آزادی کا لفظ جب ہماری زبان پر آتا ہے تو ہمارا ذہن فوراً سیاسی استقلال اور اجنبی تسلط سے آزادی کی جانب منتقل ہو جاتا ہے۔ اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سیاسی آزادی بھی اللہ تعالیٰ کی ایک خاص نعمت ہے جس کی اسلام کی نگاہ میں بہت بڑی اہمیت ہے، کیونکہ اسلام جس نظریہ حیات اور جس نظام زندگی کو دنیا میں برپا کرنا چاہتا ہے، اس کے قیام و استحکام کے لیے مسلم معاشرے کا با اختیار اور بیرونی اثر و نفوذ سے آزاد ہونا بالکل ناگزیر ہے۔
لیکن یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے مسلمانوں کے ذہن و فکر کا دوسروں کی غلامی سے آزاد ہونا اولین مقصدی اہمیت رکھتا ہے اور سیاسی آزادی کی جتنی بھی اہمیت ہے اسی وجہ سے ہے کہ وہ فکر و عمل کے استقلال کا ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔اٹھہتر سال قبل ہم پاکستان کے مسلمان دُہری غلامی میں مبتلا تھے۔ ہم سیاسی حیثیت سے بھی غیروں کے محکوم تھے اور ذہنی حیثیت سے بھی۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اغیار کی سیاسی محکومی سے تو آزاد کر دیا لیکن ان کی ذہنی غلامی اور ان کی غیر اسلامی اقدار کے تسلط اور ان کی فکری محکومی میں جس طرح پہلے ہم مبتلا تھے، افسوس ہے کہ ابھی تک ہمیں اس سے رستگاری نصیب نہ ہو سکی۔ ہماری درس گاہیں، ہمارے دفاتر ، ہمارے بازار، ہماری سوسائٹی، ہمارے گھر ، حتی کہ ہمارے جسم تک زبان حال سے شہادت دے رہے ہیں کہ ان پر مغرب کی تہذیب ، مغرب کے افکار، مغرب کی اقدار اور مغرب کے اخلاقی تصورات اور علمی نظریات حکمران ہیں ۔ ہم مغرب کے دماغ سے سوچتے ہیں، مغرب کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مغرب ہی کی بنائی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں، خواہ اس کا شعور ہمیں ہو یا نہ ہو۔
یہ مفروضہ ہمارے دماغوں پر مسلط ہے کہ صحیح وہ ہے جسے مغرب نے صیح سمجھا ہے اور غلط وہ ہے جسے مغرب نے غلط قرار دیا ہے۔ حق ، صداقت، تہذیب،اخلاق ، شائستگی، ہر شے کا معیار ہمارے نزدیک وہی ہے جو مغرب نے مقرر کر رکھا ہے۔ سیاسی آزادی کے باوجود آخر اس ذہنی غلامی کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ ذہنی ادی اور غلبہ و تفوق کی بنا در اصل فکری اجتہاد اور علمی تحقیق پر قائم ہوتی ہے۔ جو قوم اس راہ میں میں قدمی کرتی ہے، وہی دُنیا کی رہنما اور قوموں کی امام بن جاتی ہے اور اسی کے افکار دنیا پر چا جاتے ہیں۔ اور جو قوم اس راہ میں پیچھے رہ جاتی ہے اسے مقلد اور متبع ہی بنا پڑتا ہے۔ اس کے تکار اور معتقدات میں یہ قوت باقی نہیں رہتی کہ وہ دماغوں پر اپنا تسلط قائم رکھ سکیں۔ مجتہد اور محقق قوم کے طاقت ور افکار و معتقدات کا سیلاب انھیں بہا لے جاتا ہے اور ان میں اتنا بل کو تا نہیں رہتا کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھیرے رہ جائیں۔مسلمان جب تک تحقیق و اجتہاد کے میدان میں آگے بڑھتے رہے، تمام دنیا کی تو میں ان کی پیرو اور مقلد رہیں۔ اسلامی فکر ساری نوع انسانی کے افکار پر غالب رہی۔
حُسن اور قبح ، نیکی اور بدی، غلط اور صحیح، شائستہ اور غیر شائستہ کا جو معیار اسلام نے مقرر کیا وہ تمام دنیا کے نزدیک معیار قرار پایا اور قصداً یا اضطراراً دنیا اپنے افکار و اعمال کو اسی معیار کے مطابق ڈھالتی رہی۔ مگر جب مسلمانوں میں ارباب فکر اور اصحاب تحقیق پیدا ہونے بند ہو گئے ، جب انھوں نے سوچنا اور دریافت کرنا چھوڑ دیا، جب وہ اکتساب علم اور اجتہاد فکر کی راہ میں تھک کر بیٹھ گئے تو گویا انھوں نے خود دنیا کی رہنمائی سے استعفا دے دیا۔ دوسری طرف مغربی تو میں اس راہ میں آگے بڑھیں۔ انھوں نے غور و فکر کی قوتوں سے کام لینا شروع کیا، کائنات کے راز ٹولے اور فطرت کی چھپی ہوئی طاقتوں کے خزانے تلاش کیے۔ اس کا لازمی نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ مغربی قو میں دنیا کی راہنما بن گئیں اور مسلمانوں کو اسی طرح ان کے اقتدار کے آگے سرتسلیم خم کرنا پڑا جس طرح کبھی دنیا نے خود مسلمانوں کے اقتدار کے آگے خم کیا تھا۔
اب اسے بدقسمتی کے ہوا اور کیا کہیے کہ مغربی تہذیب نے جس فلسفے اور سائنس کی آغوش میں پرورش پائی وہ پانچ چھے سو سال سے دہریت، الحاد، لانا ہی اور مادہ پرستی کی طرف جا رہا ہے اور جس صدی میں یہ نئی تہذیب اپنی دہریت اور مادہ پرستی کی انتہا کو پہنچی، ٹھیک وہی صدی تھی جس میں مراکش سے لے کر مشرق بعید تک تمام اسلامی ممالک مغربی قوموں کے سیاسی اقتدار اور فکری غلبے سے بیک وقت مفتوح اور مغلوب ہوئے۔ مسلمانوں پر مغربی تلوار اور قلم دونوں کا حملہ ایک ساتھ ہوا۔ . وا جو دماغ مغربی طاقتوں کے سیاسی غلبہ سے مرعوب اور دہشت زدہ ہو چکے تھے ان کے لیے یہ مشکل ہو گیا کہ مغرب کے فلسفہ و سائنس اور ان کی پروردہ تہذیب کے رُعب داب سے محفوظ رہتے۔اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا سواد اعظم اب بھی اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمان رہنا چاہتا ہے لیکن دماغ مغربی افکار اور مغربی تہذیب اور اس کی روح اور اس کے اُصولوں سے متاثر ہو کر اسلام سے منحرف ہو رہے ہیں۔
ملکی آزادی اور سیاسی استقلال کے باوجود مغرب کا دینی اور تہذیبی تسلط ہمارے ذہنوں کی فضا پر چھایا ہوا ہے اور اس نے نگاہوں کے زاویے اس طرح بدل دیے ہیں کہ دیکھنے والوں کے لیے مسلمانوں کی نظر سے دیکھنا اور سوچنے والوں کے لیے اسلامی طریق پر سوچنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ حالت اس وقت تک دُور نہ ہوگی جب تک مسلمانوں میں آزاد اہل فکر پیدا نہ ہوں گے۔ اب ایک اسلامی نشات ثانیہ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم دوبارہ دنیا کے رہنما بنا چاہتے ہیں تو اس کی بس یہی ایک صورت ہے کہ مسلمانوں میں ایسے مفکر اور محقق پیدا ہوں جو فکر و نظر اور تحقیق و اکتشاف کی قوت سے ان بنیادوں کو ڈھا دیں جن پر مغربی تہذیب کی نظریاتی عمارت قائم ہوئی ہے۔ اسلام کے بنائے ہوئے طریق فکر و نظر پر آثار کے مشاہدے اور حقائق کی جستجھ سے ایک نئے نظام فلسفہ کی بنا رکھیں، ایک نئی حکمت طبیعی (Natural Science) کی عمارت اُٹھائیں جو کتاب وسنت کی ڈالی ہوئی داغ بیل پر اُٹھے۔
ملحدانہ نظریے کو توڑ کر خدا پرستانہ نظریے پر فکر و تحقیق کی اساس قائم کریں اور اس جدید فکر وتحقیق کی عمارت کو اس قوت کے ساتھ اُٹھا ئیں کہ وہ تمام دنیا پر چھا جائے اور دُنیا میں مغرب کی ماڑی تہذیب کے بجائے اسلام کی حقانی تہذیب جلوہ گر ہو۔



تبصرہ لکھیے