ماہرین کے مطابق انسانی معاشروں اور سماج کی اصل پہچان ان کی عمارتوں، سڑکوں یا ترقی یافتہ ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ ان کے اخلاق، کردار اور باہمی رویّوں سے ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب اخلاقیات کمزور پڑنے لگیں تو معاشرہ بظاہر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ آج ہمیں دیانت داری سے اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم اخلاقیات میں کہاں کھڑے ہیں؟
یہ ایسا سلگتا سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کے لیے وسیع مطالعہ کی ضرورت ہے۔علم سے عاری لوگ حسن اخلاق کی رعنائی اور اہمیت کیسے سمجھ سکتے ہیں؟مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو منظر نامہ حیران کن معلوم ہوتا ہے۔ گہری نظر سے دیکھا جائے تو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سچائی کی جگہ مفاد، دیانت کی جگہ بدعنوانی، برداشت کی جگہ عدم تحمل اور خدمت کی جگہ خودغرضی نے لینا شروع کر دی ہے۔ جھوٹ، دھوکہ، وعدہ خلافی، الزام تراشی اور نفرت آمیز گفتگو روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اگرچہ ہم اخلاقی اقدار کی بات ضرور کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ان پر عمل کم ہی دکھائی دیتا ہے۔بقول شاعر:-
”عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی ٬جہنم بھی“
اخلاقیات کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ والدین اگر بچوں کو سچ بولنے، دوسروں کا احترام کرنے، وعدہ نبھانے اور انصاف سے کام لینے کی تعلیم دیں تو یہی بچے مستقبل میں ایک باکردار قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں، دینی مدارس، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کردار سازی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
اسلام نے حسنِ اخلاق کو ایمان کی تکمیل قرار دیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ” بہترین انسان وہ ہے جس کے اخلاق بہترین ہوں“۔ اس لیے اگر ہم ایک خوشحال، پرامن اور باوقار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی اخلاقی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی عملی کوشش کرنا ہوگی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کریں۔ کیا ہم سچ بولتے ہیں؟ کیا ہم امانت میں خیانت نہیں کرتے؟ کیا ہم اختلافِ رائے کو برداشت کرتے ہیں؟
کیا ہم دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں؟ یہی سوالات ہماری اخلاقی حیثیت کا اصل پیمانہ ہیں۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے کردار، گفتار اور عمل کو اخلاقی اصولوں کے مطابق ڈھالیں گے۔ کیونکہ مضبوط اخلاق ہی مضبوط قوموں کی بنیاد ہوتے ہیں، اور جب افراد سنور جاتے ہیں تو معاشرے بھی سنور جاتے ہیں۔ ”اخلاقیات صرف نصیحت کا موضوع نہیں، بلکہ ہر انسان کے روزمرہ عمل کا آئینہ ہیں۔ اگر ہم اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کر لیں تو معاشرے کی اصلاح کا سفر خود بخود شروع ہو جائے گا۔“



تبصرہ لکھیے