ہوم << گھروں کو قرآن اور عبادت سے آباد کریں – محمد عدنان
600x314

گھروں کو قرآن اور عبادت سے آباد کریں – محمد عدنان

مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر

حدیث مبارکہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
ترجمہ:اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔(جامع ترمذی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت)

گھروں کو قبرستان نہ بنانے کا مفہوم
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے نہایت مؤثر انداز میں وضاحت فرمائی کہ *نبی کریم ﷺ* کا ارشاد اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ایک گہرا پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ گھروں میں قبریں نہ ہوں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قبرستان میں مردے عبادت، نماز، تلاوت اور ذکر و اذکار نہیں کر سکتے اسی طرح ہمارے گھر بھی عبادت اور قرآن سے خالی نہیں ہونے چاہییں۔مومن کا گھر صرف رہائش کی جگہ نہیں بلکہ عبادت گاہ بھی ہونا چاہیے۔ جہاں نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، دعا اور دینی ماحول ہمیشہ قائم رہے۔ جب گھر اللہ کی یاد سے آباد ہوتے ہیں تو وہاں سکون، محبت، رحمت اور برکت کا نزول ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا مبارک طریقہ
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ فرض نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد سنت اور نوافل اپنے گھر میں ادا فرماتے تھے تاکہ گھر بھی عبادت سے آباد رہیں۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے گھروں میں نماز، قرآن اور دیگر عبادات کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ گھر روحانی نور سے منور ہو جائیں۔

سورۂ بقرہ کی عظیم برکت
حدیث مبارکہ میں خاص طور پر سورۂ بقرہ کی تلاوت کا ذکر آیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا بلکہ وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔جب شیطان گھر سے دور ہو جاتا ہے تو گھریلو سکون نصیب ہوتا ہے.لڑائی جھگڑے اور ناچاقیاں کم ہو جاتی ہیں۔دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت نازل ہوتی ہے۔اس کے برعکس جہاں اللہ کا ذکر نہ ہو وہاں شیطان اپنا ڈیرہ جما لیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں بے سکونی، اختلافات اور روحانی محرومی پیدا ہو جاتی ہے۔

سورۂ بقرہ کی تلاوت کا معمول
ڈاکٹر صاحب نے تلقین فرمائی کہ اگر روزانہ مکمل سورۂ بقرہ پڑھنا ممکن نہ ہو تو اسے دو یا تین دن میں مکمل کر لیا جائے یا روزانہ اس کا کچھ حصہ ضرور پڑھا جائے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ گھر قرآن سے خالی نہ رہیں اور تلاوت کا سلسلہ مسلسل جاری رہے۔

اپنے گھروں کو قرآن کا مرکز بنائیں
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ بہت سے گھروں میں الحمد للہ قرآن کی تلاوت، نماز اور اذکار کا اہتمام ہوتا ہے خصوصاً وہ بچے جو حفظِ قرآن کرتے ہیں ان کی وجہ سے گھروں میں نورِ قرآن قائم رہتا ہے۔ تاہم جن گھروں میں یہ معمول نہیں انہیں آج ہی سے اس نیک عمل کی ابتدا کرنی چاہیے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہیے۔

فیصل مسجد کے ماحول کو مثالی بنانے کی دعوت
آخر میں ڈاکٹر صاحب نے حاضرین سے خصوصی گزارش کی کہ فیصل مسجد میں نماز کے بعد ہونے والے اس مختصر درس کو صرف سننے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس پر عمل بھی کریں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ انہوں نے نصیحت فرمائی کہ نماز کی پابندی کریں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں۔مسجد میں زیادہ وقت ذکر، تسبیح اور دعا میں گزاریں۔نماز کے لیے بروقت تیاری کریں اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں۔خواتین مکمل پردے کا اہتمام کریں۔مسجد کے تقدس، صفائی اور اسلامی آداب کا ہر حال میں خیال رکھا جائے۔ایسی ہر حرکت سے اجتناب کیا جائے جو مسجد کی حرمت یا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو۔

حاصلِ درس
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مسلمان کا گھر صرف دنیاوی آسائش کا مرکز نہیں بلکہ ایمان، عبادت، قرآن، ذکر اور تربیت کا مرکز ہونا چاہیے۔ جس گھر میں قرآن کی آواز گونجتی ہے۔ وہاں رحمت کے فرشتے آتے ہیں شیطان بھاگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سکون و برکت عطا فرماتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں کو عبادت سے آباد کر لیں تو انفرادی، خاندانی اور معاشرتی زندگی میں بے شمار خیر و برکت پیدا ہو جائے گی۔

اللہ تعالیٰ!
ہمیں اپنے گھروں کو قرآنِ کریم کی تلاوت، نماز، ذکر و دعا سے ہمیشہ آباد رکھنے، سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد عدنان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment