ہوم << چور بازاری – محمد ثاقب ساقی
600x314

چور بازاری – محمد ثاقب ساقی

موجودہ حکومت کے برسرِاقتدار آتے ہی ایک بیانیہ تشکیل دیا گیا کہ محکمۂ صحت اور محکمۂ تعلیم کے فرسودہ اور بوسیدہ نظام کو تبدیل کرکے ایک جدید اور مؤثر نظام متعارف کرایا جائے گا۔ ابتدا میں یہ بیانیہ نہایت خوش آئند محسوس ہوا۔ ہر شخص کی زبان پر یہی بات تھی کہ اب صحت کی معیاری سہولیات عوام کو بہتر انداز میں میسر آئیں گی، جبکہ شعبۂ تعلیم میں یہ اصلاحات ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کو تابناک بنائیں گی۔ مگر افسوس! اس نئے نظام نے تو رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ اس تمام عمل کا ایک مقصد قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا بھی بتایا گیا تھا، سو آئیے دیکھتے ہیں کہ عملاً ہوا کیا؟

محکمۂ صحت کی بات کی جائے تو پنجاب بھر کے تمام بنیادی مراکزِ صحت کو آؤٹ سورسنگ کے نام پر ٹھیکے پر دے دیا گیا۔ پہلے ان مراکز کی تزئین و آرائش پر اربوں روپے صرف کیے گئے۔ اس دوران جو بے ضابطگیاں ہوئیں اور جس قدر ناقص میٹریل استعمال کیا گیا، اس کا ذکر ہی رہنے دیجیے، کیونکہ سرکاری منصوبوں میں گویا یہ سب کچھ معمول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ نچلے درجے سے لے کر اعلیٰ ایوانوں تک سب کو “راضی” رکھنا کوئی آسان مرحلہ نہیں ہوتا۔ چونکہ یہ تمام سرگرمیاں حکومتی سرپرستی میں انجام پا رہی تھیں، اس لیے اگر کسی نے دیانت داری کا مظاہرہ کرنے کی جسارت کی تو اس کی ایسی سرزنش کی گئی کہ دوبارہ اسے ایمانداری کا خیال تک نہ آیا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اس تجدیدی مہم میں ایسے مراکزِ صحت بھی مسمار کر دیے گئے جن کی مرمت ہوئے ابھی چند ہی برس گزرے تھے۔ اُس وقت بھی عوام ہی کا سرمایہ خرچ ہوا تھا اور آج بھی عوام ہی کی جیب پر بوجھ ڈالا گیا، لہٰذا ایک حکم نامہ جاری کرنے میں آخر کیا قباحت تھی؟

خیر، پہلے مرحلے میں عمارات کی تجدید کا عمل بخیر و عافیت اپنے اختتام کو پہنچا اور پنجاب کے سرکاری املاک کو ایک نام دیا گیا جسے مریم۔ نواز ہیلتھ سنٹر کہا جاتا ہے ، اگلا مرحلہ انہیں ہسپتالوں کو ٹھیکے پر دینے کا تھا۔ اس سلسلے میں پہلے سے تعینات عملے کو دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا گیا۔ ان میں معذور افراد کے کوٹے پر بھرتی ہونے والے ایسے ملازمین بھی شامل تھے جو تنہا سفر کرنے کے بھی قابل نہ تھے، مگر کسی قسم کے انسانی تقاضے یا رعایت کو ملحوظِ خاطر نہ رکھا گیا۔ حکومت کے اس اقدام کے نتیجے میں بے شمار ایسے افراد، جو اپنی معمولی تنخواہوں پر بمشکل گزر بسر کرتے تھے، دوسرے شہروں میں کرایے کے مکانات لینے پر مجبور ہوئے۔ اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے نئے تعلیمی اداروں سے رجوع کرنا پڑا۔ الغرض ان کی زندگیاں عذابِ مسلسل بن کر رہ گئیں، مگر “مرتے کیا نہ کرتے”، سب نے حالات کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا۔

اسی مرحلے میں ایک اور شب خون مارا گیا اور لاکھوں ملازمین کا روزگار ہی چھین لیا گیا۔ ہزاروں ایسے افراد، جو برسوں سے محکمہ سے وابستہ تھے، یک قلم بے روزگار کر دیے گئے۔ وہ زندگی کے ایسے مرحلے میں پہنچ چکے ہیں جہاں نہ کوئی دوسرا ہنر ان کے کام آ سکتا ہے اور نہ ہی نئی ملازمت کا حصول آسان ہے، مگر ان کا ذریعۂ معاش بھی بیوروکریسی کی نذر ہو گیا۔ اپنے حق کے حصول کے لیے ہزاروں ملازمین نے لاہور اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ کئی روز تک ان کی فریاد کسی نے نہ سنی۔ فروخت شدہ میڈیا نے بھی اتنی جرأت نہ کی کہ کم از کم ان کی داد رسی کے لیے ہی ان کے درمیان پہنچ جاتا۔ جب مسلسل کئی روز کے احتجاج کے باوجود ان کی آواز ایوانوں تک نہ پہنچ سکی تو انہوں نے ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا، جس پر حکومت مشتعل ہو اٹھی۔ نہتے ملازمین پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، پولیس کے ذریعے ان پر بدترین تشدد ڈھایا گیا اور سینکڑوں ملازمین کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا، جن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔ اس ظالمانہ طرزِ عمل اور اذیت ناک تشدد کے بعد یہ دھرنا کسی مثبت نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہوا، اور مظلوم ملازمین بمشکل اپنی جانیں بچا کر واپس لوٹے۔

پھر اس نئے نظام کو متعارف کرانے والوں نے اسی نظام کی باگ ڈور انہی ہاتھوں میں تھما دی جو پہلے بھی اس نظام کو چلا رہے تھے۔ گویا ٹھیکے بھی ڈاکٹروں ہی کو دے دیے گئے۔ اگر کوئی طبقہ اس تمام عمل میں ذلیل و خوار ہوا تو وہ نچلے درجے کا ملازم تھا، جن میں نائب قاصد، چوکیدار، مالی اور صفائی کرنے والے شامل ہیں، جو چند ہزار روپے کی معمولی تنخواہ پر اپنی زندگی کا پہیہ چلا رہے تھے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ ٹھنڈے کمروں میں ہونے والے فیصلے شاذ و نادر ہی عوامی فلاح و بہبود کا سبب بنتے ہیں۔ آج آپ روزانہ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں کہ اس نئے نظام کے تحت ملازمین کو پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے، اور یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بیوروکریٹ پندرہ ہزار روپے ماہانہ میں اپنا گھر چلا سکتا ہے؟
کیا وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے؟

نتیجہ صرف یہ نکلا کہ پرانے نظام کے خاتمے اور نئے نظام کے نفاذ کے درمیان اگر کوئی طبقہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار ہوا تو وہ صرف نچلے درجے کا ملازم تھا، جبکہ افسر شاہی آج بھی اسی آب و تاب کے ساتھ اپنے منصب پر براجمان ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment