اخبار میں موجود اکثر خبروں کے پس پردہ ایک پوری سیاسی داستان ہوتی ہے۔ جیسے خبر یہ ہے کہ ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اسلام آباد آئے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملے۔ گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی سلامتی، مؤثر بارڈر مینجمنٹ اور خطے کی صورتِ حال زیرِ بحث آئی۔پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو دس ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا بھی اظہار ہوا۔
خبر اتنی ہے۔ لیکن خبر کبھی کبھی اتنی ہی نہیں ہوتی جتنی اخبار کے صفحے پر دکھائی دیتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب خطہ ایک بار پھر طاقت کے ان مراکز کے درمیان کھنچا ہوا ہے جو ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کوئی نیا واقعہ نہیں، لیکن اس مرتبہ حالات کی نزاکت اس لیے زیادہ ہے کہ جنگ کا سایہ صرف دو ملکوں کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔ مشرقِ وسطیٰ میں اٹھنے والی آگ کا دھواں عموماً بہت دور تک جاتا ہے اور پاکستان بدقسمتی سے اس جغرافیے میں واقع ہے جہاں عالمی سیاست کے بڑے فیصلوں کے اثرات سرحد عبور کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے۔ ایران کا وزیرِ داخلہ اسلام آباد آتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک وفد نہیں آتا بلکہ اپنے ساتھ وہ ایک ایسے ملک کی تشویش بھی لاتا ہے جو ایک طرف عالمی دباؤ میں ہے اور دوسری طرف اپنے گرد پھیلتی ہوئی کشیدگی سے نبرد آزما ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ملاقات محض سفارتی آداب کی تکمیل نہیں۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک طویل سرحد ہے، تاریخی اور تہذیبی قربت ہے، تجارت کے امکانات ہیں مگر اس کے ساتھ سرحدی نگرانی، سلامتی اور باہمی اعتماد کے ایسے سوالات بھی ہیں جنہیں محض خوش گوار بیانات سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات کی پیچیدگی یہی ہے کہ قربت اور فاصلے دونوں بیک وقت موجود ہیں۔ یہ عجیب سا رشتہ ہے۔ سرحدیں قریب ہیں، مگر بعض اوقات سیاسی ترجیحات دور دکھائی دیتی ہیں۔ عوامی سطح پر ایک دوسرے کے لیے مانوسیت ہے، مگر ریاستی سطح پر سلامتی کے تقاضے اپنی الگ زبان بولتے ہیں۔ تجارت بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوتی ہے، مگر سرحدی گزرگاہوں، پابندیوں اور انتظامی پیچیدگیوں کے باعث وہ امکانات اکثر کاغذوں سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ اب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ کردار سننے میں جتنا خوش آئند ہے، عملی طور پر اتنا ہی دشوار بھی ہے۔
سفارتی سہولت کاری صرف یہ نہیں کہ دو متحارب فریقوں کو ایک میز پر بٹھا دیا جائے۔ اصل آزمائش تو اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ دونوں فریقوں کا اعتماد حاصل کرنا، ان کے تحفظات کو سمجھنا، اپنی غیر جانب داری کو برقرار رکھنا اور اس سارے عمل میں اپنے قومی مفادات کو پسِ پشت نہ ڈالنا ۔۔۔ یہ سب ایک ایسے توازن کا تقاضا کرتا ہے جس میں ذرا سی لغزش سفارتی کامیابی کو سفارتی الجھن میں بدل سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ جغرافیہ نے اسے وہ حیثیت دی ہے جس سے بہت سے ممالک محروم ہیں۔ پاکستان ایران سے بات کر سکتا ہے، عرب دنیا سے اس کے تعلقات ہیں، امریکا کے ساتھ اس کے سفارتی روابط موجود ہیں اور خطے کی سیاست میں اس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ مگر جغرافیہ کسی ملک کو خود بخود طاقتور نہیں بناتا۔ جغرافیہ صرف امکانات پیدا کرتا ہے ۔۔۔ ان امکانات کو سیاسی بصیرت میں تبدیل کرنا ریاستوں کا کام ہوتا ہے۔
یہاں پاکستان کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ میں ایسے ادوار ضرور گزرے ہیں جب وقتی ضرورت نے طویل المدت قومی مفاد پر غلبہ حاصل کیا۔ کبھی عالمی طاقتوں کے ساتھ شراکت داری نے ہماری خارجہ ترجیحات کو متاثر کیا، کبھی علاقائی تنازعات کے اثرات نے ہماری پالیسی کو اپنے حصار میں لیا اور کبھی ہم نے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اپنے مستقل قومی مفادات کے بجائے فوری سفارتی تقاضوں کو زیادہ اہمیت دی۔ اس مرتبہ صورتِ حال مختلف ہونی چاہیے۔ پاکستان کو اگر واقعی خطے میں سفارتی کردار ادا کرنا ہے تو اسے جذباتی نعروں سے نہیں، واضح قومی مفاد سے رہنمائی لینی ہوگی۔ ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا پاکستان کی ضرورت ہے۔ امریکا کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنا بھی ضرورت ہے۔ عرب ممالک کے ساتھ شراکت داری بھی اہم ہے۔ مگر ان سب کے درمیان پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز خود بننا ہوگا۔
دوسروں کے مفادات کا میدان بن کر کوئی ملک دیرپا سفارتی طاقت حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ سفارتی کامیابی کا مطلب ہر فریق کو خوش کرنا نہیں ہوتا۔ دنیا کی سیاست میں بعض اوقات سب کو خوش کرنے کی کوشش دراصل کسی کو بھی مطمئن نہیں کرتی۔ ایک ریاست کا کام یہ نہیں کہ وہ ہر طاقتور فریق کی خواہش کے مطابق اپنا موقف تبدیل کرتی رہے ۔ اس کا کام یہ ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں اپنے بنیادی مفادات کو پہچانے اور ان کے تحفظ کے لیے لچک بھی دکھائے اور استقامت بھی۔پاکستان کو شاید پہلی مرتبہ نہیں، مگر ایک بار پھر اسی امتحان کا سامنا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کی معیشت بھی اس سے محفوظ نہیں رہتی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، درآمدی بل پر دباؤ آ سکتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں اور آخرکار عالمی کشمکش کا ایک حصہ پاکستانی گھرانوں کے ماہانہ بجٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والی کشیدگی کو ایک عام پاکستانی شاید سفارتی اصطلاحات میں نہ سمجھتا ہو، مگر اسے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے کے بعد اس کی آمدنی وہیں رہتی ہے اور اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے لیے خطے میں امن کی کوشش محض اخلاقی مسئلہ نہیں، ایک معاشی ضرورت بھی ہے۔
البتہ یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا پاکستان اپنے سفارتی کردار کو محض موجودہ بحران تک محدود رکھے گا یا اسے ایک وسیع تر علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ بنائے گا؟
ایران کے ساتھ دس ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف بلاشبہ خوش آئند ہے، مگر اہداف اعداد و شمار سے نہیں، پالیسیوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ تجارت کے لیے سرحدیں محفوظ بھی ہونی چاہییں، قوانین واضح بھی، ادائیگیوں کا نظام قابلِ عمل بھی اور سیاسی تعلقات مستحکم بھی۔
اگر ایک طرف ہم تجارت بڑھانے کی بات کریں اور دوسری طرف ہر چند ماہ بعد سرحدی یا انتظامی رکاوٹیں پیدا ہوتی رہیں تو پھر بڑے بڑے اعداد محض پریس ریلیز کی زینت بن کر رہ جاتے ہیں۔ پاکستان کو اب شاید یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ خطے میں صرف بحرانوں کے درمیان موجود ملک بن کر رہنا چاہتا ہے یا بحرانوں کے حل میں بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایک نہیں ہیں۔ کسی ملک کا اہم جغرافیائی مقام اسے لازماً اہم سفارتی ملک نہیں بناتا۔ سفارتی اہمیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دوسرے ممالک کو یہ یقین ہو کہ آپ سے بات کرنا ان کے مفاد میں ہے ۔ آپ کا وعدہ وقتی مصلحت کا نتیجہ نہیں ۔ آپ کسی ایک فریق کے ہاتھ میں استعمال ہونے والا آلہ نہیں اور آپ کی اپنی ریاستی پالیسی میں اتنی وضاحت موجود ہے کہ آپ آج کی بات کل کے دباؤ میں آ کر یکسر تبدیل نہ کر دیں۔ پاکستان کے پاس یہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ مگر سوال صلاحیت کا نہیں، تسلسل کا ہے۔
اسلام آباد میں ایرانی وزیرِ داخلہ کی ملاقاتوں کو اسی بڑے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ دورہ شاید کسی بڑے سفارتی معاہدے کا اعلان نہ ہو، شاید اس کے نتائج فوری طور پر سامنے نہ آئیں، شاید چند ماہ بعد خطے کی سیاست کا رخ پھر تبدیل ہو جائے۔ مگر بعض ملاقاتوں کی اہمیت ان کے فوری نتائج سے زیادہ ان راستوں میں ہوتی ہے جو وہ کھول سکتی ہیں۔ خبر اتنی ہے ۔ مگر خبر کبھی کبھی اتنی ہی نہیں ہوتی جتنی اخبار کے صفحے پر دکھائی دیتی ہے۔ کبھی ایک ملاقات کے پیچھے پورے خطے کی بے چینی کھڑی ہوتی ہے۔ کبھی ایک سفارتی بیان کے پیچھے کئی ہفتوں کی خاموش گفتگو ہوتی ہے۔ اور کبھی ایک ہمسایہ ملک کا وزیر اسلام آباد آ کر ہمیں یہ یاد دلا جاتا ہے کہ جغرافیہ صرف نقشے پر کھینچی ہوئی لکیروں کا نام نہیں ۔ بعض اوقات وہ تاریخ کی طرف سے عائد کی گئی ذمہ داری بھی ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس ذمہ داری کو محض ایک موقع سمجھتا ہے یا اسے اپنی خارجہ پالیسی کی مستقل سمت بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔



تبصرہ لکھیے