشہ ہے کہ ایسا نہ ہو تم لوگ ان خیالات میں شیطان کی پیروی اور خدا کی نافرمانی کر بیٹھو اور اس کی پاداش میں داخل دوزخ ہو۔ یہ کلمات سنتے ہی وہ لوگ سخت برافروختہ ہو کہ غصے میں اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضرت معاویہ پرچھپٹ پڑے اور ان کی داڑھی پکڑ لی۔مگر حلم معاویہ مشہور تھا۔آپ نے کمال متانت سے فرمایا۔ ہٹو اور ہوش میں آؤ۔ یہ کوفہ کی سرزمین نہیں ہے۔ شام کے لوگ اگر تمہیں یہی حرکت دیکھیں گے تو ان کا روکنا میرے امکان سے باہر ہو جائے گا۔ تمہاری جان لیے بغیر نہ رہیں گے اور میں اپنی جان کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ تم سب لوگوں کی حرکتیں نکمیاں حماقت زدہ و بے عقلی کی ہیں؛ یہ کہنے کے بعد جناب معاویہ ان کے پاس اٹھ کر چلے آئے۔پھرحضرت عثمان کو لکھ بھیجا کہ میرے پاس چند لوگ آئے جنہیں خدا نے عقل سے محروم رکھا ہے اور ان کا کوئی خاص مسلک نہیں ہے فقط اتنا ہے کہ خلافت نے ان کو ناراض کر دیا ہے ان کا مقصد خدا کی رضا مندی نہیں ہے۔اور نہ کوئی معقول وجہ کہتے ہیں۔مجھے تو ان کا مقصد جو نظر آتا ہے وہ صرف فتنہ ہے اور کچھ نہیں ۔
خدا انہیں آزمائش میں ڈالنے اور ان کی خبر لینے کو ہے۔اور انہیں ذلیل و رسواء کرنے والا ہے۔اپ سعید اور ان کے ہمراہیوں کو کہہ دیں کہ ان لوگوں سے کوئی سروکار نہ رکھیں۔اس لیے یہ کسی شمار میں نہیں آتے۔اس کے بعد بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ نو افراد حمص بھیج دیے گئے جہاں عبدالرحمن بن خالد بن ولید حاکم تھا۔جہاں ان کے وظیفے مقرر کیے گئے۔نو میں سے کتب سیرت میں سات افراد کے نام ملتے ہیں ۔
1. صعصعہ بن صوحان عبدی
2. مالک اشتر نخعی
3. کمیل بن زیاد
4. عمر بن ضابی
5. ابن الکواء
6. جندب بن کعب
7. ابن ذی الحنکہ
8. عمرو بن الحمق
حمص میں قیام
لیکن دیگر مورخین کا بیان ہے کہ یہ لوگ جب دمشق سے روانہ ہوئے تو رستے میں ایک نے دوسرے سے کہا ہمیں کوفہ کی طرف نہیں چلنا چاہیے اس لیے کہ وہاں کے لوگ ہمیں برابھلا کہیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ اب ہم الجزیرہ نکل جائیں۔ اُدھر روانہ ہوئے تو راستے میں عبد الرحمن بن خالد بن ولید نے جو حمص کے والی تھے اپنے پاس بلوا بھیجا اور ان کا سامنا ہوتے ہی کہا۔ اے شیطان کے ہاتھ کے ہتھیارو۔۔۔! مرحباً ان دنوں شیطان تو حسرت سے نیم جان پڑا ہوا ہے مگر تم خوش وخرم ہو۔خدا عبدالرحمن کو غارت کرے اگر وہ تمھاری تادیب تنبیہ نہ کرے۔ اے وہ لوگو جن کی نسبت میں نہیں جانتا کہ عربی ہو یا عجمی مجھ سے وہ نہ کہنا جو معاویہ سے کہا۔میں خالد بن ولید کا بیٹا ہوں۔اوراس شخص کا فرزند ہوں جس کو عجمیہ عورتوں نے عجمی المذاق بنایا تھا اوراس کی اولاد ہوں جس نے مرتدوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ لہذا سے صعصعہ اگر مجھے خبر ہوئی کہ میرے ہمراہیوں میں سے کسی نے تیری ناک کچل دی اور تجھ کو ذلیل کیا تو تجھے یہاں سے بہت دور پھینکوں گا۔
اس کے بعد عبد الرحمن نے ایک مہینے تک ان لوگوں کو اپنے پاس ٹھرایا ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے اور جب سوار ہوتے تو لوگ پیدل ہوتے ۔ اس زمانے میں جب بھی مقصد اپنے آجاتا تو کہتے ، او ماردِ بخطا اب تو مجھے معلوم ہو کہ جس شخص کے حق میں نیکی مناسب نہیں ہے اس ساتھ برائی کرنا نہایت مناسب ہے۔ تیرے جو خیالات میں نے سنے ہیں ان کو میرے سامنے کیوں نہیں ظاہر کرتا ؟ وہی کہہ جو تو نے سعید اور معاویہ کے سامنے کہا تھا۔ اس کے جواب میں وہ سب لوگ مارے خوف کہنے لگے کہ ہم خدا کے حضور معافی کے خواستگار ہیں۔عبدالرحمن نے کہا کہ ابھی توبہ قبول نہیں ہوئی ۔پھر ایک دن عبدالرحمن نےکہا خدا نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے۔
مالک بن حارث اشتر نخعی کا تائب ہونا
ان لوگوں میں سب سے پہلے جس میں اپنے خیالات سے تائب ہونے کی پہل کی وہ مالک بن حارث اشتر نخعی تھے۔ چنانچہ سب سے پہلے انہوں خلوص دل سے توبہ کی عبدالرحمن نے انہیں مدینہ منورہ بھیجا ۔ عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں اجازت ہے جہاں چاہو رہو۔ چنانچہ آپ پھر واپس عبدالرحمن کے پاس چلے گئے۔
عبداللہ بن سبا ایک فرضی کردار
اس کے متعلق فاضل مورخ ڈاکٹر طہ حسین مصری لکھتے ہیں۔ ابن سبا بالکل فرضی اور من گھڑت قصہ ہے ۔ اور جب فرقۂ شیعہ اور دیگر اسلامی فرقوں میں جھگڑے چل رہے تھے تو اُس وقت اسے جنم دیا گیا۔ ابن سبا کے افسانہ کی ابتداء کہاں سے ہوئی. ابن سبا کے تذکرہ نویسوں اور افسانہ تراشوں نے اس کہانی کو قتل عثمان اور جنگ جمل کے ضمن میں تو بڑی شد و مد سے پیش کیا ہے، مگر واقعہ جمل کے بعد کامل سکوت نظر آتا ہے۔ ابن سبا کا انجام کیا ہوا ؟ اور سبائی لوگ آخر گئے کہاں ؟ جنگ کے بعد انھیں زمین کھا گئی یا آسمان ؟ اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ اتنی بڑی زبردست انقلابی پارٹی کا ذکر حدیث اور تاریخ کی ہر کتاب میں موجود ہوتا اور ہر ایک راوی اس شرانگیز گروہ کے کردار کو مذہبی فریضہ سمجھ کر بیان کرتا چلا آتا ۔ مگر جب ہم تاریخ کی اس اہم فروگذاشت اور مغالطہ آمیزی کا تاریخی تجزیہ کرتے ہیں تو اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ متقدمین ہوں یا متاخرین مسلمان ہوں یا مستشرقین سب نے اس قصہ کو طبری سے ہی نقل کیا ہے ۔ اس امر کے ثبوت میں کہ تمام مورخین اس داستان گوئی میں طبری کے ہی خوشہ چین میں خود انہی کے بیانات سے ہم ثابت کئے دیتے ہیں تاکہ ہمارا دعوای تشنہ ثبوت نہ رہ جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک ہزار سال پہلے اس قصہ کی ابتدار ہوئی اور جون جون زمانہ گزرتا گیا اس کی اشاعت میں روز افزوں ترقی ہوتی گئی۔ اب تو کوئی کتاب صحابہ کے حالات میں نہ لکھی جاتی ہوگی جس میں ابن سبا کا تھوڑا بہت تذکرہ موجود نہ ہو فرق صرف یہ ہے کہ متقدمین نے بطور حدیث یا روایت اس کہانی کو بیان کیا۔ مگر متاخرین اسے ایک مسلمہ حقیقت خیال کر بیٹھے، اور بغیر واقعات کی چھان بین کئے نقل در نقل کرتے چلے آئے۔ اس قصہ کی ابتداء کہاں سے ہوئی ؟ اور کیوں ہوئی ؟ اس کے ماخذ کیا ہیں ؟ کون راوی ہے ؟ اور اس کی حیثیت کتب رجال میں کیسی ہے؟
اگلی قسط میں جائزہ لیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ
عبداللہ بن سبا کو قریب قریب طبری کے بعد مورخین نے لکھا ۔ سب نے اپنے حوالے طبری سے اخذ کئے۔ ابن اثیر نے مقدمے میں لکھا کہ۔طبری میرے ماخذات کا جز ہے۔طبری نے یہ من گھڑت کہانی روایت کہاں سے لی۔انہوں شہادت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے باب میں سبائیوں کے واقعات کو سیف بن عمر کی روایت پر انحصار کیا۔چنانچہ ایک جگہ مرکوز ہے۔
امام ابنِ جریر طبری نے اپنی مشہور کتاب تاریخِ طبری میں فتنۂ ارتداد (جنگِ رِدہ) اور ابتدائی اسلامی فتوحات کے احوال نقل کرنے کے لیے سب سے زیادہ سیف بن عمر کی روایات پر ہی بھروسا کیا ہے۔ ان کی لکھی ہوئی دو اہم کتابیں یہ ہیں:کتاب الفتوح الکبیر والردہ: یہ کتاب ابتدائی اسلامی فتوحات اور فتنہ ارتداد کی تاریخ پر مبنی ہے۔
کتاب الجمل ومسير عائشہ وعلی: اس میں خلیفہ ثالث حضرت عثمان کی شہادت سے لے کر جنگِ جمل تک کے واقعات درج ہیںسیف کے بارے میں بہت کم معلومات معلوم ہیں، سوائے اس کے کہ وہ کوفہ میں رہتے تھے اور بنو تمیم قبیلے سے تھے۔
(جاری ہے )
حوالہ جات
طبری جلد 3
تاریخ اسلام ندوی جلد اول
تاریخ اسلام شرر جلد دوم
مرتضیٰ احمد میکش مرحوم



تبصرہ لکھیے