ہوم << نئے گریٹ گیم کی بساط پر پیٹرو ڈالر کی بازگشت – ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
600x314

نئے گریٹ گیم کی بساط پر پیٹرو ڈالر کی بازگشت – ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

اگر جیو پولیٹکس کی پیچیدہ بساط کو تاریخ کے کسی پراسرار قہوہ خانے سے تشبیہ دی جائے، تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہاں بیٹھے پردہ نشین کھلاڑی شطرنج کے مہروں کی بجائے عالمی معیشت کی شہ رگوں سے کھیلتے ہیں۔ حالیہ چند ہفتوں کے خونی ڈرامے کو محض ایک علاقائی تصادم، سرحدوں کی کھینچ تان یا فرقہ وارانہ آویزش کا نام دینا دراصل اس وسیع تر معاشی المیے سے منہ موڑنا ہے جو دبے پاؤں عالمی مالیاتی منظرنامے پر دستک دے رہا ہے۔

اگر ہم گذشتہ چھ ہفتوں کی بھیانک خونریزی اور سفارتی شاطرانہ چالوں کی نادیدہ تہوں کو کریدیں، تو پسِ پردہ ایک ایسا خونخوار ڈریگن نظر آتا ہے جس کا ہدف مشرقِ وسطیٰ کے صحرا نہیں، بلکہ بیجنگ اور ماسکو کی ابھرتی ہوئی معاشی تحویل ہے۔ نصف صدی سے امریکی بالادستی کے شاہی تاج میں جڑا سب سے قیمتی نگینہ یعنی ’پیٹرو ڈالر‘ آج شدید ہچکولے کھا رہا ہے۔ برکس کی بڑھتی ہوئی تحرک، چین کی پیٹرو یوآن کی ترویج اور روس کی متبادل مالیاتی نظام بنانے کی کاوشوں نے واشنگٹن کی $39 کھرب کے بھیانک قومی قرضے میں ڈوبی معیشت کے گرد گھَیرا تنگ کر دیا ہے۔ اس ابھرتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے اب جو نئی جیو معاشی استعماریت جنم لے رہی ہے، وہ ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں بلکہ توانائی کی عالمی ترسیل کے مفلوج کن بحران سے کشید کی جا رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل بھڑکتی ہوئی آگ، ہر سفارتی پیش رفت اور امن کی جھوٹی امید کے فوری بعد ایک نئی فوجی شدت میں بدل جاتی ہے۔ اسلام آباد یادداشتِ تفہیم کا عارضی شوشہ ہو یا لبنان و شام کی حدود سے ماورا اسرائیلی کارروائیوں کا دائرہ، یہ سب دراصل اس عالمی توانائی کے چشمے یعنی خلیجِ فارس کے ارد گرد ایک ناقابلِ برداشت ’غیر مرئی ٹیکس‘ عائد کرنے کا ہتھکنڈہ ہے۔ آبنائے ہرمز پر منڈلاتے ہوئے خطرات، تیل کے ٹینکروں پر حملے اور انشورنس کی کمر توڑ شرحیں یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے توانائی کے سرچشمے کو ایک غیر مستحکم، غیر محفوظ اور ناقابلِ اعتبار خطرناک زون بنا دیا جائے۔ جب خلیج کے تیل کی ریفائنریاں اور صاف پانی کے پلانٹس بارود کے دھوئیں میں پوشیدہ ہو جائیں گے، تو اس سے معاشی طور پر خلیجی ریاستیں شل ہو جائیں گی اور دنیا کا اعتماد ان پر سے ہمیشہ کے لیے اٹھ جائے گا۔

لیکن اس ہولناک ڈرامے کا سب سے بڑا ناظر اور متاثرہ فریق چین ہے، جو روزانہ 11 ملین بیرل ارزاں خلیجی تیل پر اپنی صنعتی سلطنت کھڑی کیے ہوئے ہے۔ تیل کی قیمتوں کا ہر غیر معمولی اچھال اور سپلائی کی رکاوٹ بیجنگ کے مینوفیکچرنگ ڈھانچے کی گردن پر اک تیز دھار تلوار بن کر لٹک جاتی ہے۔ اسی تاریک سائے کے بالکل برعکس، امریکی براعظم پر واقع تیل کے کنویں، ایل این جی ٹرمینلز اور برآمدی بندرگاہیں اس تصادم کے شعلوں سے ہزاروں میل دور، مکمل امان اور سکون کی حالت میں عملی طور پر ایک نیا شاہکار تخلیق کر رہے ہیں۔ یہ شاہکار روایتی پیٹرو ڈالر کی موت کے بعد جنم لینے والا نیا زربفت ‘ای ڈیلر’ (Energy Dollar) ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں واشنگٹن دنیا کو محض کچی کرنسی کی ضمانت نہیں دے گا، بلکہ خود کو کرۂ ارض کا واحد، محفوظ ترین اور ناگزیر توانائی فراہم کنندہ بنا کر پیش کرے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جلتا ہوا ہر تیل کا کنواں دراصل ٹیکساس اور دیسی پائپ لائنوں کی قدر و قیمت میں سو گنا اضافہ کر دیتا ہے۔

اسرائیل کا اپنے حریفوں کی عسکری صلاحیتوں کو نابود کر کے علاقائی توازن کو یکطرفہ طور پر اپنے حق میں موڑنا، اور امریکہ کا عارضی وقفوں کے بعد ایران کی معاشی و انتظامی ناہمواریوں پر مزید کلہاڑا چلانا، دراصل اس نئی معاشی حقیقت کو تراشنے کے عمل کی مختلف کڑیاں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جابر عظیم طاقتوں کے دُور رس سیاسی اور معاشی مقاصد بارود کے دھوئیں میں اس وقت تک دکھائی نہیں دیتے جب تک کھنڈرات پر ان کی نئی مالیاتی عمارتیں کھڑی نہیں ہو جاتیں۔ اگر جاری بدامنی یوں ہی خلیج کو نااہل اور شل کرتی رہی، تو آنے والی نسلیں دیکھیں گی کہ کس طرح دنیا نے ایک زبردستی مسلط کیے گئے معاشی بحران کے تحت پیٹرو ڈالر کی زنجیروں سے نکل کر ‘ای ڈیلر’ کے نئے اور زیادہ مضبوط پنجرے میں پناہ لی۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment